• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسلک دیوبند کا دعا میں انبیاء و اولیاء کا وسیلہ بنانے کا باطل عقیدہ

شمولیت
اگست 16، 2017
پیغامات
112
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
55
انصاران خلافت اسلامیہ کا دیوبندی حضرات کے نام پیغام

منجانب: ٹیم منبر الجہاد و احوال امت
(انصار خلافت اسلامیہ ولایت خراسان)
مسلک دیوبند کا دعا میں انبیاء و اولیاء کا وسیلہ بنانے کا باطل عقیدہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ائمہ اہلسنت کے اجماع کے مطابق انبیاء و اولیاء کا دعا میں وسیلہ بنانا جائز نہیں۔ جبکہ دیوبندیوں کے نزدیک یہ جائزہے۔ دیوبندیوں کی عقیدہ کی کتاب 'المہند على المفند' میں مذکور ہے:

"دعاء میں انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کا وسیلہ جائز ہے، انکی حیات میں بھی اور وفات کے بعد بھی، مثلا یوں کہے کہ یا اللہ! میں بوسیلہ فلاں بزرگ دعاء کی قبولیت اور حاجت برآری چاہتا ہوں۔"
[المہند علی المفند، ص: ۳۲]

تمام محدثین اور ائمہ و فقہاء کے نزدیک اس چیز پر اجماع ہے کہ مخلوق میں سے کسی کا بھی وسیلہ بنانا جائز نہیں۔ دیوبندی متاخرین سلف اور ائمہ سے منسوب ضعیف روایات سے مردے سے وسیلہ ثابت کرتے ہیں لیکن ائمہ اہلسنت کے وسیلہ کے رد میں صحیح اقوال کو چھوڑ دیتے ہیں۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"کوئی مخلوق کا واسطہ دے کر اللہ سے نہ مانگے اور نہ ہی کسی کو یہ کہنا چاہیے کہ میں تیرے انبیاء کرام کے حق کی بنا پر تجھ سے سوال کرتا ہوں۔"
[کتاب الوسیلہ:۱۳۳]

نیز امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ نے فرمایا:
"کسی کیلئے درست نہیں کہ وہ اللہ سے دعا کرے مگر اسی کے واسطے سے، اور جس دعا کی اجازت ہے اور جس دعا کا حکم ہے وہ وہی ہے جو اللہ تعالی کے اس قول سے ظاہر ہے، (وللہ الاسماء الحسنی فادعوہ بھا.... اور اللہ کے سب نام اچھے ہی ہیں، تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں الحاد اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے۔)"
(الدر المختار مع حاشیہ رد المختار:۶/۳۹۶-۳۹۷)

شرح عقیدہ الطحاویہ میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے: "امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ نے کہا، مکروہ ہے کہ دعا کرنے والا یوں کہے کہ میں بحق فلاں، یا بحق انبیاء و رسل تیرے، یا بحق بیت حرام و مشعر حرام تجھ سے سوال کرتا ہوں۔" [شرح عقیدہ طحاویہ:۲۳۴]

امام قدوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"کسی مخلوق کا واسطہ دے کر اللہ تعالٰی سے کوئی سوال کرنا جائز نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی پر کسی مخلوق کا کوئی حق نہیں ہے۔"
[کتاب الوسیلہ: ۱۳۴]

البتہ اہلسنت کے نزدیک کسی زندہ نیک شخص سے دعا کروانا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کروانا صرف آپ کی زندگی میں تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ بنانا جائز نہیں۔ وسیلہ کی دلیل کسی بھی صحیح حدیث میں موجود نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دور عمر رضی اللہ عنہ میں قحط پڑا توحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو وسیلہ بنانے کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کروائی۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا ، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا ، قَالَ : فَيُسْقَوْنَ

جب کبھی عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قحط پڑتا تو عمر رضی اللہ عنہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے دعا کرتے اور فرماتے کہ اے اللہ! پہلے ہم تیرے پاس اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ لایا کرتے تھے۔ تو، تو پانی برساتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں تو، تو ہم پر پانی برسا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چنانچہ بارش خوب ہی برسی۔
[صحيح البخاري، کتاب الاستسقاء، باب سؤال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا، حدیث: ۱۰۱۰]

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"پس صحابہ کرام نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلہ (دعا) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ (دعا) کا بدل قرار دیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کوئی شرعی جواز باقی نہ رہا تھا کہ آپ کو وسیلہ بنایا جائے حالانکہ یہ عین ممکن تھا کہ وہ آپ کی قبر انور پر حاضری دیتے اور وہاں آپ کا وسیلہ تلاش کرتے اوراپنی دعا میں آپ کی حرمت وجاہ کی قسم دلاتے یا ایسے الفاظ ادا کرتے جس سے اللہ کو مخلوق کی قسم دلانا یا اس کے واسطہ سے اللہ تعالٰی سے سوال کرنے کا مفہوم پایا جاتا اور یوں دعا کرتے کہ: اے اللہ ہم تجھ سے اپنے نبی مکرم کے واسطہ سے مانگتے ہیں یا یوں کہتے کہ: اے اللہ ہم تجھے تیرے نبی کی قسم یاد دلاتے ہیں یا اس کے ہم معنی دوسرے الفاظ ادا کرتے جو اکثر جاہل لوگ ادا کرتے ہیں لیکن صحابہ کرام نے ایسا طرز عمل اختیار نہیں فرمایا۔"
[کتاب الوسیلہ: ۳۲۰]

عمومی طور پر دیوبندیوں کے نزدیک غیر اللہ کو براہ راست پکارنا جائز نہیں لیکن دیوبندیوں کے اکابرین میں غیر اللہ سے براہ راست استمداد، استغاثہ و فریاد کے اقوال بھی کثرت سے ملتے ہیں۔

زکریا تبلیغی دیوبندی لکھتا ہے:

''رسول خدا نگاہ کرم فرمائیے اے ختم المرسلین رحم فرمائیے، آپ یقینا رحمۃ للعالمین ہیں ہم حرماں نصیبوں اور ناکامان قسمت سے آپ کیسے تغافل فرما سکتے ہیں، عاجزوں کی دستگیری بے کسوں کی مدد فرمائیے اور مخلص عشاق کی دل جوئی اور دل داری کیجئے''
[فضائل درود، ص: ۱۲۸ وتبلیغی نصاب، ص: ۸۰٦]

نیز زکریا تبلیغی دیوبندی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھا:
''
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مخاطب ہوکر فرمایا: ''جب تیرے باپ پر مصیبت نازل ہوئی تو میں اس کی فریاد کو پہنچا اور میں ہر اس شخص کی فریاد کو پہنچتا ہوں جو مجھ پر کثرت سے درود بھیجے۔"
[تبلیغی نصاب، ص: ۷۹۱]

خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی لکھتا ہے:

"مشائخ کی روحانیت سے استفادہ اور انکے سینوں اور قبروں سے باطنی فیوض پہنچنا سو بیشک صحیح ہے، مگر اس طریق سے جو اس کے اہل اور خواص کو معلوم ہے، نہ کہ اس طرز سے جو عوام (بریلویہ) میں رائج ہے۔"
[المہند على المفند المعروف عقائد علمائے دیوبند، ص: ۵۸]

مناظر احسن گیلانی دیوبندی نے لکھا:

''ہم بزرگوں کی روحوں سے فریاد کرنے کے منکر نہیں ہیں۔''
[سوانح قاسمی]

محمد قاسم نانوتوی نے رسول الله صلى الله عليہ وسلم كو مخاطب ہوكر كها:

"مدد كر اے كرم احمد ہم كہ تيرے سوا نهيں ہے قاسم بیكس كا كوئی حامی كار"
[قصائد قاسمی، قصيده بهاره در نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ص: ۸، عقائد حقه ص:۴، از زاہد الحسينی]

قاسم نانوتوی صاحب اگر اكيلے كسی مزار (قبر) پر جاتے اور دوسرا كوئی شخص وہاں موجود نہ ہوتا، تو آواز سے عرض كرتے كہ "آپ میرے واسطے دعا کریں
"
[سوانح قاسمی، ج:۲، ص: ۲۹]

اشرف على تهانوى دیوبندی كا ایک اور عقيده اسکی كتاب "امداد المشتاق" ميں ملاحظہ فرمائيں:

حضرت نے تشفى دى اور فرمايا كہ فقير مرتا نهيں ہے صرف ایک مكان سے دوسرے مكان ميں انتقال كرتا ہے فقير كى قبر سے وہى فائده حاصل ہوگا جو زندگى ظاہرى ميں ميرى ذات سے ہوتا تها۔ فرمايا حضرت صاحب نے كہ ميں نے حضرت كى قبر مقدس سے وہى فائده اٹهايا جو حالت حيات ميں اٹهايا تها۔"
[امداد المشتاق]

اشرف علی تهانوی نے ایک شخص كا قصہ بيان كيا كہ وه پير كے مرنے كے بعد اسكی قبر پر گيا اور كہا: "حضرت میں بہت پريشان اور روٹیوں كا محتاج ہوں کچھ دستگیری فرمائیے پھر اسے قبر سے روز آنہ دو آنے يا آدھا آنہ ملا كرتا تها
"
تهانوي نے كہا کہ "يہ منجملہ كرامات كے ہے
"
[امداد المشتاق ص: ۱۱۷، فقره: ۲۹۰ دوسرا نسخہ، ص: ۱۲۳]

تهانوی نے رسول الله صلى الله عليہ وسلم كو پكارتے ہوئے كہا: "دستگيری كيجئے ميرے نبی كشمكش ميں تم ہی ہو ميرے نبی
"
[نشر الطيب، ص: ۱۹۴]

امد اللہ مہاجر مکی دیوبندی نے اشعار لکھے: "یا رسول کبریا، فریاد ہے، یا محمد مصطفی فریاد ہے آپ کی امداد ہو، میرا حال ابتر ہوا، فریاد ہے سخت مشکل میں پھنسا ہوں آج کل اے میرے مشکل کشا فریاد ہے
"
[کلیات امدادیہ، ص: ۹۰-۹۱]

نیز حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کہتا ہے: "دور کر دل سے حجاب جہل وغفلت میرے رب، کھول دے دل میں در علم حقیقت میرے اب، ہادی عالم علی مشکل کشا کے واسطے۔
"
[کلیات امدادیہ، ص:۱۰۳]

حاجی امداد اللہ اپنے پير نور محمد کے بارے ميں کہتا ہے: "آسرا دنيا ميں ہے از بس تمہاری ذات کا، تم سوا اوروں سے ہرگز نہيں ہے التجا، بلکہ دن محشر کے بھی جس وقت قاضی ہو خدا، آپ کا دامن پکڑ کر يہ کہوں گا برملا، اے شہ نور محمد وقت ہے امداد کا
"
[شمائم امداديہ، ص: ۸۳-۸۴، امداد المشتاق، فقرہ: ۲۸۸]؛ کشا فرياد ہے [کليات امداديہ، ص: ۹۰-۹۱]

محمد يوسف لدھيانوی دیوبندی امداد اللہ مہاجر مکی کے ان اشعار پر رقم طراز ہیں: يہی عقيدہ بريلويوں کا ہے ليکن ديوبندی اور بريلوی اختلاف کی کوئی بنياد ميرے علم ميں نہيں ہے۔ [اختلاف امت اور صراط مستقيم، ج ۱، ص: ۳۸]
 
Top