• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرات پر خاموشی اس پر رضامندی کی دلیل ہے

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
94
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
21
منکرات پر خاموشی اس پر رضامندی کی دلیل ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ عبدالرحمن بن حسن رحمہ اﷲ نے کہا ہے کہ ہمارے شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اﷲ فرماتے ہیں:

واقدی نے لکھا ہے کہ خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب العارض گئے تو دو سو فارس ان کے سامنے لائے گئے انہوں نے مجاعہ بن مرارہ کو تیرہ افراد سمیت پکڑ لیا جو کہ بنو حنیفہ میں سے تھے خالد رضی اﷲ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تم اپنے ساتھی مسیلمہ کذاب کے بارے میں کیا کہتے ہو؟انہوں نے کہا وہ اﷲ کا رسول ہے۔ خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سب کی گردنیں کاٹ دیں صرف ساریہ بن عامر رہ گیا اس نے کہا خالد اگر تم اہل یمامہ کی بہتری چاہتے ہو تو مجاعہ کو چھوڑ دو مجاعہ معزز آدمی تھا خالد رضی اﷲ عنہ نے اس کو اور ساریہ کو زندہ چھوڑ دیا قتل نہیں کیا مگر دونوں کو قید کرلیا اور لوہے کے طوق انہیں پہنا دئیے گئے۔

پھر خالد رضی اﷲ عنہ مجاعہ کو بلاتے اس سے پوچھتے کہ مسیلمہ کہاں ہے ؟ مجاعہ کا خیال تھا کہ خالد مجھے بھی قتل کردے گا تو اس نے خالد رضی اﷲ عنہ سے کہا کہ میرا بھی اسلام ہے یعنی میں بھی مسلمان ہوں میں نے کفر نہیں کیا خالد رضی اﷲ عنہ نے کہا قتل اور رہائی کے درمیان ایک درجہ بھی ہے وہ ہے قید جب تک کہ اﷲ ہمارے تمہارے معاملے کا کوئی فیصلہ نہیں کرتا (تم قید رہو گے) پھر مجاعہ کو اس کی بیوی ام متمم کے حوالے کرکے تاکید کی کہ قید کے دوران اس کا اچھی طرح خیال رکھو ۔

مجاعہ سمجھا کہ خالد مجھے اس وقت تک قید رکھے گا جب تک میں مسیلمہ کا ٹھکانہ اور پتہ نہ بتادوں اس نے خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے کہا کہ تم جانتے ہو کہ میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ان کے ہاتھ پر میں نے بیعت کی تھی میں آج بھی اس بیعت پر قائم ہوں اگر ہماری قوم میں سے کسی جھوٹے نے نبوت کا دعویٰٰ کیا ہے تو اﷲ کا فرمان ہے کہ : ﴿ وَلَا تَزِرُوْازِرَةٌ وِزْرَ اُخْرَی ﴾’’ ایک کا گناہ کوئی دوسرا نہیں اٹھاتا‘‘ (انعام: ۱۶۴)

خالد رضی اﷲ عنہ نے کہا تم نے آج وہ مذہب چھوڑ دیا جس پر تم کل تھے۔ اس کذاب کے بارے میں تمہاری خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ تم اس کے عمل سے راضی ہو حالانکہ تم یمامہ کے معزز ترین لوگوں میں سے ہو تم اس جھوٹے نبی کا اقرار کرتے ہو اور اس کی شریعت پر راضی ہو کیا تم نے کوئی عذر پیش کیا ہے ؟ کوئی بات ہم سے کی ہے ؟ ثمامہ رضی اﷲ عنہ نے اکیلے بات کرلی اور اس کذاب کا انکار کیا ، یشکری نے بات کی ہے اگر تم اپنی قوم سے ڈرتے تھے تو میرے پاس کیوں نہیں آئے یا میرے پاس کوئی پیغام کیوں نہیں بھیجا؟

اس واقعہ سے ثابت یہ کرنا ہے کہ خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مجاعہ کی خاموشی کو مسیلمہ کذاب کی شریعت پر رضامند تصور کیا اقرار وتائید قرار دیا ۔ ان لوگوں کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو رضامندی کا اظہار کرتے ہیں ساتھ دیتے ہیں مدد وتعاون کرتے ہیں مشرکین کے ساتھ طاغوت کے ساتھ بیٹھتے ہیں طاغوتوں کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں؟

(مجموعۃ الرسائل والمسائل النجدیۃ: ۴/۲۹۳،۲۹۲)
 
Top