• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسافر آدمی کا وقت سے پہلے نماز پڑھنا

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,099
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
الله تعالی نے تمام نمازوں کو مقررہ وقت پر فرض کیا ہے، کسی نماز کو اس کے وقت سے پہلے پڑھنا جائز نہیں ہے، البتہ سفر میں ظہر کو عصر کے ساتھ اور مغرب کو عشاء کے ساتھ جمع کیا جا سکتا ہے، یعنی ظہر کو عصر کے وقت میں یا عصر کو ظہر کے وقت میں پڑھنا جائز ہے۔ ایسے ہی مغرب کو عشاء کے وقت میں یا عشاء کو مغرب کے وقت میں جمع کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔فجر کی نماز مسافر آدمی بھی مقررہ وقت پر ہی پڑھے گا، اس کو کسی دوسری نماز کے ساتھ جمع کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے جب تک یہ علم نہ ہو جائے کہ نماز فجر کا وقت داخل ہو چکا ہے ، نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص وقت سے پہلے نماز پڑھ لیتا ہے ، تو اس پر واجب ہے کہ وقت کے داخل ہونے کے بعد دوبارہ ادا کرے۔

ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا (النساء: 103)
’’بے شک نماز ایمان والوں پر ہمیشہ سے ایسا فرض ہےجس کا وقت مقرر کیا ہوا ہے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدّ)) (صحيح مسلم، الأقضية:1718).
’’جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں ہے وہ مردود (باطل) ہے‘‘۔

والله أعلم بالصواب.
 
Top