• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

معاشرے کے دریدہ دہن وشکم پرورعلماء اسلام

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
20
معاشرے کے دریدہ دہن وشکم پرورعلماء اسلام​

حامداومصلیااما بعد:

مولانا ابوالکلام آزاد ؒ پر اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو ،وہ سماج ومعاشرے کے بڑے نبض شناس تھے ذرامندرجہ ذیل میں ان کی تحریروں کو پڑھیں اور غورکریں کہ موجودہ دور میں مدارس ومساجد ،جماعت وجمعیت کےاندر عہدے ومناصب کے لیے جو زورآزمائی و پنجہ آزمائی اور ایک دوسرے کے خلاف جو ہرزہ سرائی کی جارہی ہےاس کی انہوں نے کیسی تصویرکشی کی ہے۔

برصغیرہندوپاک کے بعض دنیاپرست اور شکم پرورعلماء نے مسجد کے منبرومحراب ،قرآن وحدیث کو کھلوناسمجھ رکھا ہے۔۔۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس قوتِ تحریرہے نہ قوتِ تقریر،نہ بات کرنے کا ڈھنگ اور طریقہ،اور ان کی دینی خدمات کا حال یہ ہے کہ قوم میں ان کا کوئی وقارہے نہ مقام۔۔۔۔

ہواہے شرکا مصاحب پھرے ہے اتراتا

وگرنہ شہرمیں غالب کی آبروکیا ہے​

یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے حصول دین کو تمام ترحصولِ معاش بنارکھا ہے،جن کی زندگی ریاونمود سے پرہے،اوراپنی تمام ترکوشش اپنی جیبیں بھرنے میں لگی ہوئی ہیں،جنہوں نے قوم کی فائدے کے لیے کوئی قدم ہی نہیں اٹھایااور اگرکبھی اٹھے بھی تو مادی فوائد ومنافع پیش پیش رہے۔۔۔۔۔

برصغیرہندوپاک میں کچھ ایسے اشخاص وافراد پائے جاتے ہیں جنہوں نے دوسروں پر بے جاتنقیدکرنااپنامحبوب مشغلہ بنارکھاہے، دوسروں پرالزامات واتہامات لگاکرخوشی محسوس کرتے ہیں،دوسروں پرکیچڑاچھالنااور ان کے پوشیدہ عیبوں کو تلاش کرناپھران کو برسرِبازارنیلام کرنااپناعظیم الشان کارنامہ گردانتے ہیں،یہ ان کے نفوس کا خبث ہے کہ اس کے بغیران کو چین نہیں مل سکتا ہے، ایسے لوگوں کے ظرف کے متعلق کس قسم کی رائے قائم کی جائے جب کہ بزعم خویش وہ تقوی وطہارت کے دعویداربھی ہوں،داعیٔ اسلام اور مبلغ دینِ حنیف جیسے مقدس ناموں سے یادبھی کیے جاتے ہوں،حالانکہ ایسے ہی لوگوں نے منبرومحراب اور مساجد ومدارس کے تقدس کو پامال کررکھاہے،جن کے پاس نہ دعوت وتبلیغ کا اسلوب ہےنہ گفتگوکا انداز،جن کے علم میں گہرائی ہے نہ فکرمیں بلندی،جہ جن کو اپنی زبانوں کی طہارت کا خیال ہے نہ اپنے دماغوں کی کجی کا احساس،نہ اللہ کا خوف نہ رسول اللہ ﷺکے ارشادات اور فرمودات کا پاس ولحاظ،دوسروں پران کی زبانیں اتنی تیزی سے چلتی ہیں جتنی تیزی سے گردنِ کفرو شرک پرتلواریں نہیں چل سکتی ہیں دوسرے لفظوں میں ہم ان کو دنیاپرست ،پیٹ پرست علماءسو ہی کہہ سکتے ہیں،ایسے ہی لوگوں کے متعلق امام الھندمولاناابوالکلام آزادؒ نے لکھاتھا:-

سانپ اوربچھوایک سوراخ میں جمع ہوجائیں گے،لیکن علماء دنیاپرست کبھی ایک جااکٹھے نہیں ہوسکتے،کتوں کا مجمع ویسے تو خاموش رہتاہے،لیکن ادھرقصائی نے ہڈی پھینکی اورادھران کے پنجے تیزاوردانت زہرآلود ہوگئے،یہی حال ان سگانِ دنیاکا ہے،ساری باتوں میں متفق ہوجاسکتے ہیں لیکن دنیاکی ہڈی جہاں سڑرہی ہووہاں پہنچ کراپنے پنجوں اوردانتوں پرقابونہیں رکھ سکتے۔

ان کا سرمایۂ ناز علم حق نہیں ہے جو تفرقہ مٹاتااور اتباع سبل متفرقہ کی جگہ ایک ہی صراط مستقیم پرچلاتاہے،بلکہ یکسرعلم جدل وخلاف ہے،نفس پرستی اس کی کثافت(نجاست،گندگی) کو خمیر(فطرت،مزاج)دیتی ہے،اوردنیاطلبی کی آگ اس کی ناپاکی کے بخارات کو اورزیادہ تیزکرتی رہتی ہے،فساق وفجارخرافات میں بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کی تندرستی کو جامِ صحت پیتے ہیں اور چوراور ڈاکومل جل کر رہزنی کرتے ہیں ،مگریہ گروہ اللہ کی مسجد اور زہدوعبادت کے صومعہ وخانقاہ میں بیٹھ کر بھی متحدویک دل نہیں ہوسکتا،اورہمیشہ ایک دوسرے کو درندوں کی طرح چیرتاپھاڑتااورپنجہ مارتارہتاہے، میکدوں میں محبت کے ترانے اور پیاراورالفت کی باتیں سننے میں آجاتی ہیں مگر عین محراب ِمسجد کے نیچے پیشوائی وامامت کے لیے ان میں سے ہرہاتھ دوسرے کی گردن پربڑھتااورخونخواری کی ہرآنکھ دوسرے بھائی کے خون پرلگی ہوتی ہے، حضرت مسیح علیہ الصلاۃ والسلام نے احباریہود سے فرمایاتھا’’تم نے داؤد کے گھر کو ڈاکؤوں کا بھٹ بنادیاہے‘‘ ڈاکؤوں کے بھٹ کا حال تو نہیں معلوم لیکن ہم نے مسجد کے صحن میں بھیڑیوں کو ایک دوسرے پر غراتےاور خون آشام دانت مارتے دیکھا ہے۔(تذکرۃ:ص104-105)
 
Top