• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لوڈو کھیلنا کیسا ہے؟

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
750
پوائنٹ
290
جزاک اللہ خیرا محترم بھائی!
احادیث میں تو علی الاطلاق بات کہی گئی ہے. تو کیسے کہ سکتے ہیں کہ اسکی حرمت کی حکمت جوا ہے. یہ بعید معلوم ہوتا ہے.
اسی لیے تو کہا تھا کہ میرے پاس کوئی صریح دلیل نہیں ہے۔ (ابتسامہ)
لیکن جو حضرات احادیث اور فقہ سے ممارست رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ابتداء اسلام کے ایسے بہت سے احکام ہیں جن کی حکمتیں اس قسم کی تھیں اور الفاظ مطلق تھے مثلاً قبرستان جانے کی ممانعت، شراب کے برتنوں کی ممانعت، کتوں کے قتل کا حکم وغیرہ۔ بعد میں جب حکم تبدیل ہوا تب ان کی حکمتیں ظاہر ہوئیں۔
احادیث میں علی الاطلاق منع تو ہے لیکن آخر کوئی تو حکمت اس کے پیچھے ہوگی۔ ہم اگر ان کھیلوں کو دیکھیں تو ان میں اس دور میں جو خرابیاں تھیں وہ جوا، نمازوں کے اوقات سے غفلت، کفار کی مشابہت اور لڑائیوں کا سبب بننا تھیں۔ ان میں سب سے سخت جوا ہے جس سے روکا گیا ہے۔
پتا نہیں میں اپنی بات سمجھا سکا یا نہیں۔ بہرحال یہ کوئی یقینی حکمت نہیں ہے کیوں کہ منصوص نہیں ہے۔ فقط میرا خیال ہے۔ صحیح ہو تو اللہ کی جانب سے ہوگا اور غلط ہو تو میری اور شیطان کی جانب سے۔

البتہ اگر نردشیر اور شطرنج کی حرمت کی علت کو مبہم مانا جائے تو اس صورت میں یہ خلاف قیاس ہوں گے اور اصول فقہ کے قواعد کے مطابق خلاف قیاس چیز پر قیاس نہیں کیا جا سکتا (ھذا عند الاحناف و لا اعلم اصل غیرہم)۔ تو اس لحاظ سے بھی لوڈو کو جائز ہونا چاہیے۔
 

نسیم احمد

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
747
ری ایکشن اسکور
128
پوائنٹ
108
یہ تمام انڈور گیمز اب کمپیوٹر یا موبائل پر بغیر تختے کے کھیلے جاتے ہیں ۔ اور ان پر "نرد" والی اصطلاح کیسے لاگو ہوگی۔

شطرنج، کیرم، لیڈو وغیر
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
750
پوائنٹ
290
یہ تمام انڈور گیمز اب کمپیوٹر یا موبائل پر بغیر تختے کے کھیلے جاتے ہیں ۔ اور ان پر "نرد" والی اصطلاح کیسے لاگو ہوگی۔

شطرنج، کیرم، لیڈو وغیر
اسی لیے میں یہ خیال رکھتا ہوں کہ علت ڈھونڈ کر اس کے مطابق حکم متعدی کرنا چاہیے۔ ورنہ بغیر علت تو یہ کمپیوٹر یا موبائل پر ویڈیو گیم بن جاتے ہیں جن کی ممانعت وارد نہیں ہوئی۔
 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
260
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
79
.

چوسر کھیلنا کیسا ہے؟


سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا چوسر کھیلنا شرعا جائز و درست ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
چوسر کھیلنا حرام ہے بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس آدمی نے چوسر کا کھیل کھیلا گویا اس نے اپنے ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون سے رنگ لئے۔" (ابوداؤد، احمد)
اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس شخص نے چوسر کا کھیل کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔" (احمد، ابوداؤد)
یہ دونوں احادیث ہر طرح کا چوسر کھیلنے والے پر منطبق ہوتی ہیں خواہ اس میں جوئے کا عنصر شامل ہو یا نہ ہو، لہذا ہمارے ہاں شہروں میں گلی محلوں کے اندر جو چوسر وغیرہ کے کھیل کھیلے جاتے ہیں یہ شیطانی کام ہیں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر مشتمل ہونے کی بناء پر حرام ہیں۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

تفہیمِ دین
کتاب الادب،صفحہ:396
محدث فتویٰ


https://urdufatwa.com/view/1/22741

.
 
شمولیت
جون 05، 2018
پیغامات
260
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
79
.

فارغ اوقات میں مختلف کھیل بلاشرط کھیلنا

سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
فارغ اوقات میں انسان مختلف قسم کے کھیل کھیلتا ہے اور ایسے تمام کھیل درست ہیں یا نہیں جن میں شرط وغیرہ نہ لگائی جائے مثلاً لڈو وغیرہ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :
«لاَ سَبَقَ إِلاَّ فِیْ نَصْلٍ أَوْ خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ»مشكوة-كتاب الجهاد-باب اعداد الة الجهاد-الفصل الثانى-حديث3874
’’آگے بڑھنے کی شرط لگانا جائز نہیں مگر تیر چلانے یا اونٹ یا گھوڑا دوڑانے میں‘‘ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :
«کُلُّ شَيْئٍ يَلْهُوْ بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلاَّ رَمْيَه بِقَوْسِهِ ، وَتَأْدِيْبَهُ فَرَسَهُ ، وَمُلاَعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ»مشكوة-كتاب الجهاد-باب اعداء آلة الجهاد-الفصل الثانى-حديث3872
’’جس چیز کے ساتھ آدمی کھیلے وہ باطل ہے مگر اپنی کمان کے ساتھ تیر اندازی کرنا اپنے گھوڑے کو ادب سکھانا اور اپنی بیوی سے کھیلنا یہ چیزیں حق ہیں‘‘ تو شریعت نے جن کھیلوں کی اجازت دی ہے لڈو ، فٹ بال و الی بال ، کرکٹ اور گلی ڈنڈا وغیرہ ان میں شامل نہیں ۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

احکام و مسائل
جہاد وامارت کے مسائل ج1ص 455

محدث فتویٰ



.
 
Top