• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منہج سلف

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
428
پوائنٹ
198
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے منہج اور فہم کو جماعت حقہ کی پہچان قرار دیاہے ۔
عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے ‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ میری امت ۷۳ فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، سوائے ایک جماعت کے سب دوزخ میں جائیں گے، عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ کونسا گروہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((ما انا علیہ واصحابی))’’ یہ وہ جماعت ہوگی جو اس راستے پر چلے گی جس پر میں اور میرے صحابہ fہیں۔‘‘ (ترمذی :۲۵۶۵)
اس حدیث میں یہ اشارہ بھی ہے کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طریق صحابہ رضی اللہ عنہم بھی قیامت تک محفوظ رہے گا کیونکہ جو چیز محفوظ نہ ہو وہ قیامت تک نجات پانے والے گروہ کی نشانی کیسے بن سکتی ہے ؟ ۔اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام اور ان کے بعد آنے والے اسلاف کی پیروی کی تلقین فرمائی ہے ۔
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم میرے بعد شدید اختلاف دیکھو گے۔ اس وقت تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا ۔ اس پر مضبوطی سے جمے رہنا، دین میں نئے پیدا ہونے والے امور سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے‘‘ (ابن ماجۃ :۴۷)
معلوم ہوا فتنوں کے ظہور کے وقت بچائو صرف اور صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء راشدین کی سنت اختیار کرنے میں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میرے صحابہ کے طریقہ پر عمل کر کے میری سنت کی حفاظت کرو پھر تابعین اور تبع تابعین کے طریقہ پر چلو پھر اس کے بعدجھوٹ پھیل جائے گا‘‘۔(ابن ماجہ کتاب الاحکام :۲۳۶۳)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میری امت میں بہترین زمانہ میرا ہے، پھر اس کے بعد والا( تابعین کا) زمانہ، پھر اس کے بعد والا (تبع تابعین کا)زمانہ، پھر ایسی قومیں پیدا ہونگی جو بغیر مطالبے کے جھوٹی گواہیاں دیں گی اور خیانت کریں گی، اس لیئے انہیں امین نہیں بنایا جائے گا اور ان میں موٹا پا عام ہو جائے گا‘‘۔(مسلم:۲۵۳۵۔ ترمذی : ۱۸۱۰)
ان آیات و احادیث سے یہ بات واضح ہے کہ فہم دین کے حوالے سے ابتدائی تین زمانوں میں جو کچھ سمجھا اور سمجھایا گیا وہ بالکل حق ہے۔ بعد والوں کو اب انہی کے پیچھے کھڑے ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
﴿ اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۝۳ ﴾(الاعراف:۳)
’’ لوگو جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اس کی اتباع کرو اور اس کے علاوہ دوسرے سرپرستوں کی اتباع نہ کرو۔تھوڑی ہی تم نصیحت مانتے ہو۔‘‘
اس آیت کا یہ مفہوم نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کافہم حجت نہیں ہے۔یاد رکھئے قرآن و سنت کو صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا اور تابعین نے صحابہ کرام سے زیادہ سیکھا۔ صحابہ و تابعین سے بہتر کیاکوئی اور قرآن و سنت کو سمجھ سکتا ہے ؟ یقینا نہیں ۔لہٰذا قرآن و سنت کا وہی مفہوم معتبر ہو گا جو صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین نے متعین کیا ۔سلف کے مقابلے میں بعد والوں کے فہم کی کوئی حیثیت نہیں۔ سلف کا فہم ہی وہ سبیل المؤمنین ہے جس پر چلنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے:
﴿وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُدٰى وَيَتَّبِـعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ۝۰ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۝۱۱۵ۧ ﴾ (النساۗء:۱۱۵)
’’جو شخص ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کی راہ چھوڑ کر اور راہ اختیار کرے، تو ہم اسے ادھر ہی پھیر دیتے ہیں جدھر کا اس نے رخ کیا، پھر اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین ٹھکانہ ہے۔‘‘
اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کے ساتھ مؤمنوں کی راہ پر نہ چلنا بھی جہنم میں جانے کا سبب بتایا۔
محدث البویطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’میں نے امام شافعی کو یہ فرماتے سنا کہ اصحاب الحدیث کا دامن مت چھوڑو اس لیے کہ وہ سب سے زیادہ درست بات کہنے والے ہیں۔‘‘ (تاریخ حدیث و محدثین ص ۴۰۱)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں :
’’سنت کے احوال ہمارے ہاں یہ ہیں کہ ہر وہ امر جس پر اصحاب رسول اللہ تھے، اس سے چمٹ کر رہا جائے، ان کی اقتداکی جائے اور نئی ایجادات کو ترک کیا جائے کیونکہ ہر نئی ایجاد بدعت و ضلالت ہے ‘‘۔(شرح اصول السنۃ والجماعۃ للالکائی ۱/۱۵۶)
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’سنت کی راہ پر جمے رہو ۔ان پہلوں کے قدم جہاں رک گئے ہوں، وہاں تم بھی ضرور رک جائو ۔جس بات کے وہ قائل ہوئے ہیں، تم بھی اسی بات کے قائل رہو ۔ جس بات سے وہ خاموش رہے ہوں، تم بھی اس سے خاموش رہو، چلو تو اپنے ان سلف صالحین کی راہ پر چلو ‘‘۔(شرح اصول السنۃ والجماعۃ للالکائی ۱/۱۵۴)
قوام السنہ ،امام اسماعیل بن محمد الاصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں’’علم کثرت روایت کا نام نہیں،بلکہ علم تو اتباع اور اقتداء کا نام ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام کی پیروی کرو،اگرچہ علم تھوڑا ہی ہو اور جوشخص صحابہ و تابعین کی مخالفت کرے وہ گمراہ ہے اگرچہ زیادہ علم والا ہی ہو‘‘(الحجہ فی بیان المحجہ لابی القاسم الاصبہانی۴۶۹۔۲)
ابو محمد عبداللہ بن زیدقیروانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’سنتوں کو تسلیم کرنا عقل و قیاس کے خلاف نہیں ۔سنن کی جو تفسیر سلف صالحین نے کی ہے، ہم وہی کریں گے اور جس پر انہوں نے عمل کیا ،اسی پر ہم عمل کریں گے اور جس کو انہوں نے چھوڑا، ہم بھی چھوڑدیں گے ۔ہمیں یہی کافی ہے کہ وہ جس چیز سے رک گئے، اس سے ہم رک جائیں اور جس چیز کو انہوں نے بیان کیا،اس میں ہم ان کی پیروی کریں اور جو انہوں نے استنباط اور اجتھاد کیا، اس میں ان کی اقتداء کریں ،جس چیز میں ان کا اختلاف ہے اس میں انکی جماعت سے نہ نکلیں(کوئی نیا مذہب نہ نکالیں،بلکہ اختلافی صورت میں ان میں سے ہی کسی ایک کا مذہب قبول کریں)۔تمام وہ چیزیں جو ہم نے ذکر کی ہیں، وہ اہل سنت اور فقہ و حدیث کے ائمہ کے اقوال ہیں۔(الجامع: ۱۱۷)
حافظ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ (ابن ابی زمنین) رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’جان لیں کہ سنت قرآن کریم کی دلیل ہے۔سنت کو قیاس اور عقل کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ وہ تو ائمہ کرام اور جمہور امت کے طریقے کی اتباع کا نام ہے (کتاب اصول السنۃ لابی ابن زمنین :۱)
امام آجری رحمہ اللہ(م۳۶۰ھ) فرماتے ہیں :
’’جن لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے ،ان کی علامت اللہ عزوجل کی کتاب ،رسول اللہ کی سنتوں اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اور ان کے پیروکاروں کے آثار کی اتباع کرنا ہے ‘نیز وہ اس راستے پر چلتے ہیں جس پر ہر علاقے کے ائمہ مسلمین اور اب تک کے علمائے کرام ،مثلاً امام اوزاعی ،امام سفیان ثوری ،امام مالک بن انس ،امام شافعی ،امام احمد بن حنبل ،امام قاسم بن سلام رحمہم اللہ اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے اہل علم چلے اور وہ ہر اس طریقے سے بچتے ہیں جسے ان علمائے کرام نے اختیارنہیں کیا۔‘‘(الشریعۃ للآجری:۱۴)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’ہر وہ قول جس میں بعد والا متقدمین سے منفرد ہو،اس سے پہلے وہ قول کسی نے نہ کہا ہو، وہ یقینا غلط ہو گا۔‘‘
(مجموع فتاویٰ لابن تیمیہ ۲۱۔۲۹۱)
حافظ عبداللہ روپڑی محدث رحمہ اللہ (متوفی۱۳۸۴ھ) فرماتے ہیں: ’’خلاصہ یہ کہ ہم تو ایک ہی بات جانتے ہیں وہ یہ کہ سلف کا خلاف جائز نہیں ‘‘(فتاویٰ اہل حدیث ج۱ص۱۱۱)
 

جوش

مشہور رکن
شمولیت
جون 17، 2014
پیغامات
621
ری ایکشن اسکور
320
پوائنٹ
127
اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کسی کمی وبیشی ہی صحابہ کرام کا منہج تھا ۔ صحیح روایت ہے کہ ایک مرتبہ عمر فاروق رض نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے نزدیک میرے گھر کے ہر فرد سے عزیز ہیں لیکن میرے نفس سے عزیز نہیں ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :عمر ابھی تمہارا ایمان مکمل نہیں ہے جب تک میں تمہارے نفس سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاوں۔ عمر فاروق نے فورا کہا اب آپ میرے نفس سے بھی زیادہ عزیز ہیں یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :الان انت یا عمر اے عمر اب تمہرا ایمان مکمل ہوا ۔ ۔۔ یہ حدیث موجودہ مسلمانوں کے لئے مقام عبرت ہے ۔کہ جس نے حدیث پر اپنی نظریات کو ترجیح دیا اس کا ایمان سلامت نہیں ۔اللہم احفظنا من کل بلاء الدنیا وعذاب الاخرۃ۔
 
Top