ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 847
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
مسئلہ "عذر بالجہل" پر معاصر مرجئہ کے فتنے کا رد شیخ صالح الفوزان کی زبانی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آج کے اس پرفتن دور میں جبکہ توحید کی بنیادوں کو منہدم کیا جا رہا ہے، شریعتِ مطہرہ کی سرعام پامالی ہو رہی ہے، شرک و کفر کا طوفان مسلط ہے، اور ملتِ اسلامیہ کو نظریاتی زہر سے آلودہ کیا جا رہا ہے؛ وہاں سب سے بڑا فتنہ مداخلہ مرجئہ کا ہے جو شرکِ اکبر کے مرتکبین کو "عذر بالجہل" کا سہارا دے کر دائرہ اسلام میں رکھنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔
شیخ العلامہ صالح الفوزان سے سوال کیا گیا:
هل مسألة العذر بالجهل اختلف فيها العلماء والسلف أم أنها ....
کیا عذر بالجہل کا مسئلہ علماء اور سلف کے درمیان اختلافی مسئلہ ہے یا نہیں؟
شیخ صالح الفوزان نے جواب دیا:
ما أعرف هذا .. هذه جابوها المرجئة المعاصرون: «العذر بالجهل، العذر بالجهل» كل شيء عذر بالجهل يعني ولا هنا قرآن ؟! ولا هنا سنة ؟! ولا هنا شيء ؟!.. كل شيء جهل، إلى متى الجهل ؟ !
میں نہیں جانتا کہ سلف کا اس میں کوئی اختلاف رہا ہو۔ بلکہ یہ تو عصر حاضر کے مرجئہ کا گھڑا ہوا نظریہ ہے "عذر بالجہل، عذر بالجہل!" ہر چیز میں جہالت کو عذر بنا لیا گیا ہے، تو کیا یہاں قرآن موجود نہیں؟! کیا یہاں سنت موجود نہیں؟! کیا کچھ بھی موجود نہیں؟! ہر چیز میں جہالت ہی جہالت ہے! آخر یہ جہالت کب تک چلے گی؟!
[شرح فتح المجيد: الدرس رقم: ٢٩، اجوبة الشيخ صالح الفوزان عن مسائل الكفر والايمان، ص : ٦٣-٦٤].
شیخ صالح الفوزان کا مذکورہ جواب ایک زوردار تردید ہے ان لوگوں کے لیے جو کہ ہر شرک و کفر میں جہالت کا عذر دیتے ہیں یہ دراصل معاصر مرجئہ کی ایجاد کردہ بدعت ہے۔
فتنہ "العذر بالجہل" ایک جدید مرجئانہ منہج ہے مرجئہ کا اصل منہج یہ رہا ہے کہ وہ ایمان سے اعمال کو خارج کرتے ہیں، اور کفریہ افعال کو تاویلات، شک، یا جہالت کے پردے میں چھپا کر کفار و مشرکین کی تکفیر سے روکتے ہیں۔
آج کے یہ مداخلہ جو خود کو منہجیت کے مبلغ کہتے ہیں، وہ یہی منہج اپنا کر امت کو شرک و بدعت کے دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔ قبروں پر سجدہ کرنے والے، غیر اللہ کو پکارنے والے، جمہوری نظام کے غلاظت میں غوطہ زن، اللہ کی نازل کردہ شریعت کو معطل کر کفریہ وضعی قوانین کا نفاذ کرنے والے افراد، یہ سب ان کے نزدیک معذور ہیں کیونکہ وہ "جاہل" ہیں!
یہ کیسا منہج ہے جو قرآن کے اس واضح اعلان کو بھلا دیتا ہے:
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ
وَمَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا
وَمَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِيدًا
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ
إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّهُ عَلَيهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ
مدخلیوں کا یہ کیسا منہج ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ توحید کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے، جس میں آپ نے مشرکین مکہ کو صرف "جاہل" کہہ کر چھوڑ نہ دیا، بلکہ ان کی تکفیر کی، ان سے براءت کا اعلان کیا، ان سے جہاد کیا، اور ان پر حدیں جاری کیں۔
ان مداخلہ نے دین کو مداہنت کا کھیل بنا دیا، حکمت کے نام پر توحید سے پیٹھ موڑ لی، اور اہل شرک کی محبت میں ان کے لیے رحم و شفقت کی چادر تان دی۔
یہ کہنا کہ "ہم دعوت دیں گے، تکفیر نہیں کریں گے"، "یہ جاہل عوام ہیں، ان پر فتوے نہ لگاؤ"، "کفر و شرک کا علم ان تک نہیں پہنچا" یہ وہی روش ہے جسے مرجئہ خبیثہ نے روا رکھا، اور آج کے مداہنت پسند مداخلہ اسی راستے کے مسافر ہیں۔
شیخ صالح الفوزان نے انتہائی غضبناک انداز میں ان عذر بالجہل کے ٹھیکیداروں پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا "هذه جابوها المرجئة المعاصرون: العذر بالجهل، العذر بالجهل كل شيء عذر بالجهل"
یہ کوئی وقتی غصہ نہیں، بلکہ یہ ایک شرعی رد اور اصولی مؤقف ہے کہ "عذر بالجہل" کے نام پر شرک اکبر کے مرتکبین کی تکفیر کا انکار کرنا، درحقیقت لوگوں کو توحید سے دور رکھنا ہے؛ عوام کو شرک پر مطمئن کرنا ہے؛ اور بدترین طور پر دین میں نئی راہیں کھولنا ہے۔
لہٰذا، اہل سنت والجماعۃ، خصوصاً سلفی نوجوانوں کو چاہیئے کہ ان مرجئانہ افکار کے علمبردار مدخلیوں کو منبروں سے نیچے اتاریں، ان کی کتابوں اور دروس کا بائیکاٹ کریں، ان کی فکری گمراہی کو عامۃ المسلمین کے سامنے آشکار کریں، عقیدہ توحید کی حفاظت کے لیے ان کے خلاف ببانگ دہل اعلانِ براءت کریں
یاد رکھو! "من لم يكفّر المشركين، أو شك في كفرهم، أو صحح مذهبهم كفر" جو مشرکوں کو کافر نہ کہے، یا ان کے کفر میں شک کرے، یا ان کے مذہب کو درست سمجھے وہ خود کافر ہے! یہ امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کا اصولی کلام ہے جو آج بھی ہر موحد کے لیے منارہ نور ہے۔
"عذر بالجہل" کو ہر کفریہ و شرکیہ عمل پر چسپاں کرنا، ایک بدعت، ایک مرجئانہ مکر، اور ایک فکری خيانت ہے۔ اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا فرضِ عین ہے۔ توحید کا دفاع کرو، ورنہ شرک کے وکیل بن کر حشر میں اہل شرک کے ساتھ کھڑے پاؤ گے!