• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وضو کے بعد کی دعا میں ایک بے اصل اضافہ ”وَاجْعَلْنِی مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ“*

عامر عدنان

مشہور رکن
شمولیت
جون 22، 2015
پیغامات
917
ری ایکشن اسکور
257
پوائنٹ
142
وضو کے بعد کی دعا میں ایک بے اصل اضافہ ”وَاجْعَلْنِی مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ“*


* از قلم :*
*حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ*
* ناشر :*
*البلاغ اسلامک سینٹر*
ا======================

*الحمد للہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، أما بعد :*

محترم قارئین! میں نے کئی مسجدوں میں دیکھا کہ وہاں کے وضو خانے میں ایک سٹیکر لگا ہوا ہے، جس میں لکھا ہوا ہے:

*وضو کے بعد کی دعا*
*”أَشْهَدُ أَنْ لَّاإِلٰهَ إِلَّا اللہُ ،وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ، اللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِيْنَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ المُتَطَهِّرِيْنَ، وَاجْعَلْنِی مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ“*

*راقم کہتا ہے کہ :*

* پہلا ٹکڑا صحیح مسلم میں ہے۔*
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ہمارے ذمے اونٹ چرانے کا کام تھا، میری باری آئی تو میں اونٹوں کو چرا کر شام کے وقت اُن کے رہنے کی جگہ لے کر آیا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوکر لوگوں سے کچھ ارشاد فرما رہے تھے۔ مجھے آپ کی یہ بات سننے کو ملی کہ: ”جو مسلمان اچھی طرح سے وضو کرے، پھر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ کھڑا ہو کر دو رکعتیں پڑھے (یعنی ظاہری اور باطنی دونوں طور پر متوجہ رہے، دل میں کوئی دنیا کا خیال نہ لائے) تو اُس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی“۔ میں نے کہا: کیا عمدہ بات فرمائی۔ تو میرے سامنے ایک کہنے والا کہنے لگاکہ اِس سے پہلی والی بات اِس سے بھی زیادہ عمدہ تھی۔ میں نے دیکھا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ تم ابھی آئے ہو۔ آپ ﷺ نے (اِس سے پہلے) فرمایا تھا :”تم میں سے جو شخص وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے یا اچھی طرح سے وضو کرے، پھر یہ کہے: ”أَشْهَدُ أَنْ لَّاإِلٰهَ إِلَّا اللہُ ،وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ“”میں گوہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں ، وہ تنہا ہے کوئی اُس کا شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اُس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں“ تو اُس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھولے جائیں گے جس میں سے چاہے داخل ہو جائے“۔ (صحیح مسلم :234)


* دوسرا ٹکڑا سنن ترمذی وغیرہ میں ہے۔*
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جس نے اچھی طرح سے وضو بنایا پھر کہا :”أَشْهَدُ أَنْ لَّاإِلٰهَ إِلَّا اللہُ ،وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ، اللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِيْنَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ المُتَطَهِّرِيْنَ“”میں گوہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں، وہ تنہا ہے کوئی اُس کا شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اُس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں، اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں میں سے اور پاکی اختیار کرنے والوں میں سے بنا“ تو اُس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھولے جائیں گے جس میں سے چاہے داخل ہو جائے“۔
(سنن الترمذی بتحقیق الألبانی:55، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے)
نیز دیکھیں:(عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنی بتحقیق الہلالی، ص:76/1 اور 77 وغیرہ)

اِس ٹکڑے کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے جبکہ شیخ شعیب الارنؤوط اور دیگر کئی محققین نے غیر ثابت قرار دیا ہے۔
اِس ٹکڑے کی مفصل تحقیق جاری ہے۔جو نتیجہ نکلے گا، ان شاء اللہ اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔

* تیسرا ٹکڑا ”وَاجْعَلْنِی مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ“کسی بھی کتاب میں نہیں مل سکا۔*
تلاشِ بسیار کے باوجود مجھے یہ ٹکڑا - میرے پاس موجود - حدیث کی کسی بھی کتاب میں نہیں مل سکا۔ یہ جملہ کسی شخص نے سنن ترمذی کے الفاظ کے بعد بڑھا دیا ہے۔ اللہ ایسے شخص کو ہدایت دے. آمین.

اِس پر مزید یہ کہ جن مسجدوں کے وضو خانوں میں میں نے اِس جملے کو دیکھا ہے، کسی میں بھی کوئی حوالہ نہیں دیا ہوا ہے۔ اگر کسی بھائی کو یہ جملہ دنیا میں موجود کسی بھی کتاب میں با سند ملے تو برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ واللہ ولی التوفیق.

* ایک اہم بات :*
کچھ احباب ایسے ہوتے ہیں کہ جب وہ مضمون پڑھتے ہیں تو اپنے ٹچ میں موجود عالم دین یا علماء سے پوچھتے ہیں تو اُن میں سے کچھ علماء جواباً یہ کہتے ہیں کہ اُن کو کہنے دو ، وہ وہابی ہے، وہ دیوبندی ہے، اُس کا کام ہی یہی ہے وغیرہ وغیرہ۔

ایسے احباب سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب اِس طرح کا جواب آپ کو ملے تو آپ جواب دینے والے عالم دین سے پیار محبت سے پوچھیں کہ آپ مجھے صرف اتنا بتائیں کہ کیا وضو کے بعد کی دعا میں ”وَاجْعَلْنِی مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ“ پڑھنا نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے؟ کیا یہ نبی کریم ﷺ کی تعلیم ہے ؟ اگر ہاں تو حوالہ بتا دیجیے۔ بس۔ اگر انہوں نے حوالہ پیش نہیں کیا تو گویا وہ آپ کو سیدھے راستے سے بھٹکا رہے ہیں اور اگر پیش کر دیا تو آپ ہمارے سینٹر کے نمبر پر اسے بھیج دیجیے۔ اگر حوالہ صحیح ہوا اور مذکورہ ٹکڑا ثابت ہو گیا تو اُن کی شکر گزاری کی جائے گی اور علی الاعلان رجوع کیا جائےگا ورنہ پیار محبت سے اُن کو جواب دیا جائے گا۔

* خلاصۃ التحقیق :*
”وَاجْعَلْنِی مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ“
وضو کے بعد کی دعا میں ایک بے اصل اور من گھڑت اضافہ ہے لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اِس بے اصل اور من گھڑت الفاظ کو نا پڑھیں۔ واللہ هو الهادی.

*وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین.*

*حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ*
*صدر البلاغ اسلامک سینٹر*
*️ 03-ذو القعدہ-1443ھ*
*️ 04-جون-2022*

 
Top