• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قبلۂ اول: مسجدِ اقصی

شمولیت
جنوری 23، 2018
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
32
قبلہ ٔ اول :مسجد ِ اقصی

?:عبد السلام بن صلاح الدین مدنی

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــRــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

الحمد للہ رب العالمین ,و الصلاۃ و السلام علی أشرف الأنبیاء و المرسلین أما بعد

اپنی آغوش میں پالے ہیں پیمبر اس نے vv باعث ِ فخر ہے,اقصی سے محبت کرنا​

مسجد ِ اقصی اس عظیم مسجد کا نام ہے,جسے حضرت سلیمان ۔علیہ السلام نے تعمیر فرمایا تھا,جیسا کہ حدیث میں آتا ہے(أنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَنَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خِلَالًا ثَلَاثَةً: سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأُوتِيَهُ، وَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأُوتِيَهُ، وَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ فَرَغَ مِنْ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَأْتِيَهُ أَحَدٌ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ فِيهِ أَنْ يُخْرِجَهُ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ) ([1])ترجمہ ٔ حدیث: سلیمان بن داود علیہما السلام نے جب بیت المقدس کی تعمیر فرمائی تو اللہ تعالیٰ سے انہوں نے تین چیزیں مانگیں، اللہ عزوجل سے مانگا کہ وہ لوگوں کے مقدمات کے ایسے فیصلے کرے جو اس کے فیصلے کے موافق ہوں، تو انہیں یہ چیز دے دی گئی، نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی سلطنت مانگی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملی ہو، تو انہیں یہ بھی دے دی گئی، اور جس وقت وہ مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز کے لیے آئے تو اسے اس کے گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسے کہ وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا ہو)


اس مسجدِ عظیم کو (المسجد الأقصی )(بیت المقدس) کے نام سے موسوم کیا جاتاہے,یہ مسجد (یروشلم )یا فلسطین میں واقع ہے ,اور حضرت عمر نے ۱۶ھ میں فاتحانہ طور پر اس کی چابی حاصل کی تھی اور سرزمین قدس میں داخل ہوئے۔اس وقت قدس کے بطریق سیفرنیوس نے مدینہ قدس کی کلید آپ کے علاوہ کسی اورکے ہاتھ میں دینے سے عدم رغبت کا اظہارکیااور اس وقت کی مسلح قیادت کو چابی حوالہ کرنے سے صاف انکارکردیا اورکہا کہ میں چاہتاہوں کہ خلیفۃ المسلمین بنفس نفیس تشریف لائیں اورمدینہ قدس کی زمام کاراپنے ہاتھوں میں سنبھالیں چنانچہ اس موقع پر حضرت عمر۔رضی اللہ عنہ۔ اپنا تاریخی سفرطے کرکے قدس پہنچے جس کا قصہ تاریخی کتابوں میں انتہائی معروف ومشہورہے اورتعجب خیز بھی ہے اور سبق آموز بھی(
[2]) ۔


بہرحال آپ قدس پہنچے اور مسجد اقصی کی چابی وصول کی۔ اس کے بعد آپ نے ایک معاہدہ تحریرفرمایا جس کو’’ معاہدہ ٔ عمریہ‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس معاہدہ میں تحریری طورآپ نے فرمان جاری کیا کہ ان لوگوں کو جو اس سرزمین پر ہیں جانی ومالی تحفظ عطا کیا جاتاہے نیز ان کی ذریت اوراہل وعیال محفوظ ومامون ہوں گے۔ ان کی عبادت گاہوں اوران کے شعائرِدینیہ اوررسم ورواج سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گااورہراس چیزکا ان کو حق حاصل ہے جس کے حصول کی لوگ کوششیں کرتے ہیں اور ہاتھ پاؤں مارتے ہیں,اس معاہدہ میں ایک بند یہ بھی تحریر تھا کہ اس مقدس سرزمین پریہودیوں میں سے کسی فردکو آبادہونے کے لئے جگہ نہ دی جائے۔)(
[3])


اسلامی عقیدہ کے اعتبار سے اسے ایک اہم مقام حاصل ہے,جبکہ یہودی اسے حضرت سلیمان ۔علیہ السلام ۔کی تعمیر کردہ ہیکل ِ سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں,اور اسے منہدم کرکے دو بارہ ہیکل ِ سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں,حالانکہ آج تلک وہ بد باطن دلائل و براہین سے اس کو ثابت نہ کر سکے ,اور صبح ِ قیامت تک ثابت نہیں کرسکتے کہ ہیکل ِ سلیمانی یہیں تعمیر کیا گیا تھا,حالانکہ مسجد اقصی دنیا کی وہ دوسری مسجد ہے,جو اس زمین پر بنائی گئی ہے,وہ ایک تاریخی ہی نہیں اسلامی اور مکمل اسلامی مسجد ہے,جسے قبلہ ٔ اول ہونے کا شرف حاصل ہے,دوسری طرف شیعہ حضرات زمین پر موجود مسجد ِ اقصی کو مانتے ہی نہیں,ان کے عقیدۂ فاسدہ کی بنیاد پر اقصی آسمان پر ہے,تیسری طرف مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ مل جائیں گے جو بیت المقدس کے اسلامی حقائق سے نہ صرف یہ کہ ناآشنا ہیں,بلکہ معاذ اللہ وہ مسجد ِ اقصی کو یہودیوں کا جائز حق مانتے ہیں(تف ہے ایسی بیہودہ عقلوں پر ,اور افسوس ہے ایسے ناہنجاروں کی سوچ و فکر پر),اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ قبلہ ٔ اول :مسجد ِ اقصی(
[4]) کے حقائق و وقائع پر چند وضاحتیں حیطہ ٔ تحریر میں لائی جائیں,مبادا گم گشتہ ٔ راہ کو کچھ سامانِ ہدایت میسر ہوجائے , فأقول و باللہ التوفیق


(۱)مسجد ِ حرام کے قبلہ قرار دئے جانے سے پہلے مسلمان مسجد اقصی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے,یعنی بیت المقدس قبلہ ٔ اول تھا, جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ} (البقرۃ:۱۴۳)(جس قبلہ پر تم پہلے سے تھے,اسے ہم نے صرف اسی لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول کا سچا تابع دار کون ہے اور کون ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے,گویہ کام مشکل ہے,مگر جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے (ان پر کوئی مشکل نہیں)اللہ تعالی تمہارے ایمان (نماز)ضائع نہ کرے گا,اللہ تعالی تو لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے والا ہے)یہ کوئی ۱۶,۱۷ماہ کی مدت پر محیط تھی,پھر بیت الحرام کی طرف قبلہ کا رخ موڑ دیا گیا , جیسا کہ حضرت براء بن عازب ۔رضی اللہ عنہما۔ کی روایت میں موجود ہے,فرماتے ہیں(كان أولُ ما قَدِمَ المدينةَ نزل على أجدادِه،أو قال أخوالِه من الأنصارِ،وأنه صلى قِبَلَ بيتِ المقدسِ ستةَ عَشَرَ شهرًا،أو سبعةَ عَشَرَ شهرًا، وكان يُعجِبُه أن تكونَ قبلتُه قِبَلَ البيتِ،وأنه صلى أول صلاةٍ صلاَّها صلاةُ العصرِ، وصلى معَه قومٌ، فخرج رجلٌ ممن صلى معه، فمر على أهلِ مسجدٍ وهم راكعون فقال: أشهدُ باللهِ لقد صلَّيْتُ مع رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ مكةَ، فداروا كما هم قِبَلَ البيتِ، وكانت اليهودُ قد أعجبَهم إذ كان يُصلي قِبَلَ بيتِ المقدسِ، وأهلُ الكتابِ، فلما ولَّى وجهَه قِبَلَ البيتِ، أنكروا ذلك) (
[5])(ترجمہ : رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو پہلے اپنے نانیہال کے یہاں اترے، جو انصار تھے۔ اور وہاں آپ نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور آپ کی خواہش تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو ( جب بیت اللہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہو گیا ) تو سب سے پہلی نماز جو آپ ﷺ نے بیت اللہ کی طرف پڑھی عصر کی نماز تھی۔ وہاں آپ ﷺ کے ساتھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی، پھر آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والوں میں سے ایک آدمی نکلا اور اس کا مسجد ( بنی حارثہ ) کی طرف گزر ہوا تو وہ لوگ رکوع میں تھے۔ وہ بولا کہ میں اللہ کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ ( یہ سن کر ) وہ لوگ اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف گھوم گئے اور جب رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے تو یہود اور عیسائی خوش ہوتے تھے مگر جب آپ ﷺ نے بیت اللہ کی طرف منہ پھیر لیا تو انھیں یہ امر ناگوار محسوس ہوا(اچھا نہیں لگا))نیز فرمایا: (أن النبي صلى الله عليه وسلم لما قدم إلى المدينة صلَّى قِبَلَ بيت المقدس ستة عشر شهراً،أو سبعة عشر شهراً، وكان يعجبه أن تكون قِبلتهُ قِبَلَ البيت، وأن أول صلاة صلاها صلاة العصر وصلى معه قومٌ، فخرج رجلٌ ممن صلى معه، فمرَّ على أهل مسجد وهم راكعون،فقال:أشهد بالله لقد صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قِبَلَ مكة،فداروا كما هم قِبَلَ البيت) ([6]) (ترجمہ ٔ حدیث: نبیٔ کریم ﷺ نے سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی ؛ جب کہ آپ ﷺ یہ چاہتے تھے کہ آپ ﷺ کا قبلہ بیت اللہ (کعبہ شریفہ) کی طرف ہو, تو سب سے پہلی نماز جو آپ ﷺ نے بیت اللہ کی طرف پڑھی عصر کی نماز تھی۔ وہاں آپ ﷺ کے ساتھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی,تو ایک آدمی جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی,نکلا اور مسجد والوں کے پاس سے گزرا ,حالانکہ وہ لوگ رکوع میں تھے,چنانچہ عرض گزار ہوا: میں اللہ کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے,( یہ سن کر ) وہ لوگ اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف گھوم گئے)


اس درمیان نبی ٔ کریمﷺ کی خواہش تھی کہ قبلہ کا رخ بدل دیا جائے,اور قبلہ مسجد ِ حرام کی طرف پھیر دیا جائے,اللہ تعالی نے اس کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے,ارشاد ِ ربانی ہے(قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ)(البقرۃ:۱۴۴)(ترجمہ ٔ آیت:ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوے دیکھ رہے ہیں,اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے,جس سے آپ خوش ہوجائیں ,آپ اپنا منہ مسجد ِ حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں)


(۲)مسجد ِ اقصی دنیا کی ان عظیم ترین مساجد میں سے دوسری مسجد ہے,جسے دوسرے نمبر پر بنائی گئی جیسا کہ نبی ٔ کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:جب آپ سے پوچھا گیا,حضرت ابوذر۔رضی اللہ عنہ۔ فرماتے ہیں: ((قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلَ؟ قَالَ: الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى. قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ، ثُمَّ قَالَ: حَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ وَالْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ) (
[7]) (ترجمہ ٔ حدیث: میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! زمین میں سب سے پہلی کونسی مسجد بنائی گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مسجد حرام,میں نے عرض کیا! پھر اس کے بعد کونسی؟ آپ ﷺ نے فرمایا مسجد اقصی,میں نے عرض کیا: ان دونوں مسجدوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا چالیس سال, پھر آپﷺنے فرمایا:جہاں نماز کا وقت ہوجائے وہیں نماز پڑھ لو وہی مسجد ہے)


(۳)مسجد اقصی ان تین مساجد میں سے ایک ہےجس کی طرف بغرض عبادت سفر کرکے جانا جائز ہے,ورنہ (ان تین مساجد کے علاوہ)دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں ہے,جس کے لئے سفر کیا جا سکتا ہے(بغرض عبادت),جیسا کہ نبی ٔ کریمﷺ نے فرمایا: (لا تُشَدُّ الرِّحالُ إِلَّا إلىَ ثَلاثَةِ مَساجِدَ:المَسْجِدِ الحَرامِ،وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،وَمَسْجِدِ الأَقْصَىَ) (
[8])(ترجمہ ٔ حدیث:کجاوے صرف تین مساجد کے لئے کسے جائیں گے( یعنی سفر کیا جائے گا),مسجد ِ حرام,مسجد ِ نبوی اور مسجد ِ اقصی ) ([9])


(۴)مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کا ثواب پانچ سو کی نماز کے برابر ہے,جیسا کہ نبی ٔ کریمﷺ نے فرمایا: (الصلاةُ في المسجد الحرام بمائة ألف صلاةٍ،والصلاةُ في مسجدي بألف صلاةٍ،والصلاةُ في بيت المقدس بخمسمائة صلاة) (
[10])(ترجمہ:مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ کے برابر,مسجد نبوی میں ایک ہزار کے مساوی جبکہ بیت المقدس میں پانچ سو کے برابر ثواب ہے)نیز حضرت ابو ذر ۔رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (تَذَاكَرْنَا وَنَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّهُمَا أَفْضَلُ: مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أو مَسْجدُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلاةٌ فِي مَسْجِدِي هذا أَفْضَلُ مِنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ فِيه،ِ وَلَنِعْمَ الْمُصَلَّى هو، وَلَيُوشِكَنَّ أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ مِثْلُ شَطَنِ فَرَسِهِ مِنَ الأَرْضِ حَيْثُ يَرَى مِنْهُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعاً) ([11])( ترجمہ ٔ حدیث: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے یہ گفتگو کررہے تھے کہ مسجد نبوی افضل ہے یا مسجد بیت المقدس؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:میری اس مسجد میں ایک نماز بیت المقدس میں پڑھی گئی چار نمازوں کے برابر ہے،ہاں وہ نماز پڑھنے کی بہترین جگہ ہے اور وہ وقت قریب ہے کہ ایک مؤمن کے لئے اتنی جگہ بھی ملنا مشکل ہوگا کہ وہ وہاں سے بیت المقدس کو دیکھ لے، اگر صرف اتنی جگہ بھی مل گئی تو وہ اسکے نزدیک دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہوگا) , اس حدیث کی روشنی میں مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کا ثواب ڈھائی سو بنتا ہے۔



(ألف)اللہ تعالی نے فرمایا: (سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ)(سورہ ٔ الإسراء:۱)(ترجمہ ٔ آیت:پاک ہے وہ اللہ تعالی جو اپنے بندے کو رات ہی رات مسجد حرام سے مسجد ِ اقصی تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے,اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقینا اللہ تعالی ہی خوب سننے والا دیکھنے والا ہے


اللہ تعالی نے اس کے ارگرد برکتیں ڈالیں ہیں,اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہاں باشندگان,ان کے معاش و معیشت ,رہن سہن ,ان کے کھیتی باڑی ,اور ان کے روزی رزق میں برکتیں دی ہیں(
[12]),دوسرا مفہوم یہ ہے کہ وہاں انبیاء ‘بزرگان ِ دین اور صلحاء کا مسکن رہا ہے([13]),حضرت معاذ نبی ٔ اکرمﷺسے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:( يا شام أنت صفوتي من بلادي وأنا سائق إليك صفوتي من عبادي) ([14])(ترجمہ:اے شام!تو میری چنندہ شہروں میں سے ہے اور میں تمہاری طرف اپنے چنندہ اور نیک بندوں کو لے کر آؤں گا) اور یہی وجہ ہے کہ صحابہ ٔ کرام کی ایک جمّ غفیر نے وہاں اقامت اختیار فرمائی:جن میں حضرات:أبو عبيدة بن جرَّاح، صفيَّة بنت حُيَي زوجۃ النبیﷺ - ,معاذ بن جبَل، بلال بن رباح (مؤذِّن الرسول – جنہوں نے مسجد نبوی میں اس وقت تک اذان دینے سے انکار کردیا تھا,جب تک بیت المقدس فتح نہ ہوجائے- ,عياض بن غُنم، عبدالله بن عمر، خالد بن الوليد،أبو ذر غفاري، أبو الدَّرداء عوَيمر، عُبادة بن صامت، وسلمان فارسي، وأبو مسعود الأنصاري، وتميم داري، وعمرو بن عاص، وعبدالله بن سلام، وسعيد بن زيد، وشدَّاد بن أوس، وأبو هريرة، وعبدالله بن عمرو بن العاص، ومعاوية بن أبي سفيان، وعوف بن مالِك، وأبو جمعة الأنصاري)رضی اللہ عن الجمیع([15])نیز حضرات :(عبادة بن الصامت، أبو ريحانة الأزدي، فيروز ديلمي، شداد بن أوس، مسعود أنصاري، سلام بن قيس الحضري رضي الله عنهم جميعًا)نے وہاں مدفون ہونے کی وصیت فرمائی تھی, اور حضرات :( عمر بن خطاب، أبو عبيدة بن جراح، عمرو بن عاص، خالد بن الوليد، معاوية بن أبي سفيان، عبد الرحمن بن عوف، بلال بن أبي رباح، وأم المؤمنين صفية رضي الله عنهم جميعًا) جیسے اجلہ صحابہ وہاں تشریف لے گئے,تاکہ نبی ٔ کریمﷺ کی طرف سے بیان کردہ فضائل کو حاصل کر سکیں([16]),اور تابعین اور فقہائے اسلام میں سے : (مالك بن دينار، أويْس القرني، وكعْب أحْبار، امام أوزاعي، وسفْيان ثوری، وإبراهيم بن أدهم، ومقاتل بن سفيان،لیث بن سعد، ووكيع بن جرَّاح، امام شافعي، وأبو جعفر جرشي، وبشر الحافي، وثوبان بن يمرد) جیسے تابعین ِ جلیل القدر کے نام نامی شامی ہیں, ([17]),نیزذو النون مصري، وسُليم بن عامر،سري سقطي، وبَكْر بن سهل دمياطي، وأبو العوَّام (مؤذِّن بيت المقدس)، وسلامة المقدس الضرير، وأبو الفرج عبدالواحد الحنبلي، وامام غزالي، امام أبو بكر الطرطوشي، امام أبو بكر العربي، وأبو بكر جرجاني(([18])قابل ذکر ہیں۔


(ب)ارض فلسطین کو عمومی طور پر اور اقصی کو خصوصی طور پر اللہ تعالی نے مبارک قرار دیا ہے, اللہ تعالی نے فرمایا: (وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ) (الانبیاء:۷۱)(اور ہم نے ابراہیم اور لوط کو بچا کر اس زمین کی طرف لے چلے,اس میں ہم نے تمام جہاں والوں کے لئے برکت رکھی تھی)اس سے بھی مراد اکثر مفسرین کے نزدیک ملک ِ شام ہے,جسے شادابی,اور پھلوں اور نہروں کی کثرت نیز انبیائے کرام ۔علیہم السلام ۔کا مسکن ہونے کے لحاظ سے بابرکت کہا گیا ہے(
[19]),نیز فرمایا:( وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آَمِنِينَ)سورہ ٔ سبا:۱۸)(ترجمہ ٔ آیت:اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی چند بستیاں اور(آباد)رکھی تھیں جو بر سر راہ ظاہر تھیں اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر کردی تھیں ان میں راتوں اور دنوں کو بہ امن و امان چلتے پھرتے رہو)یہاں بھی برکتوں والی بستیوں سے مراد شام اور بیت المقدس کی بستیاں ہیں([20])نیز فرمایا:( وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا)(سورہ ٔ الانبیاء:۸۱)(ترجمہ ٔ آیت:ہم نے تند و تیز ہوا کو سلیمان۔علیہ السلام۔کے تابع کردیا جو اس کے فرمان کے مطابق اس زمین کی طرف چلتی تھی,جہاں ہم نے برکت دے رکھی تھی, یہاں بھی جہاں برکت دی ہے,اس سے مراد شام کا علاقہ ہے,نیز فرمایا: (يَٰقَوْمِ ٱدْخُلُواْ ٱلْأَرْضَ ٱلْمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِى كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّواْ عَلَىٰٓ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُواْ خَٰسِرِينَ)(المائدۃ:۲۱)(ترجمۂ آیت:اے میری قوم والو!اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تعالی نے تمہارے نام لکھ دی ہے اور اپنی پشت کے بل رو گردانی نہ کرو کہ پھر نقصان میں جاپڑو ), غور فرمائیں ,اللہ تعالی نے اپنے کلام مقدس میں اور حضرت موسی ۔علیہ السلام ۔نے ارض ِ فلسطین کو نہ صرف مقدس قرار دیا بلکہ اس مقدس جگہ میں داخل ہونے اور موت وقت اس قریب ہونے کی خواہش و تمنا ظاہر فرمائی,جیسا کہ حدیث ایک لمبی حدیث کچھ میں آتا ہے,: (أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ، فَفَقَأَ عَيْنَهُ، فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ، فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ، فَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ) ([21])(ترجمہ ٔ حدیث : موت کے فرشتے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف (انسانی صورت میں) بھیجا گیا۔ جب وہ فرشتہ آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اسے تھپڑ مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اپنے رب تعالیٰ کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: اے اللہ! تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ درست فرما دی اور فرمایا: ان کے پاس دوبارہ جاؤ اور انہیں کہو کہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پشت پر رکھیں، انہیں ہر بال کے عوض، جو ان کے ہاتھ کے نیچے آئے گا، ایک سال زندگی ملے گی۔ (اس ساری کارروائی کے بعد) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: (پھر) موت! انہوں نے کہا: پھر ابھی ٹھیک ہے، لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ مجھے ایک پتھر پھینکنے کے فاصلے تک مقدس سرزمین کے قریب کر دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کی ایک جانب سرخ رنگ کے ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھاتا)امام نووی فرماتے ہیں کہ حضرت موسی نے ارض مقدس سے بوقت موت قریب ہونے کی خواہش اس کے شرف ِ منزلت کی وجہ سے فرمائی([22])


(۶)مسجد ِ اقصی وہ مقدس سرزمین ہے,جہاں سے نبی ٔ کریمﷺ کی معرا ج شروع ہوئی اور آپ ﷺنے جملہ انبیاء کرامﷺ کی امامت فرمائی ,ملاحظہ فرمائیں,آپ ﷺنے خود فرمایا:( «لقد رأيتني في الحِجْر وقريش تسألني عن مسراي، فسألتني عن أشياء في بيت المقدس لم أثبتها، فكربت كربة ما كربت مثله قط»، قال: «فرفعه الله لي أنظر إليه، ما يسألوني عن شيء إلا أنبأتهم به، ولقد رأيتني في جماعة من الأنبياء، فإذا موسى قائم يصلي، فإذا رَجُلٌ ضَرْبٌ -وسط- جعد -من جعودة الشعر-، كأنه من رجال شَنُوءَة -قبيلة مشهورة-، وإذا عيسى ابن مريم قائم يصلي، أقرب الناس به شبهًا عروة بن مسعود الثقفي، وإذا إبراهيم عليه السلام قائم يصلي، أشبه الناس به صاحبكم -يعني: نفسه-، فحانت الصلاة، فأممتهم) (
[23])(ترجمہ ٔ حدیث: میں نے اپنے آپ کو حطیم میں دیکھا اور قریش مجھ سے واقعۂ سفرِ معراج کے بارے میں سوالات کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ چیزیں پوچھیں جنہیں میں نے محفوظ نہیں رکھا تھا جس کی وجہ سے میں اتنا پریشان ہوا کہ اس سے پہلے اتنا کبھی پریشان نہیں ہوا تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو اٹھا کر میرے سامنے رکھ دیا۔ وہ مجھ سے بیت المقدس کے متعلق جو بھی چیز پوچھتے میں (دیکھ دیکھ کر) ان کو بتا دیتا۔ اور میں نے خود کو گروہ انبیائے کرام علیہم السلام میں پایا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے صلاۃ پڑھ رہے تھے، اور وہ قبیلہ شنوءہ(ایک مشہور قبیلہ) کے لوگوں کی طرح گھنگریالے بالوں والے تھے اور پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیھما السلام کھڑے ہوئے صلاۃ پڑھ رہے تھے اور عروہ بن مسعود ثقفی ان سے بہت مشابہ ہیں اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور تمہارے دوست (یعنی خود نبی ٔ کریم ﷺ ) ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔پھر نماز کا وقت ہوا، اور میں نے ان سب انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت کروائی)


علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: ("‏أُسْرِىَ برسول الله صلى الله عليه وسلم بجسده على الصحيح من المسجد الحرام إلى بيت المقدس، راكبًا على البُرَاق، صحبة جبريل عليهما الصلاة والسلام، فنزل هناك، وصلى بالأنبياء إمامًا، وربط البراق بحلقة باب المسجد‏، ثم عرج به تلك الليلة من بيت المقدس إلى السماء الدنيا")(
[24])(ترجمہ:صحیح یہی ہے کہ نبی ٔ کریمﷺ کو جسم سمیت مسجد ِ حرام سے بیت المقدس تک سیر کرایا گیا,براق پر سوار ہوکر,حضرت جبریل ۔علیہ السلام ۔کی صحبت میں,چنانچہ آپ وہاں اترے,انبیاء کی امامت کرائی,براق کو مسجد کے دوروازے سے باندھا,پھر اسی رات بیت المقدس سے آسمانِ دنیا کی طرف معراج کرایا گیا)





ثانیا:اس بات کی طرف بھی اشارہ تھا کہ نبی ٔ کریمﷺ کی امامت سب کے لئے واجب الإتباع ہوگی,اور آپ ﷺکی بات قابل ِ تسلیم اور لائق ِ پیروی اور اس کے بغیر کوئی چارہ ٔ کار نہ ہوگا,حتی کہ انبیاء بھی آپ ہی کی اتباع کریں گے,چنانچہ نبی ٔکریمﷺ نے فرمایا:( وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ مُوسَى [صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ]كَانَ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي) (
[25]), ترجمہ:قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے,اگر موسی ﷺبھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے بغیر چارہ نہ تھا,اور جب آخر زمانہ میں حضرت عیسی ۔علیہ السلام ۔اتریں گے تو آپﷺ کی شریعت کے مطابق ہی فیصلہ فرمائیں گے([26])




رابعا:یہی وہ مقام ہوگا جہاں طائفہ منصورہ کا قیام ہوگا ,فرمایا: (لا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين على من ناوأهم وهم كالإناء بين الأكلة، حتى يأتي أمر الله وهم كذلك"، قلنا: يا رسول الله، وأين هم؟ قال: "بأكناف بيت المقدس) (
[27])(ترجمہ: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ثابت قدم رہتے ہوئے غالب رہیگا اوراپنے دشمنوں کو مقہورکرتا رہے گا،دشمن کی شیرازہ بندی اسے کوئی گزند نہ پہنچاسکے گی الا یہ کہ بطورآزمائش اسے تھوڑی بہت گزند پہنچ جائے یہاں تک کہ قیامت آجائے گی اوروہ اسی حال پر قائم ودائم ہوں گے۔‘‘صحابہ کرام نے عرض کیا:’’ یارسول اللہ یہ لوگ کہاں کے ہوں گے۔‘‘تو نبی کریم نے جواب دیا :’’ یہ لوگ بیت المقدس کے باشندے ہوں گے یا بیت المقدس کے اطراف واکناف میں ہوں گے) اور اسی لئے نبی ٔ کریمﷺ نے وہاں کی صالحیت کو معیار قرار دیا, فرمایا: (إذا فسد أهل الشام فلا خير فيكم، لا تزال طائفة من أمتي منصورين لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة) ([28])(ترجمہ ٔحدیث:جب اہل شام میں بگاڑ پیدا ہوجائے,تو تم میں کوئی خیر باقی نہیں ہوگا,میری امت کے لوگ ہمیشہ کامیاب رہیں گے ,اور جو انہیں چھوڑ دے,کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے یہاں تک قیامت قائم ہوجائے)


(۷)بیت المقدس وہ عظیم جگہ ہے جہاں کی اللہ نے قسم کھائی ہے, اور بلاشبہ رب عظیم عظیم ہے اور عظیم چیزوں کی ہی قسم کھاتا ہے؛فرمایا: (والتين والزيتون وطور سينين وهذا البلد الأمين),بعض مفسرین فرماتے ہیں:التين بلاد الشام والزيتون بلاد فلسطين وطور سينين الجبل الذي كلم الله عليه موسى عليه السلام. والبلد الأمين مكة,, (
[29]),یہ واضح ہونا چاہئے کہ انجیر شام کے علاقے کی پیداوار ہے,اور زیتون فلسطین اور اس کے نواحی کی پیداوار ہے,طورِ سینا وہ پہاڑ ہے,جس پر اللہ تعالی نے حضرت موسی ۔علیہ السلام۔سے کلام فرمایا,اور بلد امین سے مراد مکہ مکرمہ ہے,گویا اللہ تعالی نے ان مقامات کی قسم کھائی ہے,جس سے ارض ِ فلسطین کی عظمت و رفعت اور بلندی ٔ رتبہ کا اندازہ ہوتا ہے۔


(۸)مسجد ِ اقصی ان چار جگہوں میں سے ایک ہے,جہاں مسیح الدجال پر نہیں مار سکے گا,مکہ ,مدینہ,مسجد اقصی اور مسجد طور (
[30]),وہ چار مسجدیں جہاں دجال داخل نہیں ہوسکتا ہے,یہ ہیں (مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور کوہ طور)جیسا کہ حضرت جنادہ بن امیہ دوسی کی حدیث سے واضح ہے,وہ فرماتے ہیں:( دَخَلْت أَنَا وَصَاحِبٌ لِي عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيه وسَلَّم ، قَالَ‏: فَقُلْنَا‏: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْت مِنْرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيه وسَلَّم وَلاَ تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِهِ، وَإِنْ كَانَ عِنْدَكَ مُصَدَّقًا، قَالَ‏:نَعَمْ ، قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيه وسَلَّم ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ‏ : " أُنْذِرُكُمُ الدَّجَّالَ، أُنْذِرُكُمُ الدَّجَّالَ، أُنْذِرُكُمُ الدَّجَّالَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلاَّ وَقَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ، وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الأُمَّةُ، وَإِنَّهُ جَعْدٌ آدَم مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، وَإِنَّ مَعَهُ جَنَّةً وَنَارًا، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ، وَإِنَّ مَعَهُ نَهْرَ مَاءٍ وَجَبَلَ خُبْزٍ، وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا، ثُمَّ يُحْيِيهَا، لاَ يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا، وَإِنَّهُ يُمْطِرُ السَّمَاءَ وَلاَ تُنْبِتُ الأَرْضُ، وَإِنَّهُ يَلْبَثُ فِي الأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا حَتَّى يَبْلُغَ مِنْهَا كُلَّ مَنْهَلٍ ، وَإِنَّهُ لاَ يَقْرَبُ أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ‏ : مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسْجِدَ الرَّسُولِ وَمَسْجِدَ الْمَقْدِسِ وَالطُّورِ، وَمَا شُبِّهَ عَلَيْكُمْ مِنَ الأَشْيَاءِ فَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَرَّتَيْنِ‏)([31])( ترجمہ: میں اور میرا دوست ایک صحابی رسول کے پاس گئے اور کہا: ہمیں ایسی حدیث سنائیے ، جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنی ہو، کسی اور سے نہیں، گوکہ وہ آپ کے یہاں درست ہی ہو۔ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ﷺ ایک دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے: " میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں، تین بار ایسا ہی فرمایا، ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے آگاہ فرمایا ہے(لہذا میں بھی آگاہ کئے دیتا ہوں)۔ میری امت کے لوگو! وہ تم میں نکلے گا۔ وہ گھنگھریالے بالوں والا اور گندمی رنگ کا ہو گا، اس کی بایاں آنکھ مٹی ہوئی ہو گی،(نہیں ہوگی) اس کے پاس جنت اور جہنم ہو گی۔ (‏‏‏‏درحقیقت) اس کی جہنم، جنت ہو گی اور اس کی جنت، جہنم ہو گی۔ اس کے پاس پانی کی نہر اور روٹیوں کا پہاڑ ہو گا۔ (‏‏‏‏اسے اتنی طاقت و قوت دے دی جائے گی کہ) ایک جان کو قتل کر کے اسے زندہ بھی کر سکے گا، مزید اسے اس قسم کا تسلط نہیں دیا جائے گا۔ وہ آسمان سے بارش برسائے گا، لیکن زمین سے کوئی چیز نہیں اگے گی۔ وہ زمین میں چالیس دن ٹھہرے گا، یہاں تک کہ ہر جگہ پہنچ جائے گا۔ وہ چار مسجدوں کے قریب بھی نہیں پھٹک سکے گا: مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد مقدس اور کوہ طور۔ اگر کچھ اختیارات کی وجہ سے تم پر (‏‏‏‏اس کے اللہ تعالیٰ سے) مشابہت ظاہر ہونے لگے،تو ذہن میں رکھنا(اور اچھی طرح سے جان لینا) کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔“ یہ بات دو مرتبہ آپﷺ ارشاد فرمائی۔


(۹)مسجد اقصی وہ جگہ ہے,جس کے بارے میں خصوصی طور پر یہ حکم نازل فرمایا ہے کہ وہ سب سے بڑا ظالم ہے جو اللہ کے گھروں سے دوسروں کو روکے,جیسا کہ فرمایا گیا: (وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ)(سورہ ٔ البقرہ:۱۱۴)(ترجمہ ٔ آیت:اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالی کی مسجدوں میں اللہ تعالی ذکر کئے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے,ایسے لوگوں کو خوف کھاتے ہوے ہی اس میں جانا چاہئے,ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔ یہ آیت در حقیقت بخت نصر اور اس کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو نصرانیوں کی مدد کرتے تھے اور لوگوں کو مسجد ِ اقصی سے روکتے تھے,مسجد میں تباہی مچاتے تھے,گندگیاں پھینکتے تھے,یہی قول ابن جریر کا ہے,دوسرا قول ابن کثیر کا ہے,جو فرماتے ہیں کہ اس سے مراد مشرکین ہیں,جنہوں نے نبی ٔ کریمﷺ اور صحابہ کو مکہ سے نکل جانے پر مجبور کیا,اور یوں خانہ ٔ کعبہ میں مسلمانوں کو نماز سے روکا(
[32])


(۱۰)ارض فلسطین وہ مبارک مقام ہے,جس کو ارض حشر و نشر قرار دیا گیا ہے,جیسا کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کہ سوال کرنے پر کہ بیت القدس کے بارے میں کچھ بتائیے, نبی ٔ کریمﷺ نے فرمایا: (أرض المحشر والمنشر"،(
[33] (وہ تو حشر و نشر کی زمین ہے)ابو داؤد کی ایک روایت میں کچھ یوں آتا ہے,: "ائتوه فصلوا فيه -وكانت البلاد إذ ذاك حربًا– فإن لم تأتوه وتصلوا فيه، فابعثوا بزيت يُسرج في قناديله) ([34]) (ترجمہ:وہاں جاؤ,نماز ادا کرو,(اس وقت وہاں جنگ ہوگی)اگر وہاں نہیں جا سکے,اور نماز نہ پڑھ سکے تو (کم از کم)تو تیل بھیج دو جس سے چراغ جلایا جا سکے)


(۱۱)یہیں پر حضرت عیسی ۔علیہ السلام۔نزول فرمائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے,جیسا کہ اس کی خبر دی گئی ‘فرمایا (فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ، فَلاَ يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ..."، واللد مدينة معروفة في فلسطين، قال النووي: [بِضَمِّ اللاَّم وَتَشْدِيد الدَّال مَصْرُوف, وَهُوَ بَلْدَة قَرِيبَة مِنْ بَيْت الْمَقْدِس) (
[35])(ترجمہ ٔ حدیث: ابھی یہ اسی (قسم کے) حال میں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم علیہما السلام کو بھیج دے گا، (جن کی تفصیل یہ ہے کہ) وہ دمشق کے مشرقی جانب سفید مینار کے پاس آسمان سے اتریں گے۔ اس وقت وہ ہلکے زرد رنگ کی دو چادروں میں ملبوس ہوں گے اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ جب سر جھکائیں گے تو اس سے (پانی کے) قطرات ٹپکیں گے اور جب سر اٹھائیں گے تو اس سے ایسے قطرے گریں گے جو موتیوں کی طرح (چمک دار اور سفید) ہوں گے۔ آپ کے سانس کی خوشبو جو کافر بھی پائے گا اُسی وقت مر جائے گا، اور آپ کے سانس کی خوشبو منتہاے نظر تک پہنچے گی۔ پس عیسیٰ علیہ السلام دجال کو تلاش کریں گے، حتیٰ کہ اسے لُدّکے دروازے پر پا لیں گے اور اُسے قتل کر ڈالیں گے)


(۱۲)بیت المقدس سے ہی صور پھونکا جائے گا,جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: (وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ)(ق:۴۱) (ترجمۂ آیت:اور سن رکھیں کہ جس دن ایک پکارنے والا قریب ہی کی جگہ سے پکارے گا)جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں متعدد مفسرین نے یہ بات کہی ہے(
[36])


ایک آہ !
مسجد اقصی !تیری وہ سجدہ گاہیں جہاں کبھی مقدس ترین ہستیاں ، نبوت کے پیکر پیغمبرانِ الٰہی سجدہ ریز ہوتے تھے

آہ !اب وہاں مجرم,فاسق ,ظالم,غاصب یہودیوں کے ناپاک بوٹوں کی دھمک سنائی دیتی ہے …

آہ میرے اقصی ! آہ !جہاں کبھی تکبیر وتہلیل اور تسبیح و تحمید کے زمزمے گونجتے تھے مغضوب علیہم اور راندہ ٔ درگاہ یہودی قوم کے منحوس فوجیوں کے غلیظ اور بدبودار نعرے وہاں تعفن پھیلاتے ہیں ,میرے اقصی !تجھے ان سے کتنی گِھن آتی ہو گی ؟

آہ ! کچھ نہیں کر سکتے,صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ اپنے گناہ گار ہاتھوں کو اپنے پاک پروردگار کی طرف بلند کرکے دعائیں کر سکتے ہیں,آہیں بھر سکتے ہیں,تضرع و ابتہال کر سکتے ہیں,گریہ و زاری کر سکتے ہیں, بس اور بس

ہاں ! ان دلخراش حالات سے ہمارے سینے زخمی ضرور ہیں ، اہلِ دل اس پر بہت تڑپتے اور بے تاب ہوتے ہیں ، تجھ سے محبت رکھنے والے مجھ یہ حالت دیکھ کر روتے اور آہیں بھرتے ہیں ، کوئی تجھ پر قربان ہونا چاہتا ہے مگر رکاوٹوں کے اتنے پہاڑ ہیں کہ اس کی ہمت جواب دے جاتی ہے ، کوئی تجھے ستانے والے یہودیوں پر آگ بن کر برسنا چاہتا ہے مگر وہ تجھ سے بہت دور بیٹھ کر تیرے غم میں تیرا شریک ہوکر بے چین رہتا ہے,قلق و اضطراب میں مبتلا رہتا ہے …تو سعادتوں کا مرکز مگر آج تجھے شقاوت کے مارے یہودیوں نے اپنا ظالمانہ چنگل مسلط کر رکھا ہے ، تو برکتوں کا گھر مگر آج تجھے غضب کی ماری قوم نے اجاڑ رکھا ہے … لیکن یاد رکھنا ! بہت جلد تیرے چاہنے والے ، تیری عزت اور تقدس کو پہچاننے والے تجھے ان ظالموں کے چنگل سے آزاد کرائیں گے، عن قریب پھر وہ دن آئیں گے جب تکبیر کے پاکیزہ نعرے تجھ میں گونجیں گے,تکبیر و تہلیل سے فضا معطر ہوگی، عن قریب سعادت مند لوگ کی جبین نیاز تیری زمین کے بوسے لے گی ۔ بہت جلد ۔ ان شاء اللہ ۔

اے رب کریم! فلسطین کو یہودیوں کے ناجائز قبضے سے آزاد فرما,ظالموں کو ہلاک فرما,انہیں نشان ِ عبرت بنا,انہیں کیفر ِ کردار تک پہنچا,اور ہمیں موت سے پہلے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرما,آمین یا رب العالمین







طالب دعا:أبو أسامہ عبد السلام بن صلاح الدین مدنی​

میسان ۔طائف۔سعودی عرب​






([1]) ابن خزیمہ رقم:۹۳۹,ابن حبان رقم:۱۶۳۳,سنن کبری رقم:۷۷۴,۵۱۵۴,سنن نسائی رقم:۶۹۳,مسند أحمد:۶۶۴۴و سندہ صحیح)
([2]) دیکھئے:تاریخ طبری ۲/۴۵,المنتظم :۴/۱۹۳,البدایہ و النہایہ ۷/۴۵,تاریخ الإسلام للذہبی:۳/۱۶۲,فتوح البلدان للبلاذری:ص ۱۴۴ وغیرہ کتب تاریخ,حضرت عمر ۔رضی اللہ عنہ۔کی اس سفر میں سادگی اور تواضع و خاکساری کے واقعہ کو پڑھ کر واقعی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں,لمبے چوڑے رقبے پر حکومت کرنے والا انسان اور اتنی سادگی,قربان جائیں ہم اور آپ پر۔رضی اللہ عنہ و عن الصحابہ اجمعین۔
([3]) دیکھئے:تاریخ الیعقوبی :۲/۴۶,شذرات الذہب:۱/۲۸,تہذیب تاریخ دمشق:۱/۱۷۹)
([4]) در حقیقت یہ خاکسار کی ایک تقریر کا عنوان تھا,جسے فیس بک پر لائیو نشر کیا گیا تھا,بعض احباب کی شدید خواہش و فرمائش پر حوالہ ٔ قرطاس کیا جا رہا ہے,اللہ شرف ِ قبولیت سے نوازے۔آمین
([5]) بخاری رقم:۴۰,مسلم رقم:۲۵۲
([6]) بخاری برقم:۴۴۸۶,مسلم رقم:۵۲۵
([7]) بخاری برقم:۳۴۳۵,مسلم برقم:۵۲۰
([8]) بخاری رقم:۱۱۸۹,مسلم رقم :۱۳۹۷,من حدیث ابی ہریرہ ۔رضی اللہ عنہ
([9]) اس موضوع پر شیخ الإسلام ابن تیمیہ,ابن القیم ,شیخ البانی,شیخ بن باز,اور شیخ ابن عثیمین ۔رحمہم اللہ۔ نے بڑی نفیس بحثیں کی ہیں,دیکھئے:الرسائل الکبری:۲/۳۸۸۔۳۸۹,ابن تیمیہ کی تفسیر سورہ ٔ الإخلاص:۱۷۹,سلسلہ ضعیفہ:۱/۵۹,فتاوی ابن باز:۱۶/۱۱۳۔
([10]) رواه الطبراني في الكبير ورجاله ثقات،وفي بعضهم كلام وهو حديث حسن كما قال الهيثمي في مجمع الزوائد 4/7، ورواه البزار وقال إسناده حسن. الترغيب والترهيب 2/175, نیز دیکھئے:بزار:۴۱۴۲,شرح مشکل الآثار:۶۰۹
([11]) دیکھئے:معجم أوسط رقم:۶۹۸۳, مستدرک حاکم رقم:۸۵۵۳,وقال الحاكم هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه وأقره الذهبي،وقال الهيثمي:رواه الطبراني في الأوسط ورجاله رجال الصحيح، مجمع الزوائد 4/7، وصححه العلامة الألباني، بل قال عنه إنه أصح ما جاء في فضل الصلاة في المسجد الأقصى، السلسلة الصحيحة حديث رقم 2902، تمام المنة في التعليق على فقه السنة ص 294,امام طحاوی نے مشکل الآثار(۶۰۸)میں بھی اسے ذکر فرمایاہے
([12]) تفسیر طبری:۸/۱۳۔۱۴
([13]) تفسیر قرطبی:۱۳۹
([14]) دیکھئے:فضائل الشام لابن رجب:۳/۲۰۰,ہیثمی نے مجمع الزوائد (۱۰/۶۱) میں اسے صحیح کہا ہے, امام منذری (الترغیب والترہیب:۴/۱۰۲)نے دو طرق میں سے ایک طریق کو ,,جید,, کہا ہے
([15]) دیکھئے:طبقات ابن سعد ۷/۴۲۴)
([16]) دیکھئے:مکانۃ القدس فی الإسلام از:شیخ عبد الحمید السایح ص ۷)
([17]) دیکھئے:طبقات ابن سعد(الطبقات الکبری):۷/۴۶۴
([18]) دیکھئے:الأنس الجلیل ۵۷۵)
([19]) دیکھئے:تفسیر الواحدی,تفسیر بغوی وغیرہ
([20]) دیکھئے:تفسیر ابن کثیر,تفسیر طبری,تفسیر قرطبی وغیرہ
([21]) بخاری رقم:۱۳۳۹,مسلم رقم:۲۳۷۲
([22]) شرح نووی لمسلم:۸/۱۰۳۔
([23]) مسلم برقم:۱۷۲
([24]) زاد المعاد:۳/۳۰
([25]) مسند احمد برقم:۱۵۳۸۸,مسند دارمی:۴۴۹,سنن بیہقی رقم:۲۲۷۵,مسند ابو یعلی رقم:۲۱۳۵, علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے,دیکھئے:إرواء الغلیل رقم:۱۵۸۹۔
([26]) دیکھئے:طرح التثریب للعراقی:۸/۱۱۷,فتاوی اللجنۃ الدائمۃ:۳/۳۰۱۔۳۰۲,رسائل فی الأدیان للشیخ الحمد ص ۱۳۷۔۱۳۹, امام نووی کی شرح مسلم:۲/۳۶۶۔
([27]) طبرانی کبیر رقم:۷۵۴,مسند أحمد :۲۱۲۸۶,علامہ البانی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے,دیکھئے:سلسلہ ضعیفہ رقم الحدیث:۶۳۹۰
([28]) ترمذی رقم:۲۱۹۲,فضائل الشام و دمشق:ص ۵,و سندہ صحیح ,دیکھئےَ:سلسلہ صحیحہ رقم الحدیث:۴۰۳,مسند احمد رقم:۱۵۵۹۷
([29]) دیکھئے:تفسیر ابن کثیر,تفسیر قرطبی,تفسیر بغوی وغیرہ
([30]) دیکھئے:تفسیر آلوسی ۱۴/۱۱,رواہ أحمد فی مسندہ برقم:۲۳۷۳۳
([31]) سلسلہ الأحادیث الصحیحۃ رقم:۲۹۳۴,مسند أحمد رقم:۲۳۶۸۳,شرح مشکل الآثار رقم:۵۶۹۲
([32]) دیکھئے: تفسیر ابن کثیر آیت مذکورہ کی تفسیر
([33]) تخریج الإحیاء:۱ ۷۵,و قال إسنادہ جید,شیخ وادعی نے الصحیح المسند(۱۶۶۲)میں اسے صحیح قرار دیا ہے
([34]) ابو داؤد رقم:۴۵۷,البتہ علامہ البانی نے اسے ضعیف کہا ہے, تاہم امام نوی نے مجموع(۸/۲۷۸)میں اسے صحیح قرار دیا ہے
([35]) مسلم رقم:۲۹۳۷
([36]) دیکھئے:تفسیر ابن کثیر,تفسیر قرطبی,تفسیر فتح القدیر وغیرہ
 

اٹیچمنٹس

Top