• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

واقعہ صلیب کےتاریخی مصادر کا تحقیقی جائزہ

شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
80
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
41
واقعہ صلیب کےتاریخی مصادر کا تحقیقی جائزہ

تحقیق وتحریر: ڈاکٹر عبداللہ غازیؔ(استاذجامعۃ الرشید،کراچی)

واقعہ تصلیب روز اول سے ہی عینی شاہدین کی عدم موجودگی کے سبب مشکوک اور غیر معتبر رہا ہے۔ اس واقعہ سے متعلق تاریخی روایات پر زیادہ تر مشرکانہ عقائد کااثر رہاہے۔ مسیحی روایات میں اس واقعے کاماخذ اناجیل اربعہ ہیں جن میں چاروں انجیل نویسوں نے اس واقعہ کو باہمی اختلافات، واقعاتی تضادات اور تاریخی اغلاط کے ساتھ بیان کیا ہے جس سے اس واقعہ کی انجیلی تصویر غیرمعتبر ہوجاتی ہے اور ان انجیلی بیانات کی تنقیح تاریخ کی روشنی میں ضروری ہو جاتی ہے تاکہ تاریخی شواہد سے انجیلی بیانات میں موجود افسانوں کی حقیقت کاادراک ہوسکے۔ دوسری طرف بدقسمتی سے پاکستانی دیسی عیسائیوں کے نزدیک واقعہ صلیب کی صداقت کا واحد معیار اناجیل اربعہ ہیں اور وہ اس امر پر بضد ہیں کہ چوں کہ انجیل نویسوں نے اس واقعے کو بیان کیا ہے لہذا اسے من و عن قبول کر لیا جائے۔ اب کچھ عرصہ سے پاکستان کے دیسی عیسائیوں نے اناجیل اربعہ کے علاوہ دیگر تاریخی ماخذات کی روشنی میں بھی افسانوی واقعہ صلیب کی صداقتیں بیان کرنے کا آغاز کیا ہے تاہم ان کی یہ روش بھی ایک مقدس دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ ان غیر مسیحی تاریخی دستاویز کی حیثیت بھی اتنی ہی مشکوک ہے جتنا خود عہدنامہ جدید کی صداقت مشکوک ہے۔

حال ہی میں ایک پاکستانی دیسی عیسائی دوست نے اپنی دانست میں بہت بڑا تیر مارتے ہوئے آٹھ غیر مسیحی تاریخی حوالہ جات دیتے ہوئے نرسنگھا بجایا کہ ان غیر مسیحی ماخذات کی روشنی میں واقعہ صلیب کی صداقت پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے۔ ہمارے فاضل دوست یہ سمجھ رہے تھے کہ صرف ان مؤرخین کے ناموں کا رعب گانٹھ کر معترضین کو ساکت کر دیا جائے گا مگر جب راقم الحروف نے فاضل مصنف کی تحریر کا جواب لکھنے کی غرض سے مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ شاید انہوں نے تازہ مہ کے نشے میں سرشار ہو کر اپنی تحریر لکھی ہے کیونکہ وہ گواہی نمبر 2(جوزیفس) اور گواہی نمبر 3(ٹیکٹس) کے نام اردو میں لکھتے ہیں اور پھر گواہی نمبر 6 میں انہی دونوں کے ناموں کوانگریزی میں لکھ کر اسے ایک الگ تاریخی گواہی بنا دیتے ہیں۔ اس طرح گواہی نمبر 7 میں وہ لموسٹا کے لوسین اور مارابار سیرپین کا ذکر کرتے ہیں مگر پھر گواہی نمبر 8 میں انہی دونوں کے ناموں کو انگریزی میں نقل کرتے ہوئے ایک بار پھر لکھ کر ایک الگ گواہ کے طور پر پیش کر دیتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید ہمارے فاضل دوست نے صرف کاپی پیسٹ کر کے ہی جان چھڑائی ہے اور انہیں خود نہیں معلوم کہ یہ سب ایک ہی اشخاص ہیں جنہوں وہ ایک سے زیادہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم یہاں ہم فاضل دوست کے مبینہ تاریخی دستاویز کو بالترتیب نقل کرتے ہوئے ان تاریخی دستاویز کا تحقیقی جائزہ پیش کریں گے۔

1۔تالمود سنہڈرین(43a)

2۔فلیوس جوزیفس

3۔پلینی جوان

4۔ٹیکٹس

5۔سیٹونیوس

6۔لموسٹاکا لوسین

7۔مارابارا سیرپین

اب ہم تدریجاً ان تمام تاریخی دستاویزات کا جائزہ لیں گے کہ آیا یہ کس قدر واقعہ صلیب کے افسانوی کے مؤید ہیں۔

1۔ تالمود سنہڈرین(43a)

مبینہ قتل یسوعؑ کے متعلق تالمودی بیانیہ کچھ اس طرح سے ہے

On the eve of the Passover yeshu was hanged. For forty days before Passover the execution took place, a herald went forth and ی روایات پر غور کریں تو وہاں بھی ہمیں یسوع کے درخت پر لٹکانے کا ذکر ملتا ہے، اردو مترجمین نے اس واقعے کی صداقت پر پردہ ڈالنے کے لئے یہاں موجود درخت لفظ کا ترجمہ لکڑی یا صلیب سے کیا ہے مگر انگریزی یا یونانی میں ابھی بھی اس کے ترجمے میں "درخت" یا “Tree” کا لفظ ہی استعمال کیا ہے۔

“The God of our fathers raised Jesus from the dead whom you had killed by hanging him on a tree.”([3])

“They killed him by hanging him on tree.”([4])

“They took him down from the tree and laid him in a tomb.”([5])


اعمال کی کتاب کے علاوہ یسوع کے شاگردِ خاص پطرس کے خط میں بھی درخت کے لفظ ہی پائے جاتے ہیں۔

“He himself bore our sins in his body on the tree.”([6])

اور پولوس کے خط میں بھی درخت ہی کے لفظ استعمال کئے گئے ہیں

“Christ redeemed us from the curse of the law by becoming a curse for us for it is written: “Cursed is everyone who is hung on tree.”([7])

مقدس پولوس کے خط سے اس بات کی صداقت نہایت صاف و شفاف ہوگئی ہے۔مقدس پولوس لکھتے ہیں "کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی (درخت) پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔"اس کا حوالہ ہمیں تورات کی کتاب استثنا کے باب 21 میں ملتا ہے کہ جب کسی شخص میں کوئی ایسا گناہ پایا جائے جس سے قتل واجب ہوجائے تو اسےسنگسار کرکے ہلاک کردیا جائے اور مار کر درخت پر ٹانگ دیا جائے۔([8]) اس سے آگے اگلے فقرے میں لکھا ہے کہ

”تو اس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ رہے بلکہ تُو اُسی دن اسے دفن کردینا کیونکہ جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے۔“([9])

اس پورےبیانیہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ تالمود کی کتاب سنہڈرین کسی صورت میں واقعہ صلیب کی صداقت کو استنادی بنیادیں فراہم نہیں کرتی ہے بلکہ عالم عیسائیت کو اس حوالے سے شدید غلط فہمی ہو گئی ہے۔

2۔فلیوس جوزیفس

فلوویس جوزیفس نے اپنی کتاب (Antiquities of the Jews, 18.63-64) میں جو بیانیہ درج کیا ہے اس سے عیسائیوں کو یہ خوش فہمی لاحق ہو گئی ہے کہ جوزیفس نے بھی یسوعؑ کی مصلوبیت کی شہادت دی ہے۔ تاہم اس بیانیہ کی استنادی حیثیت اس لحاظ سے مشکوک ہے کہ یہ بیانیہ سب سے پہلے سولہویں صدی عیسوی میں منظر عام پر آیا۔ جوزیفس کا بیان یہ ہے

Now there was about this time Jesus, a wise man, if it be lawful to call him a man; for he was a doer of wonderful works, a teacher of such men as receive the truth with pleasure. He drew over to him both many of the Jews and many of the Gentiles. He was [the] Christ. And when Pilate, at the suggestion of the principal men amongst us, had condemned him to the cross, those that loved him at the first did not forsake him; for he appeared to them alive again the third day; as the divine prophets had foretold these and ten thousand other wonderful things concerning him. And the tribe of Christians, so named from him, are not extinct at this day.[10]

آج کے دور میں بین الاقوامی طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ جوزیفس کی طرف منسوب یہ بیانیہ یا تو مکمل طور پر جعل سازی ہے یا پھر جوزیفس کے کام میں یہ الفاظ کسی عیسائی کی طرف سے کیے گئے ہیں کیونکہ دوسری اور تیسری صدی کے آبائے کلیسیا اور مسیحی بزرگوں نے کہیں بھی جوزیفس کے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں باوجودیہ کہ وہ عہدنامہ قدیم کی تفسیر کرتے ہوئے متعدد مقامات پر جوزیفس کے حوالے درج کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تیسری صدی عیسوی کے ماہر مسیحی علوم الہیات اوریجن بھی اس کی بات کی تردید کرتے ہیں کہ جوزیفس یسوعؑ کو مسیح نہیں مانتا تھا جب کہ مذکورہ دستاویز میں یسوع کے لیے مسیح کا لفظ لکھا ہے۔ اوریجن کی عبارت درج ذیل ہے۔


“For in the 18th book of his Antiquities of the Jews, Josephus bears witness to John as having been a Baptist, and as promising purification to those who underwent the rite. Now this writer, although not believing in Jesus as the Christ, in seeking after the cause of the fall of Jerusalem and the destruction of the temple”[11]

اس کے علاوہ اس مقام کا انداز تحریر بھی جوزیفس کے انداز سے میل نہیں کھاتا۔ تاہم اگر ان تمام باتوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو بھی یہ حقیقت ملحوظ خاطر رکھنی چاہیے کہ پہلی صدی عیسوی کے یہودی و غیر یہودی تمام مؤرخین رومیوں کے لیے کام کر رہے تھے اور وہ یسوعؑ کی مبینہ مصلوبیت کا بیان لکھ کر اس کے مسیح ہونے کی تشہیر نہیں کر سکتے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ جوزیفس تو خود بارہا سینکڑوں مقام پر جعلی مدعیان المسیح اور معروف یہودی قائدین کی مذہب کرتا ہے جنہوں نے رومیوں کی مخالفت کی اور انہیں سزائیں دی گئیں۔[12]

جوزیفس کا یہ بیانیہ اس وجہ سے بھی ناقابل قبول ہے کہ اس میں مذکور ہے کہ پیلاطوس نے یہودی زعما کے کہنے پر "حکمت مند" کو قتل کر دیا۔ تاہم یہ بات اس وجہ سے قابل مسترد ہے کہ یہ رومی گورنر کو ایک بے وقوف اور نا اہل شخص کے طور پر پیش کرتی ہے جو اپنے اختیارات اور صواب دید کے بجائے دوسرے کے کہنے پر فیصلے کرتا ہے۔ رومیوں گورنر کے زیر اقتدار رہتے ہوئے جوزیفس ایسا کرنے کی کبھی حماقت نہیں کر سکتا تھا۔

3۔پلینی جوان(Pliny the Younger)

پلینی جوان ایک رومی گورنر تھا جس نے روم کے بادشاہ ٹروجان کو ۱۱۲ء کے قریب کچھ خطوط تحریر کیے اور اس سے ابتدائی عیسائیوں کے مسئلے کے متعلق ہدایات طلب کیں کہ ان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کیا جائے۔[13] ہمارے دوست نے اس کے خط کے جس مقام کا حوالہ دیا ہے وہاں وہ اس وقت کے لوگوں کے عمومی رویے کے متعلق گفتگو کرتا ہے۔ چوں کہ ابتدائی عیسائیوں پر حکومت وقت کا باغی ہونے کا الزام تھا لہذا رومی حکومت کی طرف سے انہیں ستایا جاتا تھا اور بادشاہوں اور دیوتاؤں کی تصاویر و مجسموں کے سامنے جھکنے اور عبادت کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ یہ تمام صورت حال نقل کرتے ہوئے وہ آگے لکھتا ہے کہ

“ They all worshipped your image and the statues of the deities, and cursed the name of Christ. But they declared that the sum of their guilt or their error only amounted to this, that on a stated day they had been accustomed to meet before daybreak and to recite a hymn among themselves to Christ, as though he were a god.”[14]

"وہ تمام لوگ آپ کی تصویر اور دیوتاؤں کے مجسموں کی پرستش کرتے ہیں اور مسیح کے نام پر لعنت بھیجتے ہیں۔ لیکن وہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کا جرم محض اتنا ہے کہ اس مبینہ دن پر صبح کے وقت اکھٹے ہوتے اور مل کر مسیح کے نام پر حمدیہ مناجات پڑھتے گویا کہ وہ ان کا خدا ہو۔

اس پوری عبارت کے اگر سیاق و سباق میں بھی دیکھاجائے تو بھی دور دور تک کہیں بھی یسوعؑ کا نام نظر نہیں آتا مگر ہمارے فاضل دوست نے یہاں صرف ایک لقب مسیح سے نہ صرف یسوعؑ بلکہ پورا واقعہ صلیب کا افسانہ بھی برآمد کر لیا کہ پلینی جوان نے یسوعؑ کی صلیب کا ذکر کیا ہے۔

۴۔کورنیلس ٹیکٹیس

کورنیلیس ٹیکیٹس رومی مؤرخ اور سینیٹر تھا ۔ عیسائیوں کے مطابق اس کی کتاب(Annals, 15.44) پر مبینہ طور پر واقعہ صلیب کا ذکر ملتا ہے۔ ایک اعلی حکومتی عہدے دار ہونے کے ناطے کورنیلس نہ صرف ایک ذمہ دار شخص تھا بلکہ اس کی رسائی اعلی حکومتی ریکارڈ تک بھی تھی۔ چنانچہ وہ پیلاطوس کو پروکیوریٹر کہنے کی فحش غلطی نہیں کر سکتا کیونکہ پیلاطوس گورنر پیروکیوریٹر نہیں بلکہ رومی پریفیکٹ تھا جب کہ ان دونوں عہدے کے اختیارات میں بہت فرق تھا ۔پروکیوریٹر ایک سول عہدہ تھا جب کہ پریفیکٹ عسکری عہدہ تھا اور یہودیہ کا علاقہ 6ء میں ہیرودیس ارخلاؤس کی برطرفی سے لے کر ۴۴ء میں ہیرودیس اگرپا کی موت کے بعد تک رومی پریفیکٹس کے زیر انتظام رہا تھا۔[15]ایک عسکری عہدے کو سول عہدے میں تبدیل کر دینے جیسی مضحکہ خیز غلطی کا امکان کورنیلیس ٹیکیٹس جیسے ذمہ دار شخص سے محال ہے۔(آج کے دور میں دیکھا جائے تو یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے عمران خان کو سیاست دان کے بجائے چیف آف آرمی اسٹاف کہہ دیا جائے یا کسی چیف آف آرمی اسٹاف کو سیاست دان یا سیاسی وزیر کہہ دیا جائے۔)

دوسری اہم بات یہ ہے کہ رومی حکومت کے شاہی دستاویز میں یسوعؑ کے ساتھ اس کا مسیحی لقب خرستس یا مسیح نہیں لکھا گیا جیسا کہ ٹیکیٹس کی طرف منسوب تحریر میں یسوع کے نام کے ساتھ پایا جاتا ہے ۔چنانچہ متعدد محققین کی رائے ہے کہ ٹیکٹس کو محفوظ ریکارڈ میں ایسا کچھ نہیں ملا جس کی بنیاد پر وہ یہ لکھ سکے کہ "the Messiah was executed this morning"۔[16] متعدد اسکالرز دلائل کے ساتھ یہ وضاحت کرتے ہیں کہ اس بات کا شدید امکان ہے کہ ٹیکیٹس کو یسوع کی مبینہ موت کی خبر عیسائیوں کی طرف سے ہی ملی ہو گی۔[17]

ٹیکیٹس کے وقت تک مسیحیت روم میں پھیل چکی تھی جس کی بنیاد پر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اسے جن ذرائع سے یہ خبر ملی وہ عیسائی ہی تھے۔ مزید یہ کہ جب ٹیکٹیس نے اپنی یادداشت مرتب کی تو اس وقت تک یسوعؑ کی مبینہ صلیبی موت کے افسانے کو نو دہائیاں گزر چکی تھیں جو اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دیتی ہیں کہ ٹیکٹیس نے یسوع کے متعلق جو کچھ لکھا وہ آزادانہ طور پر نہیں بلکہ عیسائی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے لکھا۔ ان سب حقائق کے باوجود اگر با فرض محال ٹیکیٹس کے بیانیہ کو درست تسلیم کر لیا جائے تو اس کی صرف اتنی سی حیثیت باقی رہ جاتی ہے کہ اس نے اپنے وقت کے عیسائیوں کے نظریات کو قلم بند کیا ہے جو وہ اپنے رہنما کے متعلق رکھتے تھے۔

5۔ سیوٹونیس

سیوٹونیس دوسری صدی عیسوی کا ایک رومی مؤرخ تھا جس کی وجہ شہرت یہ ہے کہ اس نے بارہ رومی بادشاہوں کی سوانح حیات قلم بند کی ہےجسے "De vita Caesarum" کہا جاتا ہے۔ ہمارے فاضل دوست نے اسی کی کتاب کا حوالہ دے کر مصلوبیت مسیح کی افسانوی حیثیت کو تاریخی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اگر سیوٹونیس کے بیان کو سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ اس نے اس زمانے میں پھیلی ہوئی افواہوں اور غلط فہمیوں کے متعلق لکھا ہے کہ لوگ اس طرح سے سمجھتے ہیں۔ آگے مزید وہ انجیل نویس لوقا کی ایک تاریخی غلطی بھی بیان کرتا ہے کہ انجیل نویس لوقا نے اعمال کی کتاب کے اٹھارہویں باب کی دوسری ورس میں لکھا ہے کہ رومی بادشاہ کلودیس نے یہودیوں کے رومی سلطنت سے نکل جانے کا حکم دیا تھا مگر درحقیقت ایسا نہیں تھا بلکہ کلودیس نے صرف ان کے مذہبی اجتماعات پر پابندی لگائی تھی۔[18] پوری عبارت میں کہیں بھی یہ مذکور نہیں ہے کہ یسوع کو صلیب دی گئی تھی بلکہ وہ عیسائیوں کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے تاریخی اغلاط بیان کرتا ہے اور انہی تاریخی غلطیوں کو ہمارے فاضل دوست واقعہ صلیب کی صداقت ثابت کرنے کے لیے آگے بیان کر رہے اور مقدس دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

6۔لموسٹا آ ف لوسین

لوسین ایک یونانی نژاد شامی مؤرخ تھا جس کا زمانہ ۱۲۰ء سے ۱۸۰ء تک ہے۔لموسٹا ک لوسین نے اپنی تحریر "The Passing of Peregrinus" میں اپنے دور کے عیسائیوں کے حالات قلم بند کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

“And—how else could it be?—in a trice he made them all look like children, for he was prophet, cult-leader, head of the synagogue, and everything, all by himself. He inter preted and explained some of their books and even composed many, and they revered him as a god, made use of him as a lawgiver, and set him down as a protector, next after that other, to be sure, whom they still worship, the man who was crucified in Palestine because he introduced this new cult into the world.”

لوسین اور یسوع ؑ کے زمانے میں ایک صدی سے زیادہ عرصے کا بُعد ہے لہذا لوسین کا اس بات کو نقل کردینا صرف اس بات کو مستلزم کرتا ہے کہ اس نے اپنے دور میں عیسائیوں کے عقائد اور حالات کو قلم بند کیا ہے جس کے لیے اس نے کوئی عیسائی ماخذ ہی استعمال کیا ہو گا۔ اگر لوسین کا زمانہ پہلی صدی عیسوی کا ہوتا یقینا اس کی گواہی قابل قبول ہوتی مگر اس کا تاخر زمانی ہی اس بات کی خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے زمانے کے حالا ت لکھے ہیں اور اس وقت تک واقعہ صلیب کے افسانے کو حقیقت میں ڈھالنے والے پولوسی نظریات نہ صرف پھیل چکے تھے بلکہ انہوں نے اپنی جڑیں بھی مضبوط کر لی تھیں یہی وجہ ہے کہ بہت سےدوسری صدی کے بہت سے مؤرخین نے بھی اس واقعے کی افسانوی حیثیت کے باوجود اسے عیسائی عقیدے کے طور پر لکھا ہے مگر قربان جائیں دیسی عیسائیوں کی عقل پر کہ وہ ایک افسانے کی وقائع نگاری سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ چوں کہ لوسین نے یہ بات لکھ دی ہے لہذا یسوعؑ کو صلیب ہوئی تھی۔

7۔مارابار سیرپین

مارابار سیرپین کے حوالے سےفاضل دوست لکھتے ہیں کہ اس نے یسوعؑ کی صلیب کا ذکر کیا تاہم جب ہم مارا بار کی اصل تحریر کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے فاضل دوست کی یہ بات ایک مقدس دھوکے اور جعل سازی کے سوا کچھ باقی نہیں رہتی۔ مارا بار سیرپین کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیں۔

“What advantage did the Athenians gain from putting Socrates to death? Famine and plague came upon them as a judgment for their crime. What advantage did the men of Samos gain from burning Pythagoras? In a moment their land was covered with sand. What advantage did the Jews gain from executing their wise King? It was just after that their Kingdom was abolished. God justly avenged these three wise men: the Athenians died of hunger; the Samians were overwhelmed by the sea; the Jews, ruined and driven from their land, live in complete dispersion. But Socrates did not die for good; he lived on in the teaching of Plato. Pythagoras did not die for good; he lived on in the statue of Hera. Nor did the wise King die for good; He lived on in the teaching which He had given.”[19]

"سقراط کو موت کے گھاٹ اتارنے سے ایتھنز والوں کو کیا فائدہ ہوا؟ اس جرم کی سزا کے طور پر ان پر قحط اور طاعون آئے۔ سموس کے مردوں کو فیثاغورث کو جلانے سے کیا فائدہ ہوا؟ ایک لمحے میں ان کی زمین ریت سے ڈھک گئی۔ یہودیوں کو اپنے حکمت مند بادشاہ کو پھانسی دینے سے کیا فائدہ ہوا؟ اس کے بعد ہی ان کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ خدا نے انصاف کے ساتھ ان تینوں حکمت مندوں کا بدلہ لیا: ایتھنز کے لوگ بھوک سے مر گئے۔ سموس سمندر میں غٖرق ہو ئے۔ یہودی بھی تباہ ہوگئے اور انہیں اپنی سرزمین سے بے دخل کر دیا گیا۔ لیکن سقراط نہیں مرابلکہ وہ افلاطون کی تعلیم میں زندہ رہا۔ فیثاغورث نہیں مرا بلکہ وہ ہیرا کے مجسمے کی صورت میں زندہ رہا۔ نہ ہی وہ حکمت مند بادشاہ مرا کیونکہ جو تعلیم اس نے دی تھی وہ اس تعلیم میں زندہ رہا۔"

اس پوری عبارت کو سیاق و سباق میں دیکھ لیا جائے تو دور دور تک اس میں یسوعؑ کا نام مذکور نہیں ہے بلکہ مارا بارسیرپین نے اس دور کے یہاں گم نام یہودیوں کے حکمت مند بادشاہ کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ اس نے کہیں بھی یسوع کا نام نہیں لکھا ہے اور پھر اس حقیقت سے انکار نہیں کہ نہ یسوعؑ نے کبھی یہودیوں کا بادشاہ ہونے کا اعلان کیا اور نہ ہی یہودیوں نے کبھی یسوع کو بطور بادشاہ تسلیم کیا۔مزید یہ کہ فیثاغورث اور سقراط کا زمانہ پانچویں اور چھٹی صدی قبل مسیح ہے جس میں وہ زندہ تھے لہذا یہودیوں کا حکمت مند بادشاہ بھی اسی دور میں یا اس سے متصور زمانے میں رہا ہو گا نہ کہ ان دونوں کے پانچ چھ صدیوں بعد۔ بہت سے اسکالرز اس نظریے کو درست سمجھتے ہیں کہ سیرپین نے یہ بات ہیکل کی تباہی کے طویل عرصے بعد لکھی ہے۔[20]

نتیجہ

ان تمام تاریخی دستاویز کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ روزِ اول سے ہی مشکوک اور غیرمستند رہا ہے لہذا ایسے میں تاریخی شواہد کے بجائے الہامی شہادت کی طرف مراجعت سے ہی حقیقت کا ادراک کلی ہوسکتاہے کہ آیا عیسیٰ علیہ السلام کو مسیحی روایات کے مطابق مصلوب کیا گیا یا یہودی روایات کے مطابق سنگسار کیا گیا۔

قرآن کریم اس پورے قضیے کےلیے فیصلہ کن انداز اپناتے ہوئے صریح اور غیرمبہم الفاظ میں فرماتا ہے کہ یہ واقعہ یہودیوں پر روزِاول سے ہی مشتبہ رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یسوع مسیح کو نہ ہی قتل کیا گیا اور نہ ہی مصلوب بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب اٹھا لیا۔

"وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰكِنْ شُـبِّہَ لَہُمْ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْہِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْہُ مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ يَقِيْنًۢابَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَيْہِ وَكَانَ اللہُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا"[21]

اور یہودیوں نے یہ کہا کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح ابن مریم کو قتل کردیا تھا، حالانکہ نہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا تھا، نہ انہیں سولی دے پائے تھے ، بلکہ انہیں اشتباہ ہوگیا تھا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ اس سلسلے میں شک کا شکار ہیں، انہیں گمان کے پیچھے چلنے کے سوا اس بات کا کوئی علم حاصل نہیں ہے ، اور یہ بالکل یقینی بات ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کر پائے۔ بلکہ اللہ نے انہیں اپنے پاس اٹھا لیا تھا، اور اللہ بڑا صاحب اقتدار ، بڑا حکمت والا ہے۔

قرآن کریم کے بیانیہ سے مماثل ایک موہوم اشارہ انجیل میں بھی پایا جاتا ہے کہ یسوع مسیح کی گتسمنی کے باغ میں دعا کے وقت آسمان سے ایک فرشتہ انہیں تقویت دے رہاتھا۔[22]فرشتے کا یہ تقویت دینا زبور کی کتاب کی پیش گوئیوں کے عین مطابق تھا کیونکہ زبورکے مطابق خداوند اپنے ممسوح کے لیے نجات کاقلعہ ہے اور پریشانی کے دن صیہون سے وہ اس کی مدد کرتاہے اور آسمان کمک بھیج کراپنے ممسوح کوبچالیتاہے اوراپنے داہنے ہاتھ کی نجات بخش قوت سے اس کے دشمنوں کوجواب دیتاہے۔[23]

قرآن کریم اور زبور جلیل کی آسمانی شہادات کے بعدعیسیٰ علیہ السلام کے لیے کی جانے والی قیاس آرائیاں اٹکل پچو سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتیں خواہ وہ اناجیل میں مذکور ہوں یاتالمود میں منقول ہوں۔ابتدائی صدی عیسوی میں ہی یسوع کی بابت ان گنت افسانے معاشرے میں پھیل گئے تھے جن میں سے بہت سے وقت کے ساتھ ختم ہوگئے جبکہ کافی سارے دستاویزات میں محفوظ ہوکر آج بھی ہمارے سامنے ہیں۔اناجیل اربعہ بھی انہی منتشر افسانوی روایات میں سے کچھ روایات ہیں جن کا حقیقت سے اتناہی تعلق ہے جتنا دیگر روایتی ادب کا یسوع سے۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ واقعہ تصلیب بلاسند کہانیوں کامجموعہ ہے جواس واقعہ کے وقت موجود یہودیوں کی نظر میں بھی مشتبہ رہااورآج بھی مشتبہ ہی چلاآرہاہے ۔حق وہی ہے جس کی شہادت آسمان سے دی گئی اوروہ گواہی ہے اس پاک کتاب کی جومکرم ہے،مطہر ہےاور مرفوع ہے۔جسے ان مبارک کاتبوں نے لکھاہے جن سے امکانِ لغزش وخطا بھی محال ہے۔




([1]) Babylonian Talmud, Senhedrin 43a-b
[2] تثنیہ شرع21:22
([3]) Acts 5:30, New International Version (USA: International Bible Society, 1981).
([4]) Acts 10:39 New International Version.
([5]) Acts 13:29 New International Version.
([6]) 1-Peter 2:24, New International Version.
([7]) Galatians 3:13, New International Version.
([8])کتابِ مقدس، استثنا ۲۱: ۲۱-۲۲
([9]) کتابِ مقدس، استثنا ۲۱: ۲۳
[10] Josephus, Antiquities of the Jews, 18.63-64
[11] “CHURCH FATHERS: Contra Celsum, Book I (Origen),” accessed April 6, 2023, https://www.newadvent.org/fathers/04161.htm.
[12] E. Doherty, The Jesus Puzzle: Did Christianity Begin with a Mythical Christ?p 210–11.
[13] Philip Carrington, The Early Christian Church, Vol I, p 429.
[14] “Pliny: Letters - Book 10 (B),” accessed April 6, 2023, https://www.attalus.org/old/pliny10b.html#97.
[15] John Dominic Crossan, “Voices of the First Outsiders”. Birth of Christianity, p 9.
[16] G. A. Wells, The Historical Evidence for Jesus. p 16–17.
[17] Wells, 17; E. P. Sanders, The Historical Figure of Jesus, p 50.
[18] “C. Suetonius Tranquillus, Divus Claudius, Chapter 25,” accessed April 6, 2023, https://www.perseus.tufts.edu/hopper/text?doc=Perseus:text:1999.02.0132:life=cl.:chapter=25.
[19] F.F. Bruce, The New Testament Documents: Are They Reliable? p 117.
[20] France R. T., The Evidence for Jesus, p 24.
[21] القرآن الکریم،سورۃ النساء،157-158
[22] لوقا22:43
[23] زبور20:1-9
07-04-2023.png
 

اٹیچمنٹس

Top