• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نکاح کے لئے ضروری شرائط۔۔

نجم

رکن
شمولیت
اپریل 18، 2011
پیغامات
99
ری ایکشن اسکور
480
پوائنٹ
79
السلام علیکم!
کسی نے سوال کیا ہے کہ کیا عورت اللہ کو حاضر ناظر جان کر اپنا نکاح مرد سے خود ہی کر سکتی ہے ؟ اور کہا جائے کہ ایسے نہیں ہوتا تو جواب ملتا ہے کہ اللہ سے بڑا کون گواہ ہو سکتا ہے ؟ شریعت میں اس کی کیا سزا ہے ؟
برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی کی جائے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
کیا عورت اللہ کو حاضر ناظر جان کر اپنا نکاح مرد سے خود ہی کر سکتی ہے ؟
۱۔ عورت کے نکاح کے لیے یہ لازم ہے کہ ایجاب وقبول اور حق مہر کے علاوہ عورت کا ولی اور کم ازکم دو گواہ موجود ہوں۔ بغیر دو گواہوں کے نکاح کو اہل علم کے اتفاق کے مطابق نکاح کہنا جائز نہیں ہے۔
۲۔ اس کے نکاح نہ ہونے کے دلائل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ روایات ہیں کہ جن میں آپ نے فرمایا کہ ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہے یا ولی اور دو گواہوں کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہے وغیرہ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے دونوں روایات کو صحیح کہا ہے۔
(لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ) رواه أبو داود (2085) والترمذي (1101) وابن ماجه (1881) من حديث أبي موسى الأشعري ، وصححه الألباني في صحيح الترمذي .
وقوله صلى الله عليه وسلم : (لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ) رواه البيهقي من حديث عمران وعائشة ، وصححه الألباني في صحيح الجامع برقم (7557) .

شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
الحمد لله
يشترط لصحة النكاح : أن يعقده ولي المرأة ، وأن يشهد العقد شاهدان مسلمان ؛ لقوله صلى الله عليه وسلم : (لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ) رواه أبو داود (2085) والترمذي (1101) وابن ماجه (1881) من حديث أبي موسى الأشعري ، وصححه الألباني في صحيح الترمذي .
وقوله صلى الله عليه وسلم : (لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ) رواه البيهقي من حديث عمران وعائشة ، وصححه الألباني في صحيح الجامع برقم (7557) .
وولي المرأة : أبوها ثم أبوه ثم ابنها (إن وجد) ثم أخوها الشقيق ثم أخوها من الأب ثم ابن الأخ الشقيق ، ثم ابن الأخ من الأب ، ثم العم ثم ابنه ثم الحاكم المسلم .
المغني (9/355) .
وإذا كانت المرأة مسلمة : اشترط أن يكون وليها مسلما .
قال ابن قدامة رحمه الله : " أما الكافر فلا ولاية له على مسلمة بحال ، بإجماع أهل العلم ، منهم مالك والشافعي وأبو عبيد وأصحاب الرأي . وقال ابن المنذر : أجمع على هذا كل من نحفظ عنه من أهل العلم " انتهى من "المغني" (9/ 377).
وعليه ؛ فإذا كان وليك مسلما ، فقد تحقق شرط الولي .
وإذا لم يكن مسلما ، لم يصح النكاح ، ووجب تجديد العقد ، على يد وليك المسلم إن وجد ، فإن لم يوجد ، زوّجك القاضي المسلم إن وجد ، وإلا فمسئول المركز الإسلامي ونحوه ممن له منزلة بين المسلمين ، فإن لم يوجد زوّجك رجل عدل من المسلمين .
وأما الشهادة : فالمقصود منها : شهادة الشاهدين المسلمين على العقد الذي يتم بين الولي والخاطب ، فكل من حضر العقد من كاتبٍ وقريبٍ ومأذون وغيره ، فهو شاهد عليه ، إن كان صالحا للشهادة ، أي مسلما عدلا .
وذهب جمع من أهل العلم إلى أن " إشهار النكاح وإعلانه " يغني عن الإشهاد ، لما روى أحمد عن عبد الله بن الزبير رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( أعلنوا النكاح ) والحديث حسنه الألباني في إرواء الغليل برقم (1993) .
قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله : " لا ريب في أن النكاح مع الإعلان يصح وإن لم يشهد شاهدان . وأما مع الكتمان والإشهاد : فهذا مما ينظر فيه .
وإذا اجتمع الإشهاد والإعلان فهذا لا نزاع في صحته .
وإذا انتفى الإشهاد والإعلان : فهو باطل عند عامة العلماء . وإن قُدّر فيه خلاف فهو قليل " انتهى من "الاختيارات الفقهية" ص 177.
وينظر جواب السؤال رقم : (124678) ورقم : (112112) .
وعليه : فإذا كان الشاهدان شهدا العقد ، أو حصل الإشهار والإعلان للنكاح ، فزواجك صحيح ، وإلا لزمك تجديد العقد .
والله أعلم .
الإسلام سؤال وجواب
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اور کہا جائے کہ ایسے نہیں ہوتا تو جواب ملتا ہے کہ اللہ سے بڑا کون گواہ ہو سکتا ہے ؟
۱۔ اللہ ہی نے اپنے رسول کی زبانی یہ کہا ہے کہ انسانوں کو گواہ بناؤ۔
۲۔ اللہ تعالی تو ہر چیز ہر گواہ ہے یا شہید ہے ؛
{وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيداً }النساء33
پس اللہ تو بدکاری پر بھی گواہ یعنی شہید ہے تو کیابدکاری نکاح بن جاتی ہے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
شریعت میں اس کی کیا سزا ہے ؟
جو بدکاری اور زنا کی سزا ہے یعنی اگر غیر شادی شدہ ہیں تو سو کوڑے اور اگر شادی شدہ ہیں تو رجم کی سزا ہے لیکن یہ سزا ریاست جاری کرے گی نہ کہ عام افراد یا معاشرہ یا کوئی اسلامی تنظیم یا جماعت۔
 
Top