• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وضعی قوانین کے ماننے والوں کا شرعی حکم شیخ محمد الامین الشنقیطیؒ کے بیان کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
وضعی قوانین کے ماننے والوں کا شرعی حکم شیخ محمد الامین الشنقیطیؒ کے بیان کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ الذی أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله وكفى بالله شهيداً۔

آج کے دورِ فتن میں سب سے بڑی مصیبت یہ آن پڑی ہے کہ بہت سے نام نہاد "مسلمان" اللہ جل شانہ کی نازل کردہ شریعت کو پسِ پشت ڈال کر انسانوں کے گھڑے ہوئے قوانین اور پارلیمنٹوں کے بنائے ہوئے دساتیر کو قبول کر بیٹھے ہیں۔ ان دساتیر کو کبھی "قانونِ ملکی" کہا جاتا ہے، کبھی "آئینِ جمہوری" اور کبھی "بین الاقوامی ضابطہ"۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب شیطان کی وضع کردہ شریعتیں ہیں جو اللہ کے دین کے مقابل کھڑی کر دی گئی ہیں۔

یہ مسئلہ معمولی نہیں بلکہ عین توحید اور کفر و شرک کا مسئلہ ہے۔ اسی حقیقت کو جلیل القدر مفسرِ قرآن، شیخ العلامہ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ نے اپنے شہرہ آفاق تفسیر أضواء البيان میں نہایت صراحت اور شدت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ ذیل میں ہم ان کی کتاب سے ایک عبارت نقل کر رہے ہیں تاکہ ہر صاحبِ بصیرت پر اتمامِ حجت ہو جائے۔

شیخ علامہ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وبهذه النصوص السماوية التي ذكرنا يظهر غاية الظهور: أن الذين يتبعون القوانين الوضعية التي شرعها الشَّيطان على ألسنة أوليائه مخالفة لما شرعه الله جل وعلا على ألسنة رسله - صَلَّى الله عليه وسلم -، أنه لا يشكُّ في كفرهم وشركهم إلَّا من طمس الله بصيرته، وأعماه عن نور الوحي مثلهم

ان آسمانی نصوص کے ذریعے جو ہم نے ذکر کیں، بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ جو لوگ ان وضعی قوانین کی پیروی کرتے ہیں جنہیں شیطان نے اپنے اولیاء کی زبانوں پر جاری کیا ہے، اور جو اللہ جل شانہ نے اپنے رسولوں علیہم الصلوٰۃ والسلام کی زبانوں پر شریعت نازل فرمائی اس کے خلاف ہیں؛ تو ان کے کفر اور شرک میں شک نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے کافر و مشرک ہونے میں صرف وہی شک کرے گا جس کی بصیرت کو اللہ نے مٹا دیا ہو اور جسے وحی کے نور سے اندھا کر دیا ہو، بالکل ان ہی کی طرح۔


[أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن، ج : ٤، ص : ١٠٩]

IMG-20250829-WA0000.jpg

IMG-20250829-WA0001.jpg

شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ نے صاف اور دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ "أن الذين يتبعون القوانين الوضعية التي شرعها الشَّيطان على ألسنة أوليائه" جو لوگ ان وضعی قوانین کی پیروی کرتے ہیں جنہیں شیطان نے اپنے اولیاء کی زبانوں پر جاری کیا ہے۔

یہاں شیخ نے نہایت سخت الفاظ استعمال کیے: "شرعها الشيطان"۔ یعنی یہ قوانین درحقیقت شیطانی شریعت ہیں۔ جو آئین و دستور سیکولر پارلیمنٹوں، کافروں کی کانگریسوں اور لبرل دانشوروں نے بنایا ہے، وہ دراصل شیطان کا القا ہے۔ ایسے قوانین ماننے والا اللہ کے حکم کو چھوڑ کر شیطان کے شرع کو اختیار کر رہا ہے۔ قرآن نے یہی کہا: «أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ»۔ آج کے دور کے جمہوری، سیکولر اور قومی دساتیر سراسر جاہلی و شیطانی قوانین ہیں۔

پھر شیخ نے ان قوانین کا اسلام سے تضاد واضح کرتے ہوئے فرمایا "مخالفة لما شرعه الله جل وعلا على ألسنة رسله - صلى الله عليه وسلم -" یعنی یہ وضعی قوانین اس شریعت کے خلاف ہیں جو اللہ جل شانہ نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل فرمائی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یا تو اللہ کی شریعت ہوگی، یا شیطان کی۔ دونوں ساتھ نہیں چل سکتے۔ جو دستور اور قانون وحی الہٰی کے مدمقابل ہے وہ باطل اور کفر ہے۔ آج جو کہتے ہیں "ہم قرآن کو مانتے ہیں مگر ساتھ ساتھ آئین کو بھی"، وہ دراصل اسلام و کفر کو یکجا کرنا چاہتے ہیں جو کہ ممکن ہی نہیں۔

اس کے بعد شیخ نے فیصلہ سنایا کہ "أنه لا يشك في كفرهم وشركهم" ان کے کفر اور شرک میں کوئی شک نہیں کر سکتا۔ یعنی ایسے لوگ کافر و مشرک ہیں۔ ان کے کفر میں شک کرنا بھی ایمان کے منافی ہے۔ شریعتِ الٰہی کو چھوڑ کر کے انسانوں کے گھڑے ہوئے قوانین کو ماننا، دراصل حاکمیتِ مطلقہ اللہ سے چھین کر انسانوں کو دینے کے مترادف ہے، اور یہی شرک ہے۔ جو اللہ کی شریعت کے مقابلے میں پارلیمانی قانون کو مانے وہ کافر و مشرک ہے، خواہ نماز بھی پڑھے، روزہ بھی رکھے اور حج بھی کرے۔

علامہ الشنقیطی رحمہ اللہ کا یہ آخری جملہ "إلَّا من طمس الله بصيرته، وأعماه عن نور الوحي مثلهم" یعنی ان کے کافر و مشرک ہونے میں صرف وہی شک کرے گا جس کی بصیرت کو اللہ نے مٹا دیا ہو اور جسے وحی کے نور سے اندھا کر دیا ہو، بالکل ان ہی کی طرح۔ یہ دراصل موجودہ "منافقین" پر تازیانہ ہے۔ وہ لوگ جو مسلمانوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ "یہ کفر نہیں بلکہ مصلحت ہے"، "یہ شرک نہیں بلکہ ضرورتِ وقت ہے"، وہ خود اندھے ہیں اور دوسروں کو بھی اندھا کر رہے ہیں۔ شیخ کے الفاظ میں ایسے لوگ حقیقت میں انہی کفار و مشرکین کے ساتھ شمار ہوں گے۔ جو اللہ کے نور سے محروم ہے وہ پارلیمنٹ اور آئین کے اندھیروں میں بھٹکتا ہے۔

الغرض! شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ کا یہ کلام ایک کھلی اور قطعی دلیل ہے کہ جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کو چھوڑ کر انسانوں کے وضع کردہ قوانین کی پیروی کرتا ہے، وہ کفرِ صریح اور شرکِ اکبر کا مرتکب ہے۔ اس کے کافر و مشرک ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اور جو اس کے کفر میں شک کرے گا، وہ خود اندھا اور حقیقت سے محروم ہے، بلکہ انہی اہلِ باطل کے ساتھ شمار ہوگا۔

آج کے نام نہاد "مسلم ممالک" میں جو جمہوری، سیکولر اور کفریہ آئین نافذ ہیں، وہ دراصل اسی شیطانی شرع کا عکس ہیں جس کی طرف شیخ الشنقیطی رحمہ اللہ نے نشاندہی کی۔ پس ان قوانین پر راضی ہونا یا انہیں جائز ماننا ایمان کے منافی ہے۔

لہٰذا اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ صرف اللہ کی شریعت کے غلبہ کے قائل رہیں، اسی پر عمل کریں اور اسی کے نفاذ کے لیے کوشاں رہیں۔ اور ان وضعی قوانین، کفریہ آئین و دستور کا رد کریں، کیونکہ یہی ایمان اور توحید کا تقاضا ہے۔

اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه، واجعلنا من أنصار شريعتك والمستمسكين بحكمك إلى أن نلقاك، آمين۔
 
Top