• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح سے پہلے شرط

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
بڑی محنت سے جواب لکھ چکا ،تو دیکھا "انٹرویو کینسل " کا بورڈ آویزاں تھا ،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اللہ تعالی آپ کی محنتیں قبول فرمائے.آمین!
مجھے اس بات کا احساس تھا کہ یقینا آپ جواب لکھ رہے ہوں گے..اس لیے محترم عمر بھائی کی درخواست کو موخر کر دیا تھا بلکہ مشورے کے لیے محترم شیخ خضر حیات صاحب کو بھی لکھ دیا تھا...ابتسامہ!
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,406
ری ایکشن اسکور
1,099
پوائنٹ
412
بڑی محنت سے جواب لکھ چکا ،تو دیکھا "انٹرویو کینسل " کا بورڈ آویزاں تھا ،
ایک بار پھر معذرت شیخ.
لیکن محترم جناب کنعان صاحب کے بولنے کی وجہ سے ایسا لکھا. انھوں نے بھی صحیح کہا کہ مجھے چھانٹ پھٹک کر لینی چاہیۓ تھے.
خیر آپ نے جواب دیا ھے اسکے لۓ میں آپ کا شکر گزار ھوں.
یقین جانئے میں آپکا بے حد منمون ومشکور ھوں.
شکرا جزیلا وجزاک اللہ خیرا.
اللہ سے دعا گو ھوں کہ وہ آپکو دنیا وآخرت میں اسکا بہتر بدلہ عطا فرماۓ.
اللہ آپکے علم میں، عمل میں اور وقت میں برکت عطا فرماۓ.
اللہ آپکی ان محنتوں کو قبول فرماۓ.
میری کسی بات یا کسی عادت کی وجہ سے تکلیف ھوئ ھو تو معافی چاہتا ھوں.

والسلام.

 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,406
ری ایکشن اسکور
1,099
پوائنٹ
412
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اللہ تعالی آپ کی محنتیں قبول فرمائے.آمین!
مجھے اس بات کا احساس تھا کہ یقینا آپ جواب لکھ رہے ہوں گے..اس لیے محترم عمر بھائی کی درخواست کو موخر کر دیا تھا بلکہ مشورے کے لیے محترم شیخ خضر حیات صاحب کو بھی لکھ دیا تھا...ابتسامہ!
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
محترم!
آپ کو بھی بلا وجہ پریشان کیا. براہ کرم اس کو باقی رکھیں. تاکہ لوگ بشمول میں مستفید ھو سکیں.
بچہ سمجھ کہ معاف کیجۓ گا.
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,406
ری ایکشن اسکور
1,099
پوائنٹ
412
جب بڑے ہو جائیں تو مطلع کرنا نا بھولیئے گا....ابتسامہ!
اگر آپ جیسے لوگ فورم پر موجود ھوں تو ان شاء اللہ کسی کو کسی کی بات سے تکلیف یا شکایت نہیں پہونچے گی. اور اگر پہونچی بھی تو فورا رفع ھو جاۓ گی.
جزاک اللہ خیرا. ایک بے ساختہ ہنسی لانے کے لۓ.
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,406
ری ایکشن اسکور
1,099
پوائنٹ
412
اب رہا دوسری شادی نہ کرنے کی شرط اس پر اگلی نشست میں ان شاء اللہ عرض کرتا ہوں
اگلی نشست کا انتظار ھے. جب آپ کو موقع ملے تب لکھ دیجۓ گا. جزاک اللہ خیرا
عقد نکاح کے وقت شادی کرنے والی عورت یا اس کے ولی کی جانب طلاق کی صورت میں مال دینے کی شرط رکھنا صحیح ہے ،
یہ بھی مہر کا ایک حصہ ہے جسے مؤخر کرنے پر فریقین کا اتفاق ہوا ہے ،
محترم شیخ!
کیا یہ اس مہر کے علاوہ ھوگی جو نکاح سے پہلے لڑکا لڑکی کو دیتا ھے؟؟؟
میرا مطلب یہ ھیکہ دو مہر صحیح ھیں نا؟؟؟
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,406
ری ایکشن اسکور
1,099
پوائنٹ
412
اگلی نشست کا انتظار ھے. جب آپ کو موقع ملے تب لکھ دیجۓ گا. جزاک اللہ خیرا

محترم شیخ!
کیا یہ اس مہر کے علاوہ ھوگی جو نکاح سے پہلے لڑکا لڑکی کو دیتا ھے؟؟؟
میرا مطلب یہ ھیکہ دو مہر صحیح ھیں نا؟؟؟
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,474
پوائنٹ
791
ایک لڑکی ھے جسکے ولی (بھائ) نے لڑکے کے سامنے دو شرطیں رکھیں ھیں:
  1. لڑکا دوسری شادی نہیں کرےگا لڑکی کے ھوتے ھوۓ (بہن کے ھوتے ھوۓ)
دوسری شادی نہ کرنے کی شرط پر نکاح کا حکم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک اسلامی اسکالر کا کہنا ہے کہ نکاح دو فریقین کے درمیان ایک معاہدہ جیسا ہے۔ لہٰذا ایک لڑکی یا س کے گھر والوں کو یہ شرعی حق حاصل ہے کہ اگر وہ چاہیں تو نکاح نامے میں یہ ’’شرط‘‘ شامل کروا سکتے ہیں کہ لڑکا اس بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کرے گا۔
اور اگر لڑکا اس شرط کو مان لے تو پھر وہ اس بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کرسکتا۔ موصوف کا کہنا ہے کہ شادی بیاہ میں فریقین اپنی پسند کی کوئی بھی شرط لکھوا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ شرط کارفرائض سے روکنے اور کار حرام کو کرنے سے متعلق نہ ہو۔ چونکہ دوسری شادی کرنا فرض نہیں ہے، لہٰذا پہلی بیوی نکاح نامے میں یہ شرط شامل کرواسکتی ہے اور شوہر کے مان لینے کی صورت میں شوہر بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہ کرنے کا پابند ہوگا۔
کیا یہ شرط ایک جائز کام کو اپنے اوپر از خود حرام کرلینے کے مترادف نہیں ہے؟ کیا کوئی شخص (ہونے والی) بیوی کی فرمائش پر اپنے اوپر اس قسم کی پابندی لگا سکتا ہے ؟ مثلا" اگر کوئی لڑکی یہ کہے کہ مجھے شہد کی بو پسند نہیں لہٰذا شادی کے بعد تم شہد نہیں پیوگے تو کیا مرد اس شرط کو تسلیم کرکے اپنے اوپر شہد کو حرام کرسکتا ہے؟۔ازراہ کرم تسلی بخش جواب مطلوب ہے۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نکاح میں کوئی بھی ایسی شرائط جو شریعت کے خلاف نہ ہو ، دونوں فریق کی طرف سے لگائی جاسکتی ہیں۔ چونکہ نکاح میاں بیوی کے اکٹھے زندگی گزارنے کا ایک معاہدہ ہوتا ہے۔اور وہ دونوں اپنی اپنی طبیعت اور رجحان کے پہلو سے ایک دوسرے کو کسی بھی شرط پر مطمئن کرلیں تو اس میں شریعت کوئی قدغن نہیں لگاتی۔
مذکورہ بالا مسئلہ کہ ’’ اگر کوئی عورت نکاح میں یہ شرط رکھے کہ میں تب تم سے نکاح کروں گی اگر تم دوسری شادی نہ کرواؤ گے‘‘ کیا اس کی یہ شرط باندھنا درست ہے؟
سب سے پہلے کسی بھی شرط کو دو طرح سے دیکھا جائے گا کہ
1۔وہ شرط اللہ کے حلال کردہ کو حرام تو نہیں ٹھہرا رہی
2۔ شرط انسانی غیرت و حمیت اورانس و محبت سے تعلق رکھنے والی مستحبہ چیز تو نہیں جس کا چھوڑنے کی شرط لگائی جارہی ہے اور یہ شرط محدود وقت تک ہو۔​
1۔اگر تو ایسی چیز ہے کہ جس کے ترک کرنے سے کسی حلال کو حرام ٹھہرایا جارہا ہے اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے اپنے آپ پر حرام کرنا جیسا کہ نبیﷺ نے ازواج مطہرات کے کہنے پر شہد کو اپنے آپ پر روک لیا تھا تو یہ آیت اتری :
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّ‌مُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْ‌ضَاتَ أَزْوَاجِكَ (التحریم:1)
’’اے نبی! کیوں آپ نے اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام ٹھہرایا اپنی بیویوں کی رضا کی خاطر‘‘​
لہٰذا اس طرح کی اشیاء کہ جس میں اللہ کی حلال کردہ حرام میں بدل جائے یہ درست نہیں او رنہ ہی ان چیزوں کی قسم کھانا اور معاہدہ کرنا جائز ہے۔
2۔وہ اشیاء کہ جو مستحب ہوں اور غیر ت وحمیت اور محبت کی خاطر خاص مدت کے لیے شرائط یا معاہدہ میں باندھ لی جائیں وہ درست ہیں۔ جس طرح کہ حضرت علیؓ نےابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنا چاہی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے عقد میں تھیں تونبیﷺ نے فرمایا:
إن فاطمۃ منی وأناأ تخوف أن تفتن فی دینھا وإنی لست أحرم حلالا ولا أحل حراما ولکن واللہ لا تجتمع بنت رسول اللہ و بنت عدواللہ۔ (صحیح بخاری :3109)
’’بے شک فاطمہ رضی اللہ عنہا مجھ سے ہے اور میں اس کے دین میں فتنہ میں پڑ جانے سے ڈرتا ہوں اور میں حلال کو حرام او رحرام کو حلال نہیں ٹھہرا رہا ،لیکن اللہ کی قسم اللہ کے دشمن کی بیٹی اور رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اکٹھے نہیں ہوسکتے۔‘‘​
گویا دوسری شادی کرنا چونکہ مباح تھا او رآپﷺ نے غیرت میں یہ پسند نہ کیا او رحضرت علی کو روک دیا۔
اس پر قیاس کرتے ہوئے آج بھی اگر کوئی عورت دوسری شادی نہ کرانے کا معاہدہ یا شرط لگائے تو جائز ہے کیونکہ یہ حلال کو حرام ٹھہرانے کے زمرے میں نہیں آتا۔
وبالله التوفيق
فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ
 
Top