محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,087
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
اگر آلہ تناسل کااگلا حصہ عورت کی شرمگاہ میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہوجاتاہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَتَوَارَتْ الْحَشَفَةُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ (سنن ابن ماجه، التيمم: 611)
’’جب شرمگاہیں مل جائیں اور مرد کی شرمگاہ چھپ جائے توغسل واجب ہوجاتاہے۔‘‘
اگر انسان آلہ تناسل بيوی كی شرمگاہ سے لگائے، شرمگاہ میں داخل نہ کرے تو ان دونوں پر غسل کرنا واجب نہیں ہو گا ، لیکن اگر منی خارج ہو جائے تو غسل کرنا لازمی ہو گا کیونکہ منی کے نکلنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔
رشاد باری تعالی ہے:
وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا (المائدة: 6)
’’اور اگر جنبی ہو توغسل کر لو۔‘‘
سيده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا، کیا عورت کو احتلام ہو تو اسے غسل کرنا چاہئے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں جبکہ (اپنے کپڑے پر) پانی دیکھے۔‘‘ ام سلمہ ؓ نے (شرم سے) اپنا منہ چھپا لیااور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں تیرا ہاتھ خاک آلود ہو، پھر بچے کی صورت ماں سے کیوں کر ملتی ہے؟‘‘ (صحيح البخاری، العلم: 130)
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے ایسےآدمی کےبارےمیں سوال کیاگیا جو اپنی بیوی سےمباشرت کرتا ہے لیکن شرمگاہ میں دخول نہیں کرتا اور مادہ منویہ خارج ہو جاتاہے؟ توانہوں نےجواب دیا کہ اس صورت میں مرد پر غسل کرنا ضروری ہو گا، عورت پر غسل لازمی نہیں ہے لیکن عورت کے جسم پر جہاں کوئی مادہ لگا ہو اسےدھولے۔ (مصنف عبد الرزاق: 971)
والله أعلم بالصواب.
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَتَوَارَتْ الْحَشَفَةُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ (سنن ابن ماجه، التيمم: 611)
’’جب شرمگاہیں مل جائیں اور مرد کی شرمگاہ چھپ جائے توغسل واجب ہوجاتاہے۔‘‘
اگر انسان آلہ تناسل بيوی كی شرمگاہ سے لگائے، شرمگاہ میں داخل نہ کرے تو ان دونوں پر غسل کرنا واجب نہیں ہو گا ، لیکن اگر منی خارج ہو جائے تو غسل کرنا لازمی ہو گا کیونکہ منی کے نکلنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔
رشاد باری تعالی ہے:
وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا (المائدة: 6)
’’اور اگر جنبی ہو توغسل کر لو۔‘‘
سيده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا، کیا عورت کو احتلام ہو تو اسے غسل کرنا چاہئے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں جبکہ (اپنے کپڑے پر) پانی دیکھے۔‘‘ ام سلمہ ؓ نے (شرم سے) اپنا منہ چھپا لیااور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں تیرا ہاتھ خاک آلود ہو، پھر بچے کی صورت ماں سے کیوں کر ملتی ہے؟‘‘ (صحيح البخاری، العلم: 130)
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے ایسےآدمی کےبارےمیں سوال کیاگیا جو اپنی بیوی سےمباشرت کرتا ہے لیکن شرمگاہ میں دخول نہیں کرتا اور مادہ منویہ خارج ہو جاتاہے؟ توانہوں نےجواب دیا کہ اس صورت میں مرد پر غسل کرنا ضروری ہو گا، عورت پر غسل لازمی نہیں ہے لیکن عورت کے جسم پر جہاں کوئی مادہ لگا ہو اسےدھولے۔ (مصنف عبد الرزاق: 971)
والله أعلم بالصواب.