• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

میڈیکل ڈسکاؤنٹ کو زکوۃ میں شمار کرنا

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,310
ری ایکشن اسکور
372
پوائنٹ
209
میڈیکل ڈسکاؤنٹ کو زکوۃ میں شمار کرنا

مقبول احمد سلفی
دعوۃ سنٹر،طائف

سوال:ایک مسلم ڈاکٹر کا ذاتی کلینک ہے ،انہوں نے اپنے کلینک سے مریضوں کا علاج کرتے ہوئےان لوگوں کو سال بھر میں تقریبا بائیس لاکھ کا ڈسکاؤنٹ دیاہے اور اس وقت ڈاکٹر صاحب کے مال کی زکوۃ تقریبا تیس لاکھ بنتی ہے تو کیا بائیس لاکھ کا ڈسکاؤنٹ زکوۃ شمار ہوگی جبکہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے زکوۃ کی نیت سے ہی ڈسکاؤنٹ کیا ہے ؟

جواب : پہلے نقدی میں زکوۃ کیا ہے اور کب دینی ہوتی ہے یہ سمجھ لیں تو سوال کا جواب سمجھنا آسان ہوجائے گا۔زکوۃ کی دوشرطیں ہیں ، ایک مال کا نصاب تک پہنچنا اور دوسری اس مال پر سال کا گزرنا۔ جب یہ دو شرطیں پوری ہوجائیں تو نقد مال پر زکوۃ فرض ہوجاتی ہے اور زکوۃ فرض ہونے کے بعد اسی وقت پورے مال کا ڈھائی فیصدحصہ زکوۃ کے مصارف میں خرچ کرنا پڑتا ہے ۔
مذکورہ سال میں کلینک کا ڈسکاؤنٹ زکوۃ شمار نہیں ہوگی ،اس کے مندرجہ ذیل اسباب ہیں ۔
٭ جب مال نصاب تک نہیں پہنچے اور اس پر سال نہ گزرے تو اس وقت زکوۃ بنتی ہی نہیں یعنی زکوۃ کے لئے بیک وقت ان دونوں شرطو ں کا پایا جانا ضروری ہے ۔
٭ جب مال پر ابھی سال مکمل ہورہا ہے اور آج سال بعد جتنی مالیت کی زکوۃ تیس لاکھ بنتی ہے تو یہ تیس لاکھ آج اور ابھی بطورزکوۃ نکالنی ہے ۔
٭وقفہ وقفہ سے سال بھر مال خرچ کرنے کو زکوۃ میں شمار نہیں کرسکتے ہیں اور یہاں تو مال خرچ کرنابھی نہیں ہے بلکہ محض ڈسکاؤنٹ اور رعایت کا معاملہ ہےجو اصلا مال نہیں ہے۔
٭ جو مال آتا رہے اور صرف ہوتا رہے ان پر زکوۃ نہیں بنتی ہے بلکہ جو مال نصاب کو پہنچ جائے اور سال بھر ٹھہرا رہے اس پر زکوۃ ہے ۔
٭ زکوۃ کے مصرف میں مالدار لوگ شامل نہیں ہوتےجبکہ کلینک میں نہ جانے کتنے مالدار لوگ بھی آئے ہوں گے ۔
٭ پہلے بتادیا کہ ڈسکاؤنٹ دراصل مال نہیں سہولت ورعایت ہے اور پھر یہ سہولت سال بھر کی کتنی ہے ہم اس کی مالیت کا یقین کے ساتھ صحیح اندازہ نہیں لگاسکتے لہذا ڈاکٹر صاحب کا بائیس لاکھ روپیہ خیال کرنا محض گمان ہے اور زکوۃ یقینی موجود شئ کی ڈھائی فیصد یقینی طور پر نکالی جاتی ہے، اس میں گمان نہیں چلے گا۔
٭ زکوۃ کے لئے اہم چیز مال زکوۃ کو اصل مال سے الگ کرکے اسے ہاتھوں سے تقسیم کرنا ہوتا ہے جبکہ یہاں معاملہ ایسا نہیں ہے ، اسی قسم کا غلط معاملہ لوگ مکان کرایہ میں کرتے ہیں کہ اگر کوئی مکان مالک کو کسی ماہ کا کرایہ نہ دےسکے تو زکوۃ میں معاف کردیتے ہیں، قرض کے معاملے میں بھی بعض لوگ یہی کرتےہیں کہ قرض نہ دے پانے پر زکوۃ سے کٹوتی کردیتے ہیں ۔ یہ معاملہ صحیح نہیں ہے ۔ زکوۃ کے لئے ہاتھوں سے مال نکال کر تقسیم کرنی ہوتی ہے۔
اس لئے ڈاکٹر صاحب کے اوپر واجب ہے کہ وہ اپنے مال کی تیس لاکھ کی زکوۃ مستحقین کو بلاتاخیر ادا کریں اور وہ سال بھر کے میڈیکل ڈسکاؤنٹ کو زکوۃ میں شمار نہ کریں کیونکہ زکوۃ کا مقصد مال پاک کرنا ہے جس کا وقت ابھی ہوا ہے۔ لوگوں کے لئےڈاکٹر صاحب کی رعایت احسان وسلوک اور خدمت خلق کے زمرے ہے بلکہ فقراء ومساکین کے حق میں صدقہ ہے اس لئے انہیں ڈسکاؤنٹ کئے گئے معاملہ سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے عنداللہ وہ ماجور ہوں گے اور تیس لاکھ کی زکوۃ دینے سے بھی انہیں کے حق میں ذخیرہ آخرت ہوگا۔
 
Top