فیاض ثاقب
مبتدی
- شمولیت
- ستمبر 30، 2016
- پیغامات
- 80
- ری ایکشن اسکور
- 10
- پوائنٹ
- 29
السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میرے تمام اہل ایمان بهائیو اور بهنو آج ایک بهائی نے پوچھا کہ جو نمازیں چهوٹ جائیں یا جن کو کبهی ہم نے پڑها ہی نہیں ہے اب ہم انہیں کیسے پڑهیں گے یعنی قضاء عمری
میرے تمام اہل ایمان بهائیو اور بهنو بہنو یہ قضاء عمری کچھ بھی نہیں ہے اسکا قرآن و احادیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا یہ صرف مولویوں کے بنائے ہوئے ٹوٹکے ہیں جو نمازیں چهوٹ جائیں انکا کفارہ سچی توبہ ہے آئیے قرآن وحدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں
٭٭٭قضائے عمری بدعت ہے٭٭٭
اسکا غیر مشروع ہونا تو واضح ہے ہی مگر اس کے حق میں دلائل دینے والوں کے دلائل دیکھے جائیں تو یہ بھی معلوم ہوتا کہ یہ ایک قبیح بدعت ہے۔
احناف احادیث سے استدلال کر کے کہتے ہیں کہ بھول جانے والا،سوجانے والا جس طرح نماز کی قضاء کرے گا تو اس چھوڑی ہوئی کی قضاء تو بالاولی کرے گا۔اور حدیث پیش کرتے ہیں کہ اللہ کا حق زیادہ لائق ہے کہ ادا کیا جائے۔
تو کیا ایسا ممکن ہے کہ قضائے عمری اللہ کا حق ہو اوراللہ شریعت میں اس کا حکم نازل کرے نہ ہی رسول اللہﷺ امت کو بتائیں ،اور تو اور صحابہ رضی اللہ عنھم نے بھی نہ بتایا کہ یہ اللہ کا حق ہے؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ غلطی اور سرکشی، بھول چوک اور نافرمانی ،سو جانا اور جان بوجھ کر سوئے رہنا، چھوٹ جانا اور نافرمانی کرتے ہوئےچھوڑ دینا برابر ہوجائے؟ نا ٖصرف یہ کہ برابر ہو جائے بلکہ اس کی ادائیگی پر "بالاولی" کا حکم بھی لگ جائے؟ اگر ایسا ہی ہوتا تو حیض ونفاس کی حالت میں چھوٹی ہوئی نمازوں کے لئے "بالاولی" ادا کرنے کا حکم ہو سکتا تھا اگر ہوتا تو۔۔۔ بلکہ یہی حدیث ان کے اپنے موقف کے خلاف پڑتی ہے کہ اگر بھول جانے والے یا سو جانے والے کے لئے نماز کی ادائیگی ہی اس کا کفارہ ہے اور جان بوجھ کر چھوڑی گئی نماز کا بھی ادائیگی ہی کفارہ ہے تو پھر اللہ تعالی نے وقت مقرر ہی کیوں فرمایا نمازوں کے لئے، فجر کے وقت نہیں اٹھا جاتا تو نہ سہی، ظہر کے ساتھ پڑھ لیں، کفارہ تو ادا ہو ہی جائے گا ناں؟ اگر کہیں کہ ہو جائیگا مگر گنہگار بھی ہو گا تو عرض ہے کہ یہ کیسا کفارہ ہے جو گناہ بھی نہ مٹا سکا؟
حالانکہ اللہ رب العزت سورہ الماعون میں ان نمازیوں کے لئے ہلاکت کا حکم سناتے ہیں جو اپنی نمازوں سے غافل رہے۔ جبکہ رسول اللہﷺ کو جب کفار ومشرکین نے نماز سے مشغول رکھا اور نماز چھوٹ گئی تو وہ تمام (رسول اللہﷺ سمیت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم) جو غافل کر دیئے گئے گئے کیا کوئی ہلاکت کا حکم اترا؟ نہیں ناں ؟ بلکہ ان سب نے اس نماز کو بعد میں ادا کیا۔ یہی فرق ہے کہ جان بوجھ کر غافل رہے تو ہلاکت، غافل کر دیئے گئے تو نماز ادا کی جائے گی۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ بندے اور کفر کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔ (مسلم) اور صحابہ بھی بالاتفاق کفر کا ہی فتوی لگاتے تھے۔
تو کفر کی معافی ہوا کرتی ہے یا قضاء؟ کفر سے لوٹنے والا اگر اپنے اسلام کی تجدید کرتا ہے تو کفر کے گناہ معاف ہوں گے یا نہیں؟ اگر ہو گئے تو کفارہ کیا؟ اور اگر نہیں ہوئے تو شریعت میں روزوں کی طرح اس کی ادائیگی کا کوئی حکم کیوں نہیں ہے؟جس طرح قضاء روزے میت کے سر لازم ہوں تو ولی رکھے گا، نمازیں ہوں تو کون پڑھے گا؟ اس بارے کسی حکم نہ ہونا بھی دلیل ہے کہ یہ نئی چیز ہے۔
فرمان رسولﷺ کہ جس نے نماز عصر چھوڑ دی تو اس کا اہل اور مال سب برباد ہو گیا۔(ابوداؤد)
اگر قضاء کا جواز ہوتا تو بربادی کیسی؟
۔
ابو محمد بن حزم رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق کتاب المحلی میں فرماتے ہیں کہ:
جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی حتی کہ وقت نکل گیا تو وہ اس کی قضاء پر کبھی قادر نہ ہو سکے گا، پس اسے چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ نیک کام کرےاور نفل نماز پڑھے تاکہ اسکا میزان بھاری ہو سکے، اور چایئے کہ وہ توبہ کرے اور اللہ عزوجل سے استغفار کرے اور ہمارے قول کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ:
{فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ۔ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} [الماعون:4،5]
ان نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔
اور اللہ تعالی کا یہ فرمان:
فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا۔ (المریم/59)
‘‘ ان کے بعد ان کے ایسے جانشین پیدا ہوئے جنہوں نے نمازیں ضائع کیں اور خواہشات کی پیروی کی۔ یہ لوگ عنقریب تباہی سے دوچار ہوں گے۔’’
اگر جان بوجھ کر چھوڑنے والا وقت نکل جانے کے بعد بھی نماز پا سکتا تو کیوں ہے اس کے لئے ویل؟ اور نہ ہی اسے تباہی سے دوچار کیا جاتا۔ جیسا کہ جو اس(نماز کو) اس کے آخر وقت میں اسے پا لیتا ہے نہ اس کے لئے ہلاکت ہے نہ تباہی ۔
سیدنا عمر بن الخطاب اور ان کے بیٹے عبداللہ ابن عمر، سعد بن ابی وقاص، سلمان فارسی، ابن مسعود رضی اللہ عنھم، قاسم بن محمد بن ابی بکر، بدیل العقیلی، محمد بن سیرین، مطرف بن عبداللہ ، عمر بن عبد العزیز اور حسن بصری رحمھم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ (کہ تارک نماز توبہ کرے گا، قضاء نہیں دے گا)
پھر (ابن حزم رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ ہم نے کسی بھی صحابی سے اس کے خلاف کوئی قول نہیں سنا۔(المحلی)
الاختیارات کے صفحہ 19 پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اسی مسلک کو اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ سلف سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک صحیح سند سے قول ہے کہ نماز وقت سے پہلے واجب ہے اور نہ ہی وقت نکل جانے کے بعد۔(مطلب کہ بعد میں نماز ادا ہوتی ہی نہیں)۔ المحلی
داؤد الظاہری، ابن قیم (الصلوۃ لابن قیم) اور علامہ البانی رحمہ اللہ (فی الثمر المستطاب) بھی اسی کی طرف گئے ہیں کہ توبہ ہوگی قضاء نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے تمام اہل ایمان بهائیو اور بهنو بہنو یہ قضاء عمری کچھ بھی نہیں ہے اسکا قرآن و احادیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا یہ صرف مولویوں کے بنائے ہوئے ٹوٹکے ہیں جو نمازیں چهوٹ جائیں انکا کفارہ سچی توبہ ہے آئیے قرآن وحدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں
٭٭٭قضائے عمری بدعت ہے٭٭٭
اسکا غیر مشروع ہونا تو واضح ہے ہی مگر اس کے حق میں دلائل دینے والوں کے دلائل دیکھے جائیں تو یہ بھی معلوم ہوتا کہ یہ ایک قبیح بدعت ہے۔
احناف احادیث سے استدلال کر کے کہتے ہیں کہ بھول جانے والا،سوجانے والا جس طرح نماز کی قضاء کرے گا تو اس چھوڑی ہوئی کی قضاء تو بالاولی کرے گا۔اور حدیث پیش کرتے ہیں کہ اللہ کا حق زیادہ لائق ہے کہ ادا کیا جائے۔
تو کیا ایسا ممکن ہے کہ قضائے عمری اللہ کا حق ہو اوراللہ شریعت میں اس کا حکم نازل کرے نہ ہی رسول اللہﷺ امت کو بتائیں ،اور تو اور صحابہ رضی اللہ عنھم نے بھی نہ بتایا کہ یہ اللہ کا حق ہے؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ غلطی اور سرکشی، بھول چوک اور نافرمانی ،سو جانا اور جان بوجھ کر سوئے رہنا، چھوٹ جانا اور نافرمانی کرتے ہوئےچھوڑ دینا برابر ہوجائے؟ نا ٖصرف یہ کہ برابر ہو جائے بلکہ اس کی ادائیگی پر "بالاولی" کا حکم بھی لگ جائے؟ اگر ایسا ہی ہوتا تو حیض ونفاس کی حالت میں چھوٹی ہوئی نمازوں کے لئے "بالاولی" ادا کرنے کا حکم ہو سکتا تھا اگر ہوتا تو۔۔۔ بلکہ یہی حدیث ان کے اپنے موقف کے خلاف پڑتی ہے کہ اگر بھول جانے والے یا سو جانے والے کے لئے نماز کی ادائیگی ہی اس کا کفارہ ہے اور جان بوجھ کر چھوڑی گئی نماز کا بھی ادائیگی ہی کفارہ ہے تو پھر اللہ تعالی نے وقت مقرر ہی کیوں فرمایا نمازوں کے لئے، فجر کے وقت نہیں اٹھا جاتا تو نہ سہی، ظہر کے ساتھ پڑھ لیں، کفارہ تو ادا ہو ہی جائے گا ناں؟ اگر کہیں کہ ہو جائیگا مگر گنہگار بھی ہو گا تو عرض ہے کہ یہ کیسا کفارہ ہے جو گناہ بھی نہ مٹا سکا؟
حالانکہ اللہ رب العزت سورہ الماعون میں ان نمازیوں کے لئے ہلاکت کا حکم سناتے ہیں جو اپنی نمازوں سے غافل رہے۔ جبکہ رسول اللہﷺ کو جب کفار ومشرکین نے نماز سے مشغول رکھا اور نماز چھوٹ گئی تو وہ تمام (رسول اللہﷺ سمیت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم) جو غافل کر دیئے گئے گئے کیا کوئی ہلاکت کا حکم اترا؟ نہیں ناں ؟ بلکہ ان سب نے اس نماز کو بعد میں ادا کیا۔ یہی فرق ہے کہ جان بوجھ کر غافل رہے تو ہلاکت، غافل کر دیئے گئے تو نماز ادا کی جائے گی۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ بندے اور کفر کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔ (مسلم) اور صحابہ بھی بالاتفاق کفر کا ہی فتوی لگاتے تھے۔
تو کفر کی معافی ہوا کرتی ہے یا قضاء؟ کفر سے لوٹنے والا اگر اپنے اسلام کی تجدید کرتا ہے تو کفر کے گناہ معاف ہوں گے یا نہیں؟ اگر ہو گئے تو کفارہ کیا؟ اور اگر نہیں ہوئے تو شریعت میں روزوں کی طرح اس کی ادائیگی کا کوئی حکم کیوں نہیں ہے؟جس طرح قضاء روزے میت کے سر لازم ہوں تو ولی رکھے گا، نمازیں ہوں تو کون پڑھے گا؟ اس بارے کسی حکم نہ ہونا بھی دلیل ہے کہ یہ نئی چیز ہے۔
فرمان رسولﷺ کہ جس نے نماز عصر چھوڑ دی تو اس کا اہل اور مال سب برباد ہو گیا۔(ابوداؤد)
اگر قضاء کا جواز ہوتا تو بربادی کیسی؟
۔
ابو محمد بن حزم رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق کتاب المحلی میں فرماتے ہیں کہ:
جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی حتی کہ وقت نکل گیا تو وہ اس کی قضاء پر کبھی قادر نہ ہو سکے گا، پس اسے چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ نیک کام کرےاور نفل نماز پڑھے تاکہ اسکا میزان بھاری ہو سکے، اور چایئے کہ وہ توبہ کرے اور اللہ عزوجل سے استغفار کرے اور ہمارے قول کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ:
{فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ۔ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} [الماعون:4،5]
ان نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔
اور اللہ تعالی کا یہ فرمان:
فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا۔ (المریم/59)
‘‘ ان کے بعد ان کے ایسے جانشین پیدا ہوئے جنہوں نے نمازیں ضائع کیں اور خواہشات کی پیروی کی۔ یہ لوگ عنقریب تباہی سے دوچار ہوں گے۔’’
اگر جان بوجھ کر چھوڑنے والا وقت نکل جانے کے بعد بھی نماز پا سکتا تو کیوں ہے اس کے لئے ویل؟ اور نہ ہی اسے تباہی سے دوچار کیا جاتا۔ جیسا کہ جو اس(نماز کو) اس کے آخر وقت میں اسے پا لیتا ہے نہ اس کے لئے ہلاکت ہے نہ تباہی ۔
سیدنا عمر بن الخطاب اور ان کے بیٹے عبداللہ ابن عمر، سعد بن ابی وقاص، سلمان فارسی، ابن مسعود رضی اللہ عنھم، قاسم بن محمد بن ابی بکر، بدیل العقیلی، محمد بن سیرین، مطرف بن عبداللہ ، عمر بن عبد العزیز اور حسن بصری رحمھم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ (کہ تارک نماز توبہ کرے گا، قضاء نہیں دے گا)
پھر (ابن حزم رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ ہم نے کسی بھی صحابی سے اس کے خلاف کوئی قول نہیں سنا۔(المحلی)
الاختیارات کے صفحہ 19 پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اسی مسلک کو اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ سلف سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک صحیح سند سے قول ہے کہ نماز وقت سے پہلے واجب ہے اور نہ ہی وقت نکل جانے کے بعد۔(مطلب کہ بعد میں نماز ادا ہوتی ہی نہیں)۔ المحلی
داؤد الظاہری، ابن قیم (الصلوۃ لابن قیم) اور علامہ البانی رحمہ اللہ (فی الثمر المستطاب) بھی اسی کی طرف گئے ہیں کہ توبہ ہوگی قضاء نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔