• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"لہ اوہام" کے معانی

قاضی786

رکن
شمولیت
فروری 06، 2014
پیغامات
146
ری ایکشن اسکور
70
پوائنٹ
75
السلام علیک و رحمۃ اللہ و برکاتہ

امید ہے سب برادران خیریت سے ہوں گے

میرا سوال یہ ہے کہ ایک لفظ ملتا ہے

لہ اوہام
کہ اسے وہم تھے

یہ وہم سے کیا مراد ہے؟ نیز اگر حافظ ابن حجر رح کسی کے بارے میں کہتے تھے کہ صدوق لہ اوہام، اس سے اس شخص کی روایات پر کیا اثر پڑتا ہے؟

شکریہ
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,477
پوائنٹ
964
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
’’ صدوق ‘‘ کی روایت کو حسن قرار دیا جاتا ہے ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کو رواۃ کے چوتھے درجے میں شامل کیا ہے ، اگر ساتھ ’’ لہ أوہام ‘‘ کا اضافہ ہو جائے تو یہ اس سے نیچے والا پانچواں درجہ ہے ۔ البتہ جس روایت میں وہم ثابت ہو جائے وہ چاہے کسی ثقہ یا اوثق الناس کی ہی کیوں نہ ہو وہ ضعیف قرار دی جاتی ہے ۔
وہم سے مراد : سند یا متن میں کسی بھی قسم کی غلطی ہے جو جان بوجھ کر نہ ہو ۔ بعض راویوں کو ایسی غلطیاں لگ جاتی تھیں ۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,477
پوائنٹ
964
علامہ مقبل بن ہادی الوادعی کے تلامذہ میں سے ایک شیخ ابو الحسن السلیمانی المأربی ہیں ، ان کی تحقیق کے مطابق حافظ ابن حجر نے جن کے متعلق ’’ صدوق یہم ، صدوق یخطئ ، صدوق لہ أوہام ‘‘ وغیرہ کہا ہے ، ان کی روایت حسن لذاتہ درجہ کو نہیں پہنچتی البتہ حسن لغیرہ ہوسکتی ہے ۔ یعنی جب اس قسم کے راوی اکیلے ہوں تو ان کی روایت قابل حجت نہیں ۔ ( حوالہ )
شیخ محمد عمر سالم بازمول نے اس طرح کے راوی کی روایت کو تو حسن ( لذاتہ ) کے درجے میں رکھا ہے ، البتہ یہ کہا ہے کہ حسن کا حکم لگانے سے پہلے یہ تاکید کرلینا ضروری ہے کہ راوی مذکور اس حدیث میں وہم ( غلطی ) کا شکار نہیں ہوا ۔ ( حوالہ )
جیسا کہ اوپر نقل کیا ، اہل علم کے ہاں ، اس درجے کے راوی سے متعلق دونوں قسم کی آراء پائی جاتی ہیں ، مجھے توان میں کوئی زیادہ فرق نظر نہیں آتا ، بہرصورت پھر بھی طرفین کے دلائل دیکھنے کے لیے یہ لنک دیکھ لیں ، وہاں اس پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے ۔
 
Last edited:

قاضی786

رکن
شمولیت
فروری 06، 2014
پیغامات
146
ری ایکشن اسکور
70
پوائنٹ
75
السلام علیکم

بہت شکریہ خضر بھائی
اللہ جزائے خیر دے

یہ بتائیں کہ یہ کیسے معلوم ہو گا کہ راوی سے اس روایت میں وہم ہوا کہ نہیں۔ فرض کریں اس موضوع پر کوئی اور روایت نہ ہو پھر کیا درجہ دیا جائے گا؟ِ

شکریہ
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,580
پوائنٹ
384
صدوق لہ اوہام اور صدوق کثیر الخطاء میں فرق کیا جاتا ہے۔ امام ذہبی کا موقف تو بالکل واضح ہے کہ وہ غلطیاں کرنے والے صدوق راوی کو حسن الحدیث کہتے تھے۔ جبکہ حافظ ابن حجر کے کلام سے بھی یہی واضح ہوتا ہے۔ اور دیگر محدثین کا بھی یہی موقف ہے۔ امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:
ومنهم الصدوق في روايته، الورع في دينه، الثبت الذي يهم أحيانا،
وقد قبله الجهابذة النقاد، فهذا يحتج بحديثه أيضا.
ومنهم الصدوق الورع المغفل، الغالب عليه الوهم والخطأ والسهو
والغلط، فهذا يكتب من حديثه الترغيب والترهيب والزهد والاداب، ولا يحتج
بحديثه في الحلال والحرام.
(جواب الحافظ المنذري عن أسئلة فى الجرح والتعديل: ص 49)
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,477
پوائنٹ
964
یہ بتائیں کہ یہ کیسے معلوم ہو گا کہ راوی سے اس روایت میں وہم ہوا کہ نہیں۔ فرض کریں اس موضوع پر کوئی اور روایت نہ ہو پھر کیا درجہ دیا جائے گا؟ِ
وہم یا خطا کا پتہ یا تو اس راوی کی روایت کا دیگر راویوں کی روایات سے مقارنہ کرکے معلوم ہوتا ہے ، یا پھر اہل فن اگر کسی چیز کو وہم قرار دیں تو اس کی رعایت کی جاتی ہے ۔
اگر کوئی اوہام والا راوی کسی روایت میں متفرد ( اکیلا ) ہو تو قرائن سے فیصلہ کیا جائے گا ، اگر قرائن صحت پر دلالت کریں تو قبول ، اگر ضعف پر دلالت کریں تو روایت ضعیف قرار پائے گی ۔
 
Top