ہدایت اللہ فارس
رکن
- شمولیت
- فروری 21، 2019
- پیغامات
- 53
- ری ایکشن اسکور
- 11
- پوائنٹ
- 56
مصدر کبھی کبھی فعل متعدی جیسا عمل کرتا ہے پھر اس کے لیے فاعل اور مفعول بہ بھی ہوتے ہیں جیسے آیت کریمہ : یَـٰقَوۡمِ إِنَّكُمۡ ظَلَمۡتُمۡ أَنفُسَكُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلۡعِجۡلَ....
" إتخاذ " مصدر یہ مضاف ہے اپنے فاعل کی طرف اور وہ ہے " کُم" ، اور " العجل " مفعول بہ ہے۔
اسی طرح سے کبھی کبھی افعال لازمہ کی طرح مصدر کا استعمال ہوتا ہے جیسے : وَمَا كَیۡدُ فِرۡعَوۡنَ إِلَّا فِی تَبَابࣲ۔
" كيد " مصدر ہے اور یہ مضاف ہے اپنے فاعل " فرعون " کی طرف۔
دوسری مثال جیسے ہمارا کہنا " يعجبني إجتهاد خالد " إجتهاد " مصدر یہ مضاف ہے اپنے فاعل " خالد " کی طرف۔
اس کے فاعل کو حذف کرنا جائز ہوتا ہے اس کے ضمیر کا احتمال کیے بغیر۔ جیسے ہمارا یہ کہنا : سرّني تكريم العاملين.. " تكريم " مصدر ہے اور یہ مضاف ہے اپنے مفعول " العاملین " کی طرف، اور فاعل جوازا محذوف ہے أي : تكريمكم یا تكريم الناس يا اسی جیسا۔۔۔
لیکن "فعل " میں ایسا جائز نہیں۔ کیوں کہ اس کا فاعل اگر ظاہر نہ ہو تو ضمیر پوشیدہ ہوتا ہے۔
اسی طرح سے "مصدر " کے مفعول کو حذف کرنا بھی جائز ہے جیسے آیت کریمہ: وَمَا كَانَ ٱسۡتِغۡفَارُ إِبۡرَ ٰهِیمَ لِأَبِیهِ....
"إسغفار " مصدر یہ مضاف ہے اپنے فاعل ابراہیم علیہ السلام کی طرف، اور مفعول محذوف ہے أي : إستغفار إبراهيم ربه لأبيه...
یاد رہے اگر مصدر کی صفت لانی ہو تو اس کے عمل میں یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ اس کا عمل مکمل ہونے سے پہلے اس کی صفت نہ لائی جائے یعنی اگر کہیں " سرّني إكرامك العظيمُ خالداً " يا کہیں " أعجبني استقبالك الطيبُ خالدا " تو یہ درست نہ ہوگا بلکہ صفت کو مؤخر لانا ہوگا
ایسے سرّني إكرامك خالداً العظيمُ.. وأعجبني استقبالك خالداً الطيبُ...
ہدایت اللہ فارس
" إتخاذ " مصدر یہ مضاف ہے اپنے فاعل کی طرف اور وہ ہے " کُم" ، اور " العجل " مفعول بہ ہے۔
اسی طرح سے کبھی کبھی افعال لازمہ کی طرح مصدر کا استعمال ہوتا ہے جیسے : وَمَا كَیۡدُ فِرۡعَوۡنَ إِلَّا فِی تَبَابࣲ۔
" كيد " مصدر ہے اور یہ مضاف ہے اپنے فاعل " فرعون " کی طرف۔
دوسری مثال جیسے ہمارا کہنا " يعجبني إجتهاد خالد " إجتهاد " مصدر یہ مضاف ہے اپنے فاعل " خالد " کی طرف۔
اس کے فاعل کو حذف کرنا جائز ہوتا ہے اس کے ضمیر کا احتمال کیے بغیر۔ جیسے ہمارا یہ کہنا : سرّني تكريم العاملين.. " تكريم " مصدر ہے اور یہ مضاف ہے اپنے مفعول " العاملین " کی طرف، اور فاعل جوازا محذوف ہے أي : تكريمكم یا تكريم الناس يا اسی جیسا۔۔۔
لیکن "فعل " میں ایسا جائز نہیں۔ کیوں کہ اس کا فاعل اگر ظاہر نہ ہو تو ضمیر پوشیدہ ہوتا ہے۔
اسی طرح سے "مصدر " کے مفعول کو حذف کرنا بھی جائز ہے جیسے آیت کریمہ: وَمَا كَانَ ٱسۡتِغۡفَارُ إِبۡرَ ٰهِیمَ لِأَبِیهِ....
"إسغفار " مصدر یہ مضاف ہے اپنے فاعل ابراہیم علیہ السلام کی طرف، اور مفعول محذوف ہے أي : إستغفار إبراهيم ربه لأبيه...
یاد رہے اگر مصدر کی صفت لانی ہو تو اس کے عمل میں یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ اس کا عمل مکمل ہونے سے پہلے اس کی صفت نہ لائی جائے یعنی اگر کہیں " سرّني إكرامك العظيمُ خالداً " يا کہیں " أعجبني استقبالك الطيبُ خالدا " تو یہ درست نہ ہوگا بلکہ صفت کو مؤخر لانا ہوگا
ایسے سرّني إكرامك خالداً العظيمُ.. وأعجبني استقبالك خالداً الطيبُ...
ہدایت اللہ فارس