• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مظاہرے اور بائیکاٹ مہم اسرائیل کے خلاف مؤثر جدوجہد ہے یا صرف مردہ ضمیر کی تسلیاں؟

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
825
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
مظاہرے اور بائیکاٹ مہم اسرائیل کے خلاف مؤثر جدوجہد ہے یا صرف مردہ ضمیر کی تسلیاں؟

از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ

یہ بات یاد رکھو کہ مظاہرے، بائیکاٹ مہم، نعرے بازی، جلسے جلوس آپ کی ترجیحات کو موڑنے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جو کہ آج سے ڈیڑھ سو سال قبل یہود نے اپنے پروٹوکول میں واضح کیا تھا کہ جب عوام ہماری عالمی بادشاہت کے خلاف غصے سے بھر جائے گی تو ہم ان کا غصہ نکالنے کے لیے ان کو متبادل راستے مہیا کریں گے۔

اور یہ بات دل سے لگا لو کہ ان مظاہروں سے، اس بائیکاٹ مہم سے اسرائیل کا ایک بال بھی بیکا نہیں ہوسکتا۔

بائیکاٹ مہم اس لیے غیر مؤثر ہے کہ اسرائیل ہرگز ان کمپنیوں کے بل بوتے پر قائم نہیں ہے، نہ ہی وہ پیپسی یا کوکا کولا یا میکڈونلڈ کے چندوں سے چلتا ہے بلکہ اس کی معیشت کے پیچھے امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ممالک ہیں، کیونکہ جب تک ڈالر میں کاروبار ہوتا رہے گا، امریکی معیشت مضبوط رہے گی، اور جب تک امریکی معیشت مضبوط رہے گی، اسرائیل کی معیشت بھی مضبوط رہے گی۔

اور اگر بالفرض آپ نے اسرائیلی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرکے اسرائیل کو کمزور کرنا ہے تو اسرائیل کو تو امریکہ سے امداد آتی ہے، برطانیہ سے آتی ہے، جرمنی، فرانس، نیدرلینڈ، سویڈن، ناروے، سپین، اٹلی جیسی مضبوط معیشتیں بھی اس کے پیچھے ہیں۔ پھر ان سب کی اشیاء کا بھی بائیکاٹ کرنا پڑے گا، اور اگر آپ ان سب کا بائیکاٹ کر بھی دیں، تو بھی ان ممالک کی معیشت ان کمپنیوں کے بل بوتے پر نہیں کھڑی، بلکہ دیگر امور پر کھڑی ہیں۔ اس لیے خاطر جمع رکھو کہ اسرائیل کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا کہ آپ مردان یا گوجرانوالہ میں پیپسی کے بجائے گورمے پی رہے ہو۔

جلسے جلوس اور مظاہرے اس لیے فضولیات میں سے ہیں کہ اسرائیل کون سا آپ کی آواز سنتا ہے؟ یا کون سا اسرائیل کے شہری آپ کے مظاہرے دیکھ کر اپنی حکومت کو جنگ بندی پر مجبور کریں گے؟ مظاہرے تو وہاں کچھ مؤثر ہو بھی سکتے ہیں، جہاں براہ راست مظاہرین سے حکومتی امور میں خلل آئے، جیسے پاکستانی حکومت کے خلاف اسلام آباد میں مظاہرہ کرنا، یا امریکہ کے خلاف وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرے کرنا۔ لیکن اسرائیل کے خلاف کراچی یا اسلام آباد، کابل، تہران یا ترکی میں مظاہرے کرنا ایسا ہے جیسے ایک میدان میں جنگ ہو رہی ہو اور آپ اس سے 100 کلومیٹر دور کسی پہاڑی کے پیچھے بیٹھ کر اپنا سینہ پیٹ رہے ہوں۔

بھئی! اسرائیل کو اس سے کیا لینا دینا کہ تم نے کراچی میں کتنے لاکھ کا مظاہرہ کیا یا اسلام آباد میں کتنے نعرے لگائے؟
اب تک دنیا بھر میں دو سالوں میں کتنے کروڑوں انسانوں نے نکل کر کتنے لاکھ نعرے لگائے، تو اس کو کوئی فرق پڑا ہے؟

یمنی دو سال سے ہر جمعے کی نماز کے بعد 10 لاکھ نکلتے ہیں مظاہرہ کرنے، لیکن اسرائیل کو ان کے مظاہروں سے کچھ فرق پڑا؟؟ البتہ اسی یمن سے داغے جانے والے صرف 9 فٹ کے میزائل سے اس کو ضرور فرق پڑتا ہے۔

نعرے بازی اور جلسے، تقریریں اس لیے فضول ہیں کہ جیسے میں نے پہلے کہا کہ اگر میں تمھارے گھر پر قابض ہوں تو تم روز میرے گھر کے سامنے نعرے لگایا کرو، مجھے کیا پروا ہے؟
اگر کوئی اسلام آباد، کراچی، لاہور، کابل، استنبول میں جلسے میں بھڑکیں مارتا ہے، مکے لہراتا ہے، اسرائیل نامنظور چیختا ہے، تو اس سے اسرائیل کا کیا لینا دینا؟ اس کو تو پتہ بھی نہیں کہ اس وقت کوئی احمق کسی دور دراز ملک میں مکے لہرا کر میرے خلاف منہ سے جھاگ نکال رہا ہے۔

سو یاد رکھو، بھیڑیا بکریوں کا منمنانا نہیں سمجھتا، وہ صرف شیر کے خونی پنجے کا احترام کرتا ہے۔
فضول میں اپنا غصہ اور انرجی ان نعرے بازی یا مظاہروں کی فضولیات میں ضائع نہ کرو، اگر کچھ کر نہیں سکتے تو اپنا غصہ اور انرجی بچا کر رکھو، کیا پتہ کسی دن کام آئے۔

وما علینا إلا البلاغ
 
Top