• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا حضرت سلفی : حیات و خدمات

شمولیت
فروری 14، 2018
پیغامات
29
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
36
مفتی منصور عالم سلفی
مولانا محمد حضرت سلفی مصلح قوم وملت ، رہنمائے دانش کدہ ، شیر شاہ آبادی سماج ومعاشرہ کے معمار ، تعلیم وتربیت سے لبریز مدرس ومربی، امر بالمعروف والنھی عن المنکرکے داعی ، دینی جلسوں ومحفلوں کی روشن قندیل تھے ،جن کا حال ہی میں انتقال ہوا۔
آپ کی پیدائش نیپال کے ششوا بستی میں ہوئی ۔آپ نے ابتدائی تعلیم دارالہدی بابوان سے حاصل کی، ایک سال مدرسہ نورالاسلام جلپاپور اس کے بعد احمدیہ سلفیہ دربھنگہ چلے گئے اور اپنی تعلیمی سفر مکمل کیا ۔ آپ کے مشہور اساتذہ میں مولانا خلیل الرحمان سلفی رحمتہ اللہ مولانا محمد حسین سلفی رحمتہ اللہ مولانا عبدالرحمن رحمتہ اللہ اور احسان اللہ سلفی قابل ذکر ہیں دربھنگہ میں مولانا شمس الحق ڈاکٹر عبدالحفیظ سلفی رحمتہ اللہ وغیرہم ۔
1971میں اسلامیہ ہائی اسکول بسمتیہ ارریہ بہار میں پرنسپل بحال ہو ئے 1975 میں ایمرجنسی لگی اور بند ہوگیا 1976 میں مدرستہ الاصلاح رام نگر بھوٹہا کے ذمہ داران کی کوشش سے وہاں بحیثیت صدرمدرس بحال ہو ئے اور عمر کے اخیر تک وہیں رہے اس دوران دس صدر جامعہ رہے طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے ذمہ داری سے سبکدوش ہو گئے ۔
آپ کے مشہور شاگردوں میں ڈاکٹر عبدالخالق ندوی بابوان، ماسٹر اکرام الحق پٹروا، ڈاکٹر عمران انصاری چائلڈ اسپیشلسٹ بھوکراہا، مولانا حسن حبیب فلاحی علیگ ،مولانا ذوالفقارعلی فلاحی علیگ، مولانا نظرالحسن فلاحی، مولانا خورشید عالم اصلاحی جامعی، ڈاکٹر شمیم قمرفلاحی ، ڈاکٹر محی الدین فلاحی لالپور، پروفیسر نظام الدین فلاحی، پروفیسر عمر علی فلاحی اس طرح سینکڑوں کی تعداد ہیں ۔ مولانا کے شاگرد سرکاری غیر سرکاری ملک بیرون ملک کے اونچے عہدوں پر فائز ہیں الحمداللہ ۔
مولانا کا دعوتی واصلاحی دائرہ کار سنسری ضلع تھا زیادہ تر سنسری اور مورنگ ضلع میں کام کیا ۔علاقے کے ہر خطے میں آپ کے خطابات ہوتے رہے ۔آپ کی کوششوں کے نتیجے میں بریلویوں کی اصلاح ہوئی، بریلوی گھرانے میں فلاحی اصلاحی تیار ہوئےجو معتدل عالم ہیں۔ بھوٹہا گھسکی بھوکراہا علاقے میں صحیح العقیدہ مسلمان ہوئے ،منہج سلف کے ماننے والے تیار ہوئے ۔
ان کی شاندار ،جاندار اور زوردار مقفع ومسجع عبارت ، مربوط اردو جملے ہمیں یاد آتے ہیں تو بے ساختہ یہ کہنے پہ مجبور ہوتاہوں کہ " تو تھا تو گھٹا ٹوپ بادلوں میں چودھویں کا چاند تھا "
اکثر جلسوں میں ان کے ساتھ رہنے کے سبب کچھ سیکھنے کا موقع اللہ تعالٰی نے عنایت فرمایا ، پنچایتی کرنے کا گر اور ہنر ملا ۔
قوم وملت کی فلاح و بہبودی اور اس کی اصلاح کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے تھے ۔ گزشتہ ۱۸/ ستمبر ۲۰۲۲ء کی ٹاپو گیر پیمانے پر منعقدہ اصلاحی ومشاورتی میٹنگ میں شریک نہ ہوپانے کا اتنا زیادہ انہیں قلق تھا کہ انہوں نے اپنے فرزند کے ہاتھوں بستر مرض میں رہنے کے باوجود چند مربوط جملے تحریر فرماکر ال ٹاپو تنظیم اصلاح معاشرہ کے نام ارسال کردیئے ، مولانا لکھتے ہیں "" آج ٹاپو کی سرزمین زنا، زنابالجبر ، بے پردگی عام ہے اور قتل وغارت گری مخلوط برادریوں کے درمیان، ملت کی معصوم بیٹیوں کی عصمت دری اور اغوا آئے دن ہورہا ہے ۔"" اس وقت گرچہ میں بستر مرض پر ہوں لیکن فکری وروحانی طورپر اس مہم میں آپ حضرات کے ساتھ ہوں "" سبحان اللہ
جاتے جاتے اپنا نشان چھوڑ گئے ۔
مولانا قوم وملت کادرد اپنے سینے میں سدا رکھتے تھے ، علماء وفضلا کرام کی حوصلہ افزائی ہرحال میں فرماتے ، بلند حوصلہ کے لئے اپنی تحریر کے اخیر اخیر میں یہ لکھ گئے:
اولوالعزمان دانشمند جب کرنے پہ آتے ہیں۔
سمندر پاٹتے ہیں کوہ سے دریا بہاتے ہیں۔
 
Top