ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 846
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
"مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا" کہنے والے تمام انبیاء کے مخالف اور اُن کے منہج سے منحرف ہیں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
فَإِنَّ أَهْلَ الْمِلَلِ مُتَّفِقُونَ عَلَى أَنَّ الرُّسُلَ جَمِيعَهُمْ نُهُوا عَنْ عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ وَكَفَّرُوا مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ وَأَنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَكُونُ مُؤْمِنًا حَتَّى يَتَبَرَّأَ مِنْ عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ وَكُلِّ مَعْبُودٍ سِوَى اللَّهِ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ}.
بے شک تمام ملتوں (یہود، نصاریٰ، مسلمین) کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام رسولوں نے لوگوں کو بُتوں کی عبادت سے روکا، اور جنہوں نے بُتوں کی عبادت کی، ان سب کو تمام رسولوں نے کافر قرار دیا۔ اور بے شک مومن ہرگز ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ بُتوں کی عبادت سے اور اللہ کے سوا پوجے جانے والے ہر معبودِ باطل سے براءت کا اعلان نہ کر دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "(مسلمانو!) تمہارے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے ساتھیوں (دوسرے انبیاء) میں بہترین نمونہ ہے، جب کہ اُن سب نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، اُن سب سے بیزار ہیں۔ ہم تمہارے دین کے منکر ہیں، ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور نفرت ظاہر ہو چکی ہے، جب تک کہ تم اللہ کی توحید پر ایمان نہ لے آؤ۔ (سورۂ ممتحنہ، آیت : ٤)
[مجموع الفتاویٰ، ج : ٢، ص : ١٢٨]
نکاتِ مستنبطہ و فوائدِ عقائدیہ:
اوّل: جملہ انبیاء و مرسلین علیہم السلام نے اپنی قوموں کو غیر اللہ کی پرستش سے منع فرمایا، اور اس عمل کو سب سے بڑی گمراہی و ضلالت شمار کیا۔
دوم: تمام انبیاء علیہم السلام نے غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کو کافر قرار دیا اور اُن کے ساتھ براءت اور بیزاری کا اظہار فرمایا۔
سوم: انبیاء علیہم السلام نے اپنی اپنی قوموں سے، اور اُن کے خود ساختہ معبودوں سے، نہایت شدت سے اظہارِ انکار و نفرت کیا، اور ان کے ساتھ کسی قسم کا دینی میل جول باقی نہ رکھا۔
چہارم: ایمان کی حقیقت تب تک مکمل نہیں ہوتی، جب تک بندہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی سے اعلانِ بیزاری نہ کرے، اور ہر قسم کے طاغوت کا انکار نہ کرے۔
پنجم: مشرکین کے ساتھ بغض و عداوت رکھنا، اُن کی تکفیر کرنا، اور اُن سے ظاہری و باطنی براءت اختیار کرنا جملہ انبیاء کا دین، طریقت اور سنتِ مبارکہ ہے۔
ششم: جو لوگ آج اس فتنہ و فریب میں مبتلا ہیں کہ "مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا"، وہ درحقیقت منہجِ انبیاء کے مخالف، دینِ اسلام کے باغی، اور مرتدین و منافقین کی صف میں شامل ہیں۔
ہفتم: اس کلامِ حکیم میں وطنیّت، قومیت، نسلی و قبائلی تعصبات (Nationalism, Racism, Tribalism) کی جڑ کاٹی گئی ہے۔ کیونکہ جب قوم یا قبیلہ شرک میں مبتلا ہو، تو اس سے عدوات و براءت فرض ہوجاتی ہے، اور پھر قومیت کی بنیاد ہی منہدم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ قومیت تو قوم کی بنیاد پر ہوتی ہے جب قوم سے براءت ہوگی تو قوم پر مبنی قومیت سے بھی براءت لازم ہوگی۔
ہشتم: اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ کافر کے ساتھ نفرت اور دشمنی رکھی جائے، اور مسلمان خواہ کسی خطے یا وطن سے ہو، ہمارا بھائی اور دارالاسلام کا فرد ہے۔
نہم: امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول قرآن و سنت کے جُملہ نصوص سے مستنبط ہے، اور اس پر امت کا اجماع ہے، کوئی مخالف اگر ہو تو وہ ملت سے خارج ہے۔
دہم: سورۂ ممتحنہ کی اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں، امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری رحمہ اللہ سے لے کر علامہ شنقیطی رحمہ اللہ تک تقریباً تمام مفسرین نے یہی بات بیان فرمائی ہے۔