• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نمبر 2 : علماء کی رفاقت مثبت سوچ دیتی ہے

شمولیت
اکتوبر 25، 2014
پیغامات
231
ری ایکشن اسکور
19
پوائنٹ
75
نمبر 2 : علماء کی رفاقت مثبت سوچ دیتی ہے

اپنی طرف سے آںحضرت ﷺ کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کرنے کی پوری کوشش کے بعد مزید تسلی کے لیے ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے جاتی ہیں۔

ورقہ بن نوفل حضرت خدیجہؓ کے چچا زاد بھائی تھے اور زمانۂ جاہلیت میں نصرانی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عبرانی زبان کے کاتب تھے، چنانچہ انجیل کو بھی حسب منشائے خداوندی عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے۔ (انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی تھی پھر اس کا ترجمہ عبرانی زبان میں ہوا۔ ورقہ اسی کو لکھتے تھے) وہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہو چکی تھی۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کیے اور کہا کہ اے چچا زاد بھائی! اپنے بھتیجے (ﷺ ) کی زبانی ذرا ان کی کیفیت سن لیجیئے۔

ورقہ بن نوفل نے آنحضرت (ﷺ) سے دریافت کیا: ’’بھتیجے آپ نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی تفصیل سناؤ‘‘۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ورقہ بن نوفل کو غار حرا میں پیش آنے والا سارا وقعہ اول تا آخر سنا دیا۔

جسے سن کر ورقہ بے اختیار ہو کر بول اٹھے کہ ’’یہ تو وہی ناموس (معزز راز دان فرشتہ) ہے جسے اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی دے کر بھیجا تھا۔ کاش! میں آپ کے اس عہد نبوت کے شروع ہونے پر جوان عمر ہوتا۔ کاش! میں اس وقت تک زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی‘‘۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا: ’’کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے؟ (حالانکہ میں تو ان میں صادق و امین و مقبول ہوں)‘‘۔

ورقہ بن نوفل نے جواب دیا: ’’ہاں ایسا ہی ہوگا، یہ سب کچھ سچ ہے۔ کیونکہ جو شخص بھی آپ کی طرح امر حق لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہی ہو گئے۔ اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ زمانہ مل جائے تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا‘‘۔ (مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے)۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت خدیجہؓ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے جائیں تاکہ اُن کی طرف سے آپ کو یہ یقین دہانی کرادی جائے کہ آپ ﷺ کی ذات بابرکات پر جو یہ واقعہ اچانک گزرا ہے، درحقیقت وحی الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ پہلے انبیاء پر نازل کرتے رہے ہیں تاکہ آپ کے دل سے منفی سوچ جیسے خوف و خدشات وغیرہ دور ہو جائے (جو اس واقعے کے سبب آپ کے دل و دماغ میں چھائے ہوئے تھے) اور آپ کا دل مظبوط ہو اور اس میں نبوت کا بارِگراں اٹھانے کیلئے مثبت و تعمیری سوچ پیدا ہو جائے۔

ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ

’’مشکل حالات میں علم والے سے مشورہ کرنا چاہئے‘‘۔

یعنی جب بھی کوئی ایسا معاملہ در پیش ہو جس کا مثبت حل ہمارے پاس نہ ہو تو ہمیں ایسے علم والے سے رجوع کرنی چاہئے جو بہتر اور مثبت مشورہ دے سکے۔۔ یہ کلیہ دین و دنیا دونوں معاملوں کیلئے ہے، لیکن دین کے معاملے میں خاص ہے کونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

۔ ۔ ۔ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (43) سورة النحل
۔ ۔ ۔ اگر تم نہیں جانتے ہو تو علم والوں سے پوچھ لیا کرو(43) سورة النحل

علم والوں کی صحبت بہت مبارک صحبت ہے۔ علما کی مجالس میں بیٹھنے سے دلوں میں خشیتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے، گناہوں سے بچنا ممکن ہوتا ہے اور عبادت میں دل لگتا ہے۔ جب تک انسان علما کی صحبت میں رہتا ہے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہی رہتا ہے اور ذہن میں مثبت اور تعمیری سوچ پروان چڑھتی رہتی ہے۔

لیکن افسوس کہ علما کو گالی دینا آج کل کے ماڈرن نوجوانوں کا فیشن بن گیا ہے جو کہ منفی رویہ اور منفی سوچ کا نتجہ ہے۔ دین و دنیا کی کامیابی کیلئے اسے مثبت سوچ سے بدلنا ضروری ہے۔

یاد رکھئے! علما کو گالی دینے والے علم سے محروم اور دین سے دور ہوجاتے ہیں اور دنیا و آخرت کی ذلالت ان کی مقدر بن جاتی ہے۔ اس لئے کسی بھی صاحب علم کو گالی دینے والے توبہ کریں۔

آج کل تو کسی علم والے کی مجالس کا ملنا بڑے نصیب کی بات ہے اور اگر کسی ایسے عالم کی مجالس میں بیٹھنے کا موقع مل جائے جن میں درج ذیل چار خصوصیات ہوں تو اور بھی نصیب کی بات ہے:

1) عالم باعمل اورباکردار ہوں۔
2) علومِ شریعہ پر عبور ہو۔
3) غور و خوص، تفکّر و تدبّر کے حامل ہوں۔
4) امَربالمعروف و نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہوں۔

لہذا علما کو اپنا رفیق بنائیے اور ان کی صحبت اختیار کیجئے۔
علم والوں سے پوچھنا اپنا شعار بنا لیجئے وہ آپ کو مثبت سوچ دیں گے۔

یاد رکھئے: علما کی رفاقت مثبت سوچ دیتی ہے
اور

مثبت سوچ زندگی بناتی ہے، کامیابی دلاتی ہے

تحریر: محمد اجمل خان
۔
 
Top