• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم مسلح کشاکش

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مسلح کشاکش



ہجرت کے بعد مسلمانوں کے خلاف قریش کی فتنہ خیزیاں اور عبد اللہ بن اُبی سے نامہ و پیام


پچھلے صفحات میں بتایا جا چکا ہے کہ کفارِ مکہ نے مسلمانوں پر کیسے کیسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تھے اور جب مسلمانوں نے ہجرت شروع کی تو ان کے خلاف کیسی کیسی کارروائیاں کی تھیں جن کی بنا پر وہ مستحق ہو چکے تھے کہ ان کے اموال ضبط کر لیے جائیں اور ان پر بزن بول دیا جائے۔ مگر اب بھی ان کی حماقت کا سلسلہ بند نہ ہوا اور وہ اپنی ستم رانیوں سے باز نہ آئے بلکہ یہ دیکھ کر ان کا جوشِ غضب اور بھڑک اُٹھا کہ مسلمان ان کی گرفت سے چھوٹ نکلے ہیں اور انہیں مدینے میں ایک پُر امن جائے قرار مل گئی ہے۔ چنانچہ انہوں نے عبد اللہ بن اُبی کو...جو ابھی تک کھلم کھلا مشرک تھا...اس کی حیثیت کی بنا پر ایک دھمکی آمیز خط لکھا کہ وہ انصار کا سردار ہے۔ کیونکہ انصار اس کی سربراہی پر متفق ہو چکے تھے اور اگر اسی دوران رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری نہ ہوئی ہوتی تو اس کو بادشاہ بھی بنا لیے ہوتے ...مشرکین نے اس خط میں عبد اللہ بن اُبیّ اور اس کے مشرک رفقاء کو مخاطب کرتے ہوئے دوٹوک لفظوں میں لکھا :
''آپ لوگوں نے ہمارے آدمی کو پناہ دے رکھی ہے، اس لیے ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یا تو آپ لوگ اس سے لڑائی کیجیے یا اسے نکال دیجیے یا پھر ہم اپنی پوری جمعیت کے ساتھ آپ لوگوں پر یورش کر کے آپ کے سارے مردانِ جنگی کو قتل کر دیں گے اور آپ کی عورتوں کی حرمت پامال کر ڈالیں گے۔'' (ابوداؤد: باب خبر النضیر ۲/۱۵۴)
اس خط کے پہنچتے ہی عبد اللہ بن اُبیّ مکے کے اپنے ان مشرک بھائیوں کے حکم کی تعمیل کے لیے اٹھ پڑا۔ اس لیے کہ وہ پہلے ہی سے نبی ﷺ کے خلاف رنج اور کینہ لیے بیٹھا تھا کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ آپ ﷺ ہی نے اس سے بادشاہت چھینی ہے، چنانچہ جب یہ خط عبد اللہ بن اُبی اور اس کے بت پرست رفقاء کو موصول ہوا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے جنگ کے لیے جمع ہو گئے۔ جب نبی ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ''قریش کی دھمکی تم لوگوں پر بہت گہرا اثر کر گئی ہے تم خود اپنے آپ کو جتنا نقصان پہنچا دینا چاہتے ہو قریش اس سے زیادہ تم کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ تم اپنے بیٹوں اور
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بھائیوں سے خود ہی لڑنا چاہتے ہو؟ نبی ﷺ کی یہ بات سن کر لوگ بکھر گئے۔ (ابوداؤد: باب مذکورہ ۲/ ۵۶۳)
اس وقت تو عبد اللہ بن اُبی جنگ کے ارادے سے باز آ گیا کیونکہ اس کے ساتھی ڈھیلے پڑ گئے تھے یا بات ان کی سمجھ میں آ گئی تھی لیکن حقیقت میں قریش کے ساتھ اس کے روابط درپردہ قائم رہے کیونکہ مسلمان اور مشرکین کے درمیان شَر و فساد کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہتا تھا۔ پھر اس نے اپنے ساتھ یہود کو بھی ساٹ رکھا تھا تاکہ اس معاہدے میں ان سے بھی مدد حاصل کرے، لیکن وہ تو نبی ﷺ کی حکمت تھی جو رہ رہ کر شَرّ و فساد کی بھڑکنے والی آگ بجھا دیا کرتی تھی۔ (اس معاملے میں دیکھئے: صحیح بخاری ۲/۶۵۵، ۶۵۶، ۹۱۶، ۹۲۴)
مسلمانوں پر مسجد حرام کا دروازہ بند کیے جانے کا اعلان:
اس کے بعد حضرت سعد بن معاذؓ عمرہ کے لیے مکہ گئے اور اُمَیّہ بن خلف کے مہمان ہوئے۔ انہوں نے اُمیہ سے کہا: ''میرے لیے کوئی خلوت کا وقت دیکھو ذرا میں بیت اللہ کا طواف کر لوں۔'' اُمیّہ دوپہر کے قریب انہیں لے کر نکلا تو ابو جہل سے ملاقات ہو گئی۔ اس نے (اُمیہ کو مخاطب کر کے) کہا: ابو صفوان تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ اُمیہ نے کہا: یہ سعد ہیں۔ ابو جہل نے سعد کو مخاطب کر کے کہا: ''اچھا! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بڑے امن و اطمینان سے طواف کر رہے ہو حالانکہ تم لوگوں نے بے دینوں کو پناہ دے رکھی ہے اور یہ زعم رکھتے ہو کہ ان کی نصرت و اعانت بھی کرو گے۔ سنو! اللہ کی قسم! اگر تم ابو صفوان کے ساتھ نہ ہوتے تو اپنے گھر سلامت پلٹ کر نہ جا سکتے تھے۔'' اس پر حضرت سعدؓ نے بلند آواز میں کہا: ''سن! اللہ کی قسم اگر تو نے مجھ کو اس سے روکا تو میں تجھے ایسی چیز سے روک دوں گا جو تجھ پر اس سے بھی زیادہ گراں ہو گی۔'' (یعنی اہل مدینہ کے پاس سے گزرنے والا تیرا تجارتی راستہ) (بخاری، کتاب المغازی ۲/۵۶۳)
مہاجرین کو قریش کی دھمکی:
پھر قریش نے مسلمانوں کو کہلا بھیجا: ''تم مغرور نہ ہونا کہ مکہ سے صاف بچ کرنکل آئے، ہم یثرب ہی پہنچ کر تمہارا ستیاناس کر دیتے ہیں۔'' (رحمۃ للعالمین ۱/۴۰۴)
اور یہ محض دھمکی نہ تھی بلکہ رسول اللہ ﷺ کو اتنے مؤکد طریقے پر قریش کی چالوں اور بُرے ارادوں کا علم ہو گیا تھا کہ آپ یا تو جاگ کر رات گزارتے تھے یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پہرے میں سوتے تھے۔ چنانچہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ مدینہ آنے کے بعد ایک رات رسول اللہ ﷺ جاگ رہے تھے کہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فرمایا: ''کاش! آج رات میرے صحابہؓ میں سے کوئی صالح آدمی میرے یہاں پہرہ دیتا۔'' ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ ہمیں ہتھیار کی جھنکار سنائی پڑی۔ آپ نے فرمایا: ''کون ہے؟'' جواب آیا: ''سعد بن ابی وقاص'' فرمایا: کیسے آنا ہوا؟ بولے: ''میرے دل میں آپ ﷺ کے متعلق خطرے کا اندیشہ ہوا تو میں آپ ﷺ کے یہاں پہرہ دینے آ گیا۔'' اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں دُعا دی، پھر سو گئے۔ (مسلم باب فضل سعدؓ بن ابی وقاص ۲/۲۸۰، صحیح بخاری باب الحراسۃ فی الغزو فی سبیل اللہ ۱/۴۰۴)
یہ بھی یاد رہے کہ پہرے کا یہ انتظام بعض راتوں کے ساتھ مخصوص نہ تھا بلکہ مسلسل اور دائمی تھا، چنانچہ حضرت عائشہ ؓ ہی سے مروی ہے کہ رات کو رسول اللہ ﷺ کے لیے پہرہ دیا جاتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی:
(۵: ۶۷) (اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا) تب رسول اللہ ﷺ نے قبے سے سر نکالا اور فرمایا: ''لوگو! واپس جاؤ اللہ عزّوجل نے مجھے محفوظ کر دیا ہے۔'' (جامع ترمذی : ابواب التفسیر ۲/۱۳۰)
پھر یہ خطرہ صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات تک محدود نہ تھا بلکہ سارے ہی مسلمانوں کو لاحق تھا، چنانچہ حضرت اُبیّ بن کعبؓ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے رُفقاء مدینہ تشریف لائے، اور انصار نے انہیں اپنے یہاں پناہ دی تو سارا عرب اُن کے خلاف متحد ہو گیا۔ چنانچہ یہ لوگ نہ ہتھیار کے بغیر رات گزارتے تھے اور نہ ہتھیار کے بغیر صبح کرتے تھے۔
جنگ کی اجازت:
ان پُر خطر حالات میں جو مدینہ میں مسلمانوں کے وجود کے لیے چیلنج بنے ہوئے تھے اور جن سے عیاں تھا کہ قریش کسی طرح ہوش کے ناخن لینے اور اپنے تمرد سے باز آنے کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگ کی اجازت فرما دی، لیکن اسے فرض قرار نہیں دیا۔ اس موقعے پر اللہ تعالیٰ کا جو ارشاد نازل ہوا وہ یہ تھا:
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ نَصْرِ‌هِمْ لَقَدِيرٌ‌ (۲۲: ۳۹)
''جن لوگوں سے جنگ کی جا رہی ہے انہیں بھی جنگ کی اجازت دی گئی کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور یقینا اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔''
پھر اس آیت کے ضمن میں مزید چند آیتیں نازل ہوئیں جن میں بتایا گیا کہ یہ اجازت محض جنگ برائے جنگ کے طور پر نہیں ہے بلکہ اس سے مقصود باطل کے خاتمے اور اللہ کے شعائر کا قیام ہے۔ چنانچہ آگے چل کر ارشاد ہوا :
الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُ‌وا بِالْمَعْرُ‌وفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ‌ ۗ وَلِلَّـهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ‌ (۲۲: ۴۱)
''جنہیں ہم اگر زمین میں اقتدار سونپ دیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ ادا کریں گے، بھلائی کا حکم دیں گے اور بُرائی سے روکیں گے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
صحیح بات جسے قبول کرنے کے سوا چارہ کار نہیں یہی ہے کہ یہ اجازت ہجرت کے بعد مدینے میں نازل ہوئی تھی، مکے میں نازل نہیں ہوئی تھی، البتہ وقت نزول کا قطعی تعین مشکل ہے۔
قتال کی یہ اجازت پہلے پہل قریش تک محدود تھی۔ پھر حالات بدلنے کے ساتھ اس میں بھی تبدیلی آئی۔ چنانچہ آگے چل کر یہ اجازت وجوب سے بدل گئی اور قریش سے متجاوز ہو کر غیر قریش کو بھی شامل ہو گئی۔ مناسب ہو گا کہ واقعات کے ذکر سے پہلے اس کے مختلف مراحل کو مختصراً پیش کر دیا جائے:
پہلا مرحلہ: قریش کو برسر جنگ شمار کیا گیا کیونکہ انہیں نے ظلم کا آغاز کیا تھا، لہٰذا مسلمانوں کو حق پہنچتا تھا کہ ان سے لڑیں اور ان کے اموال ضبط کریں لیکن دوسرے مشرکین عرب کے ساتھ یہ بات درست نہ تھی۔
غیر قریش میں سے وہ فریق جس نے قریش کا ساتھ دیا اور ان سے اتحاد کیا، یاجس نے بذات خود مسلمانوں پر ظلم و تعدی کی ان سے جنگ کرنا۔
جن یہود کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا عہد و پیمان تھا، مگر انہوں نے خیانت کی اور مشرکین کا ساتھ دیا، ایسے یہود کے عہد و پیمان کو ان کے منہ پر دے مارنا اور ان سے جنگ کرنا۔
اہل کتاب مثلاً: نصاریٰ میں سے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ عداوت کا آغاز کیا اور مد مقابل آئے۔ ان سے جنگ کرنا، یہاں تک کہ وہ چھوٹے بن کر اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کریں۔
جو اسلام میں داخل ہو جائے اس سے ہاتھ روک لینا۔ خواہ وہ مشرک رہا ہو یا یہودی یا نصرانی یا کچھ اور۔ اب اس کی جان یا مال سے اسلام کے حق کے مطابق ہی تعرض کیا جا سکتا ہے اور اس کے باطن کا حساب اللہ پر ہے۔
جنگ کی اجازت تو نازل ہو گئی لیکن جن حالات میں نازل ہوئی وہ چونکہ محض قریش کی قوت اور تمرد کا نتیجہ تھے، اس لیے حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمان اپنے تسلط کا دائرہ قریش کی اس تجارتی شاہراہ تک پھیلا دیں جو مکے سے شام تک آتی جاتی ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے تسلط کے اس پھیلاؤ کے لیے دو منصوبے اختیار کیے :
(۱) ایک:... جو قبائل اس شاہراہ کے اردگرد یا اس شاہراہ سے مدینے تک کے درمیانی علاقے میں آباد تھے ان کے ساتھ حلف (دوستی و تعاون) اور جنگ نہ کرنے کا معاہدہ۔
(۲) دوسرا منصوبہ:... اس شاہراہ پر گشتی دستے بھیجنا۔
پہلے منصوبے کے ضمن میں یہ واقعہ قابلِ ذکر ہے کہ پچھلے صفحات میں یہود کے ساتھ کیے گئے جس معاہدے کی تفصیل گزر چکی ہے، آپ ﷺ نے عسکری مہم شروع کرنے سے پہلے اسی طرح کی دوستی و تعاون اور عدم ِ جنگ کا ایک معاہدہ قبیلہ جُہینہ کے ساتھ بھی کیا۔ ان کی آبادی مدینے سے تین مرحلے پر -- ۴۵ یا ۵۰ میل کے فاصلے پر -- واقع تھی۔ اس کے علاوہ طلایہ گردی کے دوران بھی آپ ﷺ نے متعدد معاہدے کیے جن کا ذکر آئندہ آئے گا۔
دوسرا منصوبہ سرایا اور غزوات سے تعلق رکھتا ہے جس کی تفصیلات اپنی اپنی جگہ آتی رہیں گی۔
 
Top