• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نظر بد (کا لگ جانا) حق ہے !!!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,786
پوائنٹ
1,069
نظر لگنا برحق ہے اور یہ شرعی اور حسی طور پر ثابت ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزۡلِقُونَكَ بِأَبۡصَٰرِهِمۡ﴾--القلم:51

''اور کافر (جب یہ نصیحت کی کتاب سنتے ہیں تو) یوں لگتا ہے کہ تم کو اپنی (بری) نگاہوں سے پھسلا دیں گے۔''

=======

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ آپ کو نظر لگا دیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

«اَلْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ کَانَ شَيْئٌ سَابَقَ الْقَدْرَ سَقَبَتُْ الْعَيْنُ، وَاِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا»سنن ابی داود، الطب، باب فی الطیرة،

''نظر لگنا برحق ہے، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر سبقت کرتی اور جب تم سے دھونے کا مطالبہ کیا جائے تو تم دھو دیا کرو۔''

حدیث: ۳۹۲۵ وجامع الترمذی، الاطعمة، باب ماجاء فی الاکل مع المجزوم، حدیث: ۱۸۱۷۔

=======


اسی طرح امام نسائی اور امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے-

کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جب کہ وہ غسل کر رہے تھے اتفاق سے انہوں نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر بے ساختہ کہا کہ: ''میں نے آج تک کسی کنواری دو شیزہ کی بھی اس طرح کی جلد نہیں دیکھی۔'' یہ کہنا تھا کہ سہل بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا اور عرض کیا گیا: سہل بے ہوش ہو کر گر گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ''تم ان کے بارے میں کس کو مورد الزام ٹھہراتے ہو؟'' صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: عامر بن ربیعہ کو۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاهُ إِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَکَة»سنن ابن ماجه، الطب، باب العین، ح:۳۵۰۹ وسنن الکبری للنسائی: ۴/ ۳۸۱۔

''تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرنے کے درپے کیوں ہے؟ تم میں سے کوئی جب اپنے بھائی کی کوئی خوش کن بات دیکھے تو اس کے لیے برکت کی دعا کرے۔''

پھر آپ صل اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور عامر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ وضو کریں، تو انہوں نے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا، دونوں گھٹنوں اور ازار کے اندر کے حصے کو دھویا اور پھر آپ نے حکم دیا کہ وہ پانی نظر لگے ہوئے شخص پر بہا دیں۔''

جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کرتے ہوئے یہ کلمات پڑھا کرتے تھے:

«بِاسْمِ اللّٰهِ اَرْقِيْکَ، مِنْ کُلَّ شَيْئٍ يُؤْذِيْکَ، مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَيْنٍ حَاسِدٍ، اَللّٰهُ يَشْفِيْکَ، بِاسْمِ اللّٰهِ اَرْقِيْکَ

''اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے، اور ہر انسان کے یا حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام کے ساتھ آپ کو دم کرتا ہوں۔''

»صحیح مسلم، السلام، باب الطب والمرض والرقی، ح:۲۱۸۶۔

=======


نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہ کو ان کلمات کے ساتھ دم کیا کرتے تھے:
«أَعِيْذُکَمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ کُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ وَمِنْ کُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ»

صحیح البخاری، احادیث الانبیاء


اور ایک جگہ یہ دعا بھی موجود ھے :

((اَللَّھُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْھِبَ الْبَسِ اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لاَ شَافِیَ اِلاَّ اَنْتَ شِفَائً لاَّ یُغَادِرُ سَقَمًا ))
اے اللہ لوگوں کے رب بیماری دور کرنے والے شفا دے دے تو ہی شفا دینے والا ہے تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے ایسی شفا عطا فرما جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑےـ

بخاری (5742) ابو داؤد (3890) ترمذی (973)
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
نظر بد کا لگے جانا ماتحت الاسباب کے تحت آئے گا یا مافوق الاسباب کے تحت؟
اور اس نظر بد کا دھونا ماتحت الاسباب کے تحت آئے گا یا مافوق الاسباب کے تحت ؟
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,092
پوائنٹ
1,155
جزاک اللہ خیرا
اللہ تعالیٰ تمام موحدین بہن بھائیوں کو نظر بد سے محفوظ فرمائے آمین
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,786
پوائنٹ
1,069
نظر بد سے بچنےکی کفت !!!!!!!!

میں نے ان آخری سالوں میں یہ محسوس کیا ہے کہ مجھے نظر بد لگی ہوئی ہے۔ الحمد للہ اللہ تعالی نے مجھے ایسی خوبصورت شکل عطا کی ہے جو کہ نظر کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔ تو میں یہ نہیں چاہتی کہ اس کے سبب سے میری زندگی میں اضطراب اور خلل پیدا ہو جائے۔

میں آپ سے یہ کہتی ہوں کہ سب لوگ ان چیزوں کو جو انہیں عجیب لگیں دیکھ کر اللہ تعالی کی حمد وثنا نہیں کرتے اور خاص کر کفار تو بالکل نہیں کرتے تو کیا اس نوجوان لڑکی کےلیے کوئی ایسا طریقہ ہے جس پر چل کر وہ (اسکی ضرورت پیش نہ آئے کہ) اپنا چہرہ چھپائے بغیر اپنے آپ کر نظر بد سے بچا سکے؟

کیا قرآن کے کچھ حصے رکھنے سے آدمی نظر بد لگنے سے بچ سکتا ہے؟ اور کیا مالا اور ہار اور ہاتھ یا آنکھ کی شکل کے بنے ہوئے تعویذ لٹکانے کا کیا حکم ہے؟ میں نے یہ سنا ہے کہ یہ آدمی کی حفاظت کرتے ہیں لیکن یہ حرام ہیں؟

اگر مقارنہ کیا جائے تو اب میری زندگی پہلے سے بہت بہتر ہے جبکہ میں اسلام پر مکمل عمل نہيں کرتی تھی حالانکہ میں مسلمان پیدا ہوئی ہوں۔ تو اسکا معنی یہ تو نہیں کہ میں مسلمان عورت ہوں۔ اور جب مجھے نظر لگی تھی تو میں اپنی روح سے بھی چھپنے لگی اور غیر محفوظ ہوگئی تھی (؟) یا کیا ضروری ہے کہ مجھ پر قرآن پڑھا جائے تاکہ میں اس سے خلاصی حاصل کروں۔ اور میں کس طرح اپنی حفاظت کروں تاکہ مجھے دوبارہ نظر نہ لگ سکے؟


الحمد للہ :

آپکو یہ علم ہونا چاہئے کہ پردہ واجب ہے اور کسی کےلئے یہ (جائز) نہیں کہ وہ شریعت اسلامیہ میں جسے اس کا دل چاہے اسے اختیار کرے اور جسے دل نہ پسند کرے اسے چھوڑ دے کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔

"اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔" البقرۃ 208

ابن کثیر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے مومن بندوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اسلام کے سب کنڈوں کور احکام کو پکڑیں اور اسکے سب اوامر پر عمل اور سب نواہی سے رک جائیں۔ تفسیر ابن کثیر 1/522

اور مومن عورتیں کو اپنی زینت غیر محرم کے سامنے ظاہر کرنے سے منع کیا گیا ہے-

فرمان باری تعالی ہے۔

"اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اسکے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے خسروں کے یا اپنے لڑکوں یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردہ کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ انکی پوشیدہ زینت معلوم ہوجائے۔ اے مسلمانوں تو سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کروتاکہ تم نجات پاؤ" النور/31

تو اللہ تعالی کے حکم کو ماننے اور پردہ کرنے کی بنا پر اللہ تعالی کے حکم سے دنیا میں نظر لگنے سے حفاظت رہے گی اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے حفاظت ہوگی۔

اور رہا یہ معاملہ کہ قرآن کے اجزاء اور معین شکلیں لٹکانا تو اسکے بارہ میں یہ ہے کہ۔

امام احمد نے اپنی مسند میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا وہ فرماتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جس نے تعویذ لٹکایا اللہ تعالی اس کی مکمل نہ کرے اور جس نے گھونگا لٹکایا تو اسے اللہ تعالی آرام نہ دے"

اور روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے نو کی بیعت لے لی اور ایک سے رک گئے اور بیعت نہ لی تو انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نو سے آپ نے بیعت کرلی اور اس کو چھوڑ دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر تعویذ ہے تو اس نے ہاتھ ڈال کر اسے کاٹ ڈالا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی اور فرمایا جس نے تعویذ لٹکایا تو اس نے شرک کیا۔ فتاوی عین والحسد سے اقتباس ص277

اور رہا نظر اور حسد کا علاج تو بلاشک انسان جتنا اللہ تعالی کے قریب ہوگا اور اسکا ذکر ہمیشگی سے اور قرآن مجید کی تلاوت کرے گا اتنا ہی وہ آنکھ لگنے اور دوسری آفات اور شیطان اور انسانوں کی تکلیف دور ہوگا۔ اور ایسے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان کی حفاظت کی دعا کیا کرتے تھے۔ اور سب سے بڑی جس کے ساتھ مسلمان پناہ لے سکتا ہے وہ کتاب اللہ کی قرات ہے اور اس میں سب سے اہم یہ ہیں۔

معوذتان (سورۃ الفلق اور الناس) اور سورۃ الفاتحہ اور آیۃ الکرسی۔

اور تعویذ (لٹکانے والا نہیں پڑھنے کےلئے) جو کہ صحیح اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس میں سے۔

(اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر خلق) (میں اللہ تعالی کے مکمل کلمات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی) اسے مسلم (الذکر والدعاء/ 4881) نےروایت کیا ہے۔

اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین کو دم کرنے کے لئے یہ دعا کرتے اور یہ کہتے تھے کہ تمہارا باپ اسکے ساتھ اسماعیل اور اسحاق کو دم کرتے تھے۔ (اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان وھامۃ ومن کل عین لامۃ) (میں اللہ تعالی کے مکمل کلمات کے ساتھ ہو شیطان اور زہریلی چیز جوکہ مار دے اور ہو حسد اور تکلیف دینے والی آنکھ سے پناہ چاہتا ہوں)

اسے بخاری نے (احادیث الانبیاء/ 3120) روایت کیا ہے۔

اور لامہ کا معنی: خطابی کا قول ہے کہ۔ اس سے مراد ہر وہ ایذا اور آفت ہے جو انسان کو جنوں میں ڈال دے۔

اور ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کچھ تکلیف محسوس کررہے ہیں تو انہوں نے فرمایا جی ہاں تو جبریل نے کہا۔ (بسم اللہ ارقیک من کل شئ یؤذیک ومن شک کل نفس او عین حاسد اللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک)

(میں اللہ کے نام سے تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو کہ تکلیف دینے والی ہے اور ہر نفس کے شر سے یا ہر حاسد آنکھ سے اللہ آپ کو شفا دے میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں)


اسے مسلم نے (الاسلام/4056) میں روایت کیا ہے۔

اور اس میں کوئی شک نہیں اگر انسان صبح اور شام اور سونے وغیرہ کے اذکار میں پابندی کرے تو اس کا انسان کو نظر بد کی حفاظت میں بہت بڑا اثر ہے اور یہ ان شاء اللہ اسکے لئے ڈھال کا کام دے گا تو اس کی پابندی ضروری ہے اور علاج میں سب سے اہم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد سے دم کرنے کی رخصت اور اسکا حکم دیا ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا یا پھر یہ حکم عام دیا کہ نظر بد سے دم کروایا جائے۔ اسے بخاری نے (الطب/ 5297) روایت کیا ہے-

اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جس کی نظر لگی ہوتی اسے حکم دیا جاتا وہ وضوء کرے اور پھر اس پانی سے جسے نظرلگی ہوتی وہ غسل کرتا۔

اسے ابو داوود نے (الطب/ 3382) میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے صحیح سنن ابو داوود میں کہا کہ یہ صحیح الاسناد ہے دیکھیں حدث نمبر (3296)۔


تو یہ بعض اذکار اور علاج ہیں جو کہ ان شاء اللہ تعالی کے حکم سے نظر اور حسد سے بچائیں گے۔

ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔ واللہ اعلم۔

اور اللہ تعالی زیادہ علم والا ہے۔

ابن قیم کی کتاب زاد المعاد کا مراجعہ کریں 4/162

واللہ اعلم .

http://islamqa.info/ur/11359
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,786
پوائنٹ
1,069
11392864_556711534467112_5860258846792026622_n.jpg


نظر بد :

وعن أبي أمامة قال : رأى عامر بن ربيعة سهل بن حنيف يغتسل فقال : والله ما رأيت كاليوم ولا جلد مخبأة قال : فلبط سهل فأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقيل له : يا رسول الله هل لك في سهل بن حنيف ؟ والله ما يرفع رأسه فقال : " هل تتهمون له أحدا ؟ " فقالوا : نتهم عامر بن ربيعة قال : فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عامرا فتغلظ عليه وقال : " علام يقتل أحدكم أخاه ؟ ألا بركت ؟ اغتسل له " . فغسل له عامر وجهه ويديه ومرفقيه وركبتيه وأطراف رجليه وداخلة إزاره في قدح ثم صب عليه فراح مع الناس ليس له بأس .


(سنن نسائي :7619 باب وضوء العائن, وصححه الألباني)
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,786
پوائنٹ
1,069
11954594_589181211220144_7554988715733480615_n.jpg

نظر بد کی تاثیر :

عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " العين تدخل الرجل القبر والجمل القدر " .

(رواه أبو نعيم في الحلية وصححه الألباني )
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,786
پوائنٹ
1,069

نظر بد کی تاثیر :

عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " العين تدخل الرجل القبر والجمل القدر " .

(رواه أبو نعيم في الحلية وصححه الألباني )
السلام علیکم :

شیخ @اسحاق سلفی بھائی اس حدیث کی تحقیق درکار ہے اور کیا یہ حدیث صحیح ہے
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,568
پوائنٹ
791
بھائی اس حدیث کی تحقیق درکار ہے اور کیا یہ حدیث صحیح ہے
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ؛
علامہ البانی ؒ نے اس حدیث کو ’’ سلسلة الأحاديث الصحيحة ‘‘ حدیث نمبر ( 1249 ) میں درج کیا ہے ؛لکھتے ہیں :
" العين تدخل الرجل القبر والجمل القدر ".
قال في " الجامع ": " رواه ابن عدي وأبو نعيم في " الحلية " عن جابر وابنعدي عن أبي ذر ".
قلت: وقد أخرجه أبو نعيم " الحلية " (7 / 90) وأبو بكر الشيرازي في " سبعة مجالس من الأمالي " (8 / 2) والخطيب في " تاريخه " (9 / 244) من طريق محمدابن مخلد وابن عدي كلاهما عن شعيب بن أيوب حدثنا معاوية بن هشام حدثنا سفيانعن محمد بن المنكدر عن جابر به.
قال ابن عدي: وحدث سفيان هذا عن محمد بنالمنكدر ويقال إنه غلط وإنما هو عن معاوية عن علي بن علي عن ابن المنكدر عنجابر ". " والحديث أشار إليه الذهبي في ترجمة شعيب بن أيوب هذا وقال: إنه
منكر. وضعفه الحافظ السخاوي في " المقاصد الحسنة "، وإسناده حسن عندي لأن شعيب بن أيوب وثقه الدارقطني وابن حبان، وجرحه أبو داود جرحا مبهما فقال:إني لأخاف الله تعالى في الرواية عنه ".

اس عربی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ :اس روایت کو امام ابن عدی نے،اور ابو نعیم نے ’’ حلیۃ الاولیاء ‘‘ میں نقل فرمایا ہے ؛
اور البانی کہتے ہیں اس کی سند میرے نزدیک ’’ حسن ‘‘ ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اورعلامہ البانی ؒ نے اس حدیث کو ۔۔صحيح الجامع الصغير (4144 ) ۔۔میں بھی ’’ حسن کہا ہے ‘

«العين تدخل الرجل القبر وتدخل الجمل القدر» .
(حسن) عد حل عن جابر ... [عد] عن أبي ذر
 
Top