• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مجھ سے عبرت لے لو او ایسا مت کرو

شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,673
ری ایکشن اسکور
748
پوائنٹ
290
اللہ ہماری حمیت و غیرت کو قائم و دائم اور ہمارے ارادوں کو قوی تر کردے ۔ دین کی صحیح فہم عطاء کرے ۔ دین سے دوری اللہ کا غضب لاتی ہے ۔ اللہ کی اطاعت ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے راستہ پر چل کر ہی یم صراط مستقیم پا سکتے ہیں ۔ اللہ ہم سبکو بہتر سے بہتر توفیق دے اور ہماری کمزوریوں کو دور کردے ۔
والسلام
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,441
پوائنٹ
964
زرعی یونیورسٹی میں اقبال کا شاہین

اسد اللہ غالب​
نوائے وقت
9 جنوری 2016​
خبر ہے تو چھوٹی مگر نتیجے کے اعتبار سے بہت بڑی ہے، فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی بہت پرانی ہے ، ہمارے دوست اور محسن چودھری غلام ر سول اس کے وائس چانسلر رہے، بعد میں کون آیا ، کون گیا ،کوئی نہیںجانتا مگر موجودہ وی سی نے اپنے حکم کی وجہ سے شہرت دوام حاصل کر لی ہے، وائس چانسلر کو میں استاد کا رتبہ دیتا ہوں اور کوشش کروں گا کہ ایک استاد کی شان میں گستاخی نہ کروں۔مگر انہوںنے ایک ایسا کام کیا جو ان کے نامہ ا عمال کو سیاہ کر گیا ہے۔
ہر تعلیمی ادارے میں ہلا گلا ہوتا ہے، زرعی یونیورسٹی نے کسان میلے کا اہتمام کیا، اس میں کچھ رنگ بھی بھرا ہو گا، ایک طالب علم نے اس رنگ میں بھنگ ڈال دی ا ور فیس بک پر ایک تبصرہ لکھ دیا جس پر یونیورسٹی اس کے خون کی پیاسی ہو گئی اوراسے ادارے سے نکال کر دم لیا۔
یہ مسئلہ سوشل میڈیا پر گیا تو ایک طوفان کھڑا ہو گیا، یہاں سے اسے ہمارے ٹی وی چینلز نے اچک لیا اور آخر وی سی صاحب کو طالب علم کے اخراج کا حکم واپس لینا پڑا مگر انہوں نے یہ بندو بست ضرور کیا کہ طالب علم سے معافی نامہ لکھوالیا۔
اب آیئے ساری کہانی سن لیجئے۔
طالب علم کا نام ہے سید کاشان حیدر گیلانی۔وہ گولڈ میڈلسٹ ہے اور پی ایچ ڈی میںمصروف۔ اس نے کسان میلے پر اپنے تبصرے میں لکھا:
دو تین دن سے جاری کسان میلے کی حالت دیکھ کر عجب مخمصے کا شکار ہوں کہ بازاری لغویات ا ور پڑھی لکھی فضولیات میں کیا فرق ہے۔کسان میلے کے نام پر ہونےو الے میوزک کنسرٹس کس طرح دیہاتی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔اور کس طرح ہائی امپیکٹ والے اساتذہ کلاسوں کے بجائے اسٹالز پر علم کی شمع روشن کئے ہوئے ہیں۔اوپر سے صاحبزادہ صاحب کا فکر اقبال پر لیکچر۔۔۔سبحان ا للہ۔جب درسگاہیں ، رقص گاہیں بن جائیں تو کہاں کا اقبال اور کہاں کی تحقیق،صرف لفظی ڈھکوسلے ہیں۔
سید کاشان حیدر کی یہ تحریر یونیورسٹی انتظامیہ کو ناگوار گزری، کوئی اس طالب علم کی تحریر کی پختگی کو دیکھتا تو اسے بلا کر شاباش دیتا ۔ اور اگر اس کی فیس بک پر نظر ڈالی جائے تو انسان عش عش کر اٹھتا ہے اور اقبال ہی کا ایک مصرع یادا ٓتا ہے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔!
اس کی فیس بک پر یہ شعر ملاحظہ ہو:
مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے
مخالفوں کا بہت احترام کرتا ہوں
ایک اور شعر ملاحظہ ہو اور طالب علم کی پسند کی داد دیں:
آگہی مجھ کو کھا گئی ورنہ
میں نے جینا تھا اپنے مرنے تک
سید کاشان حیدر گیلانی نے اپنے اوپر گزرنے والی قیامت اور کرب کا اظہار اقبال ہی کی زبان میں یوں کیا ہے:
نسیما جانب بطحا گزر کن
ز احوالم محمد ﷺ را خبر کن
کیاآپ کی آنکھوںمیں آنسو نہیں آئے۔
مجھے یقین ہے کہ وی سی صاحب نے اس کی فیس بک پر ایک بھی نظر نہیں ڈالی ، ورنہ وہ پیر رومی ،مرید عراقی ا ور مرید ہندی کی ایک ہی زمین میں کہی گئی تین فارسی غزلیں پڑھنے کے بعداس طالب علم کا ماتھا چوم لیتے۔طالب علم زرعی یونیورسٹی کا جسے گڈویوں کی ا فادیت کا سبق پڑھایا جاتا ہے مگر اسے شوق لاحق ہے ،رومی ، عراقی اور اقبال کاا ور وہ بھی ان کا فارسی کلام جو ہمار ے جیسے جاہلوں کے سر کے ا وپر سے گزر جاتا ہے۔
رومی کی غزل کے ایک شعر کا ترجمہ پیش کرتا ہوں۔
کل رات ایک بوڑھا شخص چراغ ہاتھ میں لیے شہر میں گھومتا رہا اور کہتا رہا کہ میں شیطانوں اور درندوں سے ملول ہوں اور کسی انسان کو دیکھنے کی آرزو ہے۔
اور اقبال نے گرہ کیسے لگائی، ذرا ملاحظہ ہو:
مجھے تیر و نیزہ و خنجر و شمشیر کی آرزو ہے، (اے دنیا پرست و آسائش پسند) میرے ساتھ مت آ کہ مجھے مسلکِ شبیرؑ کی آرزو ہے۔
وہ جو کہتے ہیں کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ اس طالب علم کو سلام اور اس کی طبعی ذہانت اور فطانت کو سلام۔ اس نے اپنے دفاع کی جنگ سوشل میڈیا پر لڑی، یہی وہ میدان ہے جہاں سے مستقبل کے انقلاب کی ا ٓندھیاں اٹھیں گی ۔ مودی کے ایک ٹویٹ نے کس طرح بر صغیر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
مجھے اپنے استادوں سے شکوہ نہیں اور نہ حکومتی افسر شاہی سے کہ وہ سوشل میڈیا کی طاقت سے آگاہ نہیں بلکہ انکاری ۔
ویسے وی سی صاحب نے ایک محاورہ تو سن رکھا ہو گا کہ سانچ کو آنچ نہیں۔اس محاورے نے تو سینے پر مونگ دل کے رکھ دی۔
( کالم میں تین موضوعات زیر بحث لائے گئے ہیں ، باقی دو اس لنک پر ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں )
 
Top