• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

والدین کی شرعی ذمہ داری بچوں کی دینی تربیت

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,343
پوائنٹ
437
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​
السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔

بچوں کی دینی تربیت اور والدین کی شرعی ذمہ داری کے عنوان پر بحیثت مسلمان ہمارے دین نے جو اُصول بیان کئے ہیں اس حوالے سے تحریر پیش خدمت ہے۔۔۔

دوستو! ہم سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں کے اولاد اللہ رب العزت کا نہایت ہی قیمتی انعام ہے۔۔۔ رب نے اپنے کلام میں انہیں زینت اور دنیاوی زندگی میں رونق بیان کیا ہے لیکن یہ رونق وبہار اور زینت وکمال اسی وقت ہے جب اس نعمت کی قدر کی جائے دین واخلاق اور تعلیم کے زیور سے انہیں آراستہ کیا جائے بچپن ہی سے ان کی صحیح نشوونما ہو دینی تربیت کا خاص خیال رکھا جائے نیز اسلامی وایمانی ماحول میں انہیں پروان چڑھایا جائے والدین پر اولاد کے جو حقوق ہیں ان میں سب سے اہم اور مقدم اُن کی دینی تعلیم وتربیت ہی ہے اسلام عصری تعلیم کا ہرگز مخالف نہیں لیکن دین کی بنیادی تعلیم کا حُصول اور اسلام کے مبادیات وارکان کا جاننا تو ہر مسلمان پر فرض ہ اور اس پر اخروی فلاح وکامیابی کا دارومدار ہے اللہ تعالٰی اہل ایمان سے خطاب کرکے فرماتا ہے!۔

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں اس پر سخت اور طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے انہیں جو حکم دیا جائے وہ کر گزرتے ہیں (التحریم ٦)۔۔۔

اس یہ جاننا بے حد ضروری ہے کے اس جہنم کی آگ سے بچاؤ کیونکہ ہوگا۔۔۔ جب تک دین کی بنیادی تعلیم سے اگاہی اور اس پر عمل نہ ہو؟؟؟۔۔۔ توحید، رسالت، اور آخرت پر صحیح ایمان نہ ہو یا نماز روزہ سے اور روز مرہ زندگی میں احکام شریعت سے غفلت ہو؟؟؟۔۔۔ نار جہنم سے بچنے کی فکر جس طرح خود کو کرنی ہے اسی طرح والدین کی یہ اہم ذمہ داری ہے کے وہ اپنی والاد کی بچپن سے ایسی تربیت کریں کے ان میں دینی شعور پختہ ہو اور بڑے ہوکر وہ زندگی کے جسمیدان میں بھی رہیں ایمان وعمل صالح سے ان کا رشتہ نہ صرف قائم بلکہ مضبوط رہے آج والدین دنیاوی زندگی کی حدتک بچوں کے بہتر مستقبل کی خوب فکر اور کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ معاشرہ میں سرخرو رہیں اور آرام وراحت کی زندگی گزار سکیں لیکن دنیا کی چند روزہ زندگی کے بعد آخرت کی جولامحدود زندگی ہے وہاں کی سرخروئی اور سرفرازی سے خود بھی غافل ہیں اور بچوں کی تربیت میں بھی اس پہلو کو اہمیت نہیں دیتے۔۔۔

بچوں کا ذہن صاف وشفاف اور خالی ہوتا ہے اس میں جو چیز بھی نقش کردی جائے وہ مضبوط وپائیدار ہوتی ہے ۔۔۔ اس مراد یہ ہے کے اگر بچپن میں بچے کے لئے علم کا حصول پتھر پر نقش کی طرح ہوتا ہے یعنی جس طرح پتھر کی لکیر او پتھر پر کیا ہوا نقش مضبوط وپائیدار ہوتا ہے اسی طرح بچپن میں جو چیز ذہن ودماغ میں بیٹھ جائے (یا بٹھادی جائے) وہ پائیدار ہوتی ہے جس طرح زمین سے اُگنے والے نرم ونازک پودوں کی طرح بچوں کے خیالات، فکر اور طرز زندگی کو جس رخ پر چاہے باآسانی موڑا جاسکتا ہے جب وہ بڑے ہوجائیں اور اُن کی عقل پختہ ہوجائے تو ان میں تبدیلی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتی ہے اسلئے ابتدائی عمر میں بچوں کی نگرانی اور ان کی صحیح تربیت والدین اور سرپرستوں کی اہم ذمہ داری ہے۔۔۔

قرآن وحدیث میں یہ حقیقت بیان ہوئی ہے کے ہر بچہ توحید خالص کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے اصل کے اعتبار سے اس میں طہارت، پاکیزگی، برائیوں سے دوری اور ایمان کی روشنی ہوتی ہے۔ پھر اسے گھر میں اچھی تربیت اور معاشرہ میں اچھے ساتھی میسر آجائیں تو وہ ایمان و اخلاق میں اسوہ نمونہ اور کامل انسان بن جاتا ہے۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ہر نومولود فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہےپھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔۔۔یعنی بچے کو جیسا ماحول اور تربیت میسر آئے گی وہ اسی رخ پر چل پڑے گا اگر اسے ایمانی ماحول اور اسلامی تربیت میسر آجائے تو وہ یقینا معاشرہ میں حقیقی مسلمان بن کر ابھرے گا لیکن اس کی تربیت صحیح نہج پر نہ ہو گھر کے اندر اور باہر اسے اچھا ماحول نہ ملے تو وہ معاشرہ میں مجرم اور فسادی انسان بن کر ابھرے گا۔۔۔

امام غزالی رحمہ اللہ علیہ نے والدین کو یہ وصیت کی کہ بچوں کو قرآن پاک احادیث مبارکہ اور نیک لوگوں کے واقعات اور ضروری دینی احکام کی تعلیم دیں بچہ والدین کے پاس امانت ہوتا ہے اور اس کا پاکیزہ دل ایک نفیس جوہر اور موتی کی طرح ہے اگر اسے خیر کا عادی بنایا جائے اور بھلے کام سکھائے جائیں تو وہ انہیں سیکھتا ہوا بڑھتا اور پلتا ہے پھر دنیاوآخرت دونوں جگہ خوش نصیب رہتا ہے اگر اسے برے کاموں کا عادی بنایا جائے یا مہمل چھوڑ دیا جائے تو بدبختی و ہلاکت اس کا مقدر بن جاتی ہے اسکی حفاظت کا طریقہ یہی ہے کے اسے علم وادب سکھایا جائے اچھے اخلاق سکھائے جائیں اور مہذب بنایا جائے۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی تربیت کے حوالے سے کیا رہنمائی فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کا کس درجہ خیال رکھتے تھے؟؟؟۔۔۔

اس کی بیشمار مثالیں کتب حدیث وسیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماروایت کرتے ہیں۔۔۔
ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے بچے (بیٹے) میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں تم اللہ کے حقوق اللہ کا خیال رکھو تو اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے اور جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو اور اس بات کو جان لو کے اگر تمام مخلوق بھی تمہیں کچھ فائدہ پہنچانا چاہے تو تمہیں صرف وہی فائدہ پہنچاسکتی ہے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے (ترمذی)۔۔۔

غور کیجئے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے ذہن میں کس طرح دینی حقائق نقش فرمایا کرتے تھے۔۔۔ عمروبن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں جب چھوٹا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا تناول کرتے ہوئے میرا ہاتھ برتن میں ادھر اُدھر چلا جاتا تھا۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا اے لڑکے اللہ کا نام لو دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے قریب سے کھاؤ (رواہ مسلم)۔۔۔

حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔۔۔
ایک روز اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرماتھے میری والدہ نے مجھے پکارا آؤ ایک چیز دوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ سے دریافت فرمایا کے تم نے اسے کیا دینا چاہا؟؟؟۔۔۔ والدہ نے عرض کیا کے کھجور دینا چاہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ سے ارشاد فرمایا۔۔۔ سنو اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تمہارے حق میں (نامہ اعمال میں) یہ ایک جھوٹ لکھا جاتا (رواہ ابوداؤد وبہیقی)۔۔۔

غور کیجئے کے اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو اُمید وآس دلا کر کچھ نہ دینے سے بھی منع فرمایا اور اسے جھوٹ قرار دیا اس کا ایک اہم نقصان یہ ہے کہ اس سے بچوں کی تربیت اور اُن کے اخلاق وکردار پر منفی اثرات پڑیں گے اور وہ بھی جھوٹ کے عادی ہوجائیں گے کیونکہ بچے اپنے بڑوں سے جس چیز کو دیکھتے یا سنتے ہیں اس کا اثر بہت جلد قبول کر لیتے ہیں اور بچپن کا یہ اثر نہایت مضبوط ومستحکم اور پائیدار ہوتا ہے آج بعض سرپرست بچوں سے بلاتکلف جھوٹ کہلواتے ہیں ہیں مثلا کوئی ملاقات کیلئے گھر پر دستک دے اور اس سے ملنے کا ارادہ نہ ہو تو بچوں کے کہلوا دیا جاتا ہے کے کہہ دو ابو گھر پر نہیں ہیں کیا اس طرح بچوں کے دل ودماغ میں جھوٹ سے نفرت پیدا ہوگی؟؟؟۔۔۔کیا وہ بڑے ہوکر جھوٹ جیسی بداخلاقی کو برا جانیں گے؟؟؟۔۔۔ جھوٹ کا گناہ وبال اور نقصان نیز بچوں کی غلط تربیت کے علاوہ کبھی باپ کو اس وقت نقدشرمندگی بھی اٹھانی پڑتی ہے جب بچے بھولے پن میں اس حقیقت سے پردہ اُٹھادیتے کے ابو نے کہا وہ گھر پر نہیں ہیں۔۔۔

ڈاکٹر مصطفٰی سباعی نے اپنی ایک کتاب میں یہ واقعہ لکھا کے ایک شرعی عدالت نے چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا سنائی تو ہاتھ کاٹنے جانے سے قبل اس نے بلند آواز سے کہا کے میرا ہاتھ کاٹنے سے پہلے میری ماں کی زبان کاٹ دو اسلئے کے میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے پڑوس کے یہاں سے ایک انڈہ چوری کیا تھا تو میری ماں نے اس جرم پر مجھے تنبیہ نہ کی بلکہ خوشی کا اظہار کیا تھا اگر مجھے اس وقت روکا جاتا تو آج معاشرہ میں چور نہ بنتا واقعہ یہ ہے کے اولاد کے اچھے یا برے بننے میں والدین کی تربیت اور اُن کی نگرانی کو بہت بڑا دخل ہے اور یہ والدین کی اہم ذمہ داری ہے کے اپنی اولاد کی دینی واسلامی تربیت کا خاص خیال رکھیں انہیں بچپن ہی سے اچھے اخلاق وکردار کا حامل بنائیں اور دین سے تعلق ان کے ذہنوں میں راسخ کردیں۔۔۔

آخر میں اللہ رب العزت سے دُعا ہے کے وہ ہم کو سچا اور پکا مسلمان بننے کی توفیق عطاء فرمائے آمیں ثم آمین۔۔۔

واللہ اعلم ۔۔۔

والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
 
Top