• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نصرانی عورت سے نکاح، ولی کے بغیر نکاح کا حکم اور تجدید نکاح کا مسئلہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
909
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
نصرانی عورت سے نکاح، ولی کے بغیر نکاح کا حکم اور تجدید نکاح کا مسئلہ


فتاوى عبر الأثير (( 15 ))
​

– السؤال:- كنت طالباً أدرس في أوربا قبل زمن بعيد, وتزوجت نصرانية, والذي عقد لنا العقد مسلم بشهادة مسلمين, ولي الآن منها أبناء, فما حكم زواجنا؟ وهل يتوجب علي شيء لأفعله الآن؟ علماً بأنها ما زالت على دين النصرانية؟

سوال: میں ایک طویل عرصہ پہلے یورپ میں طالب علم تھا اور وہاں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ میں نے ایک نصرانی عورت سے شادی کر لی تھی۔ ہمارا نکاح ایک مسلمان شخص نے پڑھایا تھا اور اس موقع پر دو مسلمان گواہ بھی موجود تھے۔ اب اس عورت سے میرے بچے ہیں۔ تو ہمارے نکاح کا کیا حکم ہے؟ کیا اب میرے لیے کوئی ایسا کام کرنا ضروری ہے جسے مجھے انجام دینا چاہیے؟ واضح رہے کہ میری بیوی اب بھی اپنے نصرانی دین پر قائم ہے۔

– الجواب:- قد كره جماعة من السلف منهم عمر ابن الخطاب -رضي الله عنه- وابنه عبدالله للمسلم أن ينكح نصرانية أو يهودية مع الإتفاق على جواز ذلك, ويشترط لصحة زواج المسلم من النصرانية شروط عدة ليس هذا محل بسطها, ولكن الذي يظهر من السؤال أن العقد تم دون حضور ولي المرأة وهذا لا يصح لعموم قول النبي -صلى الله عليه وسلم- (لا نكاح إلا بولي).

– قال أبن قدامه -رحمه الله- (إذا تزوج المسلم ذمية فوليها الكافر يزوجها إياه) وهو قول أبي حنيفة والشافعي, فإن كان تزوجها دون ولي فيلزمه تجديد العقد عند القاضي بحضور الولي, وإن لم يكن الولي موجوداً تولى نكاحها القاضي, وننصح السائل أن يدعوا امرأته بالحسنى الى الإسلام وإن كان في دار الإسلام فليستعين بإخواننا في مكتب شؤون أهل الذمة في ذلك, وليحذر من تأثير المرأة على ذريته المسلمه في عقيدتهم وتوحيدهم… والله أعلم


جواب: سلف صالحین کی ایک جماعت، جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحب زادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل ہیں، نے مسلمان مرد کے لیے نصرانی یا یہودی عورت سے نکاح کو مکروہ قرار دیا ہے، اگرچہ اس نکاح کے جائز ہونے پر اتفاق ہے۔


تاہم، مسلمان مرد کے لیے نصرانی عورت سے نکاح کے صحیح ہونے کی متعدد شرائط ہیں، جن کی تفصیل بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔ البتہ سوال سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نکاح عورت کے ولی کی موجودگی کے بغیر منعقد ہوا تھا، اور اس صورت میں نکاح صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی ارشاد ہے:

«لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»

ترجمہ: ’’ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔‘‘

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«إِذَا تَزَوَّجَ الْمُسْلِمُ ذِمِّيَّةً فَوَلِيُّهَا الْكَافِرُ يُزَوِّجُهَا إِيَّاهُ»

ترجمہ: ’’جب کوئی مسلمان کسی ذمی عورت سے نکاح کرے تو اس عورت کا کافر ولی اس کا نکاح اس مسلمان مرد سے کرائے گا۔‘‘

یہی امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ کا بھی قول ہے۔

لہٰذا اگر اس شخص نے عورت کے ولی کے بغیر اس سے نکاح کیا تھا تو اس کے لیے ضروری ہے کہ قاضی کی موجودگی میں، عورت کے ولی کو شامل کرکے، نئے سرے سے نکاح کرے۔ اور اگر عورت کا ولی موجود نہ ہو تو قاضی اس کے نکاح کی ذمہ داری انجام دے گا۔

ہم سوال کرنے والے کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو حسن اخلاق اور حکمت کے ساتھ اسلام کی دعوت دے۔ اگر وہ اسلامی ملک میں رہتا ہے تو اس سلسلے میں ہمارے ان بھائیوں سے مدد لے جو اہل ذمہ کے امور کے دفتر میں کام کرتے ہیں۔

نیز اسے اس بات سے بھی خبردار رہنا چاہیے کہ کہیں اس کی بیوی اس کی مسلمان اولاد کے عقیدے اور توحید پر منفی اثر نہ ڈالے۔


واللہ اعلم۔
 
Top