ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 847
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
مدخلیت کا مکروہ چہرہ سی ٹی سی رپورٹ کے آئینے میں
یہ رپورٹ 2006 میں شائع ہوئی تھی جس کا عنوان تھا: (The Stealing of al-Qaeda’s Playbook) یہ رپورٹ دراصل Combating Terrorism Center (CTC) at West Point کے تحت شائع ہوئی تھی، جو کہ امریکی فوجی اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ (U.S. Military Academy, West Point) کا ایک تحقیقی ادارہ ہے۔
کامبیٹنگ ٹیررزم سینٹر CTC کا کام ہی یہ ہے کہ: دنیا بھر میں "اسلامی شدت پسندی" (ان کی اصطلاح میں) کا مطالعہ کیا جائے، مسلمانوں کے اندر سے جہاد، مزاحمتی نظریات، اور خلافت جیسے تصورات کو ختم کیا جائے اور ایسے "سیکولر مذہبی عناصر" کو تلاش کر کے انہیں فنڈنگ، پروپیگنڈا، اور میڈیا پلیٹ فارم مہیا کیے جائیں جو ان مقاصد کی تکمیل کریں، یہ ادارہ امریکی فوج، خفیہ ادارے اور حکومت کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پالیسیاں اور حکمتِ عملی تیار کرنے میں مشورے دیتا ہے۔
اس رپورٹ کو دو امریکی ماہرین نے تیار کیا:
- جاریٹ براشمن : دہشت گردی کے امور کا ماہر
- ویل مکینٹس : سخت گیر اسلام پر تحقیق کرنے والا محقق
اس رپورٹ کے صفحہ نمبر 14 پر مدخلیوں کے سرغنہ ربیع مدخلی کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا:
"مدخلی مغرب میں زیادہ معروف نہیں ہے اور اب سعودی عرب میں بھی زیادہ با اثر شخصیت نہیں رہا۔ لیکن 1990 کی دہائی میں وہ سعودی عرب میں ناقابلِ یقین حد تک بااثر تھا (اور اب بھی یورپ میں مسلمانوں کے درمیان اس کے کافی پیروکار ہیں)۔ اس کا زیادہ تر اثر سعودی حکومت کی حمایت سے حاصل ہوا۔ خلیج کی پہلی جنگ کے دوران اور اس کے بعد، سعودی حکومت کو سیاسی طور پر متحرک وہابی گروہوں کے رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ حکومت نے امریکی افواج کو سعودی عرب میں قیام کی اجازت دی تھی۔ ان متحرک وہابی گروہوں کے رہنماؤں کے بہت سے نوجوان پیروکار تھے۔ ان کے اثر کو کمزور کرنے کے لیے، سعودی حکومت نے ان رہنماؤں کو گرفتار کیا اور مدخلی کی بھرپور حمایت کی، کیونکہ وہ حکومت نواز، سیاسی پالیسیوں پر خاموش، اور سب سے اہم بات یہ کہ نوجوانوں کو ان متحرک وہابی گروہوں کی طرف مائل ہونے سے روکنے میں مؤثر تھا۔"
اسی طرح ربیع مدخلی کا "تبديع" اور مخالفین کو بدنام کرنے کی حکمت عملی کے متعلق اسی صفحہ پر لکھا گیا:
"سعودی حکومت کی حمایت کے علاوہ، دو چیزیں مدخلی کی نوجوانوں میں مقبولیت کو بڑھانے میں اہم رہیں: اس نے آڈیو کیسٹوں کے ذریعے اپنا پیغام عام کیا۔ وہ اپنے مخالفین کو بدنام کرنے میں نہایت ماہر تھا۔ اس کا ایک خاص ہتھکنڈہ یہ تھا کہ وہ جہادیوں کو 'قطبی' کہتا تھا، سلفی نہیں، کیونکہ وہ سید قطب کے سیاسی نظریات سے اتفاق رکھتے تھے۔ سید قطب وہ معروف جہادی مفکر تھا جسے 1960 کی دہائی میں مصری حکومت نے پھانسی دی تھی۔ ایسا کرنے کے پیچھے مدخلی کا مقصد یہ تھا کہ ان (جہادیوں) کو سلفیت سے خارج کر کے ایک گمراہ فرقے کا رکن ظاہر کرے۔ مدخلی کا ایک مؤثر ہتھکنڈہ یہ تھا کہ وہ اپنے مخالف کو اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور کرتا کہ سید قطب نے ایسے کئی اقوال ہیں جو عقیدۂ اہلِ سنت کے معیار سے مختلف تھے؛ چنانچہ، اس کے پیروکار بھی بدعتی گمراہ ہیں۔"
رپورٹ کے صفحہ نمبر 20 اور 21 میں چند سفارشات دی گئیں، جن میں مدخلی اور مدخلیت سے متعلق درج ذیل بات کہی گئی:
"امریکہ خفیہ طور پر ایسے معروف (نام نہاد) سلفی شخصیات کو مالی مدد دے سکتا ہے جیسے کہ مدخلی، جو جہادیوں سے حمایت چھیننے میں مؤثر ہوں اور جو خود متشدد دعوت نہ دیتے ہوں۔ اس مدد میں ان کی تبلیغ، لیکچرز، اور نئی مدارس کے قیام کے اخراجات شامل ہوں۔ یہ طریقہ قلیل مدت میں مؤثر ہوگا، لیکن طویل مدت میں یہ انسانیت کے مخالف سلفی نظریے کو تقویت دے گا، جس سے جہادیوں کو ترغیب حاصل ہوتی ہے۔ امریکہ غیر سلفی عناصر کو بھی مالی مدد دے سکتا ہے، لیکن فی الحال یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اصل مؤثر لوگ کون ہیں۔ بہترین حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ مشرقِ وسطیٰ کی حکومتوں پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ ایسے گروہوں کو زیادہ سیاسی شمولیت اور نمائندگی دیں جو جہادیوں کے اثر کو توڑ سکتے ہوں۔ یہ حکمتِ عملی ہر ملک کے لحاظ سے مختلف ہونی چاہیے۔ مثلاً، مصر میں مؤثر فریق اخوان المسلمون ہوگا، جبکہ سعودی عرب میں شیعہ جماعتیں ہوں گی۔ اور ایک بار پھر، یہ بات نہایت ضروری ہے کہ اس پورے عمل میں امریکہ کا کردار پس پردہ رہے۔"
یہ رپورٹ ایک واضح ثبوت ہے کہ امریکہ مختلف ممالک میں مختلف مذہبی گروہوں کو "جہاد فی سبیل اللہ" کے خلاف بطور آلہ استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ مگر اس طرح کہ عوام کو امریکہ کی مداخلت کا علم نہ ہو۔
اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مدخلی فرقہ درحقیقت امریکہ کا آلہ کار ہے جسے اسلام اور مسلمانوں کو کمزور کرنے، جہاد کو بدنام کرنے، اور مسلم نوجوانوں کو کفریہ حکومتوں کی غلامی پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
مدخلیت کا سارا "منہج" امریکی اسٹریٹیجی کا حصہ رہا ہے، اور ربیع مدخلی کو سعودی حکومت امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔
ربیع مدخلی مجاہدین کو بدنام کرنے میں نہایت عیّار اور ماہر ہے۔ اس کا خاص ہتھکنڈہ یہ ہے کہ جو سلفی مجاہدین جہاد کی دعوت دیتے ہیں، انہیں صرف اس وجہ سے "قطبی" ہونے کا الزام لگاتا ہے کہ سید قطب بھی جہاد کی بات کرتا تھا۔ یوں وہ مغالطہ دیتا ہے کہ چونکہ قطب جہاد پر زور دیتا تھا، اور یہ سلفی مجاہدین بھی ایسا ہی کرتے ہیں، لہٰذا یہ سب قطب کے پیروکار ہیں اور سلفیت سے خارج ہیں، بلکہ ایک گمراہ فرقے کے رکن ہیں۔
مدخلی اس ہتھکنڈے کو بنیاد بنا کر سید قطب کے بعض اقوال نکال کر دکھاتا ہے، جو "عقیدۂ اہلِ سنت" سے مختلف ہیں، اور پھر ان اقوال کو مجاہدین پر تھوپ کر انہیں بھی بدعتی اور زندیق قرار دیتا ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سید قطب نہ عالم تھا، نہ مجاہدین کا رہبر یا امام، سلفی مجاہدین نے کبھی قطب کو اپنا فکری رہنما نہیں مانا۔صرف جہاد جیسے ایک مشترک نظریے کی بنا پر کسی کو قطبی کہنا انتہائی فریب کاری ہے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے: "بدعتی اور سلفی دونوں لا الٰہ الا اللہ کہتے ہیں، لہٰذا سلفی بھی بدعتی ہیں!" کیا ایسا استدلال عقل یا دیانت کے قریب ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ وہی مدخلی ہتھکنڈہ ہے جو صرف فریب دینے، سلفی مجاہدین کو بدنام کرنے، اور جہاد کو مسخ کرنے کے لیے مداخلہ کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے۔