• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مولانا وحید الدین خان : اپنے الفاظ کے آئینے میں

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,550
پوائنٹ
641
پہلا دور
شروع شروع میں جب خان صاحب کو فکر مودودی رحمہ اللہ سے اختلاف پیدا ہوا تو انہوں نے جماعت کے رفقاء سے اس کا اظہار کرنا شروع کیا لیکن چونکہ خان صاحب تا حال اپنے اختلاف کو بیان کرنے میں اتنا واضح اور متعین نہیں تھے لہٰذا عموماً سینئر رفقائے جماعت نے ان کے اختلافات کو لفظی اختلاف کا نام دے کر معاملہ رفع کرنے کی کوشش کی۔ خان صاحب لکھتے ہیں:
'' ایک اور بزرگ جو جماعت میں انتہائی چوٹی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان سے بار بار گفتگو ہوئی مگر وہ ہمیشہ مجھ کو یہی سمجھاتے رہے کہ تم جو کچھ سوچ رہے ہواس میں اور جماعت کے فکر میں کوئی خاص فرق نہیں، دونوں تقریباً ایک ہی ہیں۔ یہ گفتگوئیں جون ١٩٦٠ء سے لے کر ستمبر ١٩٦١ء تک رامپور ، دہلی اور اعظم گڑھ میں ہوئیں...اس قسم کے اور بھی بعض افراد ہیں جنھوں نے مجھ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ محض لفظی فرق ہے۔ ورنہ حقیقتہً دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں...یہ گفتگوئیں اس وقت کی ہیں جب کہ میری تحریر 'تعبیر کی غلطی' ابھی وجود میں نہیں آئی تھی۔'' (وحید الدین خان مولانا، تعبیر کی غلطی، ص ٢٤۔٢٥، مکتبہ الرسالہ، نئی دہلی، ١٩٨٦ء)
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,550
پوائنٹ
641
دوسرا دور
جب خان صاحب نے مولانا مودودی رحمہ اللہ سے اپنے اختلافات کواپنی تحریر 'تعبیر کی غلطی' کی صورت میں مرتب کر لیا تو ان کے فکر مودودی سے اختلافات کی نوعیت بہت حد تک واضح اور متعین ہو کر سامنے آ گئی۔ خان صاحب لکھتے ہیں:
'' ایک بزرگ جو عالم بھی ہیں اور مجلس شوری کے رکن بھی۔ انھوں نے تحریر دیکھنے کے بعد کہا کہ اس سے پہلے آپ سے جو مختصر باتیں ہوئی تھیں، ان سے میں نے یہ سمجھا تھا کہ آپ کو یہ اعتراض ہے کہ مولانا مودودی نے دین کی تشریح میں غلو کیا ہے۔ اور اس معنی میں مجھے آپ سے اتفاق تھا۔ مگر اب آپ کی تحریر دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ آپ کا اعتراض یہ ہے کہ انھوں نے دین کی تعبیر ہی غلط کی ہے، اب مجھے آپ سے سخت اختلاف ہے۔''(تعبیر کی غلطی: ص٢٦)

اس دور کی خان صاحب کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ فکر مودودی سے اختلاف میں وہ فکری اعتبار سے بہت حد تک معتدل ہیں اگرچہ اسلوب بیان میں سختی کا عنصر موجود ہے۔ فکر مودودی سے شروع شروع میں ان کا اختلاف یہ تھا کہ فکر مودودی کے اجزائے ترکیبی درست ہیں لیکن ترتیب غلط ہے۔ خان صاحب لکھتے ہیں:
'' مولانا مودودی کے لٹریچر میں دین کی جو تشریح کی گئی ہے، اس کے متعلق میرا شدید احساس ہے کہ وہ دین کے صحیح تصور سے ہٹی ہوئی ہے۔ اس تشریح کے اجزاء ترکیبی تو وہی ہیں جو اصلاً خدا کے دین کے ہیں، مگر نئی ترکیب میں اس کا حلیہ اس طرح بگڑ گیا ہے کہ وہ بجائے خود ایک نئی چیز نظر آنے لگا ہے۔'' (تعبیر کی غلطی: ص٢١)

ایک اور جگہ خان صاحب فکر مودودی پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سیاست جو اسلام کا ایک جزہے، اسے سامنے رکھتے ہوئے کل اسلام کی ایک نئی تعبیر پیش کی گئی ہے:
''اس تعبیر پر میرا اعتراض در اصل یہ نہیں ہے کہ اس نے سیاست کو اسلام میں کیوں شامل کر دیا۔ سیاست زندگی کا ایک لازمی جزء ہے اور کوئی نظریہ جو انسانی زندگی سے متعلق ہو وہ سیاست سے خالی نہیں ہو سکتا۔ مجھے اس سے بھی اختلاف نہیں ہے کہ کسی مخصوص وقت میں کوئی اسلامی گروہ ، سیاست پر کتنی قوت صرف کرے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک ہنگامی مرحلے میں کسی اسلامی گروہ کو اپنی پیشتر یا ساری قوت سیاسی تبدیلی کے محاذ پر لگا دینی پڑے۔ میرا اعتراض دراصل یہ ہے کہ سیاست جو صرف اسلام کا ایک پہلو ہے، اسی کی بنیاد پر پورے اسلام کی تشریح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک چیز اپنی صحیح حیثیت میں حقیقت ہو سکتی ہے لیکن اس کو صحیح مقام سے ہٹا دیا جائے تو ایک صحیح چیز بھی غلط ہو کر رہ جائے گی۔'' (تعبیر کی غلطی: ص٢٦٦)

ایک اور جگہ ہندوستان کی نسبت پاکستان میں نفاذ شریعت اور امارت اسلامیہ کے قیام کی تحریک کے جواز کی بات کرتے ہوئے خان صاحب لکھتے ہیں:
'' اب میں بتاؤں گا کہ مذکورہ بالا تشریح دین کے مطابق اس وقت کرنے کا کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے۔ وہاں مولانا مودودی قانون شریعت کے نفاذ کی جو مہم چلا رہے ہیں اس کو شکلا ً میں درست سمجھتا ہوں۔ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے۔ اور آزادی کے بعد اصولی طور پر وہاں کی آبادی کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ اپنے یہاں جس طریق زندگی اور جس نظام معاشرت کو چاہے رائج کرے۔ ایسی حالت میں پاکستان کی امت مسلمہ کا یہ فرض ہو گیا ہے کہ وہ اپنے درمیان اسلامی نظام امارت قائم کرے اور اس کے تحت زندگی کے تمام شعبوں کو اسلامی احکام وقوانین کے مطابق منظم کرے۔ تاہم نفاذ شریعت کی مہم میں حکمت تدریج کو ملحوظ رکھنا لازمی طور پر ضروری ہے۔'' (تعبیر کی غلطی: ص٣٢٨)

ایک اور جگہ ہندوستان اور پاکستان میں سیاسی نظام کے قیام کے امکانات اورمنہج کے بارے گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
'' صحیح بات یہ ہے کہ ایک آزاد مسلم معاشرے کا فرض تو یقینا یہی ہے کہ وہ اپنے درمیان اسلام کی بنیادوں پر ایک سیاسی نظام قائم کرے ، کیونکہ اس کے بغیر معاشرے کے پیمانے پر شریعت کی تعمیل نہیں کی جا سکتی۔ مگر
جہاں مسلمان اس حیثیت میں نہ ہوں، وہاں اسلام ان کو خارجی زندگی کے لیے جو پروگرام دیتا ہے، وہ نصب امامت نہیں بلکہ انذار وتبشیر ہے۔ اس انذار وتبشیر کی مہم میں جو مراحل بھی پیش آئیں، انھیں اس میں پوری طرح ثابت قدم رہنا چاہیے۔ اگر انھوں نے ایسا کر دیاتو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی مدد فرمائے گا اور ان کے لیے ایسے حالات پیدا کرے گا جوانھیں اقتدار حکومت تک لے جانے والے ہوں۔ پہلی صورت میں حکومت قائم کرنا اہل ایمان کا فرض ہے۔ دوسری صورت میں حکومت ملنا اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔'' (تعبیر کی غلطی: ص٣٠٦)

ایک اور جگہ فکر مودودی سے پیدا ہونے والے غلو کے بارے لکھتے ہیں:
'' اس تعبیر کے مطابق اسلامی مشن کا جو تصور سامنے آتاہے وہ ہے 'نظام بدلنا'۔ میں مانتا ہوں کہ اسلامی جدوجہد کے مراحل میں سے ایک مرحلہ یہ بھی ہے' مگر اس تعبیر نے اس کو اس کے واقعی مقام سے ہٹا دیا ہے۔'' (تعبیر کی غلطی، ص٢٧٠)

اسی طرح خان صاحب فکر مودودی میں غلو سے پیدا ہونے والے اراکین کی صفات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
'' ایسے لوگوں کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنے آپ سے غافل ہوں گے۔ مگر مسائل عالم کے موضوع پر گفتگو کرنے سے ان کی زبان کبھی نہیں تھکے گی۔ نماز کی 'اقامت' سے انھیں کچھ زیادہ دلچسپی نہ ہو گی۔ مگر وہ حکومت الہیہ قائم کرنے کا نعرہ بلند کریں گے، ان کی اپنی زندگی میں زبردست خلا ہوں گے ۔ مگر وہ عالمی نظام کے خلا کو پر کرنے کی باتیں کریں گے۔ ان کا گھر جہاں وہ آج بھی قوام کی حیثیت رکھتے ہیں، اس میں اپنی بساط بھر عام دنیاپرستوں کے گھر کی تقلید ہو رہی ہو گی۔ مگر ملک کے اندر وہ قوام کی حیثیت حاصل کرنے کی تحریک چلائیں گے تا کہ ملک کو دنیا پرست لیڈروں کے اثرات سے پاک کر سکیں۔ ان کا سینہ خدا کی یاد سے خالی ہو گا۔ مگر وہ اقتدار حاصل کر کے براڈ کاسٹنگ اسٹیشن پر قبضہ کرنے کی تجویز پیش کریں گے۔ تاکہ دنیا میں خدا پرستی کا چرچا کیا جا سکے۔ اپنی ذاتی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کے لیے جن اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، ان پر عمل کرنے میں وہ ناکام رہیں گے۔ مگر ملکی نظام سے لے کر اقوام متحدہ کی تنظیم تک کی اصلاح کے لیے ان کے پاس درجنوں اصول موجود ہوں گے۔ان کے کاغذی نقشے اور اخباری بیانات دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ ملت اسلام کا انھیں کس قدر درد ہے کہ کسی مسئلے کا دور قریب کا رشتہ بھی اگر ملت سے ثابت ہو جائے تو وہ اس کو حل کرنے کے لیے بے قرار ہوجاتے ہیں۔ لیکن قریب جا کر دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ ان کے اس اظہار غم کی حیثیت رسمی تعزیت سے زیادہ نہیں ہے جو مرنے والے کے غم میں نہیں بلکہ صرف اس اندیشے سے کی جاتی ہے کہ زندہ رہنے والوں کو شکایت ہو گی۔ اپنے آج کے حاصل شدہ دائرے میں وہ نہایت سطحی اور غیر ذمہ دارانہ زندگی گزار رہے ہوں گے، مگر اپنی انقلابی تحریک کی کامیابی کے بعد انھیں کام کا جو وسیع تر دائرہ حاصل ہو گا اس کا نقشہ اس طرح پیش کریں گے گویا خلافت راشدہ از سر نو دنیا میں لوٹ آئے گی۔'' (تعبیر کی غلطی : ص٢٦٧)

ایک اور جگہ مولانا مودودی رحمہ اللہ کے فکری لٹریچر کی حیثیت کے بارے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
'' میں نے کہا کہ میرا اصل مسئلہ مولانا مودودی کے لٹریچر کا مسئلہ ہے... انہوں نے کہا اس کا مطلب ہے کہ ہم لٹریچر کو بالکل غلط سمجھیں اور اس کو ترک کر دیں، میں نے کہا میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اس کو بالکل غلط سمجھیں اور نہ مکتبہ یا لائبریری میں اس کی موجودگی پر مجھے اعتراض ہے۔ میرا اعتراض دراصل اس کی حیثیت پر ہے۔ کیونکہ میرا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کے حلقہ میں اس کی حیثیت یہ بن گئی ہے گویا یہی لٹریچر جماعت اسلامی کی فکر کا مستند ترجمان ہے۔'' (تعبیر کی غلطی: ص ١٠٠۔١٠١)

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ 'تعبیر کی غلطی' میں خان صاحب نے فکر مودودی میں غلو اور اس سے پیدا ہونے والے نتائج کی نسبت جو توضیحات پیش کی ہیں وہ درست ہیں اگرچہ بیان میں کہیں کہیں بے جا سختی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں بھی ، جبکہ تعبیر کی غلطی لکھی گئی تھی، جماعت کے سینئر رفقاء کی ایک جماعت نے خان صاحب کی اس تنقید کو کھلے دل سے قبول کیا۔ خان صاحب لکھتے ہیں:
'' ایک صاحب جو جماعت اسلامی کے ایک شعبہ کے ذمہ دار اعلی اور مرکزی مجلس شوری کے رکن ہیں، انھوں نے کہا : 'اسپرٹ سے اتفاق Tone سے اختلاف۔''(تعبیر کی غلطی: ص٣٠۔٣١)

محترم جناب ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ ، جو خان صاحب کی طرح جماعت اسلامی سے فکری اختلافات کی بنا پر علیحدہ ہوئے، نے بھی مولانا مودودی رحمہ اللہ کی فکر میں اس عدم توازن کو اپنی تحریک، تنظیم اسلامی میں ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ایک طرف اپنی انقلابی تنظیم، تنظیم اسلامی کے کارکنان کے اذہان وقلوب میں عبادت رب کو مقصد زندگی اور نصب العین بنانے کی فکر کوراسخ کیا تو دوسری طرف اجتماع ومعاشرے کی اصلاح کے ساتھ ساتھ فرد کے تزکیہ نفس اور ذاتی اصلاح کے عمل کو بھی شدو مد سے موضوع بحث بنایا۔

بہر حال خان صاحب اور جماعت اسلامی کے اراکین کی دو طرفہ سختی نے اسے رد عمل کا مسئلہ بنا دیا۔ اب ہمارے لیے یہ طے کرنا کہ سختی کا آغاز کس کی طرف سے ہوا، ایک مشکل امر ہے، اگرچہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ابتدا خان صاحب کی طرف سے ہوئی۔ خان صاحب اپنی سختی کے بارے کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
'' میں تسلیم کرتا ہوں کہ میری تحریر کا انداز بظاہر سخت ہے۔'' (تعبیر کی غلطی: ص ١٢٢)

جبکہ دوسری طرف مولانا جلیل احسن ندوی لکھتے ہیں:
'' جناب وحید الدین خان کو میرا سلام کہئے اور یہ کہ میرے اس کارڈ میں اگر کچھ تلخی آ گئی ہو تو واجب ہے ان پر کہ اس کا خیال نہ کریں کیونکہ یہ تلخی خود ان کی پیدا کردہ ہے۔'' (تعبیر کی غلطی : ص ٥٠)

بہر حال سختی اور تلخی پیدا کرنے کا آغاز اگرچہ 'تعبیر کی غلطی' کی١٩٦٣ء میں پہلی مرتبہ اشاعت عام کی صورت میں خان صاحب ہی کی طرف سے ہوا ہو لیکن یہ بھی ایک امر واقعہ ہے کہ جماعت اسلامی کی طرف سے اس تلخی کا جواب، اینٹ کا جواب پتھر کی صورت میں دیا گیا اور اگلے بیس، پچیس سالوں میں خان صاحب کے بقول ان کی خوب کھچائی کی گئی۔ ١٩٨٦ء میں خان صاحب لکھتے ہیں:
'' حقیقت یہ ہے کہ تعبیر کی غلطی میں جس فکر کو زیر بحث لایا گیا ہے وہ علمی میدان میں سراسر شکست کھا چکا ہے۔ مگر اس کے افراد کی عصبیت ان کو اعتراف پر آمادہ نہیں ہونے دیتی۔ اپنی شکست خوردہ ذہنیت کا مظاہرہ اب وہ اس طرح کر رہے ہیں کہ وہ نہایت منظم طور پر راقم الحروف کو بدنام کرنے کی مہم چلا رہے ہیں، تنقید کے میدان میں اپنے کو عاجز پا کر وہ 'تنقیص' کے میدان میں اتر آئے ہیں۔ کاش انھیں معلوم ہوتا کہ اس طرح وہ اپنے کیس کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔ وہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ نہ صرف علمی دیوالیہ پن کا شکار ہیں بلکہ وہ اخلاقی دیوالیہ پن میں بھی مبتلا ہو چکے ہیں۔''( تعبیر کی غلطی: ص ١١)
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,524
ری ایکشن اسکور
11,550
پوائنٹ
641
تیسرا دور
جماعت کی طرف سے بیس پچیس سالہ اس کھچائی نے خان صاحب میں تحریکی اور انقلابی فکر ہی سے اس قدر رد عمل پیدا کر دیا کہ انہیں سیاست، نفاذ شریعت، جہاد، اسلامی تحریک کے عناوین ہی سے چِڑ پیدا ہو گئی اور یہاں ہی سے ان کی شخصیت میں اس فکر کے حوالہ سے عدم توازن اور غیر متعدل رویوں کے پروان چڑھنے کا عمل شروع ہوتا ہے اور رد عمل کی یہ نفسیات آہستہ آہستہ بذات خود ایک فکر کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ 'تعبیر کی غلطی' نامی اپنی کتاب جب خان صاحب نے جماعت کے ایک اعلی ذمہ دار کو دکھائی تو انہوں نے بہت خوبصورت تبصرہ فرماتے ہوئے خان صاحب سے کہا:
''ابو الکلام صاحب، مودودی صاحب اور آپ تینوں ایک مشترک غلطی میں مبتلا ہیں۔ وہ یہ کہ کچھ وقتی خرابیوں کا احساس کر کے انھیں دور کرنے کی کوشش کی مگر اصلاح حال کی کوشش غیر شعوری طور پر تعبیر دین کی کوشش بن گئی۔ جو چیز عملی اصلاح سے متعلق تھی اس کو نظریاتی تشریح کی حیثیت دے دی گئی، نتیجہ یہ ہوا کہ افراط وتفریط پیدا ہوگئی، توازن باقی نہ رہا۔'' (تعبیر کی غلطی: ص٣٠۔٣١)

پس خان صاحب کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا کہ وہ ایک تعبیر دین کی اصلاح کرتے کرتے کچھ خارجی اور داخلی عوامل و اسباب سے متاثر ہوئے اور رد عمل وضدکی نفسیات کا شکار ہو کر ایک دوسری انتہا پسندی پر جا پہنچے کہ جس کا آغاز قریب قریب ان کی کتاب 'راہ عمل' مطبوعہ ١٩٩٠ء سے ہوا۔ خان صاحب لکھتے ہیں :
'' موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام بڑی بڑی تحریکیں حیرت انگیز طور پر انتہائی ناکامی کا شکار ہوئی ہیں۔مسلمان جب بھی کوئی تحریک اٹھاتے ہیں تو خدا ان کے گھروندے کوٹھوکر مار کر گرا دیتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ تمام سرگرمیاں خدا کی نظر میں بالکل نامطلوب ہیں۔ اس بنا پر وہ ان کو حرف غلط کی طرح مٹا رہا ہے۔'' (راہ عمل:ص ١١٠)

نائن الیون کے واقعہ کے بعد تو نفاذ شریعت، اقامت دین، جہاد اور اسلامی نظام کے حوالہ سے مولانا کے بیانات میں غیر معمولی شدت پسندی نظر آنے لگی۔ ایک جگہ مولانا لکھتے ہیں:
'' مگر میں نے ٨ اکتوبر کے فورا بعد یہ کہا تھا اور اب بھی کہتا ہوں کہ بم باری اس مسئلے کا جواب نہیں۔ امریکی مدبرین اس مسئلہ کو سادہ طور پر صرف ٹررزم کا ایک مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اس بنا پر ان کا خیال ہے کہ وہ بمبارڈمنٹ کے ذریعہ اس کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ مگر اصل معاملے کا صرف ایک کم تر اندازہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ ''اسلامک ٹررزم'' ایک ایسے ٹررزم کا نام ہے جس کو ایک مقدس آئڈیالوجی کے ذریعے درست ثابت کیا گیا ہو۔ جو مسلمان سوسائیڈل بم دھماکہ کر کے امریکا کو چیلنج کر رہے ہیں، وہ دیوانے لوگ نہیں ہیں... یہ آئڈیالوجی بلاشبہ صد فی صد غلط ہے۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ مگر اس کے پیچھے سوسال سے زیادہ مدت کی لمبی تاریخ ہے۔ سید جمال الدین افغانی، حسن البنا، سید قطب، محمد اقبال، آیة اللہ خمینی، سید ابو الاعلی مودودی جیسے بہت سے لوگوں نے اسلام کا پولیٹیکل انٹرپریٹیشن کر کے انہیں یہ باور کرایا ہے کہ اسلام کا سب سے بڑا عمل جہاد ہے، جہاد کرو اور سیدھے جنت میں پہنچ جاؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ اسلام کی غلط تعبیر پر قائم شدہ اس پولیٹیکل آئڈیالوجی کو ڈسٹرائے کیا جائے۔ یہ گن ورسز گن کا معاملہ نہیں بلکہ گن ورسز آئڈیالوجی کا معاملہ ہے اور اس بے بنیاد آئڈیالوجی کو ڈسٹرائے کر کے ہی ہم اسلام کے نام پر کیے جانے والے ٹررزم کو ختم کر سکتے ہیں۔'' (وحید الدین خان مولانا، ماہنامہ الرسالہ، جولائی ٢٠٠٧ء، ص ٣٣)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
'' میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ذاتی طور پر ہزاروں لوگوں کو مسٹر ٹررسٹ کے بجائے مسٹر نیچر بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اسلام کے نام پر موجودہ زمانے میں جو ملیٹنسی چلائی جا رہی ہے، اس کا تعلق حقیقی اسلام سے نہیں۔ یہ تمام تر ا س جدید لٹریچر کا نتیجہ ہے جس میں اسلام کا پولیٹسائزڈ ورژن (politisized version) پیش کیا گیا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ اس کو دوبارہ ڈی پولیٹسائزڈ کیا جائے۔(ماہنامہ الرسالہ، جولائی ٢٠٠٧ء، ص ٣٣۔٣٤)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
'' موجودہ زمانے میں انقلاب پسند مسلمانوں کا ایک عمومی نعرہ وہ ہے جس کو شریعت محمدی کا نفاذ کہا جاتا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک خود ساختہ نعرہ ہے۔ اس کی تائید قرآن اور حدیث سے نہیں ہوتی۔ اس کے برحق ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن اور حدیث میں کوئی حکم اس طرح کے الفاظ میں آیا ہو : نفذ شریعة محمد (شریعت محمدی کو نافذ کرو) اور جب قرآن اور حدیث میں کوئی حکم اس طرح کے الفاظ میں نہ آیا ہو تو اس کی بنیاد پر سیاست چلانا بلاشبہ ایک مبتدعانہ سیاست ہے، وہ کوئی اسلامی کام نہیں۔ نفاذ شریعت کا تصور کوئی سادہ تصور نہیں، یہ اسلام کے اندر ایک بہت بڑی برائی داخل کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس تصور نے اسلام کو بزور نفاذ کا موضوع بنا دیا ہے، حالاں کہ اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے اختیارانہ پیروی کا نام ہے۔ ''نفاذ شریعت'' ایک خوبصورت لفظ ہے، لیکن عملی نتیجے کے اعتبار سے وہ تخریب کاری ہے، اور صرف تخریب کاری۔''(ماہنامہ الرسالہ، اکتوبر ٢٠٠٩ء، ص ٢٩)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
''پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک منفی ملک کے طور پر وجود میں آیا۔ جس چیز کو پاکستان کے لوگ ''نظریہ پاکستان'' کہتے ہیں، وہ کیا ہے۔ وہ دراصل اینٹی ہندو سوچ کا ایک خوب صورت نام ہے، اور اینٹی ہندو سوچ کا مطلب ہے اینٹی مدعو سوچ، جو بلاشبہ اسلام میں حرام ہے۔ پاکستا ن اولاً اینٹی ہندو فکر کے تحت بنا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے یہ فکر اینٹی آل فکر(anti allthinking) بن گیا۔ پاکستان کے تمام مسائل دراصل اسی منفی سوچ کا نتیجہ ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق، اب یہ معاملہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ پاکستان میں منفی سوچ کا خاتمہ تقریباً ناممکن ہے...اب صرف ایک ہی چیز ممکن ہے، وہ یہ کہ افراد اپنے آپ کو اس منفی طوفان سے بچائیں...میرا مشورہ ہے کہ آپ حقیقت پسند بنیں ، رومانی تصورات میں جینے کی ہر گز کوشش نہ کریں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آپ فکر اقبال اور فکر مودودی کے خول سے مکمل طور باہر آ جائیں، ورنہ آپ کے لیے کبھی بھی اپنی اصلاح ممکن نہ ہوگی۔(ماہنامہ الرسالہ، مئی ٢٠١١ء، ص٣٩)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
'' قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تخلیق انسانی سے پہلے جب اللہ تعالی نے آدم کو پیدا کیا تو اس وقت وہاں آدم کے سوا دو مخلوق اور موجود تھی۔ فرشتے اور جنات۔ اللہ نے حکم دیا کہ تم لوگ آدم کے آگے جھک جاؤ۔ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی، لیکن ابلیس (جنات کا سردار) نے اللہ کے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا، وہ اللہ کا باغی بن گیا۔ یہ تاریخ انسانی میں، اتھارٹی (authority)کے خلاف بغاوت کا پہلا واقعہ تھا۔ یہ سیاسی بغاوت یا پالیٹکس آف اپوزیشن بلاشبہ شیطان کی سنت ہے۔ اتھارٹی سے ٹکرائے بغیر اپنا کام کرنا، یہ ملائکہ کا طریقہ ہے۔ اور اتھارٹی سے ٹکراؤ کر کے پالٹکس آف اپوزیشن کا ہنگامہ کھڑا کرنا، شیطان کا طریقہ۔ عجیب بات ہے کہ یہ منفی سیاست پور ی تاریخ میں مسلسل طور پر جاری رہی ہے، اہل ایمان کے درمیان بھی اور غیر اہل ایمان کے درمیان بھی۔ اس منفی سیاست کا یہ براہ راست نتیجہ ہے کہ انسانی تاریخ، تعمیر کی تاریخ بننے کی بجائے، تخریب کی تاریخ بن گئی۔''(ماہنامہ الرسالہ، مئی ٢٠١١ء، ص ١٨۔١٩)

خان صاحب کو اس انتہا پسندی تک پہنچانے والے عوامل میں سے جماعت اسلامی کے ردعمل کے علاوہ ان کا مزاج بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص میں مزاج کی کچھ خوبیاں اور کچھ کوتاہیاں رکھی ہیں۔ خان صاحب کے مزاج کا ایک اہم وصف ضد بھی ہے۔ ضد میں ایک اعتبار سے مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کو کسی کام کے کرنے پر اکسانے اوراس پر ڈٹ جانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پس اس پہلو سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعض حالات میں ضد انسان کو اس کے مشن میں پر عزم رکھتی ہے لیکن یہی ضد بے اعتدالی اور غیر متوازن رویوں کا باعث بھی بنتی ہے جیسا کہ ہمیں خان صاحب کی شخصیت میں نظر آتا ہے۔ خان صاحب کی مولانا جلیل احسن ندوی کے ساتھ ١٩٦٢ء میں جو خط وکتابت ہوئی اس میں مولانا جلیل احسن ندوی لکھتے ہیں:
'' رام پور میں کئی ایک اصحاب سے (میری گفتگو ہوئی تھی) ان سب اصحاب کی یہ متفقہ رائے تھی کہ آپ ایک بات جب اپنے ذہن میں جما لیتے ہیں، تو پھر اس میں کسی تبدیلی کے لیے سوچنا بالکل خارج از بحث ہو جاتا ہے، بھائی خدا کرے یہ بات غلط ہو۔ میرا بھی اندیشہ غلط ہو۔ لیکن اگر بات ایسی ہے جیسی کہ سنی ہے، اور جس کاخدشہ آپ کی یہ تحریر دیکھ کر مجھے بھی لاحق ہوا ہے، تو یہ طریقہ طالبین حق کا طریقہ نہیں ہے، اس پر آپ کو سوچنا چاہیے۔'' (تعبیر کی غلطی: ص٤٦)

مولانا ابو اللیث ندوی رحمہ اللہ کے نام ایک خط میں خان صاحب لکھتے ہیں:
'' میرے فکری اختلاف کو دورکرنے کی کوشش تو پوری طرح نہیں کی گئی البتہ اس قسم کی باتیں خوب مشہور ہو رہی ہیں کہ یہ تو ہٹ دھرم آدمی ہیں۔ جس چیز کو پکڑ لیتے ہیں پھر اسے نہیں چھوڑتے ۔ '' (تعبیر کی غلطی: ص ٩٦)

ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ خان صاحب جو اس مرحلے تک پہنچے ہیں،اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا اس تاریخی پس منظر کی موجودگی میں اجتماعی اسلامی تعلیمات، سیاست، نفاذ شریعت، جہاد، اسلامی تحریک، خلافت وامامت کے حوالہ سے خان صاحب کے خوارجی انتہاپسندی کی حد تک مخالفت کے منہج ورویے کی کوئی گنجائش نکلتی ہے؟ تو اس کا جواب قطعاًنفی میں ہے۔

خان صاحب کی تحریریں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ رد عمل کی نفسیات اور مزاج کی ضد ومخالفت نے خان صاحب کو یہاں پہنچا دیا ہے کہ دنیا جہاں کے موضوعات پر وہ بڑے ہی سکون، اطمینان اورٹھہراؤ سے گفتگو کر رہے ہوں گے، بُرے سے بُرے آدمی میں بھی خیر کا کوئی ممکنہ پہلو دکھا دیں گے لیکن جیسے ہی سیاست، خلافت، امامت، نفاذ شریعت،اسلامی تحریک یا فکر مودودی کی بات آئے گی ان کی سوئی ١٨٠ ڈگری گھوم جائے گی ۔ رد عمل کی نفسیات، ضد ومخالفت اور غیض وغضب سے بھرے ایسے ایسے بیانات جاری کریں گے کہ جن کا صدور کسی صاحب عقل سے عام حالات میں ممکن نہیں ہوتا ہے مثلاً بدنام زمانہ ہٹلر کے بارے تبصرہ کرتے ہوئے خان صاحب لکھتے ہیں:
'' میرا اندازہ ہے کہ ہٹلر غیر معمولی صلاحیتوں کا آدمی تھا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ہٹلر کو آخری زمانے میں یہ احساس ہو گیا تھا کہ جنگ چھیڑنا اس کی غلطی تھی...ہٹلر کے اندر بے پناہ حد تک قوت ارادہ موجود تھی۔ میرا اندازہ ہے کہ ہٹلر اگر زندہ رہتا تو شاید وہ امن کے لیے کوئی بڑا کام کرتا۔'' (ماہنامہ الرسالہ، جنوری ٢٠١٠ء، ص٣)

دوسری طرف ایک مسلمان اسکالر کی تقریر کے بارے تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
'' مغربی دنیا کے ایک مشہور مسلم مقرر وہاں کے مسلمانوں کی ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظالم حکمرانوں کے خلاف بغاوت ، خدا کے لیے وفاداری ہے: Rebellion to a tyrant, obedience to God. یہ جملہ اسلام کی سیاسی تعبیر کے تحت بننے والے ذہن کی نمائندگی کرتا ہے۔ مسلمانوں کی جدید نسل عام طور پر، اس سیاسی تعبیر سے متاثر ہے۔ آج کی دنیا میں جگہ جگہ اسلامی انقلاب کے نام پر جو ہنگامے جاری ہیں، وہ اسی سیاسی فکر کا نتیجہ ہیں۔ اس قسم کی نام نہاد انقلابی سیاست ہر گز اسلامی سیاست نہیں ہے۔ اگر شدید لفظ استعمال کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہو گاکہ یہ اسلام کے نام پر ایک شیطانی سیاست ہے۔ اس سیاست کا بانی اول خود شیطان ہے۔ آج جو لوگ اس قسم کی سیاست کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، وہ بلاشبہ شیطان کی پیروی کر رہے ہیں، نہ کہ اسلام کی پیروی۔''(ماہنامہ الرسالہ، مئی ٢٠١١ء، ص ١٨)

خان صاحب کی اسلام کے تصور سیاست، اقامت دین اور نفاذ شریعت کے بارے ان کے تیسرے فکری دور کی یہ تعبیر سراسر بے بنیاد اور کتاب وسنت کی صریح ومبین تعلیمات کے خلاف ہے۔ ظالم، چاہے مسلمان ہو یا کافر، اس کے خلاف جنگ اور قتال کا حکم کتاب اللہ کا حکم ہے۔
قتال کی علت 'ظلم' ہے اور قتال ہوتا ہی' ظالم' کے خلاف ہے ۔چاہے وہ ظالم ' کافر ہو یا مسلمان ہو۔جیسا کہ آیات قرآنیہ (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا) (الحج:٣٩) یعنی (قتال) کی اجازت دی گئی ان لوگوں کوکہ جن سے قتال کیا جارہا تھا اس سبب سے کہ ان پر ظلم ہوا ہے' اور (وَمَالَکُمْ لاَ تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَھْلَھُا وَاجْعَلْنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّاجْعَلْنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا) (النساء : ٧٥) یعنی تمہیں کیا ہو گیا ہے تم اللہ کے رستے میں قتال نہیں کرتے حالانکہ کمزور مرد' عورتیں اور بچے یہ کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال کہ جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی سرپرست بنا اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مدگار بنا' اس بات کی دلیل ہیں کہ ظالم کافر سے قتال واجب ہے۔

اور اسی طرح آیت مبارکہ ( فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْئَ اِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ)(الحجرات:٩) یعنی تم لڑائی کرو اس جماعت سے جو ظلم کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے' اس بات کی دلیل ہے کہ ظالم مسلمان کے ساتھ بھی قتال واجب ہے۔علاوہ ازیں آیت مبارکہ (وَالَّذِیْنَ اِذَا اَصَابَھُمُ الْبَغْیُ ھُمْ یَنْتَصِرُوْنَ) (الشوری: ٣٩) یعنی اور وہ لوگ کہ جن کے ساتھ اگر زیادتی یا ظلم ہو تو وہ بدلہ لیتے ہیں' اور (فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ) (البقرة:١٩٤) یعنی پس جو کوئی تم سے زیادتی کرے تو تم بھی اس سے اتنی ہی زیادتی کر سکتے ہو جتنی کہ اس نے تمہارے ساتھ کی ہے' جیسی آیات سے بھی ظالم مسلمان حکمران سے قتال کا جواز ثابت ہوتاہے ۔

اسی طر ح اگر مسلمانوں کی باہم قتال کرنے والی دو جماعتوں کے مابین کوئی معاہدہ یا مصالحت ہو جائے تو اب اس معاہدے کی اگر کوئی جماعت خلاف ورزی کرے تو بھی اس جماعت سے قتال قرآن کی آیت ( وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا فَاِنْ بَغَتْ اِحْدَاھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْئَ اِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ) (الحجرات:٩) یعنی اگر اہل ایمان کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے مابین صلح کرواؤ۔پس اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر ظلم و زیادتی کرے تو اس ظلم و زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے'کے تحت جائز ہے۔

لیکن ان آیات کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں ہے کہ انسان کے پاس بدلے کی اہلیت و استطاعت نہ ہو اور پھر بھی وہ ظلم کا بدلہ لینے چل پڑے اور اس طرح اپنا اور نقصان کر لے۔ یہ خطاب انہی لوگوں سے ہے جو ظلم کابدلہ لینے کی استطاعت و صلاحیت رکھتے ہیں اور منظم ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب تک بدلہ لینے کی استطاعت و صلاحیت نہ تھی اس وقت بھی ظلم ہو رہا تھا لیکن صبر و مصابرت اور ہاتھ روکنے کا حکم تھا۔ جیسا کہ قرآن کی آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَھُمْ کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَآتُوا الزَّکٰوةَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ) (النسائ: ٧٧) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ جن کو کہا گیا تھا کہ تم اپنے ہاتھ باندھے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوة ادا کرو' پس جب ان پر قتال فرض کیا گیا' میں اس بات کی طرف صریحاً اشارہ ہے کہ پہلے ظلم کے مقابلے میں ہاتھ نہ اٹھانے کا حکم تھا پھر بدلہ لینے کی اجازت بھی نازل ہو گئی۔ لہٰذا ظلم کے جواب میں صبر و مصابرت اور ظلم کے جواب میں بدلہ لینا دونوں ہی اسلام کے منہج ہیں اور تاحال جاری ہیں۔

لہٰذا معاصرحالات میں علماء' طالبانِ دین اور مصلحین پریہ فرضہے کہ اپنے ملک کے حکمرانوں اور اصحاب اقتدار کو ہر آئینی' احتجاجی' قانونی' لسانی' علمی' اخلاقی اور تحریری ذرائع و وسائل' اخبارات' رسائل و جرائد' الیکٹرانک میڈیا' جلسے جلوسوں' دھرنوں' سیمینارز اور کانفرنسوں کے انعقاد' اجتماعی مباحثوں اور مکالموںاورعوامی دباؤ کے ذریعے نفاذ شریعت اور اقامت عدل وقسط پر مجبور کریں اور اگر پھر بھی حکمران اس فریضے کی ادائیگی سے انکار کریں تو مذکورہ بالا تمام پر امن کوششوں کے ذریعے' ان حکمرانوں کی معزولی اور ان کی جگہ اس عہدے کی اہلیت رکھنے والے اصحاب علم و فضل کی تقرری' علماء اور داعیان حق کا بنیادی فریضہ ہو گا۔ ظالم حکمران کے ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کرنا خدائی حکم ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
'' لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم.''(النساء:١٤٨)
'' اللہ تعالی بلند آواز میں برائی کا تذکرہ پسند نہیں فرماتا مگر اس کے لئے کہ جو مظلوم ہو۔''
اسی طرح آپ کا ارشاد ہے:
'' أفضل الجھاد کلمة عدل عند سلطان جائر.''(سنن أبی داؤد' کتاب الملاحم ' باب الأمر بالمعروف والنھی عن المنکر)
''افضل جہاد ظالم حکمران کے خلاف کلمہ حق کہنا ہے۔''
ایک اور روایت کے الفا ظ ہیں:
'' عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ قَالَ: ((مَا مِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ فِیْ اُمَّةٍ قَبْلِیْ اِلاَّ کَانَ لَہ مِنْ اُمَّتِہ حَوَارِیُّوْنَ وَاَصْحَاب یَاْخُذُوْنَ بِسُنَّتِہ وَیَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہ ' ثُمَّ اِنَّھَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِھِمْ خُلُوْف یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ وَیَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُؤْمَرُوْنَ' فَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِیَدِہ فَھُوَ مُؤْمِن وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِلِسَانِہ فَھُوَ مُؤْمِن وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہ فَھُوَمُؤْمِن ' وَلَیْسَ وَرَآئَ ذٰلِکَ مِنَ الْاِیْمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ.'' (صحیح مسلم' کتاب الایمان' باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان )
حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ''مجھ سے پہلے کسی قوم میں اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کے حواری اور ایسے ساتھی نہ ہوں جو اس کے طریقے کے مطابق چلتے تھے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد کچھ ناخلف قسم کے لوگ ان کے جانشین بنتے تھے جو ایسی باتیں کہتے تھے کہ جن پر خود عمل نہیں کرتے تھے اور اس پر عمل کرتے تھے کہ جس پر عمل کرنے کا ان کو حکم نہیں دیا گیا تھا۔پس جس نے ان حکمرانوں کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جہاد کیا وہ مؤمن ہے اور جس نے ان کے ساتھ اپنی زبان سے جہاد کیا وہ مؤمن ہے اور جس نے ان کے ساتھ اپنے دل سے جہاد کیاوہ مؤمن ہے ۔اور اس کے بعد تو رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہے''۔

خان صاحب اسلامی تحریکوں کو یہ الزام دیتے نظر آتے ہیں کہ یہ انقلابی تحریکیں عوام پر جبراً اسلام مسلط کرنا چاہتی ہیں جبکہ وہ تواختیار کا معاملہ ہے۔ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ چند افراد پر مشتمل مسلمان حکمران خاندانوں یا مارشل لاء ڈکٹیٹروںنے ملک کے مذہبی حلقوں کے ساتھ کیاسلوک کیا ہے؟آئین و قانون کے نام پرعوام الناس پران کی مرضی کے خلاف اپنے ملحدانہ اور کفریہ نظریات کو کبھی فلاں ایکٹ کے نام پر اور کبھی ' تحفظ حقوق نسواں بل' کی آڑ میں جبراًنافذ کرنا یا بے گناہ مسلمان عوام کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے ہاتھوں چند ڈالروں کے عوض بیچ دینے کو کیاآزادی ومساوات کا نام دیا جائے؟ بیروزگاری کے عفریت' معاشی بدحالی' فقر و فاقہ کے نتیجے میں خود کشیاں' غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ' جرائم کی کثرت' عدالتوں میں انصاف کا بحران' پولیس اور لینڈمافیا کا ظلم و ستم' امن و امان کی تباہی' انٹر نیٹ اور کیبل کی صورت میں عریانی و فحاشی کا سیلاب' وڈیرہ شاہی' جاگیردارانہ نظام ' کرپشن' رشوت خوری' چوری و ڈکیتی' زنا و گینگ ریپ' عورتوں کو زندہ دفن کر دینا' غیر انسانی طبقاتی تقسیم' منشیات و شراب کی سرعام فروخت' گلی کوچوں اور سڑکوں پر ڈاکوؤں کی قتل و غارت اور عامة الناس پر ظلم و ستم کی انتہاء کرنے والی لسانی و علاقائی تنظیمیں' کیا مسلمان عوام یہ سب کچھ چاہتی ہے؟ اگرنہیں تو اس کو ان پر مسلط کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ حکمرانوں کا ظالمانہ اور کرپشن پر مبنی ناقص نظام یا اسلامی تحریکیں؟

ہمارے نزدیک دین کا تقاضا یہ ہے کہ علمائے کرام،دینی جماعتیں اور ان کے کارکنان، دینی ودنیاوی مدارس وجامعات کے طلبہ اور عوام الناس ظالم حکمرانوں کے خلاف ملک گیر سطح پر پرامن جلسے اورجلوسوں کا اہتمام کریں۔ عوام الناس کی رائے ہموار کریں۔سٹریٹ پاور بڑھائیں۔اسلامی نظام عدل اجتماعی کے نفاذ تک مظاہرے کریں۔ امریکہ کی حمایت ختم کرنے کے لیے حکومت وقت کے خلاف دھرنے دیں ۔ ظالم حکمرانوں کی معزولی کی خاطرپرعزم لانگ مارچ کریں۔ پاکستان کی پاک سر زمین پر اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے ہر پر امن جدوجہد اختیار کریں اور نتائج اللہ کے حوالے کر دیں۔ اگلی قسط میں ہم ان شاء اللہ خان صاحب کے تصور امن اور تصور جہاد کے نقطہ نظر کو موضوع بحث بنائیں گے۔
(جاری ہے)​
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top