- شمولیت
- اپریل 14، 2011
- پیغامات
- 1,135
- ری ایکشن اسکور
- 4,484
- پوائنٹ
- 376
نصیحتیں میرے اسلاف کی--قسط 8
کون سا علم پڑھیں ؟:
ڈاکٹر محمد شفقت اللہ حفظہ اللہ کہتے ہیں :
سید نذیر حسین محدث دہلوی ؒکی نصیحت:
ہمیں استاد محترم مولانا محمد حیات لاشاری سندھی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے اس درس میں شریک تھا جب ان کی آخری عمر تھی اور وہ بہت ضعیف ہوچکے تھے انھوں نے ممبر پر بیٹھ کر درس دیا اس درس میں انھوں اپنے شاگردوں کو یہ نصیحت کی کہ:
(ہجرہ شاہ مقیم مدرس جامعہ ضیاء الاسلام گہلن ہٹھاڑ قصورسابق جماعت المسلمین بعد میں اہلحدیث)
١۔ مجھے مولانا ابو بکر صدیق حسینوی ( نائب مدیر ماہنامہ الاخوۃ لاہور ) نے بتایا کہ ہمارے استاد محترم مولانا امان اللہ رحمہ اللہ نے ہمیں نصیحت کی کہ :
استاد حدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ لاہور:
١۔ راقم الحروف استاد محترم شیخ عبد الرشید راشد کی تیمار داری کرنے کے لئے مرکز تربیہ اسلامیہ فیصل آباد سے لاہور کے ایک ہسپتال میں آیا تو میں نے کہا شیخ صاحب کوئی کتاب لکھنے کی نصیحت فرمائیں کہ میں کس موضوع پر کتاب لکھوں تو شیخ صاحب نے فرمایا جس فن میں اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھ دےدے اس کے متعلق کتاب لکھ دیں ۔
مولانا عبد الحئی انصاری حفظہ اللہ :
ادارۃ العلوم الا ثریہ فیصل آباد نے بتا یا کہ مولانا عبد الرشید راشد رحمہ اللہ امتحانوں کی تیاری اصل کتابوں سے کرتے تھے اور یہ بات کہا کرتے تھے کہ طالب علم کو براہ راست اصل کتاب سے ہی تیاری کرنی چاہئیے نا کہ کتابوں کے ترجموں یا خلاصوں یا معاون اردو کتابوں سے تیاری کرنی چاہئیے اس سے طالب علم میں علمی پختگی پیدا نہیں ہوتی ۔
مولانا عبد الحلیم کوٹلوی (علوی) رحمہ اللہ کی نصیحتیں:
شیخ الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ :
مولانا عبد الحلیم رحمہ اللہ (متوفی:٧ دسمبر ٨٠٠٢ صبح تہجد کے وقت)لکھتے ہیں :
'' ایک سرسری اندازہ کے مطابق مجھ سے سات، آٹھ صد طلبہ اور تین صد کے قریب طالبات نے بخاری شریف پڑھی ہے ۔ ان میں ہر طرح کے طلباء شامل رہے ہیں ۔ ذہین تر بھی اور ایسے بھی جو بلوغ المرام سے لے کر بخاری شریف تک احادیث مبارکہ کی صرف سماعت ہی کرتے رہے ہیں ۔جو کبھی بھول کر بھی نہ قرأت حدیث کرتے اور نہ ہی استاد صاحب کے کسی سوال کا جوا ب دینے کی زحمت گوارا کرتے ۔
ہمارے ایک استاد صاحب ایسے نالائق طالب علموں کو ''ہیولیٰ ''کہا کرتے تھے ۔ ہےولیٰ ایسی گوندھی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں جس سے کمہار برتن تیار کرتا ہے، کبھی اس سے پیالہ بنا رہا ہے تو کبھی لوٹا تیار کررہا ہے اور وہ ہیولیٰ اس کے ہاتھوں لاچارو بے بس ہر شکل اختیار کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ الحمد اللہ میں نے اپنے طلباء کے اعتراضات کا کبھی برا نہیں منایا بلکہ انکی حوصلہ افزائی کی ہے ہمارے ایک صاحب فرمایا کرتے تھے کہ آج جبکہ میں تمہیں پڑھارہا ہوں تو تمہارا شاگرد ہوں اور کل جب تمہارا سبق سنوں گا، تمہارا استاد ہوں گا ۔ اس وقت ان باتوں کی سمجھ نہیں آتی تھی ۔ تدریس کے دوران اس جملے کی معنویت کا پتا چلا کہ استاد کا کام سبق کے معاملے میں اپنے شاگرد کو مطمئن کرنا ہے ۔ خواہ پندرہ یا بیس بار اپنا سبق پوچھے اور استاد ہر طرح کے شکوک و شبہات کو دور کرتا ہے تاکہ اگلے دن جب استاد سبق سنے تو وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے سمجھ ہی نہیں آئی تھی یا آپ نے یہ باتیں تو بتلائی ہی نہ تھیں ۔
طالب علم کو شرمندگی یا حیا نہیں کرنی چاہئیے کہ میں نے اگر یہ بات پوچھی تو میرے ساتھی اور ہم درس میرا مزاق اڑائیں گی کہ ایسی آسان بات کا بھی اس کو پتہ نہیں ہی ۔ اس لئے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علم کے بارے میں حیا اور شرم کرنے والا طالب علم یا تکبر کی وجہ سے علم کی بات استاد سے نہ پوچھنے والا علم حاصل نہیں کر سکتا ۔
أخی لا تنال العلم ألا بستۃ سأ بنئک تفصیلھا ببیان
ذکاء و حرص و اجتھاد و صحۃ وصحبۃ استاذ و طول زمان
''میرے بھائی ! چھ چیزوں کے بغیر تو علم حاصل نہیں کرسکتا ۔جس کی تفصیل میں تمہیں بیان کرتا ہوں ۔ وہ ذہانت ، علم سے شغف ، محنت اور درستگی علم ، طویل مدت اور استاد کی رفاقت ہیں ۔''
اس لئے کہا جاتا ہے کہ السائل کا لا عمی ذہن میں جو صحیح یا غلط بات کھٹکے ، استاد صاحب سے اس کی وضاحت کروالینی چاہئیے ،میں اپنے طلبہ کی اس سلسلہ میں ہمیشہ پوچھ لو ،پھر دونوں ہی بتلانا پڑتے ہیں ، کیونکہ مطالعہ نہ کرنا ایک وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جب ہم پڑھا کرتے تھے تو عموماً اس وقت مدرس صحیح علم کی جستجو اور حاصل کرنے کا جذبہ پایا جاتا تھا، لیکن اب طلبہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد سندِ فراغت حاصل کرلی جائے۔
المیہ یہ ہے کہ کبھی ہمارے درس ِ نظامی میں ساٹھ علوم و فنون پڑھائے جاتے تھے جن کی تفصیل میں امام غزالی ؒ نے رسالہ لکھا اور اپنے زمانے کے علوم متعارف کروائے جبکہ تعلیم کا دورانیہ پندرہ بیس سال ہوا کرتا تھا اور اب تو ہمارے تعلیمی مدارس بڑے فخر سےاشتہار بازی کے ساتھ طلبہ کی توجہ مبذول کرواتے ہیں کہ دو سالوں میں درسِ نظامی پڑھانے کی گارنٹی دے رہے ہیں ۔''
(مقدمہ توفیق الباری ، بحوالہ محدث : ٣١٨ ْ / ٧٧ ۔ ٧٥، جنوری ٢٠٠٨)
حکیم محمد یحییٰ عزیز ڈاہروی حفظہ اللہ (کوٹ رادھا کشن ) لکھتے ہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کون سا علم پڑھیں ؟:
ڈاکٹر محمد شفقت اللہ حفظہ اللہ کہتے ہیں :
( الحرش علی ابیات علم میراث: ٢٧ قدیمی اسلامی کتب خانہ ملتان ، طبع اشاعت بحوالہ : محدث ٢٨٦۔مارچ ٢٠٠٥ : ١٣٢)'' اسی طرح آپ (عبدالعزیز پرہاروی )کا ایک عربی قصیدہ میمیہ بھی ہے جو آپ کی جدّت فکر، متانت رائے اور اہلِ وطن علماء سے از حد اخلاص کا مظہر ہے۔ اس میں آپ نے علماء زمانہ کی اس روش پر تاسف کا اظہار کیا ہے کہ وہ علمِ حدیث کو پسِ پشت ڈال کر غیر مفید عقلی علوم کے پیچھے پڑے ہیں ۔ آپ اس قصیدہ میں اپنے دور کے علماء کو اس بے کار شغل پر ملامت کرتے ہوئے حدیث کی طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دلاتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ :'' اے علماء ہند ! اللہ تمہیں طویل زندگی دے اور اللہ کے فضل سے تمہاری ساری بیماریاں زائل ہوجائیں ۔ تم عقلی علوم میں کامیابی اور سعادت کی اُ مید رکھتے ہو ۔ مجھے ڈر ہے کہ تمہاری امید پوری نہ ہوسکے ۔۔۔والا شیر ، کی تصانیف میں کچھ ہدایت ، نہیں اور نہ ابن سینا کی اشارات میں تمہاری شفا ہے۔۔۔مطالع سے ہدایت کا سورج طلوع نہیں ہوتا ۔ اس کے اوراق تمہارے لئے ظلمت ہیں ، ضیا نہیں ۔۔۔۔اصدار کی شرح تمہارے سینوں کو نہیں کھول سکتی بلکہ اس سے تو تمہارے سینے کی بیماریاں مزید بڑھتی ہیں ۔۔۔اور بازغۃ ، طلوع ہو تو اس میں کچھ نور نہیں بلکہ اس سے تمہاری ذہانت راتوں کی طرح مزید سیاہ ہوتی ہے ۔۔۔( سلم العلوم )تمہیں پستی میں لے جاتی ہے اور اس کے ذریعے تم علوم کی بلندیوں کی طرف نہیں جاسکتے ۔۔۔تمہارے یہ علوم قیامت کے دن کچھ فائدہ نہ دیں گے ۔۔افسوس! تمہارا بدلہ کیا ہوگا ؟۔۔۔ تم کفر کے علوم کو اپنے لئے شریعت سمجھے ہوئے ہو ۔ گویا یونان کے فلاسفر تمہارے انبیاء ہیں ۔۔۔ تم بیمار ہو اور تمہاری بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے تم شرعی علوم سے علاج کرو ۔ یہی تمہاری دوا ہے ۔۔۔ حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کی صحیح اور حسن احادیث عجیب شفا ہیں اور تمہارے لئے حقیقی دوا ہیں ۔''
سید نذیر حسین محدث دہلوی ؒکی نصیحت:
ہمیں استاد محترم مولانا محمد حیات لاشاری سندھی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے اس درس میں شریک تھا جب ان کی آخری عمر تھی اور وہ بہت ضعیف ہوچکے تھے انھوں نے ممبر پر بیٹھ کر درس دیا اس درس میں انھوں اپنے شاگردوں کو یہ نصیحت کی کہ:
مولانا امان اللہ رحمہ اللہ کی نصیحتیں :'' میری آپ کو نصیحت ہے کہ قرآن و حدیث کو عام کردو۔دین اسلام کے دشمن قرآن و حدیث کی تعلیمات کو عام نہیں کرنے دیتے تم پوری دنیا میں قرآن و حدیث کو عام کردو۔''
(ہجرہ شاہ مقیم مدرس جامعہ ضیاء الاسلام گہلن ہٹھاڑ قصورسابق جماعت المسلمین بعد میں اہلحدیث)
١۔ مجھے مولانا ابو بکر صدیق حسینوی ( نائب مدیر ماہنامہ الاخوۃ لاہور ) نے بتایا کہ ہمارے استاد محترم مولانا امان اللہ رحمہ اللہ نے ہمیں نصیحت کی کہ :
٢۔ کہ:''اللہ تعالیٰ سے ڈر کر زندگی گزارو ۔وہ قطرہ جو اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے آنکھ سے نکلتا ہے وہ بہت قیمتی ہے میرا دل چاہتا ہے کہ میں سونے سے بنی ہوئی ڈبیہ میں اس قطرہ کو ڈالوں ۔کیونکہ تمام پانی ملکر بھی جہنم کی آگ میں ذرہ بھی کمی نہیں کرسکتے لیکن اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے آنکھ سے نکلنے والا قطرہ جہنم کی آگ کو بجھا سکتا ہے۔''
مولانا عبد الرشید راشد رحمہ اللہ کی نصیحت:''لواطت سے بچو یہ انتہائی برا فعل ہے وہ بندہ جو عمل لوطی کرتا ہے اسے یہ بات کیسے گوارہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کولیٹرین میں ڈالے جہاں گندگی ہے؟ کوئی بھی ایسا کرنا پسند نہیں کرتا جب اس سے نفرت ہے تو دبر بھی لیٹرین ہی ہے جہاں گندگی کے سوا کچھ نہیں ، تو وہ گندگی میں اپنے جسم کے عضو کو کیوں ڈالنا برداشت کرتا ہے؟''
استاد حدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ لاہور:
١۔ راقم الحروف استاد محترم شیخ عبد الرشید راشد کی تیمار داری کرنے کے لئے مرکز تربیہ اسلامیہ فیصل آباد سے لاہور کے ایک ہسپتال میں آیا تو میں نے کہا شیخ صاحب کوئی کتاب لکھنے کی نصیحت فرمائیں کہ میں کس موضوع پر کتاب لکھوں تو شیخ صاحب نے فرمایا جس فن میں اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھ دےدے اس کے متعلق کتاب لکھ دیں ۔
مولانا عبد الحئی انصاری حفظہ اللہ :
ادارۃ العلوم الا ثریہ فیصل آباد نے بتا یا کہ مولانا عبد الرشید راشد رحمہ اللہ امتحانوں کی تیاری اصل کتابوں سے کرتے تھے اور یہ بات کہا کرتے تھے کہ طالب علم کو براہ راست اصل کتاب سے ہی تیاری کرنی چاہئیے نا کہ کتابوں کے ترجموں یا خلاصوں یا معاون اردو کتابوں سے تیاری کرنی چاہئیے اس سے طالب علم میں علمی پختگی پیدا نہیں ہوتی ۔
مولانا عبد الحلیم کوٹلوی (علوی) رحمہ اللہ کی نصیحتیں:
شیخ الحدیث جامعہ محمدیہ اوکاڑہ :
مولانا عبد الحلیم رحمہ اللہ (متوفی:٧ دسمبر ٨٠٠٢ صبح تہجد کے وقت)لکھتے ہیں :
'' ایک سرسری اندازہ کے مطابق مجھ سے سات، آٹھ صد طلبہ اور تین صد کے قریب طالبات نے بخاری شریف پڑھی ہے ۔ ان میں ہر طرح کے طلباء شامل رہے ہیں ۔ ذہین تر بھی اور ایسے بھی جو بلوغ المرام سے لے کر بخاری شریف تک احادیث مبارکہ کی صرف سماعت ہی کرتے رہے ہیں ۔جو کبھی بھول کر بھی نہ قرأت حدیث کرتے اور نہ ہی استاد صاحب کے کسی سوال کا جوا ب دینے کی زحمت گوارا کرتے ۔
ہمارے ایک استاد صاحب ایسے نالائق طالب علموں کو ''ہیولیٰ ''کہا کرتے تھے ۔ ہےولیٰ ایسی گوندھی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں جس سے کمہار برتن تیار کرتا ہے، کبھی اس سے پیالہ بنا رہا ہے تو کبھی لوٹا تیار کررہا ہے اور وہ ہیولیٰ اس کے ہاتھوں لاچارو بے بس ہر شکل اختیار کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ الحمد اللہ میں نے اپنے طلباء کے اعتراضات کا کبھی برا نہیں منایا بلکہ انکی حوصلہ افزائی کی ہے ہمارے ایک صاحب فرمایا کرتے تھے کہ آج جبکہ میں تمہیں پڑھارہا ہوں تو تمہارا شاگرد ہوں اور کل جب تمہارا سبق سنوں گا، تمہارا استاد ہوں گا ۔ اس وقت ان باتوں کی سمجھ نہیں آتی تھی ۔ تدریس کے دوران اس جملے کی معنویت کا پتا چلا کہ استاد کا کام سبق کے معاملے میں اپنے شاگرد کو مطمئن کرنا ہے ۔ خواہ پندرہ یا بیس بار اپنا سبق پوچھے اور استاد ہر طرح کے شکوک و شبہات کو دور کرتا ہے تاکہ اگلے دن جب استاد سبق سنے تو وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے سمجھ ہی نہیں آئی تھی یا آپ نے یہ باتیں تو بتلائی ہی نہ تھیں ۔
طالب علم کو شرمندگی یا حیا نہیں کرنی چاہئیے کہ میں نے اگر یہ بات پوچھی تو میرے ساتھی اور ہم درس میرا مزاق اڑائیں گی کہ ایسی آسان بات کا بھی اس کو پتہ نہیں ہی ۔ اس لئے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علم کے بارے میں حیا اور شرم کرنے والا طالب علم یا تکبر کی وجہ سے علم کی بات استاد سے نہ پوچھنے والا علم حاصل نہیں کر سکتا ۔
أخی لا تنال العلم ألا بستۃ سأ بنئک تفصیلھا ببیان
ذکاء و حرص و اجتھاد و صحۃ وصحبۃ استاذ و طول زمان
''میرے بھائی ! چھ چیزوں کے بغیر تو علم حاصل نہیں کرسکتا ۔جس کی تفصیل میں تمہیں بیان کرتا ہوں ۔ وہ ذہانت ، علم سے شغف ، محنت اور درستگی علم ، طویل مدت اور استاد کی رفاقت ہیں ۔''
اس لئے کہا جاتا ہے کہ السائل کا لا عمی ذہن میں جو صحیح یا غلط بات کھٹکے ، استاد صاحب سے اس کی وضاحت کروالینی چاہئیے ،میں اپنے طلبہ کی اس سلسلہ میں ہمیشہ پوچھ لو ،پھر دونوں ہی بتلانا پڑتے ہیں ، کیونکہ مطالعہ نہ کرنا ایک وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جب ہم پڑھا کرتے تھے تو عموماً اس وقت مدرس صحیح علم کی جستجو اور حاصل کرنے کا جذبہ پایا جاتا تھا، لیکن اب طلبہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد سندِ فراغت حاصل کرلی جائے۔
المیہ یہ ہے کہ کبھی ہمارے درس ِ نظامی میں ساٹھ علوم و فنون پڑھائے جاتے تھے جن کی تفصیل میں امام غزالی ؒ نے رسالہ لکھا اور اپنے زمانے کے علوم متعارف کروائے جبکہ تعلیم کا دورانیہ پندرہ بیس سال ہوا کرتا تھا اور اب تو ہمارے تعلیمی مدارس بڑے فخر سےاشتہار بازی کے ساتھ طلبہ کی توجہ مبذول کرواتے ہیں کہ دو سالوں میں درسِ نظامی پڑھانے کی گارنٹی دے رہے ہیں ۔''
(مقدمہ توفیق الباری ، بحوالہ محدث : ٣١٨ ْ / ٧٧ ۔ ٧٥، جنوری ٢٠٠٨)
حکیم محمد یحییٰ عزیز ڈاہروی حفظہ اللہ (کوٹ رادھا کشن ) لکھتے ہیں:
(محدث : ٣١٧ جنوری ٢٠٠٨ صفحہ: ٧١)''ایک بار میں نے دورانِ تعلیم اُن سے پوچھا : استاد محترم ! مدرسہ کے حوالے سے کوئی نصیحت فرمائیے ،کہنے لگے کہ چھوٹے بچوں کو کبھی اپنے پاس نہ بٹھانا اور نہ خود ان میں جا کر بیٹھنا ، نہ ہی کسی لڑکے کو ادھار دینا ۔''
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔