ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 928
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے متعلق علماء اہل الحدیث کے متفقہ اعلامیہ پر عمر صدیق کی ہرزہ سرائی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ! اہل السنۃ والجماعۃ بالخصوص اہلِ حدیث کا ہمیشہ سے شعار یہ رہا ہے کہ وہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عزت و ناموس کے نگہبان و پاسبان رہے ہیں۔
علماء ومشایخ اہل حدیث پاکستان کی "لجنة الافتاء والبحث العلمي هيئة ورثة الانبياء" جس کے رئیس حافظ عبد الستار الحماد، نائب رئیس شیخ ارشاد الحق اثری اور مشرف عام حافظ مسعود عالم ہیں۔ گذشتہ ایّام میں لجنہ العلماء کی جانب سے ایک متفقہ اعلامیہ جاری ہوا جس کے آخر نکتہ میں لکھا تھا:
"ہمارے یہاں عموماً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالخصوص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر زبان درازی کا دروازہ، یزید پر بحث اور واقعۂ کربلا کی رافضی تعبیر سے کھلتا ہے۔"
مگر مقامِ افسوس ہے کہ اس کو مولوی عمر صدیق نے ہدفِ طعن و تشنیع بنایا اور اس پر یوں اعتراض کیا:
"اگر اس کا مقصد احترام صحابہ کے مقدس عنوان سے یزید کے بارے آئمہ و محدثین کے موقف سے روگردانی ہے تو ہم اس کے حامی نہیں۔ تمام صحابہ کا احترام کرنے والا ہی اہلسنت ہے اسی طرح یزید کے بارے تمام آئمہ و محدثین کا موقف ماننے والا ہی اہل سنت ہے۔ اس تحریر کی لسٹ میں بعض ایسے افراد کے نام ہیں جنکا مقصد دفاع صحابہ کرام نہیں۔ بلکہ یزید کو ناصبیت کی آخری حد تک بچانا ہے۔ کاش کے آخری دو سطروں میں یزید کے نام کے ساتھ یہ لکھ دیا جاتا کہ یزید کے بارے صرف اتنا ہی کہا و بولا جائے جو آئمہ و محدثین نے لکھا ہے تاکہ فتنہ کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہو جاتا۔ لیکن افسوس ایسا نہیں کیا گیا۔" (انتہی کلامہ)
یہ وہی گوجرانوالہ کا شوریدہ سر مولوی ہے جس نے اہل حدیثوں میں حسینی یزیدی تقسیم کر فتنہ پھیلایا تھا اور اب اسے اہلِ حدیث کسی اہم معاملے میں پوچھتے تک نہیں، یہ خالی جھاگ کی طرح ہے جو صرف آواز پیدا کرتا ہے۔
یہ شخص "یزید کے بارے ائمہ و محدثین کے موقف" کا شور مچاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صحابہ کرام یزید کے عہد میں موجود نہ تھے؟ کیا ان کی خاموشی، ان کی بیعت، ان کی طرزِ حکمرانی پر سکوت کو پسِ پشت ڈال کر بعد والوں کی آراء پر کلام چھیڑنا عین انصاف ہے؟ ہرگز نہیں!
یہ وہی فتنہ ہے جو "یزید" کا سہارا لے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر اجلّہ صحابہ پر زبان درازی کا دروازہ کھولتا ہے۔ افسوس! یہ کوئی نئی چال نہیں، یہ وہی پرانا زہریلا تیر ہے جو چودہ سو برس سے اہلِ بیت اور صحابۂ کرام کے درمیان فتنہ اندازی کے لیے چلایا جا رہا ہے۔
مولوی عمر صدیق کو چاہئے کہ وہ محدث العصر حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر عالم کی بات مانے جنہوں نے یزید کے بارے میں نہایت متوازن اور اہلِ سنت کے موقف کو صاف اور شفاف الفاظ میں بیان کیا۔
حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ سے یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق سوال ہوا
(١) سوال: یزید کے متعلق اہل حدیث کا کیا موقف ہے ؟۔۔۔۔۔۔
حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یزید بن معاویہ مومن ہیں دوسری طرف حسین بن علی رضی اللہ عنہ ہونے سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ یزید ایمان سے خارج ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(٢) یزید سے متعلق اہل حدیث کا کیا موقف ہے ؟
یزید مومن مومنوں کا حکمران کئی صحابہ نے بھی اس کی بیعت کی ہوئی تھی ۔
(٣) یزید پر لعنت کرنا کیسا ہے ؟
جیسا کسی دوسرے مسلمان پر ہے (یعنی جیسے کسی مسلمان پر لعنت حرام ہے اسی طرح ان پر بھی حرام ہے )
[احکام و مسائل، ج : ١، ص : ٤٧٩]
یزید کا نام لے کر فتنہ اٹھانے والے اکثر وہی ہوتے ہیں جن کی زبانیں صحابہ کرام پر دراز ہوتی ہیں۔ یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ جو یزید پر طعن کرے گا، وہ دیر یا بدیر دیگر صحابہ پر بھی طعن کرے گا۔ اور جو یزید کے بارے میں اہلِ حدیث کے مسلک پر ہوگا، وہ کبھی صحابۂ کرام کی عزت پر حرف نہ آنے دے گا۔
یزید بن معاویہ رحمہ اللہ وہ دروازہ ہے جس سے داخل ہو کر اہلِ بدعت، اہلِ تشیع، اور روافض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی عزت و عظمت پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اہلِ سنت والجماعت اہلِ حدیث، یزید بن معاویہ پر لگائے جانے والے جھوٹے الزامات کا رد کرتے ہیں اور ان کا علمی، متوازن اور اصولی دفاع کرتے ہیں تاکہ فتنۂ رافضیت کا دروازہ بند ہو جائے جو یزید کی آڑ لے کر صحابہ کرام کی عزت کو پامال کرنے نکلتا ہے۔
یزید بن معاویہ رحمہ اللہ پر طعن و لعن کا دروازہ کھولنے والے، درحقیقت صحابۂ کرام کے مقامِ جلیل پر حملہ آور ہونے کا راستہ صاف کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم اس ابتدائی دروازے کو بند رکھتے ہیں، تاکہ اس امت کے قلوب میں صحابہ کی محبت، توقیر، اور اعتماد ہمیشہ قائم و دائم رہے۔
وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا [الحشر: ١٠]
ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دلوں کو ایمان والے سلفِ امت کے لیے بغض و کینہ سے پاک رکھے، اور ہمیں صحابۂ کرام کی محبت و عقیدت پر قائم رکھے، آمین۔