• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ملحدین کے 100 اعتراضات کے جوابات (تفصیلی)

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,451
پوائنٹ
306
کیا آدم علیہ سلام چھ ہزار سال پہلے اس دنیا میں تشریف لاۓ؟؟؟

10.jpg

دانیال تیموری کی ایک تحریر پڑھنے کا موقع ملا جس میں جھوٹ، مکر اور فریب کے حد درجہ استعمال سے یہ باور کروانے کی کوشش کی گئ کہ اسلام کے مطابق حضرت آدم علیہ سلام چھ ہزار سال پہلے آۓ جبکہ دو لاکھ سال پرانے انسانی فوسلز موجود ہیں۔ مگر اسلام نے تو یہ کہا ہی نہیں کہ آدم علیہ سلام چھ ہزار سال پہلے آۓ بلکہ یہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے ۔ شریعت اسلامیہ ...نے اس فترہ کی کوئ تحدید نہیں کی کہ آدم اورمحمد علیہما السلام کے درمیان کتنا رقفہ تھا بلکہ یہ بھی پتہ نہیں کہ آدم علیہ السلام کتنی مدت زندہ رہے اوران کی عمر کتنی تھی ۔
لیکن بعض احادیث اورمختلف اثار کرجمع کرنے سے مدت کے اندازے تک پہنچا جا سکتا ہے لیکن یہ مکمل مدت نہیں بلکہ اس سےکچھ مدت کا اندازہ لگ سکتا ہے ، پھریہ احادیث اوراثار کچھ توصحیح ہیں اور کچھ میں اختلاف ہے ، اور کچھ مدت بچتی ہے جس کی تحدید کے بارہ میں کوئ اثاروارد نہیں ۔ مندرجہ بالا تحریر میں ان آثار کو جمع کر کے حتمی نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ پہلے تو یہ ثابت کیا جاۓ کہ اسلام نے آدم علیہ سلام سے نبی ﷺ تک کی مدت چھ ہزار سال بتائ ہے پھر اس کو جھوٹا ثابت کرنے کے کیے فوسل ریکارڈ کی طرف آیا جاۓ۔
اس طرح کے اعتراضات کو " سٹرامین آرگیومنٹ" کہا جاتا ہے کہ پہلے اگلے بندے پر الزام لگاؤ ، اس کی طرف غلط چیز منسوب کرو پھر اس غلط چیز کو دلائل سے رد کر دو۔ اس طرح اگلا بندہ جھوٹا پڑ جاۓ۔ جب اسلام یہ کہتا ہی نہیں کہ آدم علیہ سلام چھ ہزار سال پہلے تھے تو پھر اس کا رد چہ معنی دارد۔
:)
تحریر میں جب صحیح دلائل کا زکر کیا گیا۔

1 - نوح علیہ السلام کی تبلیغ کے متعلق اللہ تعالی کا فرمان کہ انہوں نے کتنی مدت تبلیغ کی ۔

اس کے بارہ میں اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ تووہ ان میں ہزار سے پچاس برس کم ٹھرے } یعنی ساڑھے نوسوبرس ۔
یہ صرف تبلیغ کی مدت ہے نہ کہ ان کی مجموعی عمر۔

2 - عیسی اورہمارے نبی محمد علیہما السلام کے درمیان مدت کے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ الباری نے صحیح بخاری میں سلمان فارسی رضي اللہ تعالی عنہ سے روایت بیان کی ہے وہ کہتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان چھ سوبرس کی مدت ہے ۔
اس کے علاوہ ہمارے پاس صحيح دلائل موجود نہیں۔
جس مدت کے بارہ میں ایسی احادیث وارد ہيں جن کے صحیح ہونے میں اختلاف ہے :

3 - آدم اورنوح علیہم السلام کے درمیان مدت :

ابوامامہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ توانہوں نے جواب دیا جی ہاں وہ نبی مکلم تھے ، وہ شخص کہنے لگا ان کے اورنوح علیہما السلام کے درمیان کتنی مدت کا وقفہ تھا ؟ توانہوں نے فرمایا دس صدیاں ۔

اسے ابن حبان نے صحیح ابن حبان ( 14 / 69 ) اورامام حاکم نے مستدرک حاکم ( 2 / 262 ) میں روایت کیا ہے اورامام حاکم نے اسے صحیح اورمسلم کی شرط پرکہا ہے ، اور امام ذھبی نے بھی اس کی موافقت کی ہے ، اورابن کثیررحمہ اللہ تعالی نے البدايۃ والنھايۃ ( 1 / 94 ) میں کہا ہے کہ یہ مسلم کی شرط پرہے اورانہوں نے روایت نہیں کیا ۔

4 - نوح اورابراھیم علیہما السلام کی درمیانی مدت :

اس کی دلیل ابوامامۃ ہی کی حدیث ہے جس میں ہے کہ اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ نوح اورابراھیم علیہما السلام کے درمیان کتنی مدت کا وقفہ تھا ؟ تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہزاربرس ۔

اسے امام حاکم رحمہ اللہ تعالی نے مستدرک ( 2 / 288 ) میں نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ مسلم کی شرط پرہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا ، اورامام طبرانی نے معجم الکبیر( 8 / 118 ) میں روایت کیا ہے ، اس حدیث کے بعض راویوں پرضعیف ہونے کے بارہ میں کلام کی گئ ہے اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے شواھد کی بنا پراسے صحیح قرار دیا ہے ۔

اوروہ جس میں بعض اثار وارد ہوۓ ہیں :

5 - موسی اورعیسی علیہما السلام کی درمیانی مدت کا وقفہ :

امام قرطبی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ : اس مدت میں اختلاف ہے ، محمد بن سعد نے اپنی کتاب " الطبقات " میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے نقل کیا ہے کہ موسی بن عمران اورعیسی بن مریم علیہما السلام کےدرمیان ایک ہزار سات سوسال کی مدت ہے لیکن ان کے درمیان کوئ وقفہ نہیں بلکہ ان دونوں کی درمیانی مدت میں بنی اسرائیل میں ایک ہزار نبی بھیجے گۓ یہ ان کے علاوہ ہیں ہیں جودوسروں میں بھیجے گۓ ، اورعیسی اورنبی علیہما السلام کی پیدائش کےدرمیان پانچ سوننانوے بر س کی مدت ہے ۔ تفسری قرطبی (6/121) ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : اہل نقل کا اس پراتفاق ہے کہ یھودیوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی درمیانی مدت دوہزاربرس سے بھی زیادہ تھی اورنصاری کی مدت اس سے چھ سوبرس ۔ فتح الباری ( 4 / 449 )۔

تومندرجہ بالاآیات واحادیث اوراثار واقوال کودیکھتے ہوۓ جو صحیح ہواسے ہم معین مدت کی تحدید میں قبول کریں گے ۔
لیکن آدم اورمحمد علیھما السلام کی درمیانی مدت کی اجمالی طوپر تحدید بالجزم اور یقینی طور پرکرنا وہ اس میں اضافہ ہوگا جوکچھ اوپربیان ہوچکا ہے وہ کچھ امور پر موقوف ہے جس میں کچھ یہ ہیں :

- قرن کی تحدیدمیں علماء کرام کا اختلاف کہ آیا وہ سوبرس ہوتے ہیں کہ کہ ایک نسل پرمحیط ہے ، اگر تویہ صحیح ہوکہ اس سے مراد نسل ہے تواس وقت کے لوگوں کی عمرسے یہ ثابت ہے کہ یہ قرن نوح علیہ السلام کی عمرکا ایک جزء ہے جوکہ انہوں نے دعوت الی اللہ میں بسرکی اورہمیں اس کا توعلم نہیں کہ اس نسل کی متوسط عمریں کتنی ہوتی تھیں ۔

- ابراھیم اورموسی علیہما السلام کی درمیانی مدت کی سالوں مین تحدید کے متعلق کسی نص کا وارد نہ ہونا ۔
ارشاد ہے :

{ اورعادیوں اورثمودیوں اورکنویں والوں کواوران کے درمیان کی بہت سی امتوں کو( ہلاک کردیا) } الفرقان ( 38 ) ۔

موصوف نے عیسائیوں اور یہودیوں کے عقیدے پر مسلمانوں کو ہی رگڑا لگا دیا ہے۔ جبکہ ہمیں یہ ماننے میں کوئ دشواری نہیں کہ انسان جدید تحقیق کے مطابق کتنے سال پرانا ہے۔
اس کے علاوہ فوسل ریکارڈ پر بھی بات ہو سکتی ہے مگر ضروری نہیں۔ واللہ اعلم
از بنیامین مہر
Beneyameen Mehar
لائک & شئیر
چھترول برائے دیسی لبرل و ملحدین
❤
#ارتقائی_مخلوق #ملحد_تو_جھوٹا_ہے

Poosg number 10.. #اعتراض #sawal #jawab See Mor
 

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,451
پوائنٹ
306
اعتراض:مسلمانوں کے نزدیک عورت ناقص العقل ہے۔


11.png

ایک صحیح حدیث کو لے کر سیکولرلبرل ملحدین کی طرف سے یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ اسلام میں عورت کو ناقص العقل و دین سمجھا جاتا ہے۔۔ پہلے حدیث اور پھر اسکی تشریح پیش کی جاتی ہے۔
حدیث:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحیٰ یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا ...: اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کرو ، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ، ایسا کیوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو ، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے ، میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔
عورتوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : کیا عورت کی گواہی ، مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا : جی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا : کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے ، نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟ عورتوں نے کہا : ایسا ہی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی اس کے دین کا نقصان ہے.
(صحيح بخاري ، كتاب الحیض ، باب : ترك الحائض الصوم ، حدیث : 305 )
تبصرہ :
اس حدیث کو سمجھنے میں بنیادی غلطی یہ کی جاتی ہے کہ اس میں ناقص سے اردو والا ناقص مراد لے لیا جاتا ہے جس کا مطلب نقص اور عیب دار ہونا ہے.. جبکہ یہاں عربی والا ناقص مراد ہے جس کا مطلب مقدار میں کم ہونا ہے ۔ دونوں کے مطالب میں فرق کیفیت اور کمیت (مقدار) کا ہے۔
یوں حدیث کے مطابق ناقصات الدین سے مراد یہ ہے کہ عورت کے بعض ایام ایسے آتے ہیں کہ جس میں وہ دین پر عمل نہیں کرسکتی، نماز اور روزے نہیں رکھتی اس طرح اس کے دینی عمل میں کمی رہ جاتی ہے۔
اسی طرح عقل کے ناقص کی وضاحت میں فرمایا کہ خدا نے دو عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کی گواہی کے برابر قرار دیا ہے ۔اس سے بھی کمیت مراد ہے نہ کہ کیفیت… کیونکہ دو آدھے ایک کامل صحیح کے برابر تو ہوسکتے ہیں لیکن دو آدھے عیب دار ایک صحیح کے مساوی نہیں ہوسکتے.۔!
عورت کی گواہی آدھی کے متعلق وضاحت پہلے ان تحاریر میں پیش کی جاچکی ہے۔
مزید عقل کی دو قسمیں ہیں: ۱:․․․عقل شرعی، ۲:․․․عقل عرفی۔عورتوں میں عقل عرفی بہت اعلی درجے کی ہے۔ شریعت نے عورتوں کے ناقصات العقل سے مراد عقل شرعی ہے، عقل عرفی عورتوں میں بہت زیادہ ہوتی ہے، خود حدیث میں اس کا ذکر ہے کہ یہ عورتیں ہوشیار مرد کو بھی بوتل میں اتارنے والیاں ہیں، گھر میں بھی اس کی حکومت چلتی ہے اور باہر بھی اس کی حکومت چلتی ہے۔ ۔۔عقل شرعی کی کمی ہوتی ہے، اور عقل شرعی کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نتائج کو نہ سوچے، جب آدمی نتیجے پر غور نہیں کرتا تو اسے نقصان ہوتا ہے، جیسے عورت یہ کہتی ہے کہ فلاں موقع آرہا ہے اور اس پر ہمیں اتنا خرچ کرنا ہے، ختنے میں اتنا خرچ کرنا ہے، شادی میں اتنا خرچ کرنا اور منگنی میں اتنا خرچ کرنا ہے، اور فلاں رسم اس طرح ہونا چاہئے، تو شوہر اور باپ کے مال کو انہی چیزوں میں اڑاتی ہیں، اس معنیٰ میں ان کو ناقصات العقل کہا گیا ہے کہ نتائج کو وہ نہیں سوچتیں۔

سیکولر لبرل اور ملحدین اس حدیث کو لے کر مذہبی لوگوں کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ وہ عورت کو ناقص العقل سمجھتے ہیں’ خود یہ ‘ایجوکیٹڈ’ سیکولر لبرل عورت کی کتنی قدر کرتی ھے اور انکی محافل میں عورت کو کیسے کیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے اور کیسی نظروں سے دیکھا بلکہ گھورا جاتا ہے یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ مذہبی لوگوں کے ہاں عورت کا تقدس ہے، اہمیت ہے اسکو اپنی عزت سمجھا جاتا ہے ، عورت کی نیلامی نہیں کی جاتی، بھرے ہالوں میں نچوا نچوا کے پامال نہیں کیا جاتا، یوں نوچ نوچ کھانے والی گدھ بن کر شب وروز تاڑا نہیں جاتا۔۔۔

روشن خیال لوگو! تمھارے سیاہ کرتوت کتنے بتا پاؤں گا۔ قطار در قطار لپکتے آرھے۔ پر قلم شرماگیا ہے۔ تم عورت کو ھر طرح عریاں کرنے سے نہ ھچکچائے ۔۔ یہ قلم عیاں کو مزید بیاں کرنے سے ڈگمگاگیا ہے۔

http://ilhaad.com/2015/10/aurat-naqis-hadith/ See More
 

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,451
پوائنٹ
306
اسلام مساوات نہیں عدل و انصاف کا دین ہے۔۔!!


12.png

مغربی و مشرقی مفکرین نے مساوات کی ایک غیر معقول اصطلاح متعارف کروائی ہے کہ انسانوں کے درمیان زندگی کے ہر شعبے ميں مساوات ہونى چاہيے پھر مخالفین اسلام نے اس اصول کو لے کر اسلام پر بھی اعتراضات کیے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا نظریہ مساوات كا نہیں بلکہ عدل و انصاف كا ہے۔.!!
مساوات كا تقاضا ہے كہ ہر انسان کو مابين ہر جگہ برابر ٹھہرایا جائے اس سے یہ مساوات بعض... جگہ ظلم بن جاتی ہے ۔ کئی لوگوں نے یہ نعرہ لگایا کہ مرد و عورت كے مابين كونسا فرق ہے ؟ انہوں نے مرد و عورت كو برابر كر ديا ہے، حتى كہ كيمونسٹ تو يہاں تك كہتے ہيں كہ حاكم اور محكوم كے مابين كونسا فرق ہے ؟ يہ ممكن ہى نہيں كہ كوئى ايك دوسرے پر تسلط رکھے اور حكمرانى كرے، حتى كہ والد اور بيٹا بھى، والد كو اپنے بيٹے پر بھى تسلط اور طاقت نہيں ہے، اسى طرح آگے بڑھے اور سماج کی ہر ترتیب کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ۔۔۔
دوسری طرف عدل كا معنى ہے كہ ہر مستحق كو اس كا حق دينا جس كا وہ مستحق ہے۔ اسى ليے قرآن مجيد ميں كبھى يہ لفظ نہيں آئے كہ اللہ تعالى تمہيں مساوات يعنى برابرى كرنے كا حكم ديتا ہے بلکہ :
{ اللہ تعالى تمہيں عدل و انصاف كا حكم ديا ہے } النحل ( 91 ).
{ اور جب تم لوگوں ميں كے درميان فيصلہ كرو تو عدل و انصاف كے ساتھ فيصلہ كرو }النساء ( 58 ).

اورقرآن مجيد ميں اكثر مساوات كى نفى کی گئی .
{ كہہ ديجئے كيا وہ لوگ جو جانتے ہيں اور جو لوگ نہيں جانتے برابر ہيں ؟}الزمر ( 9 ).
{ كہہ ديجئے كيا اندھا اور ديكھنے والا برابر ہو سكتے ہيں؟ يا كيا اندھيرے اور روشنى برابر ہو سكتے ہيں ؟}الرعد ( 16 ).
{ تم ميں سے جس نے فتح سے پہلے خرچ كيا اور جھاد كيا برابر نہيں، يہ ان لوگوں سے زيادہ درجے والے ہيں جنہوں نے اس كے بعد خرچ كيا اور جہاد كيا }الحديد ( 10 ).

مرد و عورت کا معاملہ بھی یہی ہے اسلام انکے مابين مساوات اور برابرى نہيں انصاف کرتا ہے ۔ اگر مساوات و برابرى كى جائے تو ان ميں ايك پر ظلم ہوگا۔. دونوں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ، کمزوریاں ، صلاحیتیں ہیں انہی کی بناء پر ان میں حقوق و فرائض کی بھی تقسیم ہے۔۔ شریعت کی نظر میں بحثیت انسان مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اكثر شريعت اسلاميہ كے احكام مرد و عورت پر برابر لاگو ہوتے ، عورت بھى مرد كى طرح ہى وضوء ،غسل كرتى ، مرد كى طرح روزہ ركھتى ، زكاۃ ادا كرتى حج كرتى ، خريد و فروخت ، صدقہ كرتى ہے ۔ جہاں دونوں جنسوں ميں فرق آيا ہے ، وہاں اسلام عورت كى فطری صلاحیتوں اور كمزورى كو بھی دیکھتے ہوئے ذمہ داریاں لاگو کرتا ہے ، مثلا مردوں پر اپنے بیوی بچوں کی کفالت فرض ہے اسی طرح جہاد فرض ہے، ليكن عورتوں پر نا کمانے کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اور نا مسلمانوں کے لیے جہاد و قتال کے لیے نکلنے کی۔۔ یہاں مساوات سے عورت پر ظلم ہوتا ، اسی طرح باقی معاملات میں بھی عدل کے تقاضے کے تحت اک کو دوسرے پر فوقیت دی گئی.
مستفاد: اسلام کیو اے ڈاٹ کام See Mor
 

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,451
پوائنٹ
306
اعتراض :ذرا قرآن کھول کے سورہ النِسا پڑھو صاف لکھا ہےعورت کو وراثت میں سے آدھا حصّہ ملے گا ۔۔ ( یعنی بھائی کو دو تو بہن کو ایک )
13.png

جواب :
شريعت اسلاميہ کے ایک اسلامی خاندان کے متعلق باقی تمام احکامات کو سامنے نا رکھنا اس سطحی اعتراض کی ایک وجہ ہے۔
شریعت نے اگر عورت كو وراثت ميں مرد سے نصف حصہ ديا ہے، اس سے پہلے مرد پر عورت کے تمام اخراجات کی ذمہ داری بھی لگائی ہے ، عورت اگر والدین کے گھر ہے تو بھی ...اور اگر شادی شدہ ہے تو بھی، نہ تو اپنے خرچ كى مكلف ہے، نہ ہى گھر اور اپنى اولاد كے کسی خرچ كى، اس كا مكلف مرد ہے ۔ ۔۔!
ان اخراجات کے علاوہ مرد كو مختلف قسم كے مصائب ، مشکلات ، جنازے، شادیاں ، ديت اور، صلح وغيرہ كے امور بھى سرانجام دينا ہوتے ہيں، اس لیے یہاں اسکا حصہ ذیادہ رکھا گیا۔ ۔
پھر بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی ۔۔ یہ تو والد کی جائیداد میں حصہ تھا۔ ۔آگے سورہ النِسا میں یہ بھی لکھا ہے کہ ” بیوی کا میاں کی جائیداد میں بھی حق ہے ” !!
یعنی ایک عورت کو قرآن باپ کی جائیداد سے بھی حصہ دے رہا ہے اور میاں کی جائیداد سے بھی ۔۔۔ اسلام عورت کی حق تلفی کہاں کر رہا ہے؟؟؟
حق تلفی اسلام نہیں آپ کررہے ہیں آپکا سماج کررہا ہے۔۔۔باپ بھائی حصّہ نہیں دیتے ۔۔ یہ کہہ کر بیٹی کو چپ کرا دیتے ہیں کہ “جہیز دے دیا اب بخش دئے ” ۔۔۔لڑکی شادی کر کے سُسرال آتی ہے تو شوہر نہیں دیتا۔۔
اعتراض اسلام پر نہیں سماج اور افراد پر بنتا ہے۔
http://ilhaad.com/2015/10/women-islam-heritage-right/
 

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,451
پوائنٹ
306
کیا قرآن بیوی کو مارنے کا حکم دیتا ہے ؟
14.jpg


غیر مسلموں کا ایک طبقہ خصوصا عیسائی مشنریز یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام مرد کو عورت پر ہاتھ اٹھانے اور اسے مارنے کا حکم دیتا ہے ۔گزشتہ کچھ دنوں سے اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین مولانا شیرانی کے بیان کو لے کر لبرل طبقے نے بھی اسی انداز میں طوفان اٹھایا ہوا ہے ۔ عیسائی معترضین قران مجید سورۃ نساء کی آیت 34 کو بطور دلیل پیش کر تے ہوئے اسلام کو نشان بناتے ہیں ...اور لبرلوں نے فی الحال مولانا شیرانی کی آڑ لی ہوئی ہے۔
مسئلے کی حقیقت سمجھنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ قران کے کسی بھی ایک لفظ یا ایک آیت کو لے کر اس کی من مانی تشریح کرنا اور اپنا مقصد ثابت کرنے کے لیۓ استعمال کرنا کوئی درست اور منطقی علمی طریقہ نہیں ہے ۔ ہر آیت کو اس کے سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوۓ اسلامی اطوار و تعلیمات کے ساتھ ملا کر اس کا معنی سمجھنا ضروری ہوتا ہے ۔
اب چند باتوں پر غور کیجیے :
1۔ اسلام شادی کے بعد مرد و عورت دونوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنی شریک حیات تک محدود رہیں ۔
2۔اپنے شریک حیات کے سوا کسی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کو سختی سے روکتا اور منع کرتا ہے ۔
3۔ عورت کو ہلکی پھلکی سزا دینے کی اجازت بے قید اور غیر مشروط نہیں ہے نا ہر صورت میں جائز ہے ۔ آئیے آیت کے سیاق و سباق کو دیکھتے ہیں :
“۔۔۔چنانچہ نیک عورتیں فرمان بردار ہوتی ہیں ، مرد کی غیر موجودگی میں اللہ کی دی ہوئی حفاظت سے (اسکے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں ۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہوتو (پہلے) انہیں سمجھاؤ اور (اگر اس سے کام نہ چلے تو) انہیں خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو۔(اور اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو ) انہیں مار سکتے ہو ۔ پھر اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو انکے خلاف کاروائی کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کے اوپر ، سب سے بڑا ہے ۔(قرآن 4:34)
یہ آیت وضاحت کرتی ہے کہ یہ اجازت صرف ان حالات میں ہے جب عورت سرکشی کی اس حد تک پہنچ جاۓ کہ اسکو روکنے کا کوئی اور طریقہ نا رہے سوائے طلاق کے۔ ایک دفعہ دوبارہ پڑھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس سرکشی کا یہ لیول ایسا ہے کہ اسے سے ایک شریف اور باوقار عورت کی اپنی عظمت بھی مجروع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
4۔ جب کوئی عورت ایسے کسی عمل میں مبتلا ہوتی ہے تو عورت کا رویہ نا صرف مرد کے لیۓ تکلیف کا باعث ہوتا ہے بلکہ اسے بددل کرنے اور کسی اور کی طرف راغب ہونے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ایسی سٹیج نا صرف ان دونوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے بلکہ پورے خاندان اور معاشرے پر بھی اثر چھوڑتی ہے ۔ چنانچہ یہاں فزیکل سزا کی اجازت اعتدال کے لیے اور اس برائی سے نجات کے لیے ہوتی ہے۔

اس سزا کی اجازت انتہائی حالات میں ہے۔۔!
1. اس انتہائی صورتحال میں بھی مارنا آخری آپشن رکھا گیا ہے۔ سب سے پہلے نصیحت کرے ، اگر اس کا مثبت نتیجہ نہ نکلے تو بستر سے علیحدہ ہوجائے اور اور اگر یہ طریقہ بھی ناکام ہو جاۓ تو تب آہستگی سے تادیبا مارنے کی اجازت ہے۔
2. اگر ایک دفعہ ایسا کرنا پڑ گیا تو اسکے بعد فورا بعد احتیاط کرنے کا حکم دیا گیا ہے “اگر وہ اپنی اصلاح کر لے توتم ان پر زیادتی کا کوئی راستہ مت تلاش کرو “

آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ہمیں حضور ﷺ کی احادیث کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے ۔ آیت میں مذکور لفظ نشوزھن کی وضاحت خطبہ حجۃ الوداع میں بھی کی گئی ۔ چند دفعات پیش ہیں
۱۔ وہ کوئی کام کھلی بے حیائی کا نہ کریں۔۲۔ وہ تمہارا بستر کسی ایسے شخص سے پامال نہ کرائیں جسے تم پسند نہیں کرتے۔۳۔ وہ تمہارے گھر میں کسی ایسے شخص کو داخل نہ ہونے دیں جسے تم ناپسندکرتے ہو،مگر یہ کہ تمہاری اجازت سے۔۴۔ اگروہ عورتیں (ان باتوں) کی خلاف ورزی کریں تو تمہارے لیے اجازت ہے کہ:
ا۔ تم انہیں بستر وں پر اکیلا ،تنہا چھوڑ دو۔2۔ (ان پر سختی کرو)مگر شدید تکلیف والی چوٹ نہ مارو(اگر مارنا ہی چاہو۔)
یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عمل جسمانی کی بانسبت نفسیاتی ذیادہ ہے اور اس کا مقصد زوجین کے درمیان عفت ،باہمی محبت اور انسیت کو قائم رکھنا ہے .اگر عورت کے ایک غلط طرز عمل کی جانچ نہ کی جائے تو یہ بات یقینی ہے کہ تعلقات پر بہت منفی اثرات پڑتے ہیں ۔

خاوند کی سرکشی کی صورتحال میں بیوی کو ایسے عمل کی اجازت کیوں نہیں دی گئی ؟
یاد رکھیے شوہر قانونی “دوسری” بیوی رکھنے کا مجاز ہے جب کہ عورت ایک وقت میں دو شوہر نہیں رکھ سکتی جس کی وجوہات واضح ہیں . یعنی مرد کے پاس ایک ہی وقت میں آپشن موجود ہوتے ہیں ۔ اس کومد نظر رکھتے ہوۓ اور نفسیاتی اور جسمانی فرق اور حقیقی زندگی کے حقائق کو دیکھتے ہوۓ بیوی کی شوہر کو اس طریقے سے نصیحت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی .وہ شوہر کو درست کرنے کے لیے ایسے مسئلے کو عدالت یا خاندان کے بڑوں کے سامنے لے کر جا سکتی ہے۔ ایک شرعی ریاست ان مسائل کے حل کا باقائدہ انتظام کرتی ہے۔ شوہر کو ریاست کی طرف سے پابند کیا جاتا ہےا ور سزا دی جاتی ہے۔ مزید اگر عورت محسوس کرتی ہے کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ کسی وجہ سے نہیں رہ سکتی تو عورت کو اجازت ہے کہ وہ خلع لے کر علیحدگی اختیار کر لے ، مگر جب تک وہ عقد نکاح میں موجود ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ خاوند کی موجودگی اور غیر موجودگی میں اسکے ساتھ وفا دار رہے۔ مرد و زن کے باہمی تعلق کی درستگی ہی ایک خوبصورت معاشرے کی بنیاد ہے۔

ایک غیر مستند روایت :
: کچھ لوگ ایک روایت سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ایسے ہے : عمر ابن الخطاب سے روایت ہے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :کسی شخص سے یہ نہیں پوچھا جاۓ گا کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا (سنن ابو داؤد ،حدیث نمبر ٢١٤٧ .علامہ البانی نے اس کو ضعیف اور غیر مستند قرار دیا ہے ) البانی کے علاوہ ، شیخ احمد شا کر اور شعیب ارنوط نے بھی اس کو اپنی مسند احمد کی درجہ بندی میں ضعیف قرار دیا ہے. ا بن کثیر نے بھی مسند الفاروق 1/182 میں اس کی روایت کو تنقید کا نشانہ بنایا .

خلاصہ :
اسلام میں اللہ کو امت کی اجتماعیت نہایت زیادہ عزیز ہے اور اس اجتماعیت کو توڑنے پر سخت وعیدیں ہیں. اس اجتماعیت کا سب سے پہلا پتھر میاں بیوی کا صحیح تعلق ہے جس کی بنیاد پر پھر آگے چل کر پوری امت کھڑی ہوتی ہے. اس مقصد کے لیے اللہ تعالی مرد کو قوامیت کا درجہ دیتا ہے اور تاریخ گواہ ہے جہاں قوامیت متاثر ہوئی ہے وہاں انارکی اور انتشار نے جنم لیا ہے. مغرب میں خاندان کے ادارے کے تباہ ہونے کا حال دیکھ لیجیے. اب جب یہ اجتماعیت امت کی بنیاد ہے تو فطری بات ہے کہ اس عظیم ترین مقصد کا حصول اگر کسی درجے میں سختی سے بھی ممکن ہو تو روا ہے. قرآن میں ایسا کرنے کی اجازت قوامیت کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے بعد دی گئی ہے جس کے لیے نشوز کا لفظ لایا گیا ہے. نشوز عورت کی طرف سے وہ اعلا درجے کی سرکشی ہے جو خاندانی نظم تباہ ہونے پر منتج ہوتی ہے. اس میں عام روزمرہ کی چخ چخ داخل نہیں. اس پر ضرب کا حکم ہے لیکن اس کی جو حدود حدیث نے بتائی ہیں اس کی رو سے عرف عام والی مار کا اس پر اطلاق بھی نہیں ہوتا.

نوٹ :ہماری یہ تحریر صرف ان قارئین کے لیے ہے جن کے نزدیک خاندان کی کوئی قیمت ہے جو معاملات ، تعلقات میں کسی حد کے قائل ہیں ۔ جو دین و دنیا بیزار طبقہ ہے انکے لیے یہ توضیح بالکل نہیں ۔ بقول اک محقق ہمیں یقین ہے کہ ہم اس آیت کے حکم کو جتنا بھی لائیٹ کرلیں، یہ اس “جدید حلق” سے نیچے نہیں اترے گی جو جدید ذہن یہ کہتا ہو کہ بیوی کو بیوی ہونے کے باوجود معاشقے کرنے کی شخصی آزادی ہے. وہ اس تحدید کو کبھی نہیں مانے گا۔
استفادہ تحریر : وقار اکبر چیمہ
http://ilhaad.com/2016/10/quran-and-wife-beating/
 

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,451
پوائنٹ
306
اعتراض:اسلام میں عورت کو آزادی کیوں نہیں؟
15.png

تاریخ کا مطالعہ کریں یہ واضح ہوگا کہ اسلام نے عورت کو تمام مذاہب / سماج سے بڑھ کر آزادی اور تقدس دیا ۔ اگر معترضین کے نزدیک آزادی کا مفہوم وہ ہے جو مغرب نے عورت کو دی ہے ۔۔۔اسکو ہم آزادی نہیں کہتے۔ مغرب میں عورت کی حالت پر غور کیا جائے تو یہ کھل کے واضح ہوگا کہ مغرب نے عورت کو آزادی نہیں دی بلکہ اسکو استعمال کیا ہے۔۔۔ اسکو آزادی کے ان جذباتی نعروں کے بہان...ے سرمایہ دارانہ نظام کی ایک اہم پراڈکٹ بنایا ہے ،۔۔
اسکی فطری کمزوریاں اور ذمہ داریاں آج بھی اسی طرح موجود ہیں ،آزادی کا لالی پاپ دکھا کے انکے ساتھ مرد کی ذمہ داریاں بھی اسے سونپ دی گئی ہیں ۔۔ وہ عورت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مرد بھی ہے جبکہ اس معاشرے کے مرد صرف مرد ہیں ۔۔۔!
دور حاضر میں یورپ و امریکہ اور دوسرے صنعتی ممالک میں عورت ایک ایسی گری پڑی مخلوق ہے جو صرف اور صرف تجارتی اشیاء کی خرید و فروخت کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔۔
وہ اشتہاری کمپنیوں کا جز ء لا ینفک ہے ، بلکہ حالت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ اس کے کپڑے تک اتروا دیئے گئے ہیں ، اسکا جسم دکھلا کے اپنی چیزیں بیچی جاتی ہیں۔۔
فحش رسائل و اخبارات میں کی ہیجان انگیز عریاں تصاویر کو مارکیٹنگ کا وسیلہ کہا جاتا ہے
دس فیصد عزت کی نوکریوں کو چھوڑ کر وہ عام طور پر آفس کی رونق ، گھر سے باہر بھی مردوں کے دل بہلانے کے لیے ایک ماڈل/ ایک کال گرل /ریسپشنسٹ/سیل گرل ہے ، گاہکوں کو متوجہ کرنے والی ایک منافع بخش جنس ہے ۔۔۔ ہر جگہ وہ اپنی خوبروئی ، دلفریب ادا اور شیریں آواز سے لوگوں کی ہوس نگاہ کا مرکز ہے ۔۔
یہی نہیں مس ورلڈ، مس یونیورس اور مس ارتھ کے انتخابی مراحل میں عورت کے ساتھ کیا کھلواڑ نہیں ہوتا ۔۔۔
نیز فلموں میں اداکاری کے نام پر اور انٹرنیٹ کے مخصوص سائٹ پر اس کی عریانیت کے کون سے رسوا کن مناظر ہیں جو پیش نہیں کئے جاتے۔۔۔۔
اگر یہی عورت کی آزادی اور اس کی عزت و تکریم اور اس کے حقوق پانے کی علامت ہے تو انسانیت کو اپنے پیمانہ عزت و آنر پر نظر ثانی کرنی چاہئے ۔
پھر یہ سب معاملہ عورت کے ساتھ اس وقت تک رکھا جاتا ہے جب تک اس میں مردوں کی کشش ، ابھرتی جوانی کی بہار ، دل ربا دوشیزگی کا جوبن اور شباب و کباب کی رونق رہتی ہے ، لیکن جب اس کے جوبن میں پژ مردگی آ جاتی ہے، اس کی کشش میں گھن لگ جاتا ہے ، بازاروں میں اس کی قیمت لگنا بند ہو جاتا ہے، اس کے ڈیمانڈ کو دیمک چاٹ جاتی ہے اور اس کی ساری مادی چمک دمک ماند پڑ جاتی ہے تو یہ معاشرہ اس سے منہ موڑ لیتا ہے ،وہ ادارے جہاں اس نے جوہر کمال دکھائے تھے اس کو چھوڑ دینے میں عافیت سمجھتے ہیں اور وہ اکیلی یا تو اپنے گھر میں کسمپرسی کی زندگی گزارتی ہے یا پھر پاگل خانوں میں۔

یہ ہے آزادی نسواں کی موجودہ کڑوی حقیقت اور یہ ہے اس کا حتمی برا انجام ۔
پھر اس کا اثر صرف عورت تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے وہ تمام شعبے اس سے متاثر ہوئے ہیں جنکا وہ لازمی جزو تھی۔ ایک مغربی مصنف یوں رقم طراز ہے:
“وہ نظام جس میں عورت کے میدان عمل میں اترنے اور کارخانوں میں کام کرنے کو ضروری قرار دیا گیا، اس سے ملک کو چاہے کتنی بھی دولت و ثروت مہیا ہو جائے، مگر یہ بات یقینی ہے کہ اس سے گھریلو زندگی کی عمارت زمیں بوس ہو کر رہ جاتی ہے، کیونکہ اس نظام نے گھر کے ڈھانچہ پر حملہ کر کے خاندانی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور معاشرتی تعلقات و روابط کے سلسلہ کو درہم برہم کر دیا ہے”۔

فطرت سے بغاوت کی وجہ سے عورت کی خاندانی ، ازدواجی زندگی سخت تباہی کا شکار ہے ۔۔۔ وہ ظاہری طور پر خوش، خوبصورت لیکن نفسیاتی طور پر ایک بحران کا شکار ہے۔۔ اپنی ذات میں وہ بالکل تنہا اور بے سہار اہے۔۔ کیا یہ آزادی ہے؟ کہاں یہ بازاری حیثیت اور کہاں ایک بہن ، ایک بیٹی ، ماں ، پوپھی ، خالہ، دادی ، نانی کی مقدس حیثیت اور احترام ۔۔
کیا کبھی کبھی اپنی مرضی سے ناچ گا اور گھوم پھر لینے کی آزادی کے عوض اس سے یہ کم قیمت لی گئی ہے ؟؟؟

http://ilhaad.com/2015/10/aurat-azaadi-islam/
 

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,451
پوائنٹ
306
ملحدین کاسوال

عام مسلمان کو 4 شادیوں کی اجازت ہے جبکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس ایک وقت میں اس سے زیادہ ازواج تھیں۔ کچھ تو فحش کلمات تک بک دیتے ہیں کہ (معاذاللہ) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے یہ شوق تھے جنہوں نے آپکو چندگان بنایا۔ کیا اس سے بڑا بھی کوئی جھوٹ ہو سکتا ہے؟
اس معاملے کو مکمل طور پر سمجھنے کیلئے، درج ذیل نقاط کو سمجھنا ہوگا؛
...
کچھ چیزیں صرف رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہی لئے تھیں:
یہ بات واضح رہے کہ رسولِ اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) سے متعلق یہی ایک بات ہی غیر معمولی نہ تھی، درحقیقت ایسی بہت سی باتیں ہیں۔ مثلاً، جیسا کہ ہم مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ صلاۃ التہجد تقوی کا ایک عظیم عمل ہے، لیکن اسکے باوجود عام مسلمانوں کیلئے، یہ فرض نہیں ہے۔ لیکن رسولِ اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) پر لازم تھی جیسا کہ (قران 17:79, 73:2-4) سے واضح ہے۔ اور نصف رات میں صلاۃ التہجد کیلئے بلا ناغہ بستر چھوڑنا بڑا سخت کام ہے۔ یہ محض اس تصور کی تردید بتایا جا رہا ہے کہ رسولِ اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) نے (معاذاللہ) اپنے لئے کچھ چیزیں خود سے مستثنی کر لیں۔

رسولِ اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) نے شادی اپنی جسمانی خواہشات کی تسکین کیلئے نہیں کی:
54 سال کی عمر تک آپکی ایک بیوی تھی، یہ اس بات کی نفی کرتا ہے کہ آپکی شادیوں کی وجہ آپکی جسمانی خواہشات تھیں۔ 50 سال کی عمر تک آپکے پاس ایک ہی بیوی تھی سیدہ خدیجه (رضی اللہ تعالی عنہہ) جو کہ عمر میں آپ سے 15 سال نہ صرف بڑی تھیں بلکہ پہلے سے ہی دو بار بیوہ ہو چکی تھیں۔ اور اگلے 4 سال تک آپکی ایک ہی بیوی تھیں، سیدہ سودة (رضی اللہ تعالی عنہہ)، وہ بھی عمر رسیدہ خاتون۔ تمام ازواج سوائے ایک کے، یا تو طلاق شدہ تھیں یا پھر بیوہ۔ یہ 55 سال کی عمر میں ہی ایسا ہوا کہ چار بیویاں ان کے نکاح میں جمع ہو گئیں۔

“John Bagot Glubb” اس حقیقت کو درج ذیل الفاظ میں تسلیم کرتے ہیں؛
“یہ، البتہ، قابلِ غور ہے کہ انکی تمام بیویوں میں سے، صِرف عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہہ) ہی کنواری تھیں جب آپ سے نکاح ہوا۔ زینب بنت جحش (رضی اللہ تعالی عنہہ) اور باقی تمام بیویاں طلاق یافتہ یا بیوائیں تھیں، کچھ ان میں سے، یوں لگتا ہے جیسے، خاص دلکش بھی نہ تھیں۔ اسکے علاوہ جب خدیجہ (رضی اللہ تعالی عنہہ) سے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شادی ہوئی تو آپکی (انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کی عمر 25 سال تھی جبکہ وہ نہ صرف بیوہ تھیں بلکہ عمر میں بھی آپ سے خاصی بڑی تھیں۔ وہ ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم) ان (یعنی خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہہ) کیساتھ 25 سال، انکی وفات تک مکمل طور پر وفادار رہے۔ ”
-(The Life and Times of Muhammad p.237, pub. Stein And Day, New York, 1971)

مزید لکھتے ہیں؛
“مدینہ میں، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس اوقاتِ فراغت کم سے کم ہوا کرتے تھے اور اکثر اوقات وہ ذہنی و جسمانی طور پر تھکے ہوتے تھے، بلخصوص جب وہ پچاس اور بعد میں ساٹھویں سال میں تھے۔ یہ وہ حالات نہیں ہوتے کہ جن میں مرد جنسی تسکین میں دلچسپی رکھتا ہو۔ یہ فرض کرنا کہ باسٹھ سال کی عمر میں جب انہوں نے وفات پائی تو انکی گیارہ بیویاں تھیں اور اسلئے وہ نفس کی پیروی کرنے والے تھے، چنانچہ کسی بھی طور حتمی نتیجہ طے نہیں پائے گا، جیسا کہ بہت لوگ فرض کرتے ہیں۔ ایسا بلخصوص اس امر کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہ پچاس سال کی عمر تک آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس ایک ہی بیوی تھی۔”
-(صفحہ.239)

یہ سب اس مفروضے کی تردید کرتا ہے کہ آخری پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) نے شادیاں جسمانی خواہشات کی تسکین کیلئے کیں۔ John Davenport ایک بےحد جائز سوال پوچھتے ہیں؛
“.. اور تب یہ پوچھا جائے، کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک انتہائی نفس پرست مرد، ایک ایسے ملک میں جہاں کثیر شادیاں کرنا ایک معمولی عمل تھا، پچیس سال تک ایک ہی بیوی کیساتھ رہے، اور وہ بھی وہ بیوی جو اس سے پندرہ سال بڑی ہو؛[؟]”
-(An Apology for Muhammed and the Koran p.26 pub. J. Davy and Sons, London)

Stanely Lane Poole بھی لکھتے ہیں؛
“… یہ کہنا غلط ہوگا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) (معاذ اللہ) عیاش تھے۔ اسکی روزمرہ کی انتہائی سادہ زندگی، آخر تک اسکا ایک سخت چٹائی پر سونا، اسکی سادہ غذا، اپنا مشقت بھرا کام بھی جان بوجھ کر خود سے کرنا، سب اسکے زاہدانہ ہونے کیطرف اشارہ کرتا ہے نہ کہ عیاش۔”
-(Studies in a Mosque p.77, pub. W. H. Allen & Co. London, 1883)

ایک اور یورپین، Thomas Carlyle، رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اکثر دہرائے جانے والے جھوٹ پر تبصرہ کرتے ہیں؛
“محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بذات خود، اس سے متعلق جو بھی کہا جائے، ایک نفس پرست آدمی نہیں تھا۔ ہم اسکو (معاذ اللہ) ایک عیاش آدمی سمجھ کر وسیع غلطی کریں گے — خواہ کسی بھی طرح کی عیاشی ہی بھلے کیوں نہ ہو۔”
-(On Heroes, Hero-Worship, and the Heroic in History p.65 Lecture II, pub. Champan and Hall, London, 1840)

آپکی شادیوں میں پوشیدہ حکمت:
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تمام شادیوں کے پیچھے ایک بڑی حکمت تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عملاً اسلام میں شادی کیلئے تمام جائز پہلوؤں کو واضح کر کے دکھایا اور اس میں ابتدائی مسلم کمیونٹی کیلئے غیرمعمولی سیاسی فوائد بھی تھے۔

1- خدیجه (رضی اللہ تعالی عنہہ) سے آپکی شادی نے اس بات کو واضح کیا کہ ایک کنوارہ ایک بیوہ سے شادی کر سکتا ہے، اپنے سے بڑی عمر کی خاتون سے شادی کر سکتا ہے، ایک غریب یتیم مرد کیلئے ایک مالدار خاتون سے شادی کرنا یا ایک ملازم کا اپنی مالکن سے، شادی کرنا جائز ہے۔ رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے آپکی زندگی میں کسی سے شادی نہیں کی، یہ امر ہی ان تمام نفس پرستی کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔ کچھ یرقان زدہ آنکھوں والے ناقدین یہاں تک کہہ گئے کہ یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی معاشی مجبوریاں تھیں جنہوں نے خدیجه (رضی اللہ تعالی عنہہ) کی زندگی میں آپکو مزید شادی سے روکے رکھا۔
Stanely Lane Pool نے اسلام کا تلخ ناقد ہونے کے باوجود، ایسے دعوے کی نامعقولیت کو تسلیم کیا۔ وہ لکھتا ہے؛
” خدیجه کیلئے محمد کی صداقت و وفاداری کی وجہ مال و دولت قرار دی گئی ہے۔ وہ(معترضین) کہتے ہیں کہ محمد ایک غریب شخص تھا جبکہ خدیجه دولتمند اور اثر و رسوخ والی خاتون تھی؛ خاوند کی جانب سے کہیں اور کسی بھی طرح کی ‘دل لگی’ طلاق کا سبب بنتی اور ساتھ ہی ساتھ جائیداد اور مقام کو بھی نقصان پہنچتا۔ اس بات کی نشاندہی کی ضرورت نہیں ہے کہ غربت کا خوف ( اس وقت عرب میں رہنے والے کیلئے ایک معمولی انجام ہوگا )ایک حقیقی نفس پرست آدمی کو پچیس سال تک نہیں روکا جا سکتا؛ بلخصوص جب کسی بھی اعتبار سے لازم بھی نہیں کہ خدیجه جو اسکو پورے دل سے محبت کرتی تھی’کبھی اس وجہ سے طلاق کا سوچتی بھی۔ اور ابھی اس وضاحت میں محمد کا محبت میں اپنی بوڑھی بیوی خدیجه کو(اسکی وفات کے بعد ) یاد کرنا شامل نہیں ہے۔ اگر محض اسکی دولت ہی نے پچیس سال تک اسکو روکے رکھا ہوتا، تو کوئی بھی یہ امید کر سکتا ہے کہ اسکی موت کے بعد وہ یہ لبادہ اتار پھینکتا، اور شکر شکر کرتے پھر سے یہی سب دہراتا۔ مگر محمد نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ ”
-(Studies in a Mosque p.79, pub. W. H. Allen & Co. London, 1883)
پھر دولت ، حسین لڑکی سے شادی، سرداری کی آفرین تو قریش کئی دفعہ انکو پیش کرچکے تھے کہ شاید یہ یہی کچھ چاہتے ہیں ۔ پہلے ڈائریکٹ پھر حضرت ابوطالب کے سامنے آفر دی گئی جس کا تذکرہ تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے ، آپ نے جواب میں فرمایا تھا کہ اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر چاند دوسرے پر سورج بھی رکھ دیں میں یہ دعوت کا کام نہیں چھوڑ سکتا۔ تفصیل کے لیے یہ تحریر دیکھیے

2- حضرت سودة بنت زمعة (رضی اللہ تعالی عنہہ) سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شادی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک أرمل اگر ایک درمیانہ عمر کی، خوش اخلاق، رحم دل اور ہنسی مذاق کرنے والی بیوہ خاتون سے نکاح کرنا چاہے جو کہ اسکے بچوں کی دیکھ بھال کر سکے، تو کر سکتا ہے۔ یہ بلکہ شائد ضروری تھا کہ رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک ہم عمر خاتون سے نکاح کرتے کیونکہ تب انکو ضرورت تھی کہ کوئی انکے اہل و عیال کی دیکھ بھال کر سکے۔

3- آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جوان و ذہین عائشہ بنت ابوبکر (رضی اللہ تعالی عنہہ) سے شادی کی کہ وہ شادی اور دیگر مسائل سے متعلق تمام معاملات کو یاد رکھ سکیں اور بعد میں امت کی رہنمائی ہو۔ اس شادی کا ایک اور مقصد ابو بکر (رضی اللہ تعالی عنہہ) کیساتھ آپکے دوستانہ تعلقات کو مزید تقویت دینا بھی تھا۔

4- آپ (صلی علیہ وسلم) نے حفصہ (رضی اللہ تعالی عنہا) سے نکاح کیا، وہ بیوہ ہوچکی تھیں اور عمر رضی اللہ عنہ انکےسلسلے میں فکر مند تھے ۔ عمر رضی اللہ عنہ کی دل جوئی او ران سے تعلقات کی مضبوطی کے لیے حضصہ رضی اللہ عنہا سے خود شادی فرمالی۔

5-زينب بنت خزيمة (رضی اللہ تعالی عنہا) عبیدہ (رضی اللہ تعالی عنہہ) کی بیوہ تھی وہ غزوہِ بدر میں شہید ہو گئے تھے، ان سے شادی بیواؤں کیلئے آپکے احساس کو ظاہر کرتا ہے اور مسلمانوں کیلئے عملی نمونہ تھا کہ جو لوگ خدمتِ اسلام میں شہید ہوئے انکے اہل و عیال کا خیال رکھیں۔

6- آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے امِ حبیبہ (رضی اللہ تعالی عنہہ) سے شادی کی، جو رئیسِ مکه، ابو سفیان کی بیٹی تھیں۔ اس شادی نے آپکو بنو امیہ کے قریب لا ٹھہرایا جو کہ قریش کے نزدیک ایک اہم خاندان تھا۔ بلکہ اس سے بغیر خون بہے فتح مکہ کیلئے راہ ہموار ہوئی۔ William Muir اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛
“[رسول (صلی اللہ علیہ وسلم] شائد وقتِ بعید میں ابو سفیان، (یعنی) امِ حبیبہ کے باپ، کو اپنے مقصد کے حصول کیلئے سودمند بنانا چاہتے تھے۔”
-(The Life of Mahomet, vol. 4 p.59 pub. Smith, Elder and Co. London, 1861)

(John Bagot Glubb (a.k.a Glubb Pasha بھی ایک دلچسپ مشاہدہ کرتے ہیں؛
“انہوں نے حبشہ کے شہنشاہ کو امِ حبیبہ کیلئے خط لکھنے کی زحمت کی۔ اگر مقصد محض عورت کا حصول ہوتا، تو اس وقت سینکڑوں ان سے کہیں زیادہ دلکش و حسین عورتیں عرب میں موجود ہونگی، کسی سے بھی نکاح کیا جا سکتا تھا۔ ممکن ہے کہ انہوں نے ابو سفیان سے بہتر تعلقات استوار کرنے کیلئے امِ حبیبہ کا انتخاب کیا۔”
-(The Life and Times of Muhammad p.304)

7- أم سلمة (رضی اللہ تعالی عنہہ) سے آپکی شادی۔ یہ سابقہ شادی سے بھی اولاد اپنے ساتھ لائیں۔ تاہم، رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عملاً ایک مثال قائم کی کہ کسطرح سے بیوی کی (سابقہ شادی سے) اولاد کا خیال رکھا جائے۔ أم سلمة (رضی اللہ تعالی عنہہ) اس قبیلے سے تھیں کہ جو رسولِ اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) کے شدت سے خلاف تھے پر اب چونکہ ایک رشتہ قائم ہو چکا تھا تو اس شادی نے انکو بہت حد تک ٹھنڈا کر دیا اور اپنی مخالفت پر دوبارہ سے سوچنا شروع کر دیا۔

8- زينب بنت جحش (رضی اللہ تعالی عنہہ) سے آپ نے شادی اسلئے کی تاکہ عرب کی اس بے بنیاد اور فرسودہ رویت کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے کہ گود لئے گئے (نہ کہ حقیقی) بیٹے کی طلاق شدہ بیوی سے شادی نہیں کی جا سکتی۔ اسلام اس بات کو منواتا ہے کہ چاہے کتنا ہی کوئی عزیز کیوں نہ ہو مگر حقیقی بیٹے سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ Montgomery Watt لکھتے ہیں؛
” … (اس سب میں) سماجی مقصد سیاسی مقصد سے زیادہ وزن رکھتا ہے اُن (زينب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہہ) کے معاملے میں – تاکہ یہ واضح کیا جائے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پرانی تہمات کو توڑ چکا ہے۔”
-(Muhammad at Medina p.288, pub. Oxford, 1956)

9- جويرية بنت الحارث (رضی اللہ تعالی عنہہ) سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شادی، اہم یہودی قبیلوں کیساتھ بہتر تعلقات استوار اور یہ ظاہر کرنے کے لیے تھی کہ اسلام سماجی حیثیت کی بنیاد پر شادیوں کی اجازت دیتا ہے۔ حضور نے انکو غلام بننے دینے کے بجائے ان سے خود شادی کی اور انہیں “امہات المؤمنین” کے مقام پر فائز کر دیا۔ اس شادی کے سیاسی فوائد کے متعلق John Bagot Glubb اپنی مذکورہ بالا کتاب میں لکھتے ہیں؛
“… یہ خالصاً سیاسی شادی تھی، کہ اس سے بنی مستالق کو جنگ کی بجاۓ نسبتاً زیادہ بہتر طریقے سے جیت لیا گیا۔” (p.263)

10- صفية بنت حيي (رضی اللہ تعالی عنہہ)، جو یہودی قبیلہ بنو النضير کی بیٹی تھیں، سے شادی نے شمالی عرب کے یہودیوں کی ایک کثیر تعداد کے قدرے سخت جذبات کو بے اثر بنا کر ایک بڑی کامیابی ثابت ہوئی۔
Watt لکھتے ہیں؛
“یہاں ممکنہ طور پر ريحانة بنت زيد اور صفية بنت حيي سے تعلق قائم کرنے کے پیچھے سیاسی مقاصد شامل تھے۔”
-(Muhammad at Medina p.288)

11- ميمونة بنت الحارث (رضی اللہ تعالی عنہہ) سے شادی، کچھ انتہائی قابلِ قدر لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا سبب بنی۔ Washington Irving کے الفاز میں؛
“یہ شادی بلاشبہ ایک حکمت عملی تھی، کہ ميمونة 51 سالہ بیوہ خاتون تھیں، مگر اس تعلق نے انہیں (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو) دو طاقتور اثر و رسوخ والے جدید الایمان ساتھی عطا کئے۔ ان میں سے ایک بیوہ کا بھتیجہ خالد ابن الولید، ایک نڈر جنگجو … اور دوسرا خالد کا دوست عمرو بن العاص؛”
-(The Life of Mahomet p.183 pub. Bernhard Tachnitz, Leipzig 1850)

درحقیقت رسولِ اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شادیوں کی وجوہات شہوت پرستی نہ تھی اور اس بات کو D.S. Margoliouth جیسے متعصب ناقد نے بھی تسلیم کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے؛
“ان بیشتر شادیوں میں باآسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ سیاسی تحفظات غالب تھے۔”
-Encyclopedia of Religion and Ethics, Article: Muhammad. vol. 8 p.879 pub. T. & T. Clark, Edinburgh, 1915)
اگر اللہ عزوجل نے آپکو متعدد شادیوں کی اجازت نہ دی ہوتی تو بہت سے مسلمان ان فوائد سے محروم رہتے جو انکو ملے۔ بہت سے طاقتور دشمنان کیساتھ امن نہ ہو پاتا۔ بہت سے شرعی مسائل کی بہتر طریقے سے وضاحت نہ ہو پاتی۔ یہ صرف آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ازواجِ مطہرات ہی تھیں جنہوں نے ہم تک ازدواجی زندگی سے متعلق گھریلو معاملات ہمیں سکھائے۔ یہاں پر ایک بات قابلِ غور ہے کہ رسولِ اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بیٹوں میں سے کوئی بھی بلوغت تک زندہ نہ رہا اور آپکی بیٹیوں میں سے، صرف حضرت فاطمہ (رضی اللہ تعالی عنہہ) ہی آپکی وفات کے بعد زندہ رہیں اور وہ بھی صرف 6 ماہ تک۔ ایسی صورتحال میں یہ امتِ مسلمہ کیلئے کسی بڑی آفت سے کم نہ ہوتا اگر ازواجِ مطہرات نہ ہوتیں، کہ بہت سی تعلیمات ہم سے پوشیدہ رہ جاتیں۔

مندرجہ بالا تمام تفصیلات اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپکی شادیاں جسمانی خواہشات کے سبب نہ تھیں بلکہ بلاشبہ کم از کم مسلمانوں کے حق میں بہتر تھیں جیسا کہ انکے نتائج سے واضح ہے اور انکے پیچھے نیک مقاصد شامل تھے۔درحقیقت رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تمام شادیوں کے پیچھے عظیم حکمت شامل تھی، نہ صرف اُس وقت کیلئے بلکہ آگے آنے والے وقت کیلئے بھی۔ امتِ مسلمہ کی روحانی اور سماجی بہبود پر اسکا گہرا اثر رہا اور بلاشبہ جہاں تک خاندانی نظام کا تعلق ہے، امت مسلمہ باقی تمام اقوام سے بہتر ہے۔

نہ جانے غیر مسلموں کو ایک سادہ سی حقیقت کو تسلیم کرنے میں کونسی آفت کا سامنا ہے کہ رسولِ اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شادیوں کا سبب شھوت پرستی نہ تھی بلکہ مصلحت تھی۔ اگر Martin Luther یہ کہہ سکتا ہے؛
The polygamy of the patriarchs, Gideon, David, Solomon & c., was a matter of necessity, not of libertinism.” (Table Talk, DCCXLII.p.304 Translated by William Hazlitt, Bell & Daldy, London 1872)
تو ٹھیک یہی رسولِ اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شادیوں کے متعلق کیوں نہیں خیال کیا جا سکتا؟ حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سخت ترین ناقدین نے بھی اس معاملے میں “وقت کی ضرورت” کو تسلیم کیا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ اگر لوگ تعصب کا چشمہ اتارکر دیکھیں تو انکو حقیقت ضرور نظر آئیگی۔
منقول ۔
For more updates Like n share
https://m.facebook.com/chhitrol.librals.mulhideen/
See Mre
 

اٹیچمنٹس

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,451
پوائنٹ
306
میٹھے اور کھارے پانی کے ساتھ بہنے اور باہم مل نہ پانے والی آیت پر اعتراض کی اوقات !!
__________________________________________________
17.png


سائنسی علوم سے آشنا ہونے کے جھوٹے دعوے دار اور قرآن و حدیث کی الف ب سے بھی ناواقف کاپی پیسٹر ملحدوں نے شاید قسم کھا رکھی ہے کہ چاہے ہزار بار ذلت کیوں نا اٹھانی پڑے، ٹسڈل وغیرہم کے اعتراضات کاپی پیسٹ کرنا نہیں چھوڑنے۔
...
او قادیانیو، ٹسڈل نے بے وقوف بنایا تھا تمہارے آباء و اجداد کو۔ قرآن اور صحیح احادیث میں کوئی غلطی ہوتی تو دنیا آج بھی دھڑا دھڑ مسلمان ہو رہی ہوتی؟؟

لیکن خیر چھوڑو۔ میں بھی کیا بہرے کو سننا سکھا رہی ہوں۔ سیدھے چلتے ہیں اس اعتراض پر جو تمہارے خیال میں تمہارا بہت بڑا اثاثہ ہے۔ اور بارہا ذلیل و رسوا ہونے کے باوجود کسی تمغے کی طرح تم نے اپنے ہر گروپ میں سجا رکھا ہے، جس کا ابتدائی حصہ کچھ یوں ہے کہ:
***

"جدید مسلمان ذیل کی آیت پیش کر کے کہتے ہیں کہ یہ قرآن کا سائنسی معجزہ ہے:

(قرآن 25:53) وَہُوَالَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَہُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرً
ترجمہ:
اور وہی تو ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے جن میں سے ایک کا پانی میٹھا ہے اور دوسرے کا کھاری۔ پھر ان کے درمیان ایک پردہ اور سخت آڑ کھڑی کر دی ہے۔

ان جدید مسلمانوں کو علم نہیں کہ یہ قرآنی سائنسی معجزہ نہیں، بلکہ قرآن کے مصنف کا سائنس سے انتہائی لاعلمی کا ثبوت ہے اور پرانے دیومالائی قصے پر مشتمل ہے۔

٭٭ اصل حقیقت: قرآن کے مطابق میٹھے پانی کا سمندر آسمان میں ہے۔

پچھلے دور کے لوگوں کو علم نہیں تھا کہ زمین کا پانی کیسے evaporate ہو کر بادل بنتا ہے جس سے بارش ہوتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے غلط عقیدہ گھڑ لیا تھا کہ آسمان میں بھی ایک سمندر ہے جو کہ میٹھے پانی کا ہے اور بارش کے وقت سارا پانی اس آسمانی سمندر سے آتا ہے۔

۔ Genesis میں تخلیق کی کہانی کے وقت اسی آسمانی سمندر کا ذکر موجود ہے۔

قرآن کا مصنف اس آیت میں اسی آسمانی سمندر (میٹھا پانی) اور زمینی سمندر (کھارا پانی) کا ذکر کر رہا ہے۔

صحابہ اس سے مراد آسمان میں بہنے والا میٹھے پانی کا سمندر لے رہے ہوتے تھے.

تفسیر قرطبی آیت 25:53 (لنک):

وقال ابن عباس وابن جبير: يعني بحر السماء وبحر الأرض.
ترجمہ:
صحابی ابن عباس اور ابن جبیر نے کہا : اس آیت میں مراد آسمان اور زمین کا سمندر ہے ۔

تفسیر در منثور، آیت 25:53 (لنک):

وأخرج ابن أبي حاتم عن الحسن في قوله { مرج البحرين } قال: بحر في السماء وبحر في الأرض
ترجمہ:
ابن ابی حاتم نے حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت ’’ مرج البحرین ‘‘ سے مراد ہے ایک سمندر آسمان میں اور ایک سمندر زمین میں۔

چنانچہ یہاں سے ساری حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ عجیب و غریب اور غلط سائنس پر مبنی آیات کو نازل کرواتے ہوئے پیغمبر کے دماغ میں کونسی دیو مالائی کہانیاں چل رہی تھیں۔

اسی دیومالائی کہانی کا بیان قرآن کے مصنف (یعنی محمد) نے سورۃ مومنون میں بھی کر دیا:

(قرآن 23:18) وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَسْكَنَّاهُ فِي الْأَرْضِ ۖ وَإِنَّا عَلَىٰ ذَهَابٍ بِهِ لَقَادِرُونَ
ترجمہ:
اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھیرا دیا ہم اُسے جس طرح چاہیں غائب کر سکتے ہیں۔

قرآن کے مصنف کو علم ہی نہیں تھا کہ پانی آسمان سے نازل ہی نہیں ہوا ہے بلکہ وہ زمین پر موجود پانی ہی کے آبی بخارات اور پھر ان سے بادل بننے کی وجہ سے برستا ہے۔

اور چونکہ آسمانی سمندر سے بارش کی صورت پانی برستا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھراس پانی کے بڑھنے سے زمین میں سیلات کیوں نہیں آتا، تو اس کا جواب علیم و خبیر اللہ نے یہ کہہ کر دیا کہ اللہ اپنی قدرت سے یہ بارش کا زائد پانی "غائب" کر دیتا ہے۔

یہیں سے یہ اسلامی دعویٰ بھی نکلا ہے کہ اللہ کا عرش پانی پر قائم ہے۔
﴿وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَٱلْأَرْ‌ضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْ‌شُهُۥ عَلَى ٱلْمَآءِ﴾ (ھود:٧)
ترجمہ:
‘‘اوراللہ تعالی وہ ذات ہے جس نے چھ دنوں میں زمین وآسمان کو پیدا کیا اس حال میں کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔’’

کیا واقعی ایسے اللہ پر ایمان لایا جا سکتا ہے جس کا سائنسی علم اتنا محدود ہو کہ اسے یہ بھی علم نہیں کہ بارش کا پانی کہاں سے آتا ہے اور کہاں جاتا ہے؟"
***

ملاحظہ کیا آپ نے ملحد کی کاپی پیسٹ کردہ پوسٹ کا ابتدائی حصہ؟ اور بتاتی چلوں کہ یہ کوئی عام کاپی پیسٹر ملحد نہیں، بلکہ ملحدوں کے بہت بڑے علامہ کاپی پیسٹر ملحد امجد حسین ہیں، جنہیں یہ تک پتا نہیں کہ 23:18 یعنی سورہ المومنون آیت 18 بارش نہیں، بلکہ تخلیق کائنات کے وقت اتارے گئے پانی سے متعلق ہے۔ کثیر کا اسی پر اتفاق ہے۔ اور خود آیت کا متن بھی اسی جانب انگشت نما ہے۔ آپ نے کیسے تن تنہا اسے بارش کے متعلق قرار دے دیا؟ کیا واقعی آپ کبھی مسلمان رہے ہیں؟؟ غور سے پڑھیے سورہ المومنون آیت 18:

"اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرا دیا ہم اُسے جس طرح چاہیں غائب کر سکتے ہیں۔"

آج سے چودہ سو سال پہلے تک کیا صرف ایک بار بارش ہوئی تھی بندروں کے کچھ لگنے والو؟؟ کیا تمہارے کفار آباء اتنے ہی فارغ العقل تھے جو ایسی آیت سن کر مسلمان ہو جاتے؟؟ کہاں ٹھہرا ہوا تھا وہ پانی، کیا اس ایک آیت کے متن سے بھی سمجھ نہیں آیا تمہیں؟؟ تمہارا اعتراض قرآن پر ہے یا اس کے غلط معنی سمجھ لینے والوں پر؟؟ بزرگوار دعویٰ کیا کر رہے ہو اور خود آیت کا متن کیا کہہ رہا ہے، کاپی پیسٹ کرتے ہوئے کم سے کم یہ تو سوچ لیتے؟؟ یہ آیت بارش سے متعلق ہے، اس بات پر آج تک مسلمان متفق نہیں اور آپ نے اٹھ کے قرآن پہ مقدمہ قائم کر دیا؟؟

اور ذرا یہ تو بتائیں کہ دحو سے پہلے زمین پر پانی کے ہونے کی مجال تھی؟؟ نہیں بلکہ ٹھہریں، دحو کا مطلب بھی خدا جانے آپ کو پتا ہو یا نہ ہو۔ دحو یعنی قشر ارض کا بچھانا۔ اس دحو سے قبل زمین پگھلے ہوئے لاوے پر مشتمل تھی، جس پر پانی تو کیا، لوہا بھی پگھل کر بھاپ بن جاتا شاید۔ کیا آپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تب بھی زمین پر پانی موجود تھا؟؟ اسے جنت ہی سے اتارا گیا نام کے ملحدو اور دراصل قادیانیو۔ یہی سائنسی حقیقت 23:18 میں بیان کی گئی ہے۔

نیز 25:53 یعنی سورہ فرقان کو بائبل سے کیا خوب جوڑا آپ نے۔ یعنی کہیں کی اینٹ اور کہیں روڑا؟؟ گھوڑا ڑے گھوڑا؟؟

ایک بالکل آسان اور اصولی سا قاعدہ سمجھ لیں کہ جو میں نے کہا میں اسی کی ذمے دار ہوں، جو کسی نے سمجھا، اس کی نہیں۔

اب اس قاعدے کو دماغ میں رکھ کے آجائیں 25:53 کی تفسیر قرطبی پر، جس میں حضرت ابن عباس سے منسوب ایک اثر موجود ہے اور درمنثور کا حوالہ بھی ساتھ ہی شامل کرلیں۔ جہاں لکھا یہ ہے کہ دو سمندروں سے مراد ایک زمین اور ایک آسمان کا سمندر ہے۔

تو ہم تو انکار کر ہی نہیں رہے کہ زمین پر موجود کھارے اور میٹھے پانی کے "سمندر" آسمان کے سمندر سے نہیں اتارے گئے۔ ہم تو قرآن کے اس فرمان کے دل و جان سے دلدادہ ہیں کہ پانی آسمان سے زمین کی تخلیق اور دحو کے بعد اتارا گیا۔ ہم بحرین کے معنی "دریا" اور "کثیر پانی" وغیرہ کو بھی چھوڑ دیتے ہیں اور زمین پر موجود پانی کو میٹھے اور کھارے پانی کے "سمندر" اور آسمان پر موجود پانی کو بھی سمندر مان کر ہی آپ کے فریب کا منہ کالا کر دیتے ہیں۔ پھر نہ کہنا کہ:

***

"مسلمانوں کی بھرپور کوشش ہے کہ کسی طرح اس آسمانی سمندر والی اصل قرآنی کہانی سے جان چھڑائیں۔
مگر یہ ممکن نہیں کیونکہ پوری دنیا میں کہیں بھی کوئی 'میٹھے پانی کا سمندر' پایا ہی نہیں جاتا چہ جائیکہ وہ کسی نمکین پانی کے سمندر سے آ کر ملے۔

چنانچہ مسلمانون نے وہی پرانا حربہ 'غلط تاویل و ترجمہ' نکالا اور بھاگنے کی کوشش کی۔

چنانچہ انہوں نے لفظ 'بحرین' کا نیا ترجمہ پیش کیا 'ایک دریا اور ایک سمندر'۔

لیکن یہ ترجمہ ناممکن ہے۔ لفظ بحرین جمع ہے لفظ 'بحر' کی جس کا مطلب ہے 'سمندر' ۔ چنانچہ یہ ناممکن ہے کہ آپ ایک لفط 'بحرین' سے ایک میٹھے پانی کا دریا اور ایک کھارے پانی کا سمندر نکال سکیں۔

مزید دیکھیں کہ فرات اور نیل کا پانی بھی جنت سے ہی آ رہا ہے۔
صحیح بخاری، کتاب التوحید :
معراج کے سفر کے دوران رسول کی نظر دو نہروں پر پڑی جو بہہ رہی تھیں، آپ نے فرمایا اے جبریل! یہ دو نہریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ نیل اور فرات کا منبع ہیں۔

صحیح بخاری، مخلوقات کی ابتدا کا بیان :
رسول اللہ (ص) نے معراج کے سفر کے متعلق فرمایا ۔۔۔۔مجھے سدرۃ المنتہیٰ(درخت) بھی دکھایا گیا تو اس کے پھل (بیر) اتنے موٹے اور بڑے تھے جیسے ہجر (مقام) کے مٹکے اور اس کے پتے ایسے تھے جیسے ہاتھی کے کان اس (سدرہ المنتہیٰ درخت) کی جڑ میں چار نہریں تھیں دو اندر اور دو باہر میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام علیہ السلام سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اندر والی نہریں تو جنت میں ہیں اور باہر والی نہریں دریائے فرات اور دریائے نیل ہیں۔"

***

جی ہاں یہی ملحد امجد حسین کی زیربحث پوسٹ کا باقی حصہ تھا۔ اور دیکھ لیجیے میں بحرین کا ترجمہ "سمندر" کرتے ہوئے ہی ثابت کر رہی ہوں کہ ملحد کا کاپی پیسٹ دو ٹکے کا بھی نہیں ہے۔ قرآن میٹھے اور کھارے پانی کے "سمندروں" کی بات کر رہا ہے۔ آپ نے میٹھے "سمندر" کو دریا، جھیلیں وغیرہ نہیں ماننا تو نہ مانیں۔ کیپ ٹاون اور دنیا کے وہ دیگر مقامات جہاں دو طرح کے سمندر ساتھ ساتھ بہتے ہیں، لیکن باہم ملتے نہیں، انہیں ایک جتنا کھارا ثابت کرکے دکھا دیجیے۔ اگر نہیں کرسکتے، تو آپ کا یہ دعویٰ ہی باطل ہے کہ بحرین سے ایک میٹھے پانی کا دریا اور ایک کھارے پانی کا سمندر نہیں نکالا جاسکتا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سارا کا سارا سمندر ایک جیسا کھارا نہیں۔ خود ایک جگہ کا پانی دوسری جگہ کے پانی کی نسبت تلخ و شریں ہے۔ قرآن میں دو سمندروں کا احوال آگے آپ کو آپ ہی کی پیش کردہ تفاسیر سے دیا جائے گا۔ پہلے اعتراض تو دو پیسے کا لے آئیں۔

آپ نے لکھا: معراج کی رات حضور علیہ السلام کو دریائے فرات اور دریائے نیل کا منبع، یعنی ماخذ دکھائے گئے؟؟

تو؟؟ جب پانی اتارا ہی آسمان سے گیا تو اس کا منبع زمین پر کیسے ہوسکتا ہے؟؟ کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں بزرگوار؟؟ ذرا اپنی باتوں پہ غور تو کرلیجیے۔ کیا یہی دعویٰ ہے آپ کا کہ گرم سیال زمین پر پانی اولین دن سے موجود تھا؟؟

مسلمان قاموس العرب جیسی لغت کو چھوڑ کر آپ کی ایجاد کردہ لغت استعمال کرے اور بحرین کے معنی "کثیر پانی" یا "دریا" وغیرہ کچھ بھی نہ کرے، جبکہ آپ کا سمندر خود دو طرح کا نکل آیا ہے۔ ایک شدید کھارا اور ایک اس کی نسبت میٹھا۔ کس قدر بودہ اعتراض لیے گھوم رہے ہیں محترم؟؟ اب یہ نہ کہہ دیجیے گا کہ کھارا تو کھارا ہی ہے، کم زیادہ سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ایک طرف قرآن پہ اتنی پابندیاں کہ جو معنی لغت میں موجود ہیں وہ تک نہیں کرنے اور خود گدھے گھوڑے سب ایک برابر؟؟ نکال کے لائیں اب کم اور زیادہ کھارے سمندر کے لیے دو الگ الگ لفظ۔ ورنہ بحر کا ترجمہ ہمیں بھی کثیر پانی یا دریا کرنے دیجیے۔ آپ کا اعتراض یہیں ختم۔ 25:53 کا سیدھا ترجمہ ہو جائے گا:

"اور وہی تو ہے جس نے دو کثیر پانیوں کو ملا رکھا ہے جن میں سے ایک میٹھا ہے اور دوسرا کھارا۔ پھر ان کے درمیان ایک پردہ اور سخت آڑ کھڑی کر دی ہے۔"

رہ گیا سوال درمنثور اور تفسیر قرطبی کا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کےاثر کی کوئی سند تفسیر قرطبی میں موجود ہی نہیں۔ جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف صحیح سند سے منسوب "تفسیر ابن عباس" میں اس سے مراد زمین ہی کا پانی لیا گیا ہے نہ کہ آسمان کا سمندر اور زمین کا سمندر۔ (تفسیر ابن عباس جلد دوم الفرقان تحت آیہ 53)

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر طبری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ مرج البحرین سے مراد زمین ہی کا میٹھا اور کھارا پانی ہے۔ (تفسیر طبری جلد 19 تحت ھذا الآیہ)

امام عبد الرزاق رحمہ اللہ نے "المصنف" میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ اس سے مراد دو طرح کے پانی ہیں۔ ان میں سے جس کے ساتھ چاہو وضو کرو۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 1 باب الوضوء فی ماء البحر)

آپ کی کاپی پیسٹ کردہ روایات کی تردید میں بے شمار آثار موجود ہیں لیکن اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے انہی پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔

نیز الفرقان آیت 53 صاف صاف یہ بات کہہ رہی ہے کہ یہاں ۔۔۔ملے ہوئے سمندروں۔۔۔ کی بات ہو رہی ہے، آسمان اور زمین کے نہیں۔ جن فقہاء نے اس سے زمین اور آسمان کے سمندر مراد لی، ان سے یقیناً سمجھنے میں خطا ہوئی، جو فطرت انسانی سے کچھ بعید نہیں۔ ہم اپنے موقف کی تائید میں صحابی ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی کا اثر پیش کرچکے۔ آیت کا متن بھی اسی موقف کی تائید کر رہا ہے کہ یہ دو سمندر کیپ ٹاؤن وغیرہم والے ملے ہوئے سمندر ہیں۔ زمین اور آسمان والے سمندر نہیں۔ لہٰذا آپ کا یہ مقدمہ بھی اب دنیا کی کسی عدالت میں قائم نہیں رہ سکتا۔ "جدید مسلمان" 25:53 پیش کرکے سچ ہی کہتے ہیں کہ یہ قرآن کا ایک سائنسی معجزہ ہے۔

علاوہ ازیں سورہ ھود آیت 8 کا اس مقدمے سے کوئی واسطہ ہی نہیں بن رہا۔ اللہ نے چھ ادوار میں زمین و آسمان بنائے اس حال میں کہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ تو زمین و آسمان بناتے ہوئے کیا اللہ پاک زمین کے پانی پر ہوگا جو کہ تب خود بن رہی تھی؟ یا بنی ہی نہیں تھی؟ جب جگہ defined ہی نہیں تو آپ نے کیسے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ عرش کہاں تھا اور پانی کس جگہ؟

و آخر دعونا ان الحمد اللہ رب العالمین ۔
لائک & شئیر
چھترول برائے دیسی لبرل و ملحدین
❤
Like & share
Dr Zakir Naik Videos
Islam اسلام
 
شمولیت
اگست 27، 2013
پیغامات
79
ری ایکشن اسکور
13
پوائنٹ
57
ملحد مقیم علی کے فراڈ در فراڈ در فراڈ در فراڈ۔۔۔ کا جواب !!!

________________________________19945 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں ___________________

نئے پڑھنے والے بہن بھائی ظاہر ہے واقف نہیں ہوں گے کہ یہ پوسٹ ملحد مقیم علی کی کس پوسٹ کا جواب ہے ___ یہ جواب در جواب کا سلسلہ کب اور کیسے شروع ہوا ___ میں نے ملحد مقیم علی صاحب کے کون کون سے فریبوں کا پردہ کسی وضاحت سے فاش کیا ___ اور اس کے باوجود ملحد مقیم علی بھائی کس ڈھٹائی سے اب تک... خود کو فاتح عالم ظاہر کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں ___

اس سے پہلے کہ نئے پڑھنے والوں کے لیے میں ان پہلوؤں پر روشنی ڈالوں، ملحد مقیم علی بھائی آپ کو ایک compliment دینا چاہوں گی کہ دنیا میں اگر کہیں بے شرمی کا عالمی مقابلہ منعقد ہوا تو آپ گھر بیٹھے ہی اس میں اول آئیں گے۔ پہلی پوسٹ جو آپ "اسلام اور قرآن کی قلابازیاں" کے عنوان سے لے کر آئے، اس کے کمنٹس میں اپنے ساتھ ساتھ ماریہ حیدر اور افضال ثاقب جیسے نامی گرامی ملحدوں کو بھی رسوا کروایا، کیونکہ آپ کے فراڈ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ تب ماریہ حیدر بناء بتائے اور آپ پیپر کا بہانہ کرکے کھسک لیے اور بے چارے افضال ثاقب کو فرار ہونے سے پہلے اگلے پانچ دس منٹ اکیلے رسوا ہونا پڑا۔ حالانکہ آپ کو بتایا بھی گیا کہ پیپر کی رات کوئی ایسی پوسٹ نہیں لگاتا۔ مسلمان اتنے بھولے بھی نہیں ہیں۔ یہ تو لفافہ دیکھ کر خط کا عنوان سمجھ لیتے ہیں، لیکن آپ نے تو جوتیاں اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی اور دوڑ لگا دی۔ دیکھ لیں اس کا نتیجہ۔ ثاقب افضال اور ماریہ حیدر تب سے نایاب ہیں۔

خیر قارئین، ملحد مقیم علی صاحب کی مذکورہ پوسٹ کے جواب میں، میں نے "ملحدوں کی آزمودہ پھکی سے، خود ملحدوں کے پیٹ خراب۔۔۔" کے عنوان سے ایک جوابی پوسٹ اس لیے لکھ ڈالی، کیونکہ یہ کوئی معمولی پوسٹ نہیں تھی، ملحدوں کے سپہ سالار اعظم ملحد امجد حسین کی کاپی پیسٹ کی ہوئی وہ تحریر تھی، جسے ایک لمبے عرصے سے مختلف فورمز پہ کاپی پیسٹ کرکے عوام الناس کو گمراہ کیا جا رہا تھا۔ جبکہ درحقیقت وہ پوری پوسٹ ہی جھوٹ اور فریب کا مکسچر تھی۔ مکی آیات کو مدنی اور مدنی کو مکی بناکر علمی بددیانتی کے ناقابل تسخیر ریکارڈ قائم کیے گئے تھے۔ میری جوابی پوسٹ کو بددیانتی کے مخالف ہر انسان نے بے حد سراہا، بلکہ اب تک اس پہ likes آنا جاری ہیں۔

مگر میری توقع کے عین مطابق یوں رنگے ہاتھ پکڑے جانے اور ذلیل و رسوا ہونے کا بھی ملحدین پر چنداں اثر نہ ہوا۔ اور بس کچھ ہی دن منہ چھپا کر بیٹھے رہنے کے بعد ملحد مقیم علی ڈھیٹ بنے "سارہ خان کی پوسٹ کا جواب" کے عنوان سے ایک پوسٹ لے کر تشریف لے آئے۔ ہم علمی لوگ ٹھہرے۔ اوپر سے تنقید کے عاشق اور حسن ظن کے بھی مارے۔ ایک لفظ طنز یا مزاح کا جو کہا ہو۔ تہہ دل سے ملحد مقیم علی بھائی کو ویلکم کیا۔ اور ان کی پوسٹ اپروو ہوتے ہی دوڑ کر پہنچے۔ لیکن یہ کیا؟ ساری خوش فہمیاں، سارا حسن ظن دھڑام سے ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا۔ ملحد امجد حسین نے ملحد مقیم علی بھائی کے ہاتھ اس سے بھی بڑے فریب بھیج دیئے تھے، جو اندھے کو بھی صاف نظر آجائیں، ہم آنکھیں بند بھی کرلیتے تو کیا فرق پڑ جاتا۔ موصوف نے اپنا گزشتہ فراڈ یہ کہہ کر cover کرنے کی کوشش کی تھی کہ مکی سورتوں سے مراد مکی سورتیں نہیں۔ اور مدنی سورتوں سے مراد مدنی سورتیں نہیں۔

کوئی معمولی سا فہم رکھنے والا بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ ملحدوں کے علامہ کہلانے والے ملحد امجد حسین اتنی بنیادی بات سے ناواقف ہو ہی نہیں سکتے کہ مکی مدنی سورتوں سے صرف اور صرف ایک ہی مراد لی جاتی ہے۔ امجد حسین نے مذکورہ پوسٹ میں فریب کا ایک جال بچھا رکھا تھا، جس نے آخر ان کے گلے کو آنا ہی تھا، سو آگیا۔ اب قلابازی نہ کھاتے تو اپنے ڈونرز سے جوتے ہی کھاتے۔

خیر۔ مذکورہ پوسٹ میں میرے کسی سوال کا بھی جواب دینے میں صاحب تحریر مکمل طور پر عاجز نظر آئے۔ ہاں البتہ میری باتوں کو miscode بڑی مہارت سے کیا گیا تھا۔ مجھے لگا کہ ہوسکتا ہے مجھ ہی سے سمجھانے میں کوئی کمی رہ گئی ہوگی جو مانگا آلو تھا اور بن کے آلو کا پراٹھا آگیا ہے، اس لیے نسبتاً اور آسان الفاظ میں "پھکی در پھکی برائے ملحدین۔۔۔" کے عنوان سے جوابی پوسٹ لکھ دی۔ اس عنوان کے ذریعے درپردہ ملحدین کو یہ پیغام دینا بھی مقصود تھا کہ علامہ امجد صاحب ملحدین کو جو پھکی پہ پھکی دیتے جا رہے ہیں، اس سے ملحدین کو ہی جلاب ہو جانے ہیں، علامہ صاحب سے کہو کوئی ڈھنگ کا جواب دے دیں۔ مگر نہ جناب اس بار تو سوال مشرق اور جواب مغرب والا حساب کردیا ملحد مقیم علی صاحب نے۔ اور "سارہ خان کے دوسرے مضمون کا جواب" کے نام سے جو پوسٹ لے کر آئے ہیں اسے بددیانتی کی عظیم ترین مثال کہنا شاید لفظ بددیانتی کے سے ساتھ بھی بددیانتی ہو۔

موصوف پوسٹ کی ابتداء میں لکھتے ہیں:
**
"سارہ کا مکی و مدنی آیات پر ڈٹے رہنا
اسے کہتے ہیں بھینس کے آگے بین بجانا۔ سارہ کے لیے بات صاف کی تھی کہ اصل ایشو آیات کے مکی مدنی ہونے کا نہیں تھا، بلکہ اصل ایشو پیغمبر کے اس رویے کا تھا کہ جب تک ابتدائی دور میں مسلمان کمزور تھے، اس وقت تک پیغمبر مصالحت اور لااکراہ فی الدین جیسی آیات نازل کرواتے رہے۔ اور جب آخری دور میں طاقت حاصل ہو گئی تو لب و لہجہ بدل گیا اور دھمکیاں اور جبر شروع ہو گیا۔"

** **
جواب: جی ہاں بالکل مقدمہ یہی ہے، جو جھوٹ اور فریب کے سارے ہتھیار استعمال کرکے بھی آپ اب تک سرے سے ثابت ہی نہیں کر پائے۔ جس کا ثبوت ابھی چند لمحوں میں آپ کے سامنے ہوگا۔

اس سے آگے میری باتوں کو out of context کوڈ کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:

** ** **
آیت 2:194 :
سارہ خان پکی بہتان تراشی پر اتری ہوئی ہے اور خامخواہ میں ہم پر 2:194 کے حوالے سے بددیانتی کا الزام لگا رہی ہے۔ یہ ہم نہیں ہیں، بلکہ ابن کثیر ہی ہے جس نے اس آیت کے ذیل میں سب سے پہلے کھل کر لکھا ہے کہ یہ بیعت رضوان کے بعد نازل ہوئی۔ پھر ابن کثیر نے ایک لمبی تفصیل اسکی درج کی ہے۔
اور پھر بالکل آخر میں اس نے ابن عباس کا قول نقل کیا ہے، لیکن یہ اس قول کی تائید کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ ایک طرح سے ابن عباس کے اس قول کا رد کرنے کے لیے تھا، چنانچہ ابن عباس کا قول نقل کرتے ہیں اس نے ابن جریر اور مجاہد کے ذریعے اس قول کی تردید کر دی۔
چنانچہ ابن کثیر کی اپنی رائے بہت صاف ہے کہ یہ آیت بیت رضوان کے بعد نازل ہوئی، اور ہم نے ابن کثیر کے اس فیصلے کو ہی ابن کثیر کے نام سے نقل کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت 2:193 :
پھر سارہ لکھتی ہیں:
//
سورہ بقرہ سن 1 یا 2 ہجری میں نازل ہوئی، جس کی آیت 193 کی بناء پر میں نے یہ قیاس کیا تھا جب اس آیت میں پہلی بار جہاد کا حکم نازل ہوا تو مسلمانوں کی تعداد 100 بھی نہ رہی ہو شاید۔
//
کیا کمال کی چیز ہیں سارہ بھی۔
ہم ابن کثیر کا فیصلہ بالکل صحیح نقل کریں تو یہ ہماری بددیانتی ٹہرے، مگر خود سارہ اپنا "قیاس" پیش کریں تو سب حلال۔ تعجب ہے ایسے دوغلے رویوں پر۔
محترمہ، ہم یہاں آپ کے قیاس سننے نہیں آئے، بلکہ آپ ٹھوس دلیل اور ثبوت سے بات کرنا سیکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت 2:190 :
آگے سارہ چیلنج کر رہی ہیں کہ ہم نے آیت 194 کو پچھلی آیات پر منطبق کر کے انہیں بھی صلح حدیبیہ کے بعد کا وقت بنا دیا۔
پھر وہ آیت 2:190 کے حوالے سے چیلنج کرتی ہیں کہ اس کا وقت ہم ثآبت کریں۔
ہمیں چیلنج کرنے کی بجائے انہیں چاہیے تھا کہ پہلے خود اپنے قیاسات کی جگہ ٹھوس ثبوت پیش کرتیں کہ آیت 193 اور 190 وغیرہ جنگ بدر سے پہلے 1 یا 2 ہجری میں نازل ہوئی ہیں۔ لیکن اپنی حالت تو یہ ہے کہ خود پر یہ سب کچھ معاف رکھتی ہیں، جبکہ دوسرے لوگ صحیح طریقے سے ریفرنسز سے بات کرنے کے باوجود انکی نظر میں بددیانت ہیں۔
آیت 190 کے ذیل میں قرطبی کی رائے پڑھ لیجئے جس نے صاف صاف لکھا ہے کہ یہ آیت عمرۃ القضا کے وقت نازل ہوئی۔
//
تفسیر قرطبی، آیت (2:190)؛
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف عمرہ کے لئے نکلے تھے جب مکہ کے قریب حدیبیہ میں اترے ۔ ۔ ۔ حدیبہ ایک کنویں کا نام ہے ، اس کنویں کے نام کی وجہ سے اس جگہ کو بھی حدیبیہ کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مشرکوں نے آپ کو بیت اللہ کی طرف سے روکا ۔ آپ ایک مہینہ حدیبیہ میں ٹھہرے رہے پھر مشرکوں نے آپ سے صلح کی کہ آپ اس سال واپس لوٹ جائیں جس طرح آئے ہیں آئندہ سال ان کے لئے تین دن مکہ خالی کردیا جائے کردیا جائے گا اور اس شرط پر صلح کی کہ دس سال ان کے درمیان قتال نہ ہوگا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ طیبہ واپس آگئے ۔ جب اگلا سال آیا تو آپ نے عمرہ القصناء کی تیاری کی ۔ مسلمانوں کو کفار کے دھوکا کا خوف ہوا ۔ مسلمانوں نے حرم میں اور حرمت والے مہینہ میں لڑنا ناپسند کیا تو یہ آیت نازل ہوئی ۔ یعنی تمہارے لئے قتال حلال ہے اگر کفار تم سے قتال کریں ۔ یہ آیت حج کے ذکر اور گھروں کے پیچھے سے آنے کے گزشتہ ذکر کے ساتھ متصل ہے ۔

** ** ** **
جواب: اسے ہی کہتے ہیں کہ "آج اپنے دام میں ہی صیاد آگئے۔" یہ جو اتنا لمبا اقتباس میں نے ملحد مقیم علی کی زیربحث پوسٹ سے کاپی کیا سب سے پہلے اس کا "شان نزول" ملاحظہ کیجیے۔

میں نے اپنی سب سے پہلی پوسٹ اور اس کے بعد دوسری پوسٹ میں ملحد مقیم علی کے پیش کردہ مقدمے کا رد سورہ الانفال و دیگر سورتوں کے علاوہ سورہ البقرہ کی 190تا193 آیات کے ذریعے کیا تھا۔ میرا دعویٰ یہ تھا کہ جہاد سے متعلق یہ آیات 1 یا 2 ہجری میں نازل ہوئیں، کیونکہ سورہ البقرہ کے نزول کا زمانہ یہی تھا۔ اور اس زمانے میں اسلامی لشکر کی تعداد شاید 100 بھی نہ ہو۔ لہٰذا مقیم علی کا پیش کردہ مقدمہ سراسر خلاف واقعہ ہے کہ جب مسلمان قلیل تھے تو قتال کی آیات نازل نہیں کروائیں۔ اس کے جواب میں ملحد مقیم علی نے البقرہ:194 جو بیعت رضوان کے وقت نازل ہوئی تھیں، اس کا شان نزول بیان کیا اور ایک بار پھر علمی بددیانتی کا ارتکاب کرتے ہوئے البقرہ 190تا194 سبھی کو اس کے ساتھ لپیٹنے کی کوشش کی۔ جوابی پوسٹ میں جب میں نے ثابت کر دیا کہ وہ شان نزول صرف البقرہ:194 کا تھا اور چیلنج کیا کہ البقرہ:190تا193 کا زمانہ 2 ہجری کی بجائے حدیبیہ کا زمانہ ثابت کرکے دکھائیں تو اب اس پوسٹ میں بات کو گول گول گھما کر مقیم علی نے صرف 190 کا زمانہ نزول حدیبیہ کے بعد کا ثابت کرنے کے لیے تفسیر قرطبی کا ایک اقتباس پیش کیا ہے۔ لیکن اس میں بھی ابتدائی حصہ حذف کرکے انہوں نے کتنی بڑی بددیانتی کی ہے، یہ جاننے کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ 190 کی تفسیر قرطبی کا عربی متن اور ساتھ ہی ساتھ اس کا ترجمہ:

وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُوۤاْ إِنَّ ٱللَّهَ لاَ يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ o
ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں ان سے قتال کرو جو تم سے قتال کرتے ہیں لیکن زیادتی نہ کرنا کیونکہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

فيه ثلاث مسائل:
یعنی: اس میں تین مسائل ہیں۔

الأولى: قوله تعالى: { وَقَاتِلُواْ } هذه الآية أوّل آية نزلت في الأمر بالقتال؛ ولا خلاف في أن القتال كان محظوراً قبل الهجرة
یعنی:
پہلا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: { وَقَاتِلُواْ } : اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ہجرت سے پہلے ان (درج ذیل) ارشادات کی وجہ سے قتال ممنوع تھا۔
بقوله:
{ ٱدْفَعْ بِٱلَّتِي هِيَ أَحْسَنُ o ترجمہ: دور رہو اس چیز سے جو بہت بہتر ہے } [فصلت: 34]
وقوله:
{ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱصْفَحْ o ترجمہ: معاف کرتے رہو اور درگزر کرو } [المائدة: 13]
وقوله:
{ وَٱهْجُرْهُمْ هَجْراً جَمِيلاً o ترجمہ: اور ان سے الگ ہوجایئے بڑی خوبصورتی سے } [المزمل: 10]
وقولِه:
{ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمصَيْطِرٍ o ترجمہ: آپ ان کو جبر سے منوانے والے تو نہیں ہیں } [الغاسية: 22]

وما كان مثله مما نزل بمكة. فلما هاجر إلى المدينة أُمِر بالقتال فنزل:
یعنی:
اور اس قسم کے دوسرے ارشادات جو مکہ میں نازل ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو آپ کو قتال کا حکم دیا گیا۔ یہ ارشاد نازل ہوا: { وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ o ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں ان سے قتال کرو جو تم سےقتال کرتے ہیں }

قاله الربيع بن أنس وغيره. وروي عن أبي بكر الصدّيق أن أوّل آية نزلت في القتال:
یعنی:
یہ ربیع بن انس وغیرہ کا قول ہے، جبکہ ابوبکر صدیق سے مروی ہے کہ قتال کے بارے میں پہلی آیت یہ نازل ہوئی: { أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُواْ o ترجمہ: قتال کی اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن سے قتال جاری ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں } [الحج: 39].

والأوّل أكثر، وأن آية الإذن إنما نزلت في القتال عامّةً لمن قاتل ولمن لم يقاتل من المشركين؛
یعنی:
اور پہلا قول (ربیع بن انس والا) زیادہ ہے۔ اذن والی آیت (الحج39) عام مثال کے بارے میں نازل ہوئی کہ مشرکین سے جو قتال کرے اور جو نہ کرے سب سے قتال کا اذن ہوا۔

((((( تفسیر کے اب تک کے ترجمے سے یہ پتا چلتا ہے کہ قرطبی کے نزدیک البقرہ 190 حدیبیہ کے بعد نہیں، بلکہ تب نازل جب حضور علیہ السلام نے مدینے کی طرف ہجرت کی، یعنی ہجرت کے دوران۔ ربیع بن انس وغیرہ کا بھی یہی قول ہے، جو زیادہ لیا گیا ہے۔ جبکہ صدیق اکبر کا قول یہ ہے کہ پہلے الحج 39 نازل ہوئی۔ تو طے یہ ہوا کہ تفسیر کا درج بالا حصہ ملحد مقیم علی نے اسی لیے حذف کیا تھا تاکہ دال آسانی سے گل جائے، مگر یہ بکریاں ہم نے چرائی ہوئی ہیں
:) اب آیئے تفسیر میں آگے دیکھیے کیا لکھا ہے)))))

وذلك أن النبيّ صلى الله عليه وسلم خرج مع أصحابه إلى مكة للعُمْرة، فلما نزل الحُدَيْبِيَة بقُرب مكة ـ والحُدَيْبِيَةُ ٱسم بئر، فسُميَ ذلك الموضع بٱسم تلك البئر ـ فصدّه المشركون عن البيت، وأقام بالحُدَيْبِيَة شهراً، فصالحوه على أن يرجع من عامه ذلك كما جاء؛ على أن تُخْلَى له مكة في العام المستقبل ثلاثة أيام، وصالحوه على ألا يكون بينهم قتال عشر سنين، ورجع إلى المدينة. فلما كان من قابل تجهّز لعُمْرة القضاء، وخاف المسلمون غدر الكفار وكرهوا القتال في الحَرَم وفي الشهر الحرام، فنزلت هذه الآية:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف عمرہ کے لئے نکلے تھے جب مکہ کے قریب حدیبیہ میں اترے۔ حدیبہ ایک کنویں کا نام ہے، اس کنویں کے نام کی وجہ سے اس جگہ کو بھی حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ مشرکوں نے آپ کو بیت اللہ کی طرف سے روکا۔ آپ ایک مہینہ حدیبیہ میں ٹھہرے رہے پھر مشرکوں نے آپ سے صلح کی کہ آپ اس سال واپس لوٹ جائیں جس طرح آئے ہیں آئندہ سال ان کے لیے تین دن مکہ خالی کردیا جائے گا اور اس شرط پر صلح کی کہ دس سال ان کے درمیان قتال نہ ہوگا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ واپس آگئے۔ جب اگلا سال آیا تو آپ نے عمرہ القصناء کی تیاری کی۔ مسلمانوں کو کفار کے غدر کا خوف ہوا۔ مسلمانوں نے حرم میں اور حرمت والے مہینہ میں لڑنا ناپسند کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: { أي يحلّ لكم القتال إن قاتلكم الكفار o ترجمہ: یعنی تمہارے لیے قتال حلال ہے اگر کفار تم سے قتال کریں }

((((( اب اصل بات سمجھ آئی آپ کو کہ تفسیر کا ابتدائی حصہ حذف کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی مقیم علی کی پوسٹ لکھنے والے کو؟؟ مفسر نے ہجرت کے دوران جس آیت کے نزول کی بات کی، وہ آیت تھی البقرہ 190، جبکہ عمرہ قضا کے موقع پر جو آیت نازل ہوئی اس سے مراد البقرہ 194 تھی۔ ابن کثیر نے البقرہ 194 کا شان نزول یہی لکھا ہے کہ جب حضور علیہ السلام حدیبیہ سے لوٹ آئے، تب یہ آیت نازل ہوئی، یعنی صلح حدیبیہ اور عمرہ قضا کے درمیان، کیونکہ اس کا نسخ سورہ التوبہ:5 اور سورہ التوبہ:36 کو بتایا گیا ہے، جن میں پھر سے حرمت کے مہینوں میں لڑنے کی ممانعت نازل ہوگئی۔ ملاحظہ ہو اسی تفسیر کی اگلی ہی سطر میں اس کا ثبوت )))))

فالآية متصلة بما سبق من ذكر الحج وإتيان البيوت من ظهورها، فكان عليه السلام يقاتل من قاتله ويَكُفّ عمن كَفّ عنه، حتى نزل { فَٱقْتُلُواْ ٱلْمُشْرِكِينَ } [التوبة: 5] فنسخت هذه الآية؛ قاله جماعة من العلماء. وقال ٱبن زيد والربيع: نسخها
{ وَقَاتِلُواْ ٱلْمُشْرِكِينَ كَآفَّةً } [التوبة: 36]
یعنی:
یہ آیت حج کے ذکر اور گھروں کے پیچھے سے آنے کے گزشتہ ذکر کے ساتھ متصلہ ہے۔ (یاد رہے کہ گزشتہ سے پیوستہ نہیں، متصلہ ہے۔) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے جنگ کرتے تھے جو آپ سے جنگ کرتا تھا اور اس سے جنگ نہیں کرتے تھے جو آپ سے جنگ نہیں کرتا تھا۔ حتیٰ کہ التوبہ: 5 نازل ہوئی۔ پس یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ یہ علماء کی جماعت کا قول ہے۔ اور ابن زید و ربیع کہتے ہیں اسے التوبہ: 36 نے منسوخ کیا۔

اور دلچسپ بات یہ کہ ابن کثیر کی جو تفسیر ملحد مقیم علی بھائی نے اوپر پیش کی، وہ بھی یہی کہتی ہے کہ البقرہ:190 مدینے میں نازل ہوئی: "حضرت ابو العالیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے۔"

امام قرطبی علیہ رحمہ ملحد نہیں تھے مقیم علی صاحب جو البقرہ:190 کی تفسیر کی ابتداء میں خود ہی لکھنے کے بعد کہ یہ آیت ہجرت کے وقت نازل ہوئی، یہ بھی لکھ دیتے کہ یہ حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ لیکن الحمد اللہ میں بھی ایک مسلمان ہوں، اس لیے تفسیر قرطبی و ابن کثیر سے آپ کا رد کرنے کے باوجود بھی یہ دعویٰ نہیں کروں گی کہ سبھی مفسرین نے البقرہ:190 کا زمانہ نزول ہجرت ہی لکھا ہے۔ بعض نے سیدنا صدیق اکبر کا قول بھی لیا ہے، جیسے مفتی تقی عثمانی، لیکن انہوں نے پھر الحج:39 کو مکی لکھا ہے، جو آپ کے مقدمے کے لیے اس سے بھی سنگین موت ہے۔

بے شک ہر دو طرح کی تفاسیر آپ کے مقدمے کا رد ہیں، لیکن بہرحال ہمارے سامنے آراء بھی چونکہ 2 ہی ہیں، اس لیے انصاف کا تقاضا یہی بنتا ہے کہ کسی ایسی دلیل سے فیصلہ کیا جائے جو ہر لحاظ سے ناقابل تردید ہو۔ اور وہ دلیل ہے غزوہ بدر !!!

جی ہاں ہم سب جانتے ہیں کہ مکی زندگی میں جہاد کی اجازت نہیں تھی، بلکہ چھوڑ دینے، درگزر کر دینے جیسی تعلیمات موجود تھیں۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہجرت کے دوسرے سال ہی غزوہ بدر واقع ہوئی۔ اور اس سے پہلے کے سریات کا ذکر بھی ہمارے سامنے ہے۔ لہٰذا اس 1 یا 2 کے عرصے کے اندر اندر ہی جہاد کا حکم کہیں نہ کہیں نازل ہونا ضروری ہے، ورنہ مسلمان قتال پہ آمادہ کیسے ہوتے؟ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ 1 یا 2 ہجری سورہ البقرہ کا ہی سن نزول ہے تو لامحالہ سورہ البقرہ:190 اگر ہجرت کے وقت نازل نہ بھی ہوئی ہوئی تو کم سے کم اس کا سریہ اول سے پہلے ہی نازل ہونا لازم اور صرف لازم ہی ہے۔ اس لیے جیسا کہ ربیع بن انس نے فرمایا، ہمیں بھی مان لینا چاہیے کہ البقرہ:190 ہی وہ آیت ہے۔ امام قرطبی بھی اسے ہی زیادہ کہتے ہیں۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، اب بھی کہہ رہی ہوں کہ اس وقت اسلامی لشکر کی تعداد 100 بھی نہیں ہوگی شاید۔

پس ان ناقابل تردید عقلی و نقلی شہادتوں کے سامنے آجانے کے بعد آپ کا قائم کردہ یہ مقدمہ (کہ ابتدائی دور میں مسلمان کمزور تھے، اس وقت تک پیغمبر مصالحت اور لااکراہ فی الدین جیسی آیات نازل کرواتے رہے۔ اور جب آخری دور میں طاقت حاصل ہو گئی تو لب و لہجہ بدل گیا اور دھمکیاں اور جبر شروع ہو گیا) ایک بار پھر سراسر جھوٹ ثابت ہوتا ہے۔ دنیا کی کسی بھی عدالت میں اس قدر فریب پر مبنی دعویٰ اس سے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔ امید ہے اب آپ گٹر گروپ میں جاکر ایسی کوئی پوسٹ نہیں لگائیں گے کہ پیپرز کے بعد کوئی مسلمان آپ کے سامنے ٹک نہیں سکا۔ اس پوسٹ میں جو کچھ میں نے لکھا، یہ وہی سب ہے جو میں آپ کی جوابی پوسٹ کے کمنٹس میں آپ سے ہزار بار کہتی رہی اور آپ ٹرولنگ کرتے رہے۔

باقی مقیم علی کی تمام پوسٹس پہ مسلمانوں نے جو ان کی درگت بنائی اور جس طرح یہ ٹرولنگ کرتے رہے، مقیم علی بھائی کی تمام پوسٹس کے درج ذیل لنکس پر جاکر کمنٹس میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر لنک کام نہ کرے تو سمجھ لیجیے گا کہ آپ آپریشن ارتقائے فہم و دانش کے ممبر نہیں ہیں۔ گروپ جوائن کرلیجیے گا۔ لنک کام کرنے لگیں گے:

https://m.facebook.com/groups/186560831534965?view=permalink&id=598624796995231&ref=bookmarks
https://m.facebook.com/groups/186560831534965?view=permalink&id=600082256849485
https://m.facebook.com/groups/186560831534965?view=permalink&id=600567406800970&ref=bookmarks
علاوہ ازیں میری گزشتہ جوابی پوسٹ کا ملحد مقیم علی بھائی کی ان سطور میں زیربحث پوسٹ میں کہیں کوئی جواب موجود نہیں۔ ہمیشہ کی طرح میری باتوں کو out of context کوڈ کرکے اپنا الو سیدھا کیا گیا ہے۔ بطور ثبوت اس سلسلے میں میری لکھی ہوئی تمام پوسٹس درج ذیل لنکس پر دیکھی جاسکتی ہیں:

https://m.facebook.com/groups/186560831534965?view=permalink&id=598968800294164&ref=content_filter
https://m.facebook.com/groups/186560831534965?view=permalink&id=600447766812934&ref=bookmarks
و آخر دعونا ان الحمد اللہ رب العالمین !!!
ماشااللہ ناصر رانا بھائی اللہ آپ کو جزائے خیر دے
 
Top