• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسلمانوں کی کثیر تعداد عمل سے پیچھے کیوں؟؟

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,440
پوائنٹ
463
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ​

وَالْعَصْرِ ٭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ ٭اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ڏ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ٭​
زمانے کی قسم ! (زمانہ شاہد ہے ! ) (1) انسان در حقیقت خسارے میں ہے ، (2) سوائے ان لوگوں کے ! جو ایمان لائے ، اور نیک اعمال کرتے رہے ، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے رہے اور (ایک دوسرے کو) صبرکی تلقین کرتے رہے۔(3)​
ایمان لانے کے بعد علم کے حصول کے ساتھ عمل ضروری ہے۔آج ہمارے مسلمانوں میں عمل کی شدید​
کمی ہے،ان میں دو طرح کے لوگ سرفہرست ہے ، ایک وہ جو علم نہیں رکھتے اور عمل بھی نہیں کرتے​
دوسرے وہ جو علم رکھتے ہوئے بھی عمل میں پیچھے ہیں۔اس وجہ سے نہ تو ہمیں تقوی ملتا ہے اور نہ ہم لذت​
ایمانی کو محسوس کرتے ہیں۔مسلمان عالمی سطح پر طاقت وقوت میں کمزور رہ گئے کیونکہ ان میں عمل نہیں رہا ، ہمارا عمل علم کی صورت میں ہم نے کتابوں میں بند کر دیا۔چناچہ محض کتابوں کو پڑھنے سے ہم باعمل نہیں ہو سکتے۔​
ہم تبھی کامیاب ہو سکتے ہیں جب ہم اپنی حقیقی زندگی میں عمل کریں۔​
کوئی سائنسدان جب تھیوری پیش کرتا ہے ، تو جب تک وہ پریکٹیکل نہ پیش کرے، اس کی تھیوری کو اہمیت نہیں دی جاتی۔چاہے وہ کوزے میں دریا بند کر دے!​
اسی طرح اللہ رب العزت سے محبت اور خوف کا دعوی تب ہی معتبر ہے ، جب خالصتا اللہ کی رضا کے لیے​
نیک عمل سے ثبوت فراہم کیئے جائیں۔یہی عمل نجات کا باعث ہے۔​
اللہ تعالی کا فرمان ہے،​

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ 82؀ۧ​
اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وہی جنتی ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ (82)​
سورت البقرہ​

وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا ١٢٤؁​
اور جو نیک عمل کرے گا ، خواہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن ، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور اُن کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی۔(124)سورت النساء​
آج ہم سخت آزمائشوں میں مبتلا ہیں ، پریشانیاں ، ذہنی تھکاوٹیں ، چراچراہٹ، غم و خوف کا شکار ہیں،درحقیقت اس کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں،اللہ تعالی نے کا فرمان بہت واضح ہے۔​

مَآ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۡ وَمَآ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ​
اے انسان ، تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے ، اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے۔سورت النساء 79 آیت​
اس کسب وعمل میں کمزوری کی بنا پر یہود و نصاریٰ جن عذاب سے دوچار ہوئے وہ ہمارے لیے نصیحت ہے۔​
کہ دن میں پانچ اوقات اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔​
غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ
یعنی یہود ، جن کے پاس کثیر علم تھا ، مگر عمل نہیں۔پس ہمیں ان جیسا نہیں بننا!​

وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ​
یعنی نصاریٰ جو عمل میں بہت آگے تھے ، مگر علم کے بغیر، پس ہمیں ان جیسا بھی نہیں ہونا!​
حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی بات کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:یہ اس وقت ہو گا جب علم اٹھ جائے گا، میں نے عرض کیا ، ْ ْ یا رسول اللہ ﷺ ! علم کیسے​
اٹھ جائے گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے اور اپنی اولاد کو قرآن پڑھاتے ہیں اور وہ آگے اپنی اولاد کو قرآن پڑھائیں گے،​
اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا ''۔آپ ﷺ نے فرمایا:زیاد ! تجھے تیری ماں گم پائے ، میں تو تمہیں مدینہ کے سمجھ دار لوگوں میں شمار کرتا تھا،یہ حقیقت نہیں کہ یہود و نصاری توراۃ اور انجیل کو پڑھتے تھے ، لیکن ان میں جو کچھ ہے ، ان میں سے کسی چیز پر عمل نہیں کرتے تھے"۔​

رواہ ابن ماجہ (صحیح)​

وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ۭوَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ ١٣٢؁​
ہر شخص کا درجہ اس کے عمل کے لحاظ سے ہے اور تمہارا رب لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔ (132) سورت الانعام​

فَاٰتٰىھُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ ١٤٨؁ۧ​
آخر کار اللہ نے اُن کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر ثواب آخرت بھی عطا کیا۔ اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں۔(148) سورت ال عمران​
ہمیں کامیابی اور دنیا کے مصائب کا سامنا کرنے کے لیے ، اپنی زندگیوں میں عمل کے بیج بونے ہوں گے۔​
وہ ہمت اور جذبہ پیدا کرنا ہو گا ، جو کہ اللہ کے نبی ﷺ کی سیرت مبارکہ سے ملتا ہے۔​
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی​
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے​

واللہ یحب المحسنین​
تحقیق و تحریر از دعا

اتنے اہم حقائق جان لینے کے بعد آخر وہ کون سے اسباب ہیں ، جو ہمیں عمل میں کمزور کر دیتے ہیں؟​
یا

جن کی وجہ سے آج کا مسلمان باعمل نہیں ہے؟؟؟​
یہی ہمارا موضوع ہے۔​
علمی دلائل سے آگاہ کیجیئے۔​
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,440
پوائنٹ
463

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,899
پوائنٹ
436
اچھی تحریر ہے۔اس پر مزید کچھ یہاں بھی تحریر کریں۔جس مقصد کے لیے یہ تھریڈ بنایا گیا ہے۔
جزاکم اللہ خیرا


آج ترقی کے بہت سے فلسفے اور تقاضے پیش کئے جاتے ہیں، جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی کی مہارت کو اس کا لازمہ قرار دیا جاتا ہے، بہت سے لوگ اہلِ مغرب کی نقالی کو ہی ترقی کی معراج سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ سب باتیں ثانوی ہیں؛ ترقی کی اہم بنیادیں: احساس، شعور، جدوجہد اور پرعزم کاوش ہے۔ یہ رجحانات دنیا کی جس قوم میں پیدا ہوجائیں اور وہ علم دوستی، عدل، قانون پسندی، محنت اور اہل ہنر سے انصاف کا وطیرہ اختیار کرلے، وہ ترقی کے ایک معیار کو ضرور حاصل کرلیتی ہے۔یہ خصوصیات پتھر اور سانپ کو دیوتا مان لینے والی ہندو قوم میں بھی پیدا ہوجائیں تو ان کا جہالت سے بھرپور اعتقاد ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ ترقی اور کامیابی کی یہ مسلمہ اَساسات ہیں جو ایک حد تک کامیابی کی ضمانت ہیں، البتہ دائمی، قوی تر، متوازن اورحقیقی کامیابی وکامرانی صرف اُس کے حصے میں آتی ہے جو اللہ کی طرف سے آنے والی مستند ہدایات(اسلام) پر عمل پیرا ہو۔

اُمت ِمسلمہ پر زوال آیا اور ایک صدی قبل تمام مسلم ریاستیں غیروں کی دست ِنگر اور محکوم بن گئیں، اسی ریاستی تسلط سے غیروں نے ہم سے ہمارا اسلامی جوہر اور بیش قیمت تہذیبی روایات چھین لیں اور ہمیں اپنی جیسی مادہ پرست قوم ومعاشرہ میں بدل دیا۔ مغربی اَقوام نے ریاستی تسلط کے کس کس پہلو سے فائدہ اُٹھایا اور مختصر عرصے میں ایک عظیم قوم کو کس طرح مسخ کردیا، کبھی یہ مطالعہ بھی ہماری لئے موضوعِ عبرت بننا چاہئے۔ ان کی چیرہ دستیاں اس حد تک بڑھیں کہ آخر کار مسلم اُمہ کے مرکز ِخلافت کو بھی تبادہ وبرباد کرڈالا۔ نظریات مسخ کردیے، سوچیں اور رجحانات بدل دیے، اسلام کا صرف نام باقی رہا اور مسلمانی نام کو رہ گئی!!

یہ قضیہ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آخر دورِ زوال کیوں کر طاری ہوا، اس سے قبل اس قدر پرشکوہ اُمت کے کارپردان نے کونسی ایسی کوتاہیاں کی تھیں کہ اس قدر عبرتناک انجام ان کا مقدر ٹھہرا؟ لیکن حال کے چند سالوں کا بنظر غائر مشاہدہ کرکے یہ قضیہ بآسانی حل ہوگیا۔ جب کسی قوم کے حکمران ہی اپنی قوم سے مخلص نہ رہیں، اپنی چند لمحوں کی عیاشی اور عافیت کے بدلے اپنی قوم کو سالوں کی غلامی میں دینے پر اُنہیں کوئی شرمندگی نہ ہو، زوال کے بدترین لمحات میں بھی وہ قوم خوابِ غفلت سے نہ جاگے اور مقابلہ کرنے کی حکمت ِعملی ترتیب نہ دے، محض وقتی نعرہ بازی پر اکتفا کرے تو ا س قوم کا انجام ا س کے سوا کیا ہوسکتا ہے؟!

مقامِ افسوس ہے کہ آج اکیسویں صدی کے آغاز میں اُمت ِمسلمہ اقوامِ عالم میں اپنا تعارف اس بدتر شناخت سے پیش کررہی ہے۔ دین اسلام کی نظریاتی اور عملی قوت آج بھی ہر ذی شعور کو حیران کردیتی ہے اور اسی قوت کے سبب دنیا میں اسلام سب سے زیادہ پھیلنے والا مذہب ٹھہرتا ہے لیکن اسلام کے نام لیواؤوں کا رویہ اور کردار، بالخصوص اجتماعی اور ملی رجحانات اُمت ِمحمدیہ کے روشن چہرے کو داغ دار کرنے کے لئے کافی ہیں۔ آج کی اُمت ِمسلمہ کے حکمران اور عوام ورعایا کو دیکھ کر اپنی قوم کے ہونے والے زوال کی وجوہات بآسانی سمجھ میں آسکتی ہیں۔

ہم اب بھی خوابِ غفلت سے نہ جاگے تو زوال کا یہ سیاہ دور طویل تر ہوتا جائے گا۔ ہمیں ہر سطح پر بیداری کی ضرورت ہے۔ زندگی کے ہرمیدان میں کام کرنیوالے عناصر کی حوصلہ افزائی اور ان کو تائید و تقویت دے کر اپنا قومی مزاج بدلنا ہوگا۔ خوشامدیوں، موقع و مفاد پرستوں، بدمحنتوں اور غفلت کیشوں کو پیچھے ہٹا کر اُمت ِمحمدیہ کی قیادت کیلئے باشعور اور باعمل مسلمانوں کو آگے بڑھانا ہوگا۔ تب ہی ہماری قوم کا کلچربدلے گا، اور غیروں کے ظلم وتشدد سے ہمیں عافیت نصیب ہوگی۔ اس کیلئے سب سے پہلے احساس اور شعور کی ضرورت ہے، اس شعور کے نتیجے میں ہی قوتِ عمل کی تحریک پیداہوگی، تب آخرکار کامیابی مسلم اُمہ کا مقدر ٹھہرے گی۔ اِن شاء اللہ
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,009
پوائنٹ
436
محترم بہن آپ نے بہت اچھے موضوع کا انتخاب فرمایا ہے۔
اس موضوع پر بہت سے پہلوؤں سے بات چیت ہو سکتی ہے۔
جیسے۔
انسانی سستی و کاہلی
معاشرے کے طور طریقے
انسانوں کا رویہ
انسانوں اور حکومتوں کا خوف
اسٹیٹس اور جھجک
معاشرتی دوڑ میں برتری کی خواہش
دولت کا حصول اور لالچ
دشمن کا خوف
برادری کے رسم و رواج
باپ دادا کے علم و عمل کی حجت
وغیرہ وغیرہ
بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے
آخر میں یہی عرض ہے کہ جب انسان میں توحید اُلوہیت اور توحید اسماء و صفات کا علم کم ہو یا علم تو ہو لیکن اس پر دل مطمئن نہ ہو تو دین اسلام پر عمل نہیں ہو سکتا۔
طوالت کا خوف نہ ہو تو ہر ایک نکتے پر الگ الگ پوسٹ کی جا سکتی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
 

عبدالقیوم

مشہور رکن
شمولیت
اگست 25، 2013
پیغامات
825
ری ایکشن اسکور
433
پوائنٹ
142
ماشاء اللہ بہن اچھی تحریر ہے سوئے ہوئے کوجگادیا ۔ اللہ آپ کے علم وعمل میں اضافہ کرے آمین
آصف صاحب بات اسٹیٹس اور جھجک کی ہے اس کے علاوہ احساس کمتری ہے
 
Top