• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نقدی فطرہ کے قائلین کے بعض اعتراضات وشبہات کا جائزہ

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
157
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
28
نقدی فطرہ کے قائلین کے بعض اعتراضات وشبہات کا جائزہ

تحریر: ابو احمد کلیم الدین یوسف
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اعتراض: جب حدیث میں چند اجناسِ طعام سے فطرہ نکالنے کا ذکر ہے تو پھر ماسوا اجناسِ طعام سے کیوں نکالا جاتا ہے؟

محترم قارئین: اسلامی احکام ہر زمان ومکان کیلئے موزوں اور مناسب اور یکساں ہیں، ایسا نہیں کہ کوئی حکم ایک زمانے کیلئے مناسب ہو اور دوسرے زمانے کیلئے قابل عمل نہ ہو، یہی حال فطرہ کا ہے، شریعت نے آج سے چودہ سو سال قبل اجناس طعام مقرر کیا تھا، آج بھی بخوبی اور آسانی کے ساتھ اس حکم پر عمل کیا جا سکتا ہے.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فطرہ کیا نکالا جاتا تھا؟

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:
«كُنَّا نُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ».
[صحيح بخاری (2/ 131/ 1510)].
ترجمہ: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں طعام سے ایک صاع نکالا کرتے تھے.

ان کا طعام اس زمانے میں کیا تھا؟ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ خود اس کی وضاحت کر رہے ہیں:
«وَكَانَ طَعَامنَا الشَّعِيرُ وَالزَّبِيبُ وَالأَقِطُ وَالتَّمْرُ».
[صحيح بخاری (2/ 131/ 1510)].
ہمارا طعام جَو، کشمش، پنیر اور کجھور ہوا کرتا تھا.

طعام سے مراد:


لفظ "طعام" مذکورہ تمام اجناس کو شامل ہے، جیسا کہ امام خطابی رحمہ اللہ نے کہا ہے.
[معالم السنن (2/ 51)].

اور ابن الاثیر الجزری کہتے ہیں: لفظ طعام سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو "قوت" میں داخل ہیں، (یعنی بطور طعام اس کا استعمال ہوتا ہے) چنانچہ اس میں گیہوں، جو، کھجور اور ان جیسی تمام اجناسِ طعام داخل ہوں گی.
الشافی فی شرح مسند الشافعی (4/ 73).

قارئین کرام: حدیث کے الفاظ پر غور کریں: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پہلے کہا کہ ہم ایک صاع طعام سے نکالتے تھے، پھر وضاحت کی کہ ہمارے یہاں جو طعام استعمال کیا جاتا تھا وہ مذکورہ اشیاء تھیں، معلوم یہ ہوا کہ اصل اعتبار طعام کا ہے، جہاں جس طعام پر لوگوں کا انحصار ہوگا اسے ہی نکالا جائے، ورنہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی وضاحت کا کوئی فائدہ نہیں.

حديث میں موجود اشیاء کے علاوہ دیگر اجناس طعام سے فطرہ نکالنے کی کیا دلیل ہے؟

اس کی دلیل فہم صحابہ اور ان کا اجماع ہے.


ہم اس حدیث کو فہم صحابہ کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا وہ لوگ صرف وہی اشیاء فطرہ میں نکالتے تھے جس کا حدیث میں ذکر ہوا ہے یا پھر دیگر اشیاء بھی نکالتے تھے، کیوں کہ فہم سلف نصوص کو سمجھنے کا اصل معیار ہے، اور یہ بات بھی یاد رہے کہ سلف سے اصل اور حقیقی مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، تابعین اور تبع تابعین سلف کی اصطلاح میں تبعاً داخل ہیں.

معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
((إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ)).
صحيح مسلم (3/ 69/ 985).
میرا خیال ہے کہ ملک شام کے گیہوں کا نصف صاع کھجور کے ایک صاع کے برابر ہوتا ہے.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گیہوں کا ذکر نہیں ہے، حالانکہ وہ بھی طعام میں سے، لیکن معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے بھی نکالنے کا مشورہ دیا اور لوگوں نے اس پر عمل بھی کیا.

معلوم یہ ہوا کہ گیہوں نکالنے کیلئے نص میں وارد طعام کا اعتبار کیا گیا، اس لئے جو چیز طعام میں داخل ہوگی اسے نکالا جائے گا، جیسا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے قول سے پتہ چلتا ہے.

اور اس بات پر وہاں موجود تمام صحابہ کرام نے رضا مندی کا اظہار کیا، گیہوں کا فطرانہ نکالنے میں کسی نے مخالفت نہیں کی جبکہ اسے نصف صاع بنانے کی مخالفت دو جلیل القدر صحابی عبد اللہ بن عمر اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم اجمعین نے کی جیسا کہ تفصیل آگے آرہی ہے، اگر اجناس طعام کی منصوصہ اقسام کے علاوہ طعام کی دوسری اجناس دینی جائز نہیں ہوتی تو یقینا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اس کی مخالفت کرتے، معلوم یہ ہوا کہ اشیاء منصوصہ کے علاوہ طعام کے دوسرے اجناس سے فطرہ نکالنے پر اجماع ہے.

دوسرا اثر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے:

((صَدَقَةُ رَمَضَانَ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ مَنْ جَاءَ بِبُرٍّ قُبِلَ مِنْهُ، وَمَنْ جَاءَ بِشَعِيرٍ قُبِلَ مِنْهُ وَمَنْ جَاءَ بِتَمْرٍ قُبِلَ مِنْهُ، وَمَنْ جَاءَ بِسُلْتٍ قُبِلَ مِنْهُ، وَمَنْ جَاءَ بِزَبِيبٍ قُبِلَ مِنْهُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَمَنْ جَاءَ بِسَوِيقٍ أَوْ دَقِيقٍ قُبِلَ مِنْهُ)).

ترجمہ: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رمضان کا فطرہ ایک صاع ہے، جو گیہوں فطرہ میں دے گا اس کا فطرہ ہو جائے گا، جو جو دے گا اس کا بھی ہو جائے گا، جو کھجور دے گا اس کا بھی ہو جائے گا، جو سلت (جو کی ایک قسم) دے گا اس کا بھی ہو جائے گا، جو کشمش دے گا اس کا بھی ہو جائے گا، ابن سیرین اس اثر کے راوی کہتے ہیں کہ: مجھے ایسا لگتا ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ستو اور آٹا نکالنے کے بارے میں بھی کہا ہے.


اس اثر کو ابن ابی شیبہ نے مصنف میں (2/ 395/ 10324)، احمد نے مسند میں (5/ 323/ 3291) حسن بصری کے طریق سے، اور ابن خزیمہ نے صحیح میں (4/ 88/ 2415) محمد بن سیرین کے طریق سے تخریج کی ہے، اور حسن بصری اور محمد بن سیرین نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے.

یہ اثر مرفوعاً اور موقوفا دونوں طرح سے مروی ہے، البتہ مرفوعاً منکر ہے، جیسا کہ امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے کہا ہے.
علل الحديث (627).

اور رہی بات موقوف کی تو حسن بصری اور محمد بن سیرین نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نہیں سنا ہے، البتہ محمد بن سیرین نے جس واسطے سے سنا ہے وہ عکرمہ ہیں جو کہ معروف ثقہ راوی ہیں.

چنانچہ شعبہ کہتے ہیں: ابن سیرین نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بالمشافہ کچھ نہیں سنا ہے، البتہ انہوں نے پوری احادیث عکرمہ کے واسطے سے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنی ہے.
علل ابن المدینی (107).

اور یہی بات ابن معین رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے.
تاریخ ابن معين، روایۃ الدوری (3960 و4055).

چنانچہ یہ منقطع اثر متصل کے حکم میں ہے، کیوں کہ واسطہ معروف ہے اس لئے سَند کی صحت پر اس انقطاع کا کوئی اثر نہیں ہوگا، جیسا کہ امام سیوطی رحمہ اللہ نے کہا ہے.
نیز اس اثر کو ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اتصال پر محمول کیا ہے، ان کی کتاب "صحیح" میں ان کے شروط سے واضح ہے، نیز اتصال سند کے تعلق سے ان کا احتیاط اور تورع بھی بہت مشہور ہے.

خلاصہ کلام یہ کہ: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول صحیح ہے، اور ابن خزیمہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے.
اس اثر میں تین ایسی چیزوں کا ذکر ہے جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فطرہ نہیں نکالا جاتا تھا.
سلت جَو کی ایک قسم ہوتی تھی، ستو اور آٹا.

معاویہ اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے فہم سے اگر ہم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ والی حدیث کو سمجھتے ہیں تو یہی نتیجہ نکل کر سامنے آتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے طعام کا مطلب یہی سمجھا کہ جو چیز جہاں طعام میں داخل ہو اس سے فطرہ نکالا جا سکتا ہے.

دوسری بات: دونوں صحابی کے فہم کی مخالفت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کسی نے نہیں کی، کیوں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ جب مدینہ آئے تھے تو انہوں نے خطبہ دیا تھا اور خطبہ میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا، جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے رضامندی ظاہر کی تھی.

کوئی یہ نہ کہے کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے تو ان کی مخالفت کی تھی، کیوں کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فطرہ میں گیہوں نکالنے کی مخالفت نہیں کی تھی، بلکہ ایک صاع سے گھٹا کر نصف صاع کرنے کی مخالفت کی تھی، اس لئے انہوں نے کہا کہ، میں تو ایک صاع ہی نکالوں گا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نکالتا تھا.

مختصر یہ کہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانے میں موجود تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے فطرہ والی حدیث سے یہی سمجھا کہ جس جگہ جو چیز طعام میں داخل ہو وہ نکالی جا سکتی ہے.

اور نصوص کو فہم صحابہ سے سمجھنا ضروری ہے، چنانچہ موجودہ زمانہ میں عربوں کے یہاں اور برصغیر میں چاول طعام میں داخل ہے، بلکہ وہ غالب قوت البلد ہے، اور کوئی بھی عام آدمی چاول کے طعام ہونے کا انکار نہیں کر سکتا چہ جائیکہ کہ وہ عالم ہو، اور جب چاول طعام ہے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے فہم کے مطابق ہمارا چاول نکالنا عین سنت ہے.

اگر کوئی حسن بصری، عمر بن عبدالعزیز اور ابو اسحاق السبیعی رحمہم اللہ کا حوالہ دے کر کہے کہ یہ بھی تو سلف
میں سے تھے، اور یہ تینوں نقدی فطرہ کے جواز کے قائل تھے، آخر ان کی فہم حجت کیوں نہیں ہو سکتی؟


ان تینوں سلف حضرات کا قول تین اسباب کی بنیاد پر حجت نہیں ہو سکتا.
  • پہلا: ان کا قول حدیث نبوی کے مقابلہ میں ہے.
  • دوسرا: فہم صحابہ کے خلاف ہے.
  • تیسرا: سلف کی اکثریت ان کی مخالف ہے.
چنانچہ جو فہم کتاب وسنت اور فہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور سلف کی اکثریت کے موافق ہوگی اسی کو قبول کرنا متعین ہوگا.

نقدی فطرہ کے جواز پر معاویہ رضی اللہ کے قول سے استدلال کی حقیقت.

بعض لوگ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے قیمت کا اندازہ لگا یا تھا اس لئے قیمت جائز ہے.


در اصل یہ لوگ مغالطہ پیدا کر رہے ہوتے ہیں، کیوں کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ انہوں نے قیمت کا اندازہ لگایا تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے طعام نکالنے کا حکم دیا تھا نقدی نہیں، معاویہ رضی اللہ عنہ کے اثر سے اس وقت استدلال درست ہوتا جب معاویہ رضی اللہ نقدی نکالنے کا حکم دیتے، مطلب نقدی کے قائلین معاویہ رضی اللہ کی اس بات کو مان رہے ہیں جو ان کے مطلب کو دور سے سہارا دے رہی ہے، اور جو ان کے مطلب کی دیوار کو منہدم کر رہی ہے اسے یکسر نظر انداز کر جاتے ہیں، اور عوام کے ذہن میں اپنے مطلب کی بات بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھو معاویہ رضی اللہ عنہ نے قیمت کا اندازہ لگایا تھا، لیکن یہ کبھی نہیں کہتے کہ انہوں نے قیمت کا اندازہ لگا کر طعام ہی نکالا تھا، کیوں کہ اصل جھگڑا نکالنے میں ہے اندازہ لگانے میں نہیں.

اس لئے اس مغالطہ سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ یہ لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام پر نقدی کی دلیل دیتے ہیں جب کہ انہوں نے کبھی نقدی نکالا ہی نہیں.

اگر نقدی کے قائلین معاویہ رضی اللہ کے اثر سے استدلال کرنا ہی چاہتے ہیں تو پورا کریں، کسی طعام کی قیمت کا اندازہ لگا کر اسے طعام کی ہی صورت میں نکالیں تب کہا جائے گا کہ آپ معاویہ رضی اللہ عنہ کے قول پر عمل کر رہے ہیں.

یہاں ایک بات جان لیں کہ: فطرہ میں نصف صاع گیہوں نکالنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ثابت ہے جیسا کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے وہ کہتی ہیں:

" كُنَّا نُؤَدِّي زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ... ".
مسند أحمد (44/ 501/ 26936).
حدیث حسن ہے.
ترجمہ: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فطرانہ میں دو مد گیہوں نکالا کرتے تھے.

لیکن معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلق سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں یہ حدیث نہیں پہنچی ہو گی اس لئے انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا.

نیز ابو سعید خدری اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اجمعین کی معاویہ رضی اللہ عنہ پر نکیر بھی اسی باب سے تھی کہ انہیں اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث نہیں پہنچی ہوگی، اس لئے ان دونوں حضرات صحابہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ پر نکیر کی.

البتہ معاویہ، ابو سعید خدری اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اجمعین کے موقف کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک صحابی نے طعام پر قیاس کرتے ہوئے دوسرے طعام کو نکالنے کی رائے پیش کی، اس پر کسی نے نکیر نہیں کی، لیکن جس مقدار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نکالا جاتا تھا اس میں قیمت کا اعتبار کرکے کمی کی گئی تو دو صحابہ کرام نے نکیر کی جیسا کہ تفصیل آگے آرہی ہے.

یہاں نقدی فطرہ کے قائلین کے مطابق ان کی سب سے اہم دلیل "قیمت کا اندازہ لگانے" كی بنیاد منہدم ہو جاتی ہے، کیوں کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کی حدیث کے مطابق گیہوں سے آدھا صاع فطرہ نکالنا نص نبوی ہے، اس لئے قیمت کا اندازہ لگانے والی دلیل ختم ہوجاتی ہے، اگر کوئی کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گیہوں میں آدھا صاع دوسری اجناس طعام کو مد نظر رکھتے ہوئے مقرر کیا تھا تو سوال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گیہوں کی قیمت کا اندازہ کن اجناس طعام سے لگایا؟ اس کی دلیل مطلوب ہے.

خلاصہ کلام یہ کہ معاویہ رضی اللہ کے قول سے قیمت کا اندازہ لگانے کا اعتبار کرنا درست نہیں کیونکہ کہ گیہوں کا آدھا صاع دوسرے اجناس طعام کی قیمت کے مقابلے میں مقرر نہیں کیا گیا تھا، بلکہ یہ نص سے ثابت ہے، یعنی ہر اجناس طعام میں سے ایک صاع نکالا جائے گا، اور گیہوں سے آدھا صاع نکالا جائے گا.

نقدی فطرہ کے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا موقف:

محترم قارئین: کسی ایک صحابی سے بھی صحیح سند سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے فطرہ میں نقدی نکالنے کا فتوی دیا ہے، یا وہ خود نقدی نکالا کرتے تھے، بلکہ وہ اس کے سخت خلاف تھے، چنانچہ ان کا موقف ملاحظہ فرمائیں:

جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے گیہوں کی قیمت کا مقارنہ دیگر اجناس طعام سے کیا اور گیہوں کا آدھا صاع فطرہ مقرر کیا تو گیہوں سے فطرہ نکالنے پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے تو رضامندی ظاہر کردی لیکن معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو قیمت کا اعتبار کیا اس کی نکیر دو جلیل القدر صحابہ کرام عبد اللہ بن عمر اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم اجمعین نے کی، ایک نے صراحتا اور ایک نے اشارتا.

چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
((تِلْكَ قِيمَةُ مُعَاوِيَةَ لَا أَقْبَلُهَا وَلَا أَعْمَلُ بِهَا)).
صحیح ابن حبان (8/ 98/ 3306).
شیخ البانی رحمہ اللہ نے التعليقات الحسان میں (5/ 216) اسے حسن قرار دیا ہے.
ترجمہ: یعنی نصف صاع معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیمت ہے جسے نہ میں قبول کروں گا اور نہ ہی اس پر عمل کروں گا.

یہ نکیر قیمت کا اندازہ لگا کر نصف صاع کرنے پر تھی نہ کہ گیہوں کو فطرہ میں داخل کرنے پر، چنانچہ ایک روایت میں ہے:
((لَمَّا جَعَلَ نِصْفَ الصَّاعِ مِنَ الْحِنْطَةِ، عَدْلَ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، أَنْكَرَ ذَلِكَ أَبُو سَعِيدٍ، وَقَالَ: لَا أُخْرِجُ فِيهَا إِلَّا الَّذِي كُنْتُ أُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)).
صحيح مسلم (2/ 679).
جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے گیہوں کا آدھا صاع کھجور کے ایک صاع کے برابر کر دیا تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان پر نکیر کی اور کہا، میں تو اسی طرح نکالوں گا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نکالا کرتا تھا.

اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لطیف انداز میں نکیر کرتے ہوئے کہا:
إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ " قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «فَجَعَلَ النَّاسُ عَدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ».
صحيح مسلم (2/ 678).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرہ میں ایک صاع کھجور اور ایک صاع جو نکالنے کا حکم دیا تھا، لیکن لوگوں نے گیہوں کا آدھا صاع مقرر کر دیا.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام نووی نے کہا: جو نصف صاع گیہوں کے قائل ہیں انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے قول سے دلیل پکڑی ہے، حافظ ابن حجر کہتے ہیں: حالانکہ یہ بات محل نظر ہے، کیوں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عمل کی مخالفت ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے کی جو ان سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال وکوائف سے زیادہ واقف تھے، نیز معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود صراحت کی ہے کہ یہ ان کی رائے ہے، نہ کہ حدیث رسول، اور ابو سعید خدری رضی اللہ کی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا اور تمسک بالحديث کا جذبہ کتنا تھا، نیز نص کے مقابلے اجتہاد و رائے کی طرف التفات بھی نہیں کرتے تھے، اور رہی بات معاویہ رضی اللہ عنہ کی تو انہوں نے اجتہاد کیا جو کہ فی نفسہ محمود عمل ہے، لیکن نص کے مقابلے میں ایسا اجتہاد فاسد الاعتبار ہے.
فتح الباری (3/ 374).


قارئین کرام: آپ اندازہ لگا سکتے ہیں صرف قیمت کا اندازہ لگا کر ایک صاع سے نصف صاع کرنے پر دونوں جلیل القدر صحابی کا ایسا رد عمل تھا تو پھر اگر نقدی فطرہ کو جائز قرار دیا جاتا تو ان کا رد عمل کیسا ہوتا؟

معلوم یہ ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے قیمت کا اندازہ لگا کر طعام نکالنے پر بھی نکیر کی ہے چہ جائیکہ کہ وہ نقدی کے جواز کے قائل ہو جائیں.

نقدی فطرہ کے قائلین کہتے ہیں: آپ لوگ جس طرح چاول آٹا اور دیگر اجناسِ طعام قیاس سے نکالتے ہیں ہم بھی اسی طرح نقدی نکالنے کو جائز قرار دیتے ہیں.

سب سے پہلی بات:
ہم نے اوپر دو صحابی کا اثر پیش کیا، جس میں ایک صحابی کے مشورہ پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی رضامندی کا ذکر کیا، گویا ہم چاول یا دیگر اجناس طعام قیاس سے نہیں بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے فہم سے نکالتے ہیں.

چلئے تھوڑی دیر کیلئے مان لیتے ہیں کہ اجناس منصوصہ کے علاوہ اجناس ہم قیاس سے ہی نکالتے ہیں، اب نقدی فطرہ کے قائلین سے سوال ہے کہ کیا قیاس صحیح متفق علیہ دلائل شرعیہ میں سے نہیں؟

کیوں کہ قیاس بغیر نص کے ممکن ہی نہیں، قیاس کے صحیح ہونے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی بنا نص پر ہو، اور اگر قیاس صحیح ہو تو وہ شرعی دلیل ہوتی ہے جس پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے.

اب قیاس دیکھیں: فطرہ میں طعام نکالنا اصل ہے، اسی اصل میں چاول اور دیگر طعام بھی داخل ہے، لیکن چلئے ہم طعام کے بجائے ان چیزوں کو اصل مانتے ہیں جو نصا ثابت ہے، جیسے کھجور، جو، کشمش، پنیر وغیرہ.

اور چاول کو ہم فرع مان لیتے ہیں کیونکہ چاول اور مذکورہ چاروں چیزوں کے درمیان جو جامع وصف ہے وہ طعام ہی ہے، اور اسی کو علت کہتے ہیں، مذکورہ چاروں چیزیں بھی طعام میں سے ہیں، اور اس سے فطرہ نکالنا واجب ہے، اسی طرح چاول بھی طعام میں سے ہے اس لئے اس سے بھی فطرہ نکالا جائے گا.

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا نقدی کو طعام پر قیاس کیا جا سکتا ہے؟

جن چیزوں کا فطرہ میں ذکر ہے اس کی علت طعام ہے، جبکہ نقدی کی علت ثمن ہے، اور جب علۃ ایک نہ ہو تو قیاس ممکن ہی نہیں.

دوسری بات: نقدی طعام کی فرع نہیں ہوسکتا کیوں کہ نقد کی جنس الگ ہے اور طعام کی جنس الگ ہے، اور اصل وفرع کا اعتبار ہم مثل جنس میں ممکن ہے غیر جنس میں ممکن نہیں.

اب تک کی بحث کا خلاصہ:
  • صحابہ کرام کا صرف اجناس طعام نکالنے پر اجماع ہے، کیوں کہ ایک صحابی سے بھی نقدی فطرہ دینے کی دلیل نہیں ملتی.
  • نیز اس بات پر بھی اجماع ہے کہ طعام کے معنی میں جو چیز داخل ہوتی ہو اس سے فطرہ نکالا جا سکتا ہے، جیسا کہ معاویہ اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین کے کے قول سے ثابت ہوتا ہے، کیوں ان دنوں نے جب اشیاء منصوصہ کے علاوہ طعام کی دوسری جنس کو نکالنے کے بارے میں کہا تو کسی نے بھی انکار نہیں کیا، اور دونوں صحابی نے دوران خطبہ لوگوں سے کہا اور کسی نے نکیر نہیں کی.
  • اور اس بات پر بھی اجماع ہے کہ نقدی نہیں نکالا جا سکتا، کیوں کہ کسی بھی صحابی سے نقدی فطرہ نکالنے کا ثبوت موجود نہیں.
مذکورہ تمام اجماع سکوتی اور عملی ہے.

نیز قیاس صحیح سے بھی اجناس طعام کی دیگر قسموں کا نکالنا ثابت ہو گیا.

اجماع اور قیاس صحیح ان شرعی دلائل میں سے ہے جس پر امت کا اتفاق ہے، اور اس کی مخالفت جائز نہیں.
  • حديث میں فطرہ کیلئے تین چیزوں کا اعتبار کیا گیا ہے، مکیل، طعام اور ادخار، اور نقدی میں مذکورہ تینوں چیزوں میں سے ایک بھی نہیں پائی جاتی تو وہ فطرہ کا بدل کیسے ہو سکتا ہے؟

مندرجہ بالا گذارشات کے بعد بھی اگر کوئی اس پر بضد ہے کہ: اگر تمہیں سنت پر عمل کرنا ہے تو انہی چیزوں سے فطرہ نکالو جن کا احادیث میں ذکر ہے، ان سے جوابا عرض ہے:

مذکورہ اعتراض کرنے والے کو ہم یہ کہیں کہ اگر آپ تراویح پڑھنا چاہتے ہیں تو بالکل ویسی ہی لمبی تراویح پڑھیں جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ پڑھا کرتے تھے، اگر آپ ویسی تراویح نہیں پڑھتے، مختصر پڑھتے ہیں تو آپ نے سنت کی مخالفت کی، کیا میرا یہ کہنا درست ہوگا؟

بالکل درست نہیں ہوگا، کیوں کہ اگر آپ گیارہ رکعت تراویح مع وتر اطمینان کے ساتھ تمام ارکان کو پورا کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں تو آپ کی تراویح سنت کے مطابق ہو گئی، گرچہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو.

کیوں کہ یہی فہم صحابہ کرام کا تھا، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ عشاء کے بعد تراویح پڑھ کر سوجاتے تھے، اس کے باوجود ان کی تراویح سنت کے مطابق ہوتی تھی.

جو لوگ نقدی فطرہ کے جواز کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں: جیسے فقیر کی ضرورت اجناس طعام سے پوری ہوتی ویسے ہی نقدی سے بھی پوری ہو جاتی ہے، یعنی مقصد ایک ہی ہے، تو پھر نقدی نکالنے میں کیا حرج ہے؟

جوابا عرض ہے: "ذکر" ایک عام لفظ ہے، جس میں قرآن پڑھنا نماز پڑھنا اور تسبیح وتحمید کرنا سب داخل ہے.

اگر کوئی کہے کہ قرآن پڑھنا ذکر ہے اور نماز پڑھنا بھی ذکر ہے، دنوں اللہ کی عبادت ہے، دونوں سے اللہ رب العالمین خوش ہوتا ہے، کیا پنج وقتہ نماز پڑھنے کے بجائے ہم وضوء کرکے اذان کے بعد قرآن کھول کر بیٹھ جائیں، قرآن پڑھتے رہیں، جب کچھ آیات پڑھ لیں تو اٹھا کر رکھ دیں تو درست ہوگا؟

کیوں کہ مقصد تو اللہ کی عبادت کرنا اور اس کی رضا حاصل کرنا ہے جو قرآن کی تلاوت سے بھی حاصل ہوگا اور نماز سے بھی.

ایسا سوچنے والے اور کرنے والے کو ہم سمجھائیں گے اور کہیں گے تم اپنے اس عمل سے ثواب نہیں بلکہ گناہ کما رہے ہو، نماز کے وقت میں اللہ تعالیٰ نے نماز فرض کیا ہے قرآن پڑھنا نہیں، اس لئے جو چیز جب اور جیسے مقرر ہے اس کو ویسے ہی بجا لاؤ، اس کے بعد قرآن مجید کی تلاوت کرو تب جاکر صحیح مسلمان کہلاؤگے.

اسی طرح جو کہتے ہیں کہ اجناس طعام سے بھی غریبوں کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے اور نقدی سے بھی ضرورت پوری ہو جاتی ہے اس لئے ہم نقدی نکالیں گے تو ان سے بھی میں یہی کہوں گا کہ بھائی فطرہ جن چیزوں میں اور جس مقدار میں شریعت نے مقرر کیا ہے آپ اسے ہی نکالئے، اس کے بعد آپ جتنا پیسہ چاہے غریبوں کو دے سکتے ہیں اور ان کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں.

جس طرح قرآن ونماز کے عبادت ہونے کے باوجود قرآن نماز کے قائم مقام نہیں ہو سکتا ٹھیک اسی طرح اجناس طعام اور نقدی سے مساکین ضرورت پوری ہونے کے باوجود نقدی اجناس طعام کے قائم مقام نہیں ہو سکتا.

نقدی فطرہ کے قائلین کو مساکین کی مصلحت کا خیال بہت ستاتا ہے جبکہ شریعت کی مصلحت ک خیال ایک مرتبہ بھی نہیں آتا.

قارئین کرام: شریعت نے فطرہ صرف فقیروں کی مصلحت کیلئے نہیں بلکہ روزہ داروں کی مصلحت کیلئے بھی فرض کیا ہے، کیوں کہ اگر فطرہ صرف غریبوں کی مصلحت کیلئے ہوتا تو مساکین وفقراء روزہ دار کو فطرہ نکالنے کا حکم نہیں دیا جاتا، مسکین وفقیر کے فطرہ نکالنے میں ان کی کون سی مصلحت ہے؟

اس لئے فطرانہ میں شریعت نے فقراء کی مصلحت کے ساتھ ساتھ روزہ داروں کی مصلحت پر بھی زور دیا ہے، اس لئے "طعمۃ للمساکین" سے پہلے "طہرۃ للصائم" بھی کہا ہے، نقدی فطرہ والے ایک مصلحت کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں.

والله أعلم بالصواب

وأسأل الله أن يهدينا سواء السبيل، وأن يرينا الحق حقا ويرزقنا اتباعه، وأن يرينا الباطل باطلا ويرزقنا اجتنابه
 
Top