• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قطر کا شاذ رویہ اور سعودی عرب کی بابصیرت قیادت۔شیخ عبدالمعید مدنی حفظہ اللہ

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,421
پوائنٹ
964
سعودی درد، قطری بے حسی

قطر کا مسئلہ کیا اٹھا کہ پھر تحریکیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اب یہ کیسے کہیں کہ انھیں صرف جذبات میں گالی دینا آتا ہے اور کچھ نہیں۔ انھوں نے خود کو زمانے سے دین و ملت کے ٹھیکیدار کے منصب پر بٹھا رکھا ہے، ان کے عام آدمی بھی(اور بد قسمتی سے تحریکی کل کے کل عامی ہی ہوتے ہیں) اپنی معرفت کے متعلق لوگوں کو ایسا بھرماتے ہیں جیسے حضرت جبرئیل علیہ السلام ہر دم معرفت اور جانکاری کا خزینہ ان کے دروازوں پر انڈیلتے رہتے ہیں، انھیں جب دیکھتا ہوں تو تاریخ کے باطنی اور خارجی کردار سامنے آجاتے ہیں۔ مختار ثقفی نے بنی امیہ کے خلاف بالکل انھیں کی طرح تحریک چلائی تھی جس طرح یہ آج اہل سنت کے خلاف رافضیوں کے ساتھ مل کر چلاتے ہیں۔ انھیں کی طرح فاطمیوں نے یمن اور بحرین میں تحریک چلائی اور دھیرے دھیرے شرق اوسط پر چھا گئے اور سارے ارہابی کام کرنے لگے۔ رافضی باطن فرقوں کی سرگرمیوں کا دارو مدار اسی پر ہے کہ مسائل کو آنسو گرا کر، دھوکہ دے کر، گالی دے کر اور شکوک پھیلا کر پیچیدہ بنایا جائے اور سلجھے مسائل کو الجھایا جائے۔ تحریکی ان کے سُر میں سر ملا کر سلجھے اور سیدھے مسائل کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں اور قدم قدم پر مسلمانوں کی راہ میں فتنے بکھیرتے ہیں۔
قطر کا مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے، وہ بھی اسی فتنہ انگیزی، غارت گری اور قتل و خونریزی کا حصہ ہے جو ایران نے چالیس سالوں سے اہل سنت کے خلاف جاری رکھا ہے۔ دنیا کو معلوم ہے کہ ایرانی جارحیت صہیونی صلیبی اور پرانے سرخوں کو بہت پسند ہے، اس لیے بھی انھیں ایرانی جارحیت پسند ہے کہ اسے دنیا کے شیاطین نے سلفی اور رافضی ایران اور سعودی عرب مسئلہ بنا دیا ہے۔ رافضی محاذ کے ساتھ دنیا کے سارے سرپھرے تحریکی آگئے، قبوری بھی آگئے، صوفی بھی آگئے ،علمانی بھی آگئے۔ عراق تباہ ہوا، افغانستان تباہ ہوا، لیبیا تباہ ہوا، شام تباہ ہوا، یمن تباہ ہوا، سعودی عرب اول دن سے رافضیوں کے نشانے پر ہے، پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ مصر تباہی سے ابھی نکل نہیں سکا، الجزائر اور تونس نے بھی تباہی کا دور دیکھا، یہ ساری تباہیاں تحریکی رافضی محاذ کی لائی ہوئی ہیں۔
عرب بہاریہ کے بعد دنیا کے سارے تحریکی ننگے ہوگئے اور فکری و عملی ارہاب اور خارجیت کے مکمل اسیر۔ ایرانی فتنے کے اٹھنے اور چالیس سالوں سے تحریکیت کی اس کی ہمنوائی کے بعد سب سے زیادہ زور سعودی عرب پر باندھا گیا۔ میدان میں وہ تنہا رہا، اس پورے چالیس سالہ وقفے میں سعودی عرب کا درد کیا تھا اور کیا ہے کسی نے محسوس کیا؟ طیب اردگان کا درد کردوں اور گولن کا ہے، اسے سب نے محسوس کیا اور خود اردگان نے شدت سے محسوس کیا، خوب روئے اور رلایا اور ان کے لیے خوب تالی بجی۔ اخوانیوں کا درد لوگوں نے خوب رو دھو کر محسوس کرایا روئے رلائے، ایران کا درد ہی کیا وہ تو سارے اعدائے اسلام یورپ، امریکہ، روس اور اسرائیل کا ایجنٹ ہے، وہ تو سارے اہل سنت کو درد دینے کے لیے بنا ہے اور اس کے درد کو اہل سنت میں بانٹنے کے لیے سارے تحریکی خارجی موجود ہیں۔ سعودی عرب کا درد تنہا اپنا نہیں سارے اہل سنت کا درد ہے۔
سعودی عرب کا درد ایران ہے، ایران نے اسے کتنا درد دیا ہے؟ بحرین کی طرف سے اس نے سعودیہ کو درد دیا، عراق کے فرنٹ سے اس نے سعودی عرب کو درد دیا، یمن کے فرنٹ سے اس نے سعودیہ کو درد دیا، سعودی شیعوں کو اس کے لیے دردِ سر بنا دیا، شام کی طرف سے، افغانستان اور پاکستان کی طرف سے اس نے سعودی عرب کو درد دیا، حج میں ایرانی حجاج کے بھیس میں پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کا درد اس نے سعودی عرب کو دیا، روسی ریچھ کی گود میں بیٹھ کر اس نے سعودی عرب کو در دیا، تحریکی سرپھروں اور مجانین کو اپنے ساتھ ملا کر اور اپنا زہریلا دودھ پلاکر سعودی عرب میں دھماکے کراکے اسے درد دلایا۔ تدویل الحرمین کے نام پر سارے ارازل کو اس کے خلاف استعمال کر کے اسے درد دیا۔
دنیا کے سارے تحریکیوں کا بچہ بچہ سعودی عرب سے فیض یاب ہوا، پچاس سالوں سے یہ سلسلہ جاری رہا لیکن یہ مروت اور حیا سے عاری قوم کھاتی اس کی رہی اور اسے دھوکہ دیتی رہی اور رافضی کیمپ میں جا کر اس کے خلاف سازش کرتی رہی۔ کسی بھی موقع پر کہیں بھی سعودی عرب کو نقصان ہو یہ نا شکری قوم جشن مناتی ہے، سعودی عرب کے ساتھ اس نے قدم قدم پر غداری کی۔
دنیا کے ٹھکرائے یہ بھوکے ننگے وہاں پہنچے انھیں عزت ملی، شلٹر ملا، عیش آرام ملا مگر ہمیشہ پیٹھ میں چھرا گھونپتی رہی، سعودی عرب میں رہ کر ان کے اساطین اس کے خلاف کام کرتے رہے، سعودی باغیوں کی بہت بڑی ٹیم تیار کر دی۔متاع قطان سے لے کر علی جریشہ تک، ابو غدہ سے لے کر سعید حوی تک یہی کام کرتے رہے، اندرون ملک عبداللہ ترکی نے بھی یہی کیا اور نئے لوگوں میں سفر الحوالی، عودہ، عائض القرنی، عریفی تحریکی مشن کو پروان چڑھا رہے ہیں۔پورا ملک تحریکیت سے مسموم، رابطہ، ندوۃ الشباب، الفیصلیہ اور جامعہ الامام کو انھوں نے لوٹنے کھانے اور سازش کرنے کا اڈہ بنا لیا، دنیا کے سارے تحریکیوں نے ہر جگہ اپنی دکانیں کھول لیں اور ذاتی تنظیمیں شان و شوکت اور کمائی کے ادارے کھل گئے۔ صرف دلی میں آنکھ کھول کر دیکھیں کیا بہار ہے تحریکی مرکز میں، ہر طرف عمارتوں کا جال بچھا جا رہا ہے اور کتنی دکانیں کھل گئی ہیں۔ یہی حال دیگر جگہوں پر ہے۔ کہاں سے آتی ہے یہ دولت؟ ایران نے دیا ہے؟! ایران انھیں ایک گلاس پانی بھی دے گا تو نجس کر کے دے گا، ایران بس ان کے دین ایمان اور شخصیت سے صرف کھلواڑ کر رہا ہے، لیکن عقل سے پیدل قوم سعودی دشمنی میں اس کی سواری بن گئی ہے۔ ایک مولوی صاحب ’’مہلا مہلا رویدا رویدا‘‘ کی گردان لگا کر ہندوستان کے سارے مسلمانوں کا زبردستی نمائندہ بن کر شاہ سلمان سے ولاء براء کا سوال پوچھ رہے تھے۔ جب کہ ان کا حال یہ ہے کہ پچاس سالوں سے ان کی تین نسل نے سعودی عرب سے کھایا کمایا ہے، اعلی ڈگری حاصل کی ہے پالے پوسے گئے ہیں، مگر ان کی ولاء ایران اور منکرین حدیث کے ساتھ رہی، سعودی عرب اور اس کے مسلک کی عداوت ان کے رگ رگ میں بسی رہی اور ہمیشہ ایران کی حمایت میں سعودی دشمنی میں ممبر و محراب سے باتیں کرتے رہے، یہ کیا ہے؟ ولاء ہے یا غداری ہے، مروت ہے یا رذالت ہے؟
سعودی عرب کی غلطی کیا ہے؟ کتاب و سنت کی خالص تعلیم اور منہج اس کا مسلک ہے اور ملوکیت ہے، در اصل یہی اس کی غلطی ہے جسے تحریکی، صوفی، قبوری، صہیونی، صلیبی، علمانی، سرخے معاف کرنے کو تیار نہیں ہیں، تحریکی ناشکروں کو کبھی توفیق نہیں ملی کہ حقیقت جانیں، مودودی کی ملعون رافضی کتاب [خلافت و ملوکیت] ان کے لیے وحی بن گئی۔
یہی تحریکی افغانستان پہنچے اور سعودی تعاون پر پہنچے مگر وہاں جاکر افغانستان کو خارجیت کا میدان بنا دیا اور عبداللہ عزام سے لے کر بن لادن، ایمن الظواہری کی قیادت میں سارے کے سارے تحریکی خارجی بن گئے اور یہ اعلان ہوا کہ سب سے خطرناک سعودی عرب ہے اس کے خلاف جنگ کرو، آل سعود، علمائے سعودی عرب، فوج، پولیس اور حکومت کی مدد کرنے والے سب کافر قرار پائے، پھر دس سالوں تک تحریکی خارجیوں نے پورے ملک میں خفیہ سیل بناکر مسلسل دھماکہ کیا، پبلک کو بغاوت کے لیے اکسایا، مکاتب کے معصوم طلباء سے لے کر یونیورسٹی کے طلباء تک کو گمراہ کرنے کی بھرپور کوشش کی، یہ عجیب قوم ہے، جھوٹ کی ہنڈیا سعودی عرب کے متعلق روافض لندن اور نیویارک میں پکاتے ہیں، اور اس ناپاک ہنڈیا کو تحریکی کھاتے ہیں۔
عراق اور شام میں رافضی دہشت گردی جاری تھی، نوری مالکی نے تین سال کے اندر ایک لاکھ سنی علماء أعیان قائدین اور نخب عامہ کو مروا دیا، بشار اسد شام کا قصائی تھا، ISIS نے اہل سنت کا جھنڈا بلند کیا اور دونوں ملکوں میں اہل سنت کے گیپ کو بھرنے کا دعوی کیا، لیکن خلافت کے دعوی کے بعد وہ بھی سعودی عرب کا سب سے بڑا درد بن گئے اور حکمراں علماء عوام سب کو کافر قرار دے دیا۔ تحریکیوں کو ان کی یہ ادا اتنا پسند آئی کہ رمضان کے مہینے میں افطار کے دسترخوان پر جشن منانے لگے کہ سعودی عرب کا قصہ تمام ہوا۔
اردگان صاحب ایک مضبوط سیاست داں ہیں، تحریکی رجحان رکھتے ہیں، علمانی سیاست داں ہیں اسلام مسلمانوں اور ملک سے درد رکھتے ہیں، تحریکی رجحان ہونے کے سبب ان کے لیے تحریکی دہشت گردی قابل قبول، ایران بھی قابل قبول، قطر بھی قابل قبول اور ایران کی صحابہ دشمنی اور کفریات بھی۔
اردگان کا دو(۲۲) درد ہے، گولن اور عراق و شام کے ترکی سے متحارب کرد گروپ۔ اس دو درد سے اردگان بلبلا رہے ہیں، پوری فوج کی کایا پلٹ ہوگئی اور بہت سے مخابرات اور پولیس کے لوگ نوکری سے نکالے گئے اور اب تک ہاؤ ہو کا ماحول ہے۔ اردگان صاحب کے درد کے مقابلے میں سعودیہ کا درد پچاس گنا بڑا ہے، اس کے بھی مخالفین شیعہ، علمانی، تحریکی امریکہ اور برطانیہ میں بیٹھ کر سعودی عرب میں انقلاب لانے کا ہزار جتن کر چکے ہیں۔ کیا کبھی اردگان نے اسے محسوس کیا؟ یہ کیسا ان کا دہرا رویہ ہے؟ خود بلبلا رہے ہیں اور سعودی عرب کو اجازت نہیں کہ سرد آہ بھر سکے۔
مرسی کی علمانی سیکولر حکومت چلی گئی، جس کے جانے کا بڑا حصہ اخوانی اور خود مرسی کی حماقتیں ہیں، ان کو میں نے پڑھا، ان کی تقریرین سنیں، ان کی سرگرمیوں کے جائزے پڑھے، وہ خود اخوانی بڑوں کے ہاں بڑ بولے اور تنازع پسند اور ولولہ پسند تھے، مجھے ان کی شخصیت ایک پپٹ کی سی لگی، یہ الگ بات ہے کہ وہ تحریکیوں کے نزدیک خلیفۃ المسلمین بن گئے، کہتے ہیں حافظ قرآن ہیں، عالم ہیں، لیکن نہ قرآن صحیح پڑھ سکتے ہیں نہ تفسیر صحیح کر سکتے ہیں، ان کی تقریر سنی کہا ’’انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء‘‘ (اللہ اپنے بندوں میں علماء سے ڈرتا ہے) اور اس خوف کو خوف تکوینی تقدیری بتلایا، اسی طرح ایک تقریر سنی فرمایا ارتداد اسلام میں جائز ہے آدمی کو حق ہے جو مذہب چاہے اپنائے [لااکراہ فی الدین]۔ رافضیوں کے لیے مصر کا دروازہ کھول دیا، ان کی نہ صلاحیت نہ شخصیت روز نیا بلنڈر کرتے تھے، حکومت گنوا بیٹھے، پیچ کے بجائے جنگ اور اب تک رونا دھونا۔
روافض کی بات چھوڑیے، تحریکی آسمان سے اترے ہیں یا اردگان آسمان سے اترے ہیں، ان کا ایک ایک درد طوفان بن جائے اور سعودی زمانے سے سیکڑوں درد پالے ہوئے ہیں مگر انہیں نہ سمجھا جائے نہ محسوس کیا جائے۔ لوگوں کا یہ دہرا کردار کیوں؟ دنیا کی نگاہ میں تسلیم شدہ ملک ہے، شرعی اعتبار سے تنہا معتبر ملک ہے، ان گنت نے اسے دھوکہ دیا ہے، اس کے ساتھ غدار کی ہے، لیکن وہ روتا ہے نہ طوفان مچاتا ہے ، نہ رد عمل میں ملک میں اتھل پتھل مچاتا ہے، ایک مجاہد کی طرح باطل سے لڑتا جاتا ہے اور صبر کا مظاہرہ کرتا ہے اور باغیوں کو سمجھاتا ہے یہ شاندار موقف بھی تسلیم نہیں۔
شرق اوسط کے قضایا میں ایک تیسرا فریق ہے زبردستی کرنے والا، مغربی یورپ اور امریکا یا ناٹو اور مشرقی کیمپ میں روس۔ ان کے ساتھ ایران معاہدہ کرے سری اور جہری دونوں، ترکی ان سے معاہدہ کرلے جائز اور سعودی عرب اگر ان سے معاہدہ کرے یا نہ کرے پھر بھی متہم۔
در اصل آج کے تعلقات عامہ صرف مکاری، ٹھگی اور زبردستی پر قائم ہو چکے ہیں، حق و انصاف اور سچائی کی صلاحیت سے محروم ہیں، بات بس اتنی سی ہے۔
اردگان کو اس وقت تحریکی ہیرو بنائے ہوئے ہیں، انھوں نے شام میں کیا حاصل کیا، ہر طرف بھاگتے رہے ناٹو کو دہائی دی، روئے بلبلائے، صدائے بر نخواست، پوتن کی بارگاہ میں عجز و نیاز کیا، ایران کے پاس بھاگے پھرے کوئی نتیجہ نہیں، دراصل چھ بڑے ممالک نے جون ۲۰۱۵ء ؁ میں ایران کو نیوکلیر پاور کا تاج پہنایا اور سبھوں نے مل کر اسے شرق اوسط میں تباہی پھیلانے کی سند دے دی اور وہی ہوا جو انھوں نے چاہا۔ ادلب میں ان گنت اسماء ماری گئیں بھوکا پیاسا رکھ کر، آتش و دھواں چھوڑ کر، ٹینک توپ لگا کر، ہیلی کاپٹر سے بمباری کرکے، لیکن اردگان کے آنکھ میں ان کے لیے آنسو نہیں آئے، کیوں کہ وہ کسی محمد بلتاجی کی بیٹی نہیں تھیں، یہ کیا دوسروں کے درد میں تکلیف کا اعتراف بھی نہیں؟ اور اپنے درد میں واویلا۔
سعودی عرب کے ان گنت درد کو کوئی سمجھنا نہیں چاہتا، اپنے غیر سبھوں نے اسے دھوکہ دیا، لیکن اس نے پامردی سے موقف اور اصول کے تحت باطل کا مقابلہ کیا، نہ رویا نہ گڑگڑایا، نہ ادھر اُدھر بھاگا پھرا، کم از کم سعودی عرب نے یمن کو بچا لیا جو ایک طرح سے سعودی عرب کے اندر عسکری انقلاب لانے کی سازش تھی جو ناکام بنا دی گئی۔ ۷۶؍بٹالین یمنی فوج تہس نہس ہو گئی، یمن کے پاس پانچویں سب سے بڑی عربی حربی طاقت تھی، جنوبی یمن ختم ہونے اور شمالی یمن کے ساتھ مِنضم ہونے کے بعد، فوج کے اسلحے حوثیوں کو ملنے لگے، یمنی زیدی صدر علی عبداللہ صالح اور دنیا کی سامراجی طاقتیں اندر اندر یہ سب کرتی رہین یمن فوج کے ہلکے اور بھاری سارے اسلحے حوثیوں کے اسلحہ محافظ خانوں میں پہنچ گئے، لڑاکا جہاز، ہیلی کاپٹر، ٹینک توپ گنیں سب ان کے پاس اور اس کے فوجی کمانڈر بیٹے کے ذریعے پہونچتے رہے۔ زیدی صدر کی نا اہلی کے سبب اسے صدارت سے ہٹایا گیا، اس ضد میں اکثر حربی طاقت حوثیوں کے پاس آگئی اور آہستہ آہستہ انھوں نے پورے یمن پر قبضہ کر لیا، لیکن سعودی عرب کی قیادت نے اسے حوثیوں کے چنگل سے آزاد کرا لیا اور پھر منصور ہادی کی حکومت دوبارہ بحال ہوئی۔ شام اور عراق میں رافضیوں تحریکیوں اور شرق و غرب کے اعداء اسلام کے سبب اسے مایوسی ہاتھ لگی۔
براک اوبامہ کا پورا پیریڈایران کے لیے چاندی رہا۔ ۲۰۱۵ء ؁ کا نیوکلیر معاہدہ ۶۶؍بڑے ملکوں کا ایران کو سند اطاعت اور اجازت نامہ ہے عراق اور یمن میں خون کی ہولی کھیلنے کا۔ اور ساری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح دور کروڑ سنی شام سے اجاڑ دیے گئے یا مار دیے گئے۔ ادلب کا منظر دیکھنے کے بعد اگر کسی کو ایران سے ہمدردی ہے تو پھر اس کو بے حس جانور ماننا چاہیے، انسان نہیں، درندہ سمجھنا چاہیے بشر نہیں، یہ درد بھی سعودیہ کا ہے کسی اور کا نہیں اسی لیے وہ سارے مسلم ممالک کو جوڑنے میں لگا رہا۔
امریکہ کے ڈرامہ باز انتہا پسند لیڈر نے شاید بھانپ لیا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن بگڑ گیا ہے، روس کو اپرہینڈ حاصل ہے۔ ایران اپنی اوقات سے بہت آگے نکل گیا ہے، امریکہ کے مفادات اور ساکھ کو اوبامہ کی شرق اوسط پالیسی سے سخت نقصان پہنچا ہے، اسے شاید خطے کی زمینی حقیقت سے آگاہی حاصل ہوگئی ہے، اس لیے اس کا رجحان بدلا ہے، صرف اتنے سے ایران رافضی اور تحریکی بوکھلا گئے ہیں، وہ اوبامہ کی شرق اوسط تباہ کن پالیسی کو بدلنا چاہتا ہے اور سارے تحریکی روافض دہشت گرد اوبامہ پالیسی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں، مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنا پسند کرتے ہیں اور قطر ان کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔
شیخ عبدالمعید مدنی حفظہ اللہ
 
Top