محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,088
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
نماز کی اہمیت کسی مسلمان سےمخفی نہیں ہے، ذیل کی سطور میں چندا یک نکات بیان کیے جاتے ہیں:
- انسان سےکلمہ پڑھنے کے بعد سب سے پہلے مطالبہ نماز کی ادائیگی کاہے۔
- نماز اسلام کےپانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔
- نماز دین کا ستون ہے۔
- روز قیامت سب سے پہلے انسان سے نماز کا حساب لیاجائے گا۔
- نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت ہے۔
- نماز کو اللہ تعالی نے معراج کی رات فرض قرار دیا ہے۔
- اللہ تعالی نے نماز کامطالبہ روزانہ پانچ مرتبہ کیا ہے۔
- نماز کسی حالت میں معاف نہیں ہوتی ، انسان کسی بھی حالت میں ہو ، وہ بیمار ہو ، تندرست ہو، حالت جنگ میں ہو یا امن وسکون سےزندگی گزار رہا ہو، سفر میں ہو یا مقیم ہر حالت میں نماز کی ادائیگی لازمی قرار دی گئی ہے۔
- نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔
نماز كیسے پڑھی جائے؟
نماز میں خشوع وخضوع کا ہونا ضروری ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی مقدور بھر کوشش کرے کہ اس کا پورا دھیان نماز میں ہو۔ ہر قسم کے غلط افکار کو خود سے دور کرے۔ امام کی قراءت کو غور سے سنے اور الفاظ کے معانی ومفاہیم میں تدبر کرے۔ جو اذکار وہ پڑھتا ہے اس کے معانی بھی اس کے ذہن میں مستحضر ہوں۔ اسے اس بات کا ادراک ہو کہ وہ اللہ تعالی کے سامنے کھڑاہے، اپنے رب سے سرگوشیاں کر رہا ہے۔ اللہ تعالی کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے، اور اگر یہ کیفیت نہیں پیدا ہوتی تو کم ازکم یہ ضرور اس کے ذہن میں ہونا چاہیے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
والله أعلم بالصواب.
- انسان سےکلمہ پڑھنے کے بعد سب سے پہلے مطالبہ نماز کی ادائیگی کاہے۔
- نماز اسلام کےپانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔
- نماز دین کا ستون ہے۔
- روز قیامت سب سے پہلے انسان سے نماز کا حساب لیاجائے گا۔
- نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت ہے۔
- نماز کو اللہ تعالی نے معراج کی رات فرض قرار دیا ہے۔
- اللہ تعالی نے نماز کامطالبہ روزانہ پانچ مرتبہ کیا ہے۔
- نماز کسی حالت میں معاف نہیں ہوتی ، انسان کسی بھی حالت میں ہو ، وہ بیمار ہو ، تندرست ہو، حالت جنگ میں ہو یا امن وسکون سےزندگی گزار رہا ہو، سفر میں ہو یا مقیم ہر حالت میں نماز کی ادائیگی لازمی قرار دی گئی ہے۔
- نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔
نماز كیسے پڑھی جائے؟
نماز میں خشوع وخضوع کا ہونا ضروری ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنی مقدور بھر کوشش کرے کہ اس کا پورا دھیان نماز میں ہو۔ ہر قسم کے غلط افکار کو خود سے دور کرے۔ امام کی قراءت کو غور سے سنے اور الفاظ کے معانی ومفاہیم میں تدبر کرے۔ جو اذکار وہ پڑھتا ہے اس کے معانی بھی اس کے ذہن میں مستحضر ہوں۔ اسے اس بات کا ادراک ہو کہ وہ اللہ تعالی کے سامنے کھڑاہے، اپنے رب سے سرگوشیاں کر رہا ہے۔ اللہ تعالی کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے، اور اگر یہ کیفیت نہیں پیدا ہوتی تو کم ازکم یہ ضرور اس کے ذہن میں ہونا چاہیے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
والله أعلم بالصواب.