• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نگراں فرشتے

عابدالرحمٰن

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
1,124
ری ایکشن اسکور
3,234
پوائنٹ
240
پیش کردہ :مفتی عابدالرحمٰن بجنوری​

نگراں فرشتے​

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا فرمایا اور پھر ان کے کاموں کو تقسیم فرمادیا چنانچہ ان فرشتوںمیں سے کچھ کو انسان کی نگرانی پر مقرر فرمادیا ۔ اس بارے میں علماء میں اختلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے کن امور کی نگرانی کے لیے فرشتوں کو انسان کا نگراں مقرر کیاہے بعض علماء کہتے ہیں کہ وہ تمام انسانوں کے تمام اقوال وافعال لکھتے ہیں ،اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں یہ صرف وہ اقوال وافعال لکھتے ہیں جن کا تعلق گناہ یا ثواب سے ہے اور جب یہ فرشتے ان کو لیکر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو ان چیزوں کو حذف کردیتے ہیں جن میں کوئی ثواب یا گناہ نہیں ہوتا،ان کی دلیل یہ ہے :
يَمْحُوا اللہُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ۝۰ۚۖ وَعِنْدَہٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ۝۳۹ [١٣:٣٩]
خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے
ان علماء کی اس آیت مبارکہ کی یہ تفسیر ضحاک اور کلبی کی تفسیر کے مطابق ہے( تفسیر مظہری میں ص:۳۷ج:۵ )
یعنی جن اقوال وافعال میں کوئی اجر اور گناہ نہیں ہے اس کو مٹادیتے ہیں اور اجر وثواب والی چیزوں کو باقی رکھتے ہیں۔ ہشام بن حسان نے عکرمہ سے اور ا نہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے :
مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَـدَيْہِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ۝۱۸ [٥٠:١٨]
کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے
فرمایا نبی آدم کے ہر قول ،خیر وشر کو لکھتے ہیں،اور اس کے علاوہ نہیں لکھتے،ہشام نے کہا جیسے یا غلامی گھوڑے کو چارہ ڈالدو وغیرہ باتوں کو نہیں لکھتے۔ اور حسن بصری ؒ نئ فرمایا سب کچھ لکھتے ہیں ۔
اب یہ کتنے فرشتے ہیں توابن جریح ؒنے فرمایا کہ وہ دو فرشتے ہیں ایک دائیں جانب اور ایک بائیں جانب، جو دائیں جانب ہے وہ بلا شہادت کے لکھتا ہے اور جو بائیں جانب ہے وہ اپنے ساتھی کیشہادت کے بعد لکھتا ہے۔ جب آدمی بیٹھتا ہے تو ایک دائیں جانب ہوجاتا ہے اور ایک بائیں جانب ،اور جب آدمی چلتا ہے تو ایک آگے ہوجاتا ہے اور ایک پیچھے ،اور جب آدمی سوتا ہے تو ایک اس کے سر کی جانب ہوجاتا ہے اور ایک پیر کی جانب ۔ بعض علماءنے کہا ہے کہ یہ چار فرشتے ہوتے ہیں۔ دو دن کے اور دو رات کے ،عبداللہ بن مبارکؒ نے فرمایا وہ پانچ فرشتے ہوتے ہیں دو دن کے اور دورات کے اور ایک کسی وقت جدا نہیںہوتا۔ نگران فرشتوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے ۔ تفسیر مظہری کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ ہر آدمی کے ساتھ بیس فرشتے رہتے ہیں ،علامہ شامیؒ ساٹھ فرشتوں تک کے اقوال نقل کیے ہیں(تفسیر مظہری ص:۲۲۰ج:۵)ردالمحتارص:۳۵۸ج:۱) اور ازالۃ الخفاء میں لکھا ہے کہ ابلیس دن میں ساتھ رہتا ہے اور رات میں اس کی ذریت ساتھ رہتی ہے۔(حاشیہ مظہری ص:۲۲۰ج:۵)
تعداد کے بارے میں کافی اختلاف ہے اسی ہزار تک کی تعداد بیان کی گئی ہے لیکن صحیح کیا ہے اللہ تعالیٰ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے اسی کو صاحب ابن کثیر نے اختیار کیا ہے(تفسیر ابن کثیرص:۲۴ج:۱)
کافروں کے بارے میںاختلاف ہے کہ کیا ان پر بھی فرشتے مقرر ہوتے ہیں تو بعض علماءنے کہا ہے کہ نہیں کیوں کہ ان کا معاملہ ظاہر ہے اور عمل بھی ایک ہی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰہُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِيْ وَالْاَقْدَامِ۝۴۱ۚ [٥٥:٤١]
گنہگار اپنے چہرے ہی سے پہچان لئے جائیں گے تو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ لئے جائیں گے
علامہ ابواللیث سمرقندیؒ فرماتے ہیں کہ کافروں پر بھی نگراں مقرر ہوتے ہیں جیسا کہ اس بارے میں یہ آیت مبارکہ ہے:
كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ۝۹ۙ [٨٢:٩] وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ۝۱۰ۙ [٨٢:١٠] كِرَامًا كَاتِبِيْنَ۝۱۱ۙ [٨٢:١١] يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ۝۱۲ [٨٢:١٢]
مگر ہیہات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو ،حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں ،عالی قدر( تمہاری باتوں کے) لکھنے والے
دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَہٗ بِيَمِيْنِہٖ۝۰ۙ فَيَقُوْلُ ہَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَہْ۝۱۹ۚ [٦٩:١٩]

تو جس کا (اعمال) نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں سے) کہے گا کہ لیجئےمیرا نامہ (اعمال) پڑہئے
اور دوسری جگہ فرمایا:
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَہٗ بِيَمِيْنِہٖ۝۷ۙ [٨٤:٧]
تو جس کا نامہٴ (اعمال) اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا
وَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَہٗ وَرَاۗءَ ظَہْرِہٖ۝۱۰ۙ [٨٤:١٠]
اور جس کا نامہٴ (اعمال) اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰ نے خبر دی ہے کہ کافروں کے بھی اعمال نامے ہوں گے اور ان پر نگراں ہوتے ہیں ۔اب اگر کوئی یہاں یہ اعتراض کرے کہ دائیں طرف والا فرشتہ کیا لکھتا ہوگا کہ جب کافر سے کوئی نیکی ہی نہیں ہوتی تو اس کا جواب یہ ہے کہ بائیں جانب والا فرشتہ اس کی اجازت سے لکھتا ہے اور وہ بحیثیت شاہد کے ہوتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
 
Top