• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا عبدالمالک مجاہد کی آپ بیتی

شمولیت
دسمبر 22، 2013
پیغامات
146
ری ایکشن اسکور
115
پوائنٹ
49
دارالسلام ٹرسٹ کے زیر انتظام عرصہ ۵ سال سے واربرٹن سٹی میں اس سسٹم کے تحت تین مساجد (جامع مسجد ریاض الاسلام، مسجد فاران اور مسجد ریاض الجنتہ) میں کام ہو رہا ہے۔ ان مساجد میں چھ کلاسیں اور ۱۲۰ طلباء حفظ و مڈل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
اب تک ۵۷ طلباء حفظ و مڈل کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
دارالسلام حفظ و مڈل سکول سسٹم کے تحت شیخوپورہ سٹی، ننکانہ سٹی اور شرقپور سٹی میں ابتدائی طور پر اسکول شروع کیا گیا ہے ۔ یہ منصوبہ بڑا منفرد اور تربیتی اعتبار سے عظیم الشان ہے۔
الرحمہ انسٹیٹیوٹ
واربرٹن سابقہ ضلع شیخوپورہ اور موجودہ ضلع ننکانہ کا ایک تاریخی قصبہ ہے جو ہر مذہب و مسلک سے وابستہ لوگوں کا مسکن ہے۔ تمام مذاہب و مسالک کے لوگ اپنے اپنے اسلوب کے مطابق دینی و تبلیغی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اس قصبے میں خالص کتاب و سنت کے حاملین بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو شروع ہی سے انفرادی طور پر تعلیم و تعلم اور دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے تھے۔
اسی دعوتی و تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے دسمبر ۲۰۰۲ء میں واربرٹن کے چند مخلص احباب نے پروگرام بنایا کہ ۲۰۰۹ء میں طلبہ کے لیے بھی ریلوے اسٹیشن واربرٹن کے عقب میں چھوٹی سی مسجد ریاض الجنہ کے اندر ’’الرحمہ ٹرسٹ‘‘ کے زیر انتظام ’’الرحمہ انسٹیٹیوٹ‘‘ کے نام سے شعبہ علوم اسلامیہ کا آغاز کر دیا جائے۔ چنانچہ اب الحمد اللہ ’’روشنی جنرل ہسپتال‘‘ واربرٹن کے عقب میں ایک شاندار عمارت میں اسے منتقل کر دیا گیا ہے۔
’’الرحمہ انسٹیٹیوٹ‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے بڑی اچھی شہرت سے نوازا ہے۔ اس وقت انسٹیٹیوٹ سے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کے دُور دراز علاقوں کے طلبہ بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ ان تمام تعلیمی اداروں میں ۳۰۰ بیرونی طلبہ و طالبات رہائش پذیر ہیںجن کے قیام و طعام اور علاج معالجہ کا انتظام نہایت احسن انداز میںکیا جا رہا ہے۔ یہاں میٹرک سے ایم۔اے تک تعلیم کا بندوبست ہے۔
دارالسلام ۔امت کا اثاثہ
آج میں پوری دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ دارالسلام جو ایک کیلی گرافر کا خواب تھا۔ اب امت کا اثاثہ بن گیا ہے اور اس اثاثے کا اصلی سرمایہ ہمارے سکالرز اور علماء ہیں۔ پروفیسر یحییٰ صاحب ۷۵ سال کی عمر میں جب یہ کہتے ہیں کہ یہاں آ کر تھکاوٹ نہیں ہوتی روزانہ بے حد خوشی ہوتی ہے۔ ان جیسے اہل علم کا اکرام اور احترام مجھ پر اور میری پوری ٹیم پر واجب ہے۔ سارے کام کرنے والوں کی پذیرائی اور عزت افرائی ہمیشہ میرے پیش نظر رہتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں دارالسلام کی کامیابی میں اس رویے کا بھی ضرور دخل رہا ہو گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا ’’مسلمان نرم طبیعت اور نرم خو ہوتا ہے۔‘‘ ہمارے ہاں کسی ایک مکتبہ فکر کے عالم نہیں ہیں ۔ مولانا تقی عثمانی صاحب کے شاگرد مفتی عبدالسمیع بھی ہیں جنھوں نے ان سے تخصص کیا۔ میں نے اپنے لیے منیجر کے بجائے رہنما کا رول پسند کیا ہے۔ اس لیے سفر وحضر میں سوچنے، نئی نئی راہیں تلاش کرنے اور بہترین وسائل مہیا کرنے کی فکر رہتی ہے۔
میرے اہلِ خانہ
اللہ نے مجھے ۶بیٹے اور دو بیٹیاں دی ہیں
میرا بڑا بیٹا عکاشہ مجاہد اب انٹرنیشنل مارکیٹنگ دیکھ رہا ہے۔ دوسرا بیٹا حافظ عبدالغفار مجاہد، میرے تمام ذاتی معاملات اور میٹنگز دیکھتا ہے۔ تیسرا بیٹا حافظ طلحہ آئی ٹی کا ماہر ہے۔ پورا شعبہ قائم کر دیا ہے۔عبد اللہ، عبدالرحمن اور محمد ابھی پڑھ رہے ہیں۔
میری اہلیہ حافظہ انیسہ فردوس عالمہ اور مبلغ ہیں۔ وہ ریاض میں الصخی انٹرنیشنل سکول چلاتی ہیں جو فیڈرل بورڈ اسلام آباد سے ملحق ہے۔ ۷۰۰بچے، بچیاں وہاں پڑھ رہے ہیں۔ وہ ریاض میں خواتین کے قرآن و سنت کی تعلیم کے ۲۴حلقے بھی چلا رہی ہیںجہاں وہ ہفتہ وار درس دیتی ہیں۔
میرے شوق اور احساس
مجھے تاریخ پڑھنے کا بے حد شوق ہے۔دو اڑھائی سو سے زائد کتابیں پڑھ چکا ہوں۔ سیرت پہ لکھی گئی کتابیں بہت چاہت سے پڑھتا ہوں۔ یوں سمجھیں کتابوں کا جنون کی حد تک شوق ہے۔ جس ملک میں جائوں وہاں اسلامک سنٹر اور بک سٹورز پہلے ڈھونڈتا ہوں۔ آفس سے آ کر مغرب تا رات ۹بجے تک لکھنے کا کام کرتا ہوں۔ اب تک ۱۵کتابیں لکھ چکا ہوں۔ سعودی عرب کے مقبول اردو اخبار میں کالم بھی لکھتا ہوں۔
میں اپنے رب کا بہت شکر گزار ہوں۔ بہت اچھی اور بھرپور زندگی کی نعمت ملی ہے۔ ریاض میں ہونے کی صورت بچوں کے ساتھ شام کو واک پہ بھی جاتاہوں اور باہر کھانا بھی کھاتے ہیں۔ میری مصروفیات کے باعث بچوں کی تعلیم اور کیرئیر سارا اہلیہ کے ذمے تھا۔ ۳۲سال قبل ریاض میں رہتے ہوئے جب دارالسلام ہمارے چھوٹے سے گھر کے کچن سے شروع ہوا تھا کیونکہ اس کا دروازہ باہر کو کھلتا تھا۔ میری اہلیہ نے وہ میرے حوالے کر دیا تھااور خودکچن دوسری جگہ شفٹ کر لیا۔ میں نے وہاں کمپیوٹر رکھ کر کمپوزنگ سے کام کا آغاز کیا تھا۔
میں تنہائی میں رو دیتا تھا اور دعا کرتا تھا کہ رسول اللہﷺ کی صورت اور سیرت کو موتیوں کی طرح پیش کروں کہ دیکھنے پڑھنے والے اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اب جب دنیا بھر کے ممالک میں دارالسلام کا پیغام اور کام لیے پھرتا ہوں تو احساس ہوتا ہے اللہ نے میری دعا سن لی ہے۔
(معلومات کے لیے جناب عبدالعظیم اسد، پروفیسر محمد یحییٰ ، عکاشہ مجاہد اور محترمہ انیسہ فردوس کا شکریہ)

اللہ تعالی محترم جناب شیخ عبدالمالک مجاہدصاحب کے علم وعمل اورعمرمیں برکت دے آمین
 
Top