• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قادیانیوں کا ٹرمپ کے سامنے مظلومیت کا ڈرامہ

شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
126
پوائنٹ
90
قادیانیوں کی ٹرمپ کے سامنے مظلومیت کا ڈرامے کرنے کی کوشش

یہ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کے موجودہ دورے میں ٹرمپ قادیانیوں کے مسائل اجاگر کرے گا۔(قیاس)

 

فواد

رکن
شمولیت
دسمبر 28، 2011
پیغامات
434
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
74
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امريکی صدر ٹرمپ، جنھوں نے مذہبی آزادی کو اپنی خارجہ پاليسی کا اہم ستون بنايا ہے حال ہی ميں چين، ترکی، شمالی کوريا، ايران اور برما سے تعلق رکھنے والے ايسے شہريوں کے ايک وفد سے ملے جنھيں مذہب کی

بنياد پر تکاليف اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان متاثرين کے مذہبی عقائد اور ان کی قوميت ملاقات کا مرکزی نقطہ نہيں تھا۔ ان کے مذہبی نظريات کی بنياد پر انھيں جس تشدد اور بنيادی انسانی حقوق کی خلاف ورزيوں کا سامنا کرنا پڑا ہے انھيں اجاگر کرنا مقصود تھا تا کہ سرحدی بندشوں سے قطع نظر اس عالمی مسلۓ کو اجاگر کيا جا سکے۔

ريکارڈ کی درستگی کے ليے واضح رہے کہ جن متاثرين نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ان ميں برما، ويت نام، شمالی کوريا، ايران، ترکی، کيوبا، نائجيريا، سوڈان اورايريٹريا کے عيسائ شہری بھی تھے، افغانستان، سوڈان اور نيوزی لينڈ سے تعلق رکھنے والے مسلمان بھی تھے۔ يمن اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے يہودی بھی تھے۔ کاؤ دائ عقیدے پر يقين رکھنے والے ويت نام کے شہری بھی تھے اور عراق کے يزيدی شہری بھی اس گروپ کا حصہ تھے۔

امريکی وزير خارجہ مائيک پومپيو نے حال ہی ميں اعلان کيا ہے کہ امريکہ مذہبی آزادی کی تحريک چلانے کے ليے ايک نۓ عالمی ادارے کا قيام عمل ميں لاۓ گا۔

"اس کے ذريعے يہ ممکن ہو سکے گا کہ جو کاوشيں ہم يہاں کرتے ہيں وہ سارا سال جاری رہيں اور اہم بات يہ ہے کہ اس توسط سے تمام انسانوں کے ان مستقل حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے گا جس کے تحت وہ کسی بھی عقيدے کو اپنا سکتے ہيں يا اپنی سوچ پر عمل پيرا ہو سکتے ہيں"۔

يہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ امريکی وزارت خارجہ ميں اس حوالے سے تين روزہ تقريب کا اہتمام کيا گيا ہے جس ميں درجنوں ممالک سے سينکڑوں کی تعداد ميں متحرک افراد مذہبی آزادی کے فروغ کے ليے شامل ہوۓ ہيں۔

گزشتہ برس اس تقريب کے انعقاد کے بعد برطانيہ، تائيوان اور متحدہ عرب امارات ميں اسی حوالے سے کانفرنسوں کا انعقاد بھی کيا گيا۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,451
پوائنٹ
964
امريکی صدر ٹرمپ، جنھوں نے مذہبی آزادی کو اپنی خارجہ پاليسی کا اہم ستون بنايا ہے حال ہی ميں چين، ترکی، شمالی کوريا، ايران اور برما سے تعلق رکھنے والے ايسے شہريوں کے ايک وفد سے ملے جنھيں مذہب کی
بنياد پر تکاليف اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عبد الشکور قادنی یہ پاکستانی ریاست کا مجرم تھا، یہاں فتنہ وتخریب کاری کے جرم میں پس دیوار زنداں ہوا، پھر کسی طرح چھوٹ کر امریکہ بہادر کے پاس جاپہنچا کہ ہمیں تخریب کاری کی اجازت نہیں، لہذا فتنہ وفساد پھیلانے میں ہماری سرپرستی کی جائے، اللہ تعالی قادیانیوں اور ان کے پشت پناہوں سب کو نیست و نابود فرمائے۔
 
Top