• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قصرِ ایقان کا ستون؛ الولاء والبراء کی صلابت

شمولیت
نومبر 01، 2022
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
35
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قصرِ ایقان کا ستون؛ الولاء والبراء کی صلابت

اے سالکِ طریقت و مسافرِ سبیلِ حق!

الولاء والبراء دراصل شریعتِ غرّا کی وہ اساسِ محکم و قاعدۂ متین ہے جس پر عمارتِ ایمان و ایقان کی رفعتیں آسمان بوس ہیں۔ یہ کوئی فرعیاتِ فروعیہ یا جزویاتِ موہومہ نہیں بلکہ حقیقتاً خطِ فاصل و سرحدِ ممیزہ ہے، جس کے ایک جانب نورِ توحید کی ضیاء ہے اور دوسری جانب ظلماتِ کفر و نفاق کا غبار۔

افسوس صد افسوس! اس عہدِ ناگوار میں ایک جماعتِ مرجیّہ، جو اپنے زعمِ باطل میں مفکرِ عصر و مصلحِ وقت کہلاتی ہے، اصلِ عظیم کو قصداً محو کرنے اور اس کے جلال کو باطل کی دھند میں چھپانے پر تُلی ہوئی ہے۔ وہ مؤدتِ کفّار و مصاحبتِ مشرکین کو "انسانیت" و "تحمّل" کے خوشنما پردے میں لپیٹ کر پیش کرتے ہیں، حالانکہ قرآنِ مبین اپنی فصاحتِ جاودانی کے ساتھ ناطق ہے:

تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ (المجادلة: 22)

یعنی ہرگز نہ ملے گا تجھے کہ اہلِ ایمان و اصحابِ ایقان اُن معاندین و معارضین کے ساتھ انس و محبت رکھیں جو ذاتِ قدسی و رسالتِ مآب کے دشمن ہیں۔

کیا اس سے زیادہ نصِّ صریح اور حجتِ جلیہ درکار ہے؟ جو شخص دشمنانِ الٰہی و معاندانِ رسول سے مودّت و اُلفت کا رشتہ جوڑتا ہے، وہ حقیقت میں نفاقِ جلی اور ایمان کی براءت سے متصف ہے۔

ائمۂ اہلِ حدیث کی صدائے حق ہمیشہ بلند رہی کہ شانِ مومن کامل یہ ہے کہ وہ باطل پرست کفار کے ساتھ قلبی اُنس و انسیت کا رشتہ منقطع رکھے، اور ان کے ادیانِ فاسدہ و مللِ باطلہ سے براءت و عداوت کو اپنے قلب میں جڑ پکڑائے۔ یہی منہجِ قرآنی ہے، یہی سنتِ انبیاء و مرسلین ہے اور یہی طریقِ صحابۂ کرام۔

مگر اس زمانے کے لوگ "صلحِ کلّیت" کی دُھن میں اعلان کرتے ہیں کہ کفار سے معادات فتنہ انگیزی ہے۔ سبحان اللہ! کیا نصوصِ قرآنی فتنہ ہیں؟ کیا ابراہیم خلیلؑ کا وہ اعلانِ براءت، جس میں اپنی قوم کو مخاطب کرکے کہا:

إِنَّا بُرَءٰؤُا مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ... وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ٱلْعَدَاوَةُ وَٱلْبَغْضَآءُ أَبَدًا (الممتحنة: 4)

فتنے کا محرک تھا یا توحید کی سرخی و ایمان کی ضیاء؟

یاد رکھو! جو شخص کفّار کے ساتھ میل جول، اُنس و مؤدت کا داعی ہے، وہ دراصل قلعۂ ایمان میں شگاف ڈالنے والا اور امتِ مسلمہ کو وادیٔ ذلّت و حضیضِ غلامی میں دھکیلنے والا ہے۔

پس اے موحّد! اپنی ولاء کو فقط ذاتِ باری، رسالتِ مآب ﷺ اور اہلِ ایمان کے ساتھ مخصوص رکھ، اور اپنی براءت کو ہر مشرک و دہریہ، ہر یہودی و نصرانی، ہر ہندو و ملحد کے خلاف علانیہ صادر کر۔ یہی مقتضائے ایمان ہے، یہی جوہرِ توحید ہے اور یہی اہلِ حدیث کی صداے حق ہے جو ازل سے تاابد گونجتی رہے گی۔
 
Top