ابن انور
رکن
- شمولیت
- نومبر 01، 2022
- پیغامات
- 20
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 35
بسم الله الرحمن الرحيم
نعرۂ وطن میں مدفون اذانِ توحید
نعرۂ وطن میں مدفون اذانِ توحید
اس عصرِ نوساز کے اجتماعی مدرکات کی وہ خزف مزاج فصلِ تلبیس، جس میں عقلِ متحیر نے اپنے ہی تخیلاتِ خام کو مشعلِ تمثال بنا کر، محرابِ خود فریبی میں سجدۂ ذوقی ادا کیا، اُس کا سب سے آشکار و فاحش مظہر وہ مَذَرِ وطن پرستی ہے، جس کی غبار آلود تجلیات نوعِ آدم کو خطۂ جغرافیہ کی تنگنائے میں مقید کر کے، وحدتِ انسانی کے دامن پر قومیت کے دھندلے نقوش ثبت کرتی ہے۔ اگرچہ اسلاف کے ایام میں نسلی و نسبی عصبیتیں ہی شعارِ قومی کا سرمایہ ہوا کرتی تھیں، اور ان کا لبِ گوہر بھی نزاعِ انساب میں ہی تحلیل پذیر تھا، مگر اس زمانۂ جدید کی یورپ زادہ مہذبیت نے، جو سیاستِ نو کی مافوق الادراک تمثیل نوعِ بشر کے سامنے پیش کی، وہ ایسی قومیت ہے جو وطنِ ارضی کی اساس پر مبنی ہے؛ اور جس میں مذہب کو فرد کی خانگی عزلت میں محصور کر کے، ریاست کے دائرہ کار سے اس کا کامل اخراج کر دیا گیا۔
ایں مقام پر ریاست، نہ تو حاملِ شعارِ عقیدہ ہے اور نہ ہی دائرۂ کارِ سلطنت میں رمقِ دیانت و شعائرِ شرع کی ادنٰی خلش باقی رکھی گئی ہے۔ ہر وہ مظہرِ بشریت جو ان حدودِ مسطورۂ خاک پر بود و باش رکھتا ہے، فیالواقع گویا سندِ قومیت کا حامل و حاملہ قرار پاتا ہے۔ لیکن عقلِ مستفسر و خردِ مدقّت اندیش سے یہ اشکالِ جوہرین مفرور نہیں کہ ایسے اجتماعِ بے نسب کو بہرحال ایک مرکزِ محبت، یک محورِ وفا اور یک نقطۂ انجذاب درکار ہے، ورنہ یہ اجتماعیت، تشتّتِ محض کا مکدر غبار بن کر رہ جائے۔ چنانچہ اس دورِ ضلالتِ مسطورہ میں وہ شے، جسے خلعتِ تقدیس کا ملمّع پہنایا گیا، وہ وطن ہے—وطنِ جامد، وطنِ صامت، وطنِ مجرد از روح و فاقد از معنی!۔
اسی بے روح و بے مغز وطن کو معبودِ عصرِ حاضر کا رتبہ دے کر، اس کی بارگاہِ تقدیس میں وہی مراسمِ نذر و نیاز اور مظاہرِ وفا پیش کیے گئے ہیں، جو ایامِ جہالتِ اولیٰ میں اصنامِ سنگ و چوب کی دہلیز پر بجا لائے جاتے تھے۔ اب ہر گوشۂ عالم میں عظمتِ وطن کے فلک شگاف نعروں کی گونج سنائی دیتی ہے، اور شوقِ شہادت کا رخ حرمتِ ارضِ بے جان کی سمت موڑ دیا گیا ہے۔ علمِ وطن کو نہ صرف سرنگوں ہونے سے محفوظ رکھا گیا ہے، بلکہ ادب و اجلال کے آداب کے ساتھ قیام فرما کر اُس کے حضور تعظیم بجا لائی جاتی ہے۔ ہر خاکی سلطنت کا ایک منظومۂ تمجید، گویا حمدِ ارضی قرار پا چکا ہے، جسے قومی ترانے کے زریں عنوان سے موسوم کیا جاتا ہے، اور جو درحقیقت اس "دینِ وطنیت" کا وظیفہ و مناجاتِ مکررہ ہے۔
اب وہ عہدِ رفتہ، جب منات و عُزّیٰ کے پرستار ریگزارِ عرب میں سجدہ ریز ہوا کرتے تھے، تاریخ کے ورقِ کہن پر محض ایک عبرتِ ماضی بن چکا۔ اب ان اصنامِ جمادات کی جگہ وطنِ موہوم کے مصوّرہ تماثیل نے لے لی ہے، جنہیں اعزازِ الوہیت و مقامِ ربوبیت بخش کر، تقدیسِ شعائر کا جامۂ ملمّع عطا کیا گیا ہے۔ جھنڈے کے روبرو خضوع و خشوع کے ساتھ سرنگوں ہونا، اور ترانۂ وطنی کی صدا پر سکوتِ کامل اور قیامِ تجلیل اختیار کرنا یہ سب افعال درِ وطن پر ادا کیے جانے والے طقوسِ عبودیت ہیں۔ درحقیقت یہ "نمازِ وطنیہ" ہے، جو علمِ طاغوت کے سائے میں، بحالتِ تعظیم ادا کی جاتی ہے، اور جس میں نہ اللہ کا ذکر ہے، نہ وحی کی بازگشت، محض ایک ارضی معبود کے حضور خاموش تمجید ہے۔
یہ تمثالِ موہوم جس کی پرستشِ واجب، ایں ایّام میں گویا اوّلین فرائضِ عبودیت میں رقم کی جا چکی، اور جو ہر جبر و زیادتی کو مصالحِ مملکت و منافعِ خاکِ وطن کے مطہّر نقاب میں مستور کر کے، مظالمِ آشکار کو شرعی مصلحت کا جامۂ فریب پہناتا ہے وہی شے ہے جو اساسِ عدل و قسط کو منہدم کر کے، تعصبِ رنگ و نسل، تفاخرِ قومی و حمیتِ نفسانی کے منجنیق سے فخر و غرور کی چوٹیں رسید کرتا ہے؛ یہی، ہاں یہی، عصرِ موجود کا اکبر الاکابر طاغوت ہے۔ وطن، وہ صنمِ تازہ طراز ہے جس کے حق میں صادر کردہ ظلم، عدلِ مبرم شمار ہوتا ہے، اور جس کے اسمِ گرامی کی آڑ میں ارتکابِ فجور و فسق کو تقدیس و تطہیر کا خلعتِ مزین پہنا دیا جاتا ہے۔
یہی وہ مہلکِ مایہ زہرِ ہلاہل ہے، جو فرنگی خرد نے شرقِ مظلوم کے حلقومِ ناآشنا میں بہ جبر و مکاری انڈیلا، اور ہم نے، بے تاملِ فہم و بے تأملِ دانش، اسے پیالۂ عقیدت میں اُنڈیِل کر نوشِ جان کر لیا۔ قومیت کی سراب نما اساس پر استوار یہ "صنمِ ارضی" عصرِ حاضر کے انسانِ مخدوش العقیدہ کا قبلۂ نیاز و قبلۂ احتیاج بن چکا ہے، اور اس کے حضور وہی طقوسِ تمکین و مراسمِ عبودیت بجا لائے جاتے ہیں، جن پر کبھی خالقِ ارض و سماوات کا حقِ تنہا و بلاشرکتِ غیرے مستقر تھا۔
سو ایں مجموعۂ مفاسد و منظومۂ اضالہ، جو قومیتِ عرضی کے خمار میں مخمور اذہان کے لیے مئے تقدیس بن چکا ہے، درحقیقت نہ فہمِ ثاقب کا زائیدہ ہے، نہ عقلِ سلیم کا مولود، بلکہ خردِ مغلوب و قلبِ معکوس کا وہ مہمل تاثر ہے جس نے حقائقِ ازلی کو تمثیلاتِ ارضی کے غبار میں مستور کر کے، عبدِ خاکی کو عبدِ خاک بنا ڈالا۔ عقل، جو کبھی آسمانِ ہدایت کا ستارہ تھی، اب وہی عقلِ منقلب، افلاکِ شرک کے گرد طواف زن ہے۔
اب باطل، تقدیس کا رُوپ دھار کر منصبِ الٰہیت کا مدعی ہے، اور خلقِ خدا، جو کبھی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کے عَلَم تلے متحد تھی، آج اُس جھنڈے کے سائے میں سربسجود ہے، جس پر نہ نورِ وحی ہے نہ نشانِ حق، فقط رنگین دھاگوں کا بُنا ہوا وہ علم ہے جس کی عصمتِ موہوم پر لاکھوں سر کٹنے کو تیار ہیں، اور جن کے کٹنے سے ربِ واحد کی بندگی نہیں، محض وطن کے نام کی رسمِ تقلید ادا ہوتی ہے۔
پس یہ وہ سُبحہءِ باطل ہے، جسے اذکارِ عشقِ خاکی کے سانچے میں پرُ کر، حلقۂ عبادتِ ارضی میں یوں پرو دیا گیا ہے کہ بندگی کی اصل روح فنا ہو چکی، اور باقی ہے تو صرف ایک خالی خول جس میں نہ عرفان ہے، نہ وصال، نہ اللہ، نہ رسول، فقط وطن اور وطن بھی ایسا، جو خود اپنی تقدیس کا محتاج، اور جس کی الوہیت کا تمام تر اثبات، فقط فریبِ جمعی و ہذیانِ قومی میں پیوست ہے۔
یہی ہے عصرِ حاضر کا سب سے بڑا شرک، سب سے عظیم طاغوت، اور سب سے زہرناک فتنہ۔ اور جب تک اس فتنۂ ہمہ گیر کا بطلان نہ کیا جائے، وحدتِ اُمت اور عبودیتِ خالص کا خواب محض سراب ہی رہے گا۔