ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 873
- ری ایکشن اسکور
- 229
- پوائنٹ
- 111
ملتِ اسلامیہ سے اخراج کا شرعی معیار شیخ صالح الفوزان کی زبانی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں:
إِذَا فَعَلَ شَيْئاً مِنْ ذَلِكَ ، يَعْنِي صَلَّى لِغَيْرِ اللَّهِ ، أَوْ ذَبَحَ لِغَيْرِ ، أَوْ عَمِلَ عِبَادَةً لِغَيْرِ اللهِ ، وَجَبَ عَلَيْكَ أَنْ تُخْرِجَهُ مِنَ المِلَّةِ ، وَوَجَبَ عَلَيْكَ أَنْ تَعْتَقِدَ أَنَّهُ كَافِرٌ ، وَلا تَقُلْ : لا يُهِمَّنِي هَذَا ، أَوْ لَا أَدْرِي عَنْهُ ، بَلْ يَجبُ عَلَيْكَ أَنْ تُكَفِّرَ الكَافِرَ وَالْمُشْرِكَ ، وَأَنْ تُفَسِّقَ العَاصِي مُرْتَكِبَ الكَبِيرَةِ الَّتِي دُونَ الشِّرْكِ ، لابدَّ مِنْ بَيَانِ الْحَقِّ فِي هَذَا الْأَمْرِ.
اگر کوئی ان کاموں میں سے کوئی کام کرے، یعنی اللہ کے سوا کسی کے لیے نماز پڑھے، یا اللہ کے سوا کسی کے لیے قربانی کرے، یا اللہ کے سوا کسی اور کے لیے عبادت کا عمل انجام دے، تو تم پر واجب ہے کہ اسے ملتِ اسلامیہ سے خارج کرو، اور تم پر واجب ہے کہ تم یہ عقیدہ رکھو کہ وہ کافر ہے اور یہ نہ کہو کہ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں یا میں نہیں جانتا اس بارے میں، بلکہ تم پر واجب ہے کہ تم کافر و مشرک کی تکفیر کرو، اور تم فاسق قرار دو ہر اس گناہ گار کو جو ایسا گناہ کرتا ہے جو کہ شرک سے کم درجے کا ہے۔ اس معاملے میں حق کو واضح کرنا ضروری ہے۔
[إتحاف القاري بالتعليقات على شرح السنة للبربهاري للشيخ صالح الفوزان، ص : ٢٢٠]
جو کوئی نماز جیسی عبادات غیر اللہ کے لئےانجام دے مثلا قومی ترانہ کے احترام میں کھڑا ہو، رفع الید کر وطنی پرچم کو سلامی دے، یا غیر اللہ کے لیے ذبح کرے یا کوئی بھی عبادت کا فعل غیر اللہ کے لیے انجام دے تو "وجب عليك ان تخرجه من الملة" تم پر واجب ہے کہ اسے ملت اسلامیہ سے خارج قرار دو۔ پس شرک اکبر کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہے کافر و مرتد ہے۔
اس شخص کو شرک اکبر میں جہالت و لاعلمی جیسے باطل عذر نہیں دئے جائیں گے بلکہ "وجب عليك ان تعتقد انه كافر" تمہارے لیے یہ عقیدہ رکھنا بھی واجب ہوگا کہ وہ کافر ہے۔
اور یہ نہ کہنا "لا يهمني هذا، او لا ادري عنه" کہ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں یا میں نہیں جانتا یہ اُس کا معاملہ ہے، مجھے کیا! کیونکہ حق کا اعلان کرنا واجب ہے، اور باطل کو واضح کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔ جو حق بات چھپائے، جو کفر کو دیکھے اور زبان بند رکھے وہ بھی اصل میں کافروں کے ہمدرد، کفر کے خادم، اور دین کے دشمن ہیں۔
"بل يجب عليك أن تكفر الكافر والمشرك، وأن تفسق العاصي..." تم پر لازم ہے کہ کافر و مشرک کی تکفیر کرو، اور جو کبیرہ گناہ کرے اسے فاسق سمجھو۔ کافر کو کافر، مشرک کو مشرک، اور فاسق کو فاسق کہو۔ جو لوگ کافروں کو کافر نہیں کہتے، ان سے دوستی کرتے ہیں، یا شرک کو معمولی چیز سمجھتے ہیں، وہ ایک بڑے فتنہ میں مبتلا ہیں۔
"لابد من بيان الحق في هذا الأمر" دین کے اس اہم مسئلے میں حق کو چھپانا جائز نہیں بلکہ حق کو واضح کرنا ضروری ہے۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ دین کی بنیادی تعلیمات جیسے توحید، شرک، اور کفر کے مسائل کو سمجھیں کہ توحید کی حفاظت فرض ہے، شرک اکبر کا مرتکب کافر ہے؛ چاہے وہ کلمہ گو ہو، واضح شرک میں کوئی عذر نہیں، کبیرہ گناہ، شرک سے کم ہے، اس پر فسق کا حکم لگتا ہے، دین میں لاپرواہی، مداہنت جائز نہیں۔