• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میراث الحمل {Unborn Baby} ( تفہیم الفرائض)

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
نوٹ:- پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے کلک کیجئے : (میراث المفقود )
باب میراث الحمل(Unborn Baby)


لغوی معنی :
حمل (حاء پرزبر کے ساتھ )کا لغوی معنی ثقل ، بوجھ کے ہیں۔
اصطلاحی معنی :
مورّث کا وہ رشتہ دار، جو اپنی ماں کے رحم میں موجود ہو خواہ وہ مذکر ہو یا مؤنث ۔
حمل کے وارث ہونے کی دو شرطیں ہیں:

① پہلی شرط:
مورّث کی وفات کے وقت حمل اپنی ماں کے پیٹ کے اندر قرار پاچکا ہو ، عصر حاضر میں میڈیکل ٹیسٹ سے اس کا بآسانی علم ہوسکتا ہے، البتہ قدیم زمانے میں اس کا پتہ کرنے کا ضابطہ یہ تھا کہ حمل کی پیدائش مقرر ہ وقت کے اندر ہی ہو۔یعنی یا تو اقل مدت چھ ماہ کے بعد پیدا ہوا ہو، یا اکثر مدت چارسال کے اندر پیدا ہوا ہو،بشرطیکہ اس کی ماں کے ساتھ ہمبستری نہ کی گئی ہو۔
حمل کی اقل مدت اور اکثر مدت میں اہل علم کاکافی اختلاف ہے لیکن عصرحاضر میں اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ آ ج میڈیکل جانچ سے بآسانی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ حمل کب سے ہے۔
دلیل:
اس شرط کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بغیر مورّث کی وفات کے وقت حمل کا حکما باحیات ہونا ثابت نہیں ہوتا جبکہ وارثت کے شرائط ثلاثہ میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہی رشتہ دار وارث ہوگا جو مورّث کی موت کے وقت حقیقة یا حکما باحیات ہو ، جیساکہ مقدمہ میں وضاحت گذرچکی ہے۔

② دوسری شرط:
حمل بوقت ولادت زندہ حالت میں پیدا ہو ، اس کا علم بھی میڈیکل ٹیسٹ سے بآسانی ہوسکتا ہے البتہ قدیم زمانے میں حمل کی زندگی معلوم کرنے کا ضابطہ یہ تھا کہ بوقت ولادت اس کے اندر زندگی کے آثار ہوں ، مثلا آواز نکالی ہو یاحرکت کی ہو وغیرہ۔
دلیل:
اس شرط کی دلیل صریح حدیث ہے اللہ کے نبی ۖ فرماتے ہیں:
«لَا يَرِثُ الصَّبِيُّ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا»
''نومولود تب تک وارث نہیں ہوگا جب تک کہ وہ آواز نہ نکال دے'' [ سنن ابن ماجہ ،رقم ٢٧٥١وسنادہ حسن]
آواز کا ذکر بطور غالب علامت کے ہے اس جیسی دیگر علامات بھی اس کی زندگی کا پتہ دیں تو اسے زندہ مان کر وارث قراردیا جائے گا۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
حمل کی میراث کا طریقہ

اگر حمل کے ساتھ وارث ہونے والے دیگر وارثین ولادت تک انتظار کرلیں تو حمل جس حالت میں بھی پیدا ہوگا اس اعتبار سے فیصلہ ہوجائے گا اور ایک ہی دفعہ حتمی تقسیم ہوجائے گی۔
لیکن اگربعض وارثین ولادت سے قبل ہی اپنے حقوق کا تقاضا کریں تو ایسی صورت میں تقسیم کی صورت یہ ہوگی کہ حمل کی ہر ممکنہ حالتیں فرض کی جائیں گی ، پھر مفقود والے مسئلہ کی طرح پورا عمل کیا جائے گا۔

مفروضہ حالتوں کی تعداد:
قدیم زمانے میں کم از کم چھ حالتیں فرض کی جاتی تھیں ، لیکن عصر حاضر میں میڈیکل جانچ سے حمل کی جنس اور ان کی تعداد معلوم کی جاسکتی ہے۔
اگرحمل کی جنس اور تعداد معلوم کرلی گئی ہو تو پھر حمل کی کل دو ہی حالتیں ہوں گی ایک زندہ پیدا ہونے کی، اور دوسری مردہ پیدا ہونے کی ، اس صورت میں بالکل مفقود والے مسئلہ کی طرح دو مسئلہ بناکر جامع سے حصے دئے جائیں گے ۔
لیکن اگر میڈیکل جانچ ممکن نہ ہو تو حمل کی درج ذیل چھ حالتیں فرض کی جائیں گی:
① پہلی حالت:میت
② دوسری حالت:مذکر
③ تیسری حالت:مؤنث
④ چوتھی حالت:دو مذکر
⑤ پانچویں حالت:دو مؤنث
⑥ چھٹی حالت:ایک مذکرایک مؤنث
مزید حالتیں بھی ممکن ہیں لیکن غالب حالتیں صرف اتنی ہی ہوتی ہیں اس لئے ان ہی پر اکتفاء کریں گے۔ اسے بالکل مفقود کے مسئلہ کی طرح مرحلہ وارحل کریں گے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں حالتیں کچھ بڑھ جاتی ہیں لیکن طریقہ حل ایک ہی ہے۔
مثال:ـایک آدمی فوت ہوا، وارثین میںبیوی ،چچا اور باپ کی دوسری بیوی حاملہ ہے،جومیت کی ماں نہیں ہے۔(حمل،باپ شریک اخوہ میں سے کوئی ہوگا)
اب ہراحتمالی حالت میں جس وارث کو کم سے کم جتنا مل رہا ہے، اتنا اسے دے دیں گے باقی مال محفوظ رہے گا اور بچے کی ولادت کے بعد جو وارثین اس کے مستحق ٹھہریں گے انہیں وہ دیا جائے گا۔
(ایک آدمی فوت ہوا وارثین میں بیوی ،چچا اور باپ کی دوسری بیوی حاملہ ہے،جومیت کی ماں نہیں ہے۔مفقودکے مسئلہ کی طرح مرحلہ وار اسے حل کیا جائے گا)۔
Screenshot_3.jpg

وضاحت:
٭پہلے مرحلہ میں سارے مفروضہ مسائل کو حل کیا گیا ۔
٭دوسرے مرحلہ میں تمام مسائل کے اصل مسئلہ یعنی (٤،٤،٤،٤،٤،١٢) کا ذواضعا ف اقل معلوم کیا گیا ،جو (١٢) آیا اسے جامع مسئلہ کی جگہوں پررکھا گیا ۔
٭تیسرے مرحلہ میں سارے اصول مسائل سے جامع مسئلہ کو تقسیم کیا گیا ،اورحاصل تقسیم (٣،٣،٣،٣،٣،١) کوبالترتیب ہر اصل مسئلہ کے اوپررکھا گیا۔
٭چوتھے مرحلہ میں ہراصل مسئلہ کے اوپر موجود عدد سے ،اس مسئلہ کے وارثین کے حصوں کو ضرب دے کر جامع کے نیچے لکھاگیا ۔
٭پانچویں مرحلہ میں دیکھا گیا کہ چچا کو بعض حالات میں کچھ نہیں مل رہا ہے اس لئے اسے کچھ نہیں دیا جائے گا،اور بیوی کو ہر حالت میں (٣) مل رہاہے، اس لئے (٣) حصے اسے دے دیں گے، اور باقی (٩)حصے محفوظ کرلیں گے،جسے حمل کی ولاد ت کے بعد مستحقین کو دیں گے۔

مشق:
٭ایک آدمی فوت ہوا، وارثین میں بیٹی اور حاملہ بہوہے۔
٭ایک آدمی فوت ہوا،وارثین میں ایک بیٹا اورحاملہ بیوی ہے۔
٭ایک آدمی فوت ہوا،وارثین میں ماں ،بیٹی اور حاملہ بھابھی ہے۔
٭ایک آدمی فوت ہوا، وارثین میں ،ماں ،بیٹی اور حاملہ چچی ہے۔
٭ایک آدمی فوت ہوا،وارثین میںبیٹی ،اور باپ کی دوسری بیوی حاملہ ہے۔
٭ایک آدمی فوت ہوا، وارثین میں بیوی ، ایک بیٹی اورباپ سے حاملہ ماں ہے۔
٭ایک آدمی فوت ہوا، وارثین میں بیوی ، ایک بیٹی اوردوسرے باپ سے حاملہ ماں ہے۔

نوٹ:- اگلا حصہ پڑھنے کے لئے کلک کیجئے : ( میراث الخنثی/Inter-sex person)
 
Last edited:
Top