• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ومن لم یحکم بما انزل اللہ کے ظاہر سے خوارج استدلال کرتے ہیں

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
511
ری ایکشن اسکور
167
پوائنٹ
77
ومن لم یحکم بما انزل اللہ کے ظاہر سے خوارج استدلال کرتے ہیں

بسم الله الرحمن الرحيم

سب سے پہلے چند ضروری باتیں جان لینا ضروری ہیں یہ تمام باتیں مستقل قواعد ہیں ۔

نصوص شرعیة اپنے ظاہر پر حمل ہوگی۔ یہاں تک کہ قرینہ صارفہ نہ مل جاۓ ۔

یہاں کوٸی قرینہ نہیں کہ مذکورہ آیت میں کفر سے مراد کفر اصغر ہی ہے۔

▪امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فلما احتمل المعنیین وجب علی أھل العلم أن لا یحملوھا علی خاص دون عام الا بدلالة من سنة رسول اللہ ﷺ
أو اجماع المسلمین ۔(( الرسالة 1/315))

ترجمہ : جب ( ایک ) دلیل دو معانی کا احتمال رکھتی ہو تو اہل العلم پر لازم ہے کہ اس ( دلیل ) کو خاص پر حمل نہ کریں، مگر وہ دلیل جو سنت رسول ﷺ سے ہو یا اجماع المسلمین سے ۔

▪اسی طرح فرماتے ہیں :

فکل کلام کان عاما ظاھرا فی سنة رسول اللہ فھو علی ظھورہ وعمومہ ((الرسالة 1/341))

ترجمہ: ہر وہ کلام جو سنت رسول ﷺ میں عام اور ظاہر ہو وہ اپنے ظاہر اور عموم پر (باقی ) رہےگا ۔

▪امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

"فالْوَاجِبُ حَمْل كلام اللہ ورسولہ علی ظاھرہ الذی ھو ظاھرہ
(( اعلام الموقعین 3/89))

ترجمہ : لازم ہے کہ کلام اللہ اور کلام رسول اللہ ﷺ کو اپنے ظاہر پر رہنے دیا جاۓ وہ جو اس کآ ظاہر ہو۔

▪علامہ شنقيطي رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

"والتحقيق الذي لا شك فيه؛ وهو الذي كان عليه أصحاب رسول الله ﷺ
وعامة علماء المسلمين أنه لا يجوز العدول عن ظاهر كتاب الله وسنة رسول اللہ ﷺ

في حال من الأحوال بوجه من الوجوه؛ حتى يقوم دليل صحيح
شرعي صارف عن الظاهر إلى المحتمل المرجوح.
((اضوا ٕ البیان))

ترجمہ : تحقیق یہ ہے اور اس میں کوٸی شک بھی نہیں ہے، اسی تحقیق پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور عام علماء المسلمین بھی متفق ہیں کہ کسی بھی حالت اور صورت میں یہ جاٸز نہیں کہ کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کے ظاہر سے عدول کیا جاۓ یہاں تک کہ ایک صحیح شرعی دلیل قاٸم ہوجاۓ ۔

اسی طرح فرماتے ہیں :

"وقد أجمع جميع المسلمين على أن العمل بالظاهر واجب حتى يرد دليل شرعي
صارف عنه۔

تمام مسلمان اس پر جمع ومتفق ہیں کہ ظاھر پر عمل کرنا واجب ہے یہاں تک کہ ایک شرعی دلیل وارد ہوجاۓ۔ ( وہ دلیل جو اس ظاہر کو محتمل المرجوح کی طرف نکال دے یعنی ظاہر مراد نا لیا جاۓ )

دوسری بات ۔۔۔

اہل علم نے تصریح کی ہے کہ :

جب شارع ایک لفظ کو کسی معنی میں استعمال کردیں تو وہی معنی مراد لیا جائے گا۔

‏▪قاضي أبو العباس القرافي فرماتے ہیں:

"فإن كان المتكلم هو الشرع حملنا لفظه على عرفه ۔ ((شرح تنقیح الفصول 1/211))

اگر متکلم شرع ہوں تو ہم اس کے لفظ کو عرف (کے معنی پر ) حمل کریں گے ۔

▪شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

ولھذا ینبغی أن یقصد اذا ذکر لفظ من القرآن والحدیث أن یذکر نظاٸر ذالک اللفظ ما ذاعنی بھا اللہ ورسولہ فیعرف بذالک لغة القرآن والحدیث وسنة اللہ ورسولہ التی یخاطب بھا عبادہ وھی العادة المعروفة من کلامہ ۔((مجموع الفتاوی 7/115))

▪علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

اللفظ الذی اطرد استعمالہ
‎ ‎في معنى هو ظاهر فيه ولم يعهد استعماله في
المعنى المؤول أو عهد استعماله فيه نادرا فتأويله حيث ورد وحمله على خلاف المعهود من
استعماله باطل فإنه يكون تلبيسا وتدليسا يناقض البيان والهداية بل إذا أرادوا استعمال مثل
هذا في غير معناه المعهود حفوا به من القرائن ما يبين للسامع مرادهم به لٸلا يسبق فهمه إلى
معناه المألوف ..." ((الصواعق المرسلة 1/196))

اور یہ شرع میں معروف ہے کہ لفظ کفر کا اطلاق جب کتاب وسنت میں ہوجاۓ تو اس سے مراد کفر اکبر ہوگا۔ جو مخرج من الملہ ہوگا جب تک کوٸی قرینہ صارفہ نہ مل جاۓ اور یہاں کوٸی قرینہ صارفہ موجود نہیں ہے، بلکہ جتنے بھی نصوص اس مسٸلے میں وارد ہوۓ ہیں وہ اس آیت کریمہ کے ظاہر کی تاٸید کرتے ہیں ۔

▪ اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ :
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث جو صحیح بخاری (4798) میں ہے ۔

‏اسی حدیث میں یہ ارشاد ہے کہ :

ورأیت النار فلم أر کالیوم منظرا قط ورأیت أکثر أھلھا النسا ٕ قالوا لم یارسول اللہ قال بکفرھن قیل یکفرون باللہ قال یکفرون العشیر

اب خوب سوچ لیں کہ صحابہ کرام نے نبی ﷺ کے اس لفظ "بکفرھن" سے کفر اکبر مراد لیا اسی وجہ سے تو پوچھا کہ " قیل یکفرون باللہ ؟"

پس یہ دلیل ثابت ہوگئی اور یہ صحابہ کرام کے اذہان میں موجود تھا کہ جب کفر کا اطلاق کیا جاۓ تو اس سے کفر اکبر ہی مراد ہوگا ۔

▪حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "عرف الشّارع إِذَا أطْلَق الشّرک انما یرید بہ ما یقابل التوحید وقد تکرر ھذا اللفظ فی الکتاب والأحادیث حیث لایراد بہ الا ذالک ۔(الفتح 1/65))

ترجمہ : شارع نے معروف کیا ہے کہ جب (لفظ) شرک کا اطلاق ہوجائے تو اس سے مراد ( شرک) ہوگا جو توحید کے مقابل ہوتا ہے اور یہ لفظ قرآن واحادیث میں بار بار آیا ہے کہ اس سے صرف وہی (شرک) مراد ہو گا جو توحید کے مقابل ہوتا ہے ۔

‏▪امام أبو حيان الأندلسي فرماتے ہیں :

بعض نے کہا ہے کہ آیت میں مذکورہ کفر سے کفر النعمة مراد ہے ۔
''وَضُعف'' یہ قول کمزور ہے ۔

بأ ن الكفر إذا أطلق انصرف إلى الكفر في الدّين"

یعنی جب کفر مطلق ذکر ہو جائے تو وہ کفر فی الدین کو منصرف ہوگا۔ یعنی اس سے کفر اکبر مراد ہوگا۔ (( البحر المحیط 4/438))


▪اسی طرح امام رازی اس قول کو کہ اس کفر سے مراد کفر النعمة ہے ضعیف بتاتے ہیں
اور وجہ وہی بتاتے ہیں کہ :

لِأَنَ لَفْظ الکفر اذا أطلق انصَرَفَ الی الکفر فی الدین۔

یعنی : لفظ کفر جب مطلق ذکر ہو تو وہ اس کفر کو منصرف ہوگا جو کفر فی الدین ہوتا ہے یعنی اس سے مراد اکبر ہوگا ۔

(( تفسیر الرازی 12/ 367))

▪‏علامة عبداللطيف بن عبدالرحمن بن حسن آل الشيخ رحمہ الله فرماتے ہیں:

‏"ولفظ الظلم والمعصية والفسوق والفجور والموالاة والمعاداة والركون والشرك ونحو ذلك
من الألفاظ الواردة في الكتاب والسنة قد يراد بها مسماها المطلق وحقيقتها المطلقة»
((مجموعة الرساٸل 2/7))

تیسری بات : آیت کریمہ میں "الکفر" معرف باللام آیا ہے جو کمال المعنی پر دلالت کرتا ہے اور وہ ہے کفر اکبر ۔

‏▪ شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله فرماتے ہیں:

"وفرق بين الكفر المعرف باللام كما في قوله صل الله عليه
وسلم: ليس بين العبد وبين الكفر - أو الشرك - إلا ترك الصلاة وبين كفر منكر في
الإثبات."
((اقتضا ٕ الصراط المستقیم 1/238))

چوتھی بات : آیت کریمہ میں کفر اسم فاعل کے صیغہ سے آیا ہے فعل کے صیغے سے نہیں۔

پس جب اسم فاعل کے صیغہ سے وارد ہوا " الکافر " تو یہ فقط وہ کافر ہوا جو ناقل اور مخرج من الملة ہو کیونکہ اسم فاعل صرف فعل کامل سے مشتق ہوتا ہے۔

▪امام ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

۔ ومنھم من فرق بین اطلاق لفظ الکفر فجوزہ فی جمیع أنواع الکفر سوا کان ناقلا عن الملة أو لم یکن وبین اطلاق اسم الکافر فمنعہ الا فی الکفر الناقل عن الملة لأن اسم الفاعل لایشتق الا من الفعل الکامل تفسیر ابن رجب 1/431

پانچویں بات : اس آیت کا سبب نزول قطعیة الدخول فی النص والتصریح ہے ۔

یہ آیت اہل کتاب کے کفر کے بیان کے لیے نازل ہوئ ہے کیونکہ انہوں نے بغیر ما أنزل اللہ پر فیصلہ کیا تھا۔ یہ تو معترضین بھی مانتے ہیں کہ یہ آیت اہل کتاب کے کفر پر دلالت کرتی ہے ۔

پس پھر معترضین واضح کریں کہ آخر کس طرح آیت میں مراد کفر اصغر ہے؟ حالانکہ یہ مسلم عند الکل ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے کفر کی تصریح کے لیے نازل ہوئ تھی۔

چٹھی بات: صحابہ کرام کی ایک پوری جماعت سے اس آیت کے کفر "کفر اکبر" پر حمل کرنا ثابت ہے یعنی اپنے ظاہر پر حمل کرتے ہیں۔ جیسا کہ عمر، علی، ابن مسعود، ابن عباس رضی اللہ عنہم۔

عبد ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

من لم یحکم بما أنزل اللہ فھو کافر ۔۔۔۔فھو ظالم ۔۔۔۔فھو فاسق (( تفسیر الطبری 6/240))

کوئی مخالفت اس میں موجود نہیں پس یہ اجماع بھی ثابت ہوا ۔

ساتویں بات : سارے نصوص جو مسٸلہ حکم اور تحاکم میں وارد ہوۓ ہیں وہ حاکم بغیر ما أنزل اللہ اور متحاکم الیہ کے کفر پر صراحتاً دلالت کرتے ہیں تو یہ تو ممکن نہیں کہ یہ آیت کریمہ ان تمام نصوص کے ساتھ متصادم ہوجاۓ کیونکہ نصوص شرعیة ایک دوسرے کے ساتھ متصادم نہیں ہوسکتے بلکہ وہ تو ایک دوسرے کی تاٸید کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ معروف و معلوم ہے۔

اب اس سوال ( شبہے کی طرف آتے ہے ) ان شاءاللہ۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا کہ قانون یہ ہے کہ نصوص "اھل السنة" کے ہاں ظاہر پر ہی حمل ہوں گے الا یہ کہ قرینہ صارفہ موجود ہو اور یہاں کوئی قرینہ نہیں ہے جو آیت کو ظاہر سے پھیر دے۔ بلکہ کتاب وسنت کے نصوص اور اجماع تو آیت کے ظاہر کو ہی تاٸید کرتے ہیں۔ اور اس قانون کے متعلق ہم نے علماء کے اقوال نقل کر دیے ہیں ۔

معترضین جن اہل علم کے اقوال سے دلیل لیتے ہیں کہ اس آیت کا ظاہر لینا خوارج کا مذہب ہے تو وہ اقوال تین قسم کے ہیں ۔

1. پہلی قسم یہ ہے کہ مقصود ان علماء کا خوارج پر رد کرنا ہے۔ کیوں کہ خوارج نے ان لوگوں کی تکفیر کی تھی جو صرف گناہ گار تھے جیسا کہ شراب نوشی، زنا، چوری وغیرہ گناہ ہیں، اور خوارج نے اپنے لیے یہی آیت دلیل کے طور پر لی تھی۔ خوارج نے ان گناہوں کو "حکم بغیر ما أنزل اللہ" میں سے شمار کیا تھا۔ تو اسی وجہ سے بعض علماء نے اس قول کو پسند فرمایا ہے کہ اس آیت کا ظاہر مراد لینا خوارج کا مذہب ہے۔
جن میں سے ہم چند علماء کرام کے اقوال ذکر کرتے ہیں۔

▪امام ابن عبد البر رحمه الله فرماتے ہیں :

" وقد ضلت جماعة من أهل البدع من الخوارج والمعتزلة في هـذا الباب فاحتجوا بهذه الآثار ومثلها في تكفير المذنبين واحتجوا مـن كـتـاب الله بآيـات ليست على ظاهرها مثل قوله عز وجل ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون " ( التمھید ج١٧ ص ١٦ ) -

ترجمہ : خوارج اور معتزلہ میں سے اہل بدعت کا ایک گروہ اس باب میں گمراہ ہو گیا اور انہوں نے اس آیت اور اسی طرح کے آثار سے گناہ گاروں کی تکفیر پر دلائل بنا دیئے ہیں؛ اور انہوں نے اللہ تعالی کی کتاب سے ایسی آیات سے استدلال کیا ہے جو آیات کے ظاہری معنی پر نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ عزوجل کا یہ قول کہ :
ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون ۔

یہ ابن عبد البر رحمہ اللہ کی وہ عبارت ہے جن سے معترضین استدلال کرتے ہیں ۔
لیکن باطل پرستوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تلبیس، تدلیس دجل اور اقوال کو تراشتے رہتے ہیں، اور ان سے وہ عبارت حذف کرتے ہیں جو ان کی خواہش کے موافق نہ ہو۔
یہاں پر بھی ان باطل پرستوں نے امام ابن عبد البر کی یہ عبارت حذف کی ہے کہ :

فاحتجوا بهذه الآثار ومثلها في تكفير المذنبين ۔

▪ اسی طرح امام جصاص رحمه الله کا قول کہ :

" وقد تأولت الخوارج هذه الآية على تكفير من ترك الحكم بما أنزل الله من غير جحود لها وأكفروا بذلك كل من عصى الله بكبيرة أو صغيرة "
( أحكام القرآن جـ4 صـ94 .)
ترجمہ : خوارج نے اس آیت میں تاویل کی تھی کہ جو ما أنزل اللہ پر فیصلہ نہ کرے اگرچہ وہ اس سے انکار بھی نہیں کرتے ہوں وہ بھی کافر ہیں۔ اور (اس آیت کے ظاہر سے ) ہر اس شخص کو کافر قرار دیا تھا جو اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتے ہیں چاہے وہ گناہ کبیرہ ہو یا گناہ صغیرہ ۔


لیکن معترضین پر انتہائی افسوس ہے کہ امام جصاص کے قول سے یہ آخری جملہ حذف کرتے ہیں کہ :
( وأكفروا بذلك كل من عصى الله بكبيرة أو صغيرة ) فتأمل

▪ امام أبو العباس القرطبي رحمه الله فرماتے ہیں : " اور اللہ عزوجل کا یہ قول کہ : ( ومن لم يحكـم بـا أنـزل الله فأولئـك هـم الكافرون )

يحتج بظاهره من يكفر بالذنوب ، وهم الخوارج . ، ولا حجة لهم فيه

یعنی : اس کے ظاہر پر وہ لوگ دلیل پکڑتے ہیں جو گناہوں پر مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں جو کہ خوارج ہیں۔ ان خوارج کےلیے اس آیت میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

( المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم جـ16 ص 36 . )

▪اسی طرح امام أبو حيان الأندلسي رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

" واحتجت الخوارج بهذه الآية على أن كل من عصى الله تعالى فهو أذنب فقد حكم كافر ، وقالوا : هي نص في كل من حكم بغير ما أنزل الله فهو كافر
(تفسير البحر المحيط جـ4 صـ 437 . )

خوارج نے اس آیت کو دلیل لیا ہے کہ :

جس کسی نے اللہ کی نافرمانی کی تو وہ کافر ہے اور خوارج نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت نص ہے کہ جو بھی "بغیر ما أنزل اللہ" فیصلے کرتے ہیں وہ کافر ہیں ۔

پس یہ معلوم ہوا کہ جن ائمہ کرام نے اس آیت کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ اس کا ظاہر مراد لینا خوارج کا مذہب ہے تو اصل میں ان ائمہ کا مقصد الٹا خوارج پر رد کرنا تھا کہ خوارج گناہ میں مبتلا مسلمانوں کی تکفیر اس آیت کو بطور دلیل لے کر کرتے ہیں ۔

لیکن اہل باطل کو اللہ عزوجل ہلاک کرے کہ آئمہ کے اقوال کو حذف کرتے ہیں۔ یہ خیانت کرنا ان کو ہلاک کرکے رکھ دے گا ان شاء اللہ ۔
کیونکہ یہ وہ علمی خیانت ہے جن سے لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔

دوسری قسم :

دوسری قسم ان علماء کی ہے جو کہتے ہیں کہ اس آیت کا ظاہر مراد لینا خوارج کا مذہب ہے تو مراد ان علماء کا خوارج پر رد کرنا ہوتا ہے جو گناہ گار حکام کو صرف ان کے ظلم اور زیادتی کی وجہ سے کافر ٹہراتے تھے۔ اگرچہ وہ مسلمان تھے۔

((یاد رہے کہ پہلی قسم میں بھی خوارج پر رد مقصود تھا لیکن وہ الگ صورت تھی کہ جب خوارج عام گناہ گار کو کافر کہتے تھے۔ جب کہ یہاں الگ صورت ہے کہ جب خوارج گناہ گار اور ظالم حکام کو کافر کہتے تھے ۔ ))



▪ : قول الآجري رحمه الله : " ومما تتبع الحرورية من المتشابه قـول الله تعالى : ( ومن لم يحكـم بـا أنزل الله فأولئك هم الكافرون ﴾ [ المائدة : ٤٤ ]

" حروریوں نے یعنی خوارج نے جن متشابہات کی اتباع کی ہے ان میں سے( یہ بھی) ہے کہ:


( ومن لم يحكـم بـا أنزل الله فأولئك هم الكافرون ﴾ [ المائدة : ٤٤ ]

ویقرءون معھا : ( ثم الذين كفروا بربهم يعدلون )

اور(خوارج ) اس کے ساتھ یہ آیت کریمہ بھی تلاوت کرتے تھے کہ :

( ثم الذين كفروا بربهم يعدلون ) [ الأنعام : 1 ]

فإذا رأوا الإمام يحكم بغير الحق قالوا : قد كفر ، ومن كفر عدل بربه فقد أشرك فهؤلاء الأئمة مشركون ، فيخرجون فيفعلون ما رأيت ؛ لأنّهم يتأولون هذه الآية "
( الشريعة جـ ١ صـ٢٤ )

پس جب کبھی دیکھتے کہ کوئی امام یعنی حاکم ناحق فیصلے کرتا ہے تو کہتے کہ ( اس حاکم نے ) کفر کیا اور جس نے کفر کیا گویا اس نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرایا تو یہ شرک ہوا پس یہ حکام مشرکین ہیں۔
کیونکہ خوارج اس آیت میں تأویل کرتے تھے ۔


▪قاضي أبو يعلى رحمه الله کا قول کہ: " واحتج - يعني أحد الخوارج - بقوله تعالى : ( ومن لم يحكم بنا أنزل الله فأولئك هم الكافرون ) وظاهر هذا يوجب اكفار أئمة الجور ، وهذا قولنا - يعنـي قول الخوارج- "
( مسائل الإيمان )
خوارج میں سے کسی نے اللہ عزوجل کے اس قول:

( ومن لم يحكم بنا أنزل الله فأولئك هم الكافرون )
پر دلیل پکڑی کہ یہ ظاہر پر منبی ہے اور اس آیت سے "اَئمة الجور" یعنی ظالم حکام کے کافر ہونے کا ثبوت ملتا ہے اور ( خوارج کا کہنا تھا کہ) یہ ہمارا یعنی خوارج کا قول ہے۔

تیسری قسم :

وہ علماء جو فرماتے ہیں کہ آیت کا ظاہر لینا خوارج کا مذہب ہے تو ان میں تیسری قسم یہ ہے کہ : ان علماء کا مقصود یہ ہے کہ جب ایک ظالم حاکم معین قضیہ میں مخالفت کرے حالانکہ وہ شریعت کا التزام کرنے والا ہو تو اس کے کفر پر اس آیت کریمہ کے ظاہر سے دلیل پکڑنا خوارج کا مذہب ہے۔

▪جن میں سے شیخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله کا قول ہے کہ:

" وقال تعالى : ( فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا بما قضيت ويسلموا تسليتا » [ سورة النساء 65 ]

فمـن لم يلتـزم تحكيم الله ورسوله فيها شجر بينهم فقد أقسم الله بنفسه أنه لا يؤمن ، وأمـا مـن كـان ملتزما لحكم الله ورسوله باطنا وظاهرا ، لكن عصى واتبع هواه ، فهذا بمنزلة أمثاله من العصاة .

وهذه الآية مما يحتج بها الخوارج على تكفير ولاة الأمر الذين لا يحكمـون بـا أنـزل الله ، ثـم يزعمون أن اعتقادهم هو حكم الله" ( منهاج السنة جـ 5صـ 131 )


جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کو اپنے درمیان میں ہونے والے جھگڑے میں نا مانتے ہوں تو اللہ عزوجل نے اپنے ذات پر قسم اٹھائی کہ وہ مومن نہیں ہیں۔

جو اللہ و رسول ﷺ کے حکم و فیصلہ پر ظاہری و باطنی ملتزم تو ہو لیکن نافرمانی کرتا ہو اور اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہو تو ایسے لوگ نافرمان ہیں۔ یعنی جیسا کہ باقی گناہگار نافرمان ہیں ۔

اور یہ آیت ان میں سے ہے جو خوارج ان صاحب اختیار لوگوں کے کفر پر ڈالتے ہیں جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، پھر وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا عقیدہ اللہ کا حکم ہے ۔


افسوس ہزار بار افسوس کہ اہل باطل نے شیخ الاسلام کے اس قول سے دلیل پکڑی ہے لیکن ساتھ میں دجلِ عظیم بھی کیا ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس قول کو حذف کیا ہے کہ

( فمن لم يلتزم تحكيم الله ورسوله فيما شجر بينهم فقد أقسم الله بنفسه أنه لا يؤمن ، وأما من كان ملتزما لحكم الله ورسوله باطنا وظاهرا ، لكن عصى واتبع هواه ، فهذا بمنزلة أمثاله من العصاة . )
پس دیکھیے سوچیئے اور آخرت میں اللہ کے حضور کھڑے ہونے کے لیے تیاری کر لیں ۔
یہ جو اپنے اس تلبیس سے سادہ لوح مسلمان بھائیوں کو گمراہ کر رہے ہیں ان پر غور و فکر کریں۔

▪اسی طرح قرطبي رحمه الله کا قول:

" قال القشيري : ومذھب الخوارج أن من ارتشى وحكم بغير حكم الله فهو كافر ، وعزي هذا إلى الحسن والسدي "
( تفسير القرطبي جـ 6 صـ191 ).

▪ امام السمعاني رحمه الله کا قول :

" واعلم أن الخوارج يستدلون بهذه الآية ، ويقولون : من لم يحكم بها أنزل الله فهو كافر ، وأهل السنة قالوا : لا يكفر بترك الحكم "
(تفسير السمعاني جـ٢ صـ٤٢ ).

جان لیں کہ خوارج اس آیت سے استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا وہ کافر ہے اور اہل السنة کہتے ہیں کہ ترک الحکم یعنی فیصلہ ترک اور چھوڑ دینے سے کافر نہیں ہوتا ۔



پس اے میرے بھائی اب آپ پر ان معترضین کی تلبیس ظاہر ہوگئی ہے نا ؟
اقوال سلف کو تراش کر اپنی خواہش کے مطابق بات اٹھانا کہاں کا انصاف ہے ۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

آپ کو یہ بھی معلوم ہوا ہوگا ان شاء اللہ کہ یہ حضرات اقوال ونصوص کو اس جگہ رکھ دیتے ہیں جو جگہ ان نصوص و اقوال کےلیے نہیں ہوتی۔ اور تحریف تو آپ لوگوں کے سامنے ہے ہی۔

اس کے بعد ہم انہی علماء کے اقوال اس مسٸلے میں بیان کرتے ہیں کہ آیا بغیر ما أنزل اللہ پر فیصلہ کرنے سے کفر لازم ہو جاتا ہے یا نہیں۔
یاد رہے جن علماء کے اقوال سے یہ معترضین استدلال کرتے ہیں ان کی حقیقت تو ظاہر ہوگٸ مگر حق کو مذید واضح کرنے کے لیے مذکورہ انہی علماء کے اقوال ذکر کئے جا رہے ہیں۔

امام ابن عبد البر رحمہ للہ فرماتے ہیں:

اسحق بن راہویہ ( استاذ للامام المحدثین مُحَمَّد بن اسمعیل البخاری رحمہ اللہ ) نقل ہیں کہ :
" وقد أجمع العلماء أن من سب الله عز وجل أو سب رسول الله صلى الله عليه وسلم أو دفع شيئا أنزله الله أو قتل نبيا مـن أنبيـاء الله وهو مع ذلك مقر بما أنزل الله أنه كافر "
علماء اس (امر ) پر جمع ہوۓ ہیں کہ جس کسی نے اللہ عزوجل یا نبی ﷺ ( کے شان میں گستاخی کی ) یا ایک ایسا امر دفع کیا جو اللہ عزوجل نے نازل کیا ہے یا ایک نبی کو قتل کیا اور اگرچہ ما أنزل اللہ کا اقرار بھی کرتا ہے تب بھی کافر ہے۔
( التمهيد ج 4 ص ٢٢٦ )


پس اے لوگوں ۔۔۔۔۔ !!!!! کس طرح ابن عبد البر اجماع کو نقل کرتا ہے پھر اپنے نقل کردہ اجماع کی مخالفت کرتا ہے۔ یاعجبا ۔۔۔ یہ امام ابن عبد البر پر ایک الزام نہ ہوا ؟ معاذ اللہ

▪ امام السمعانی رحمه الله اللہ عزوجل کے اس قول ( ألم تر إلى الذين يزعمون أنهم آمنوا بـا أنـزل إليك وما أنزل من قبلك يريدون أن يتحاكموا إلى الطاغوت وقد أمروا أن يكفروا بـه ويريد الشيطان أن يضلهم ضلالا بعيدا )
کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
في الآية قولان : - أي في سبب النـزول - والقـول الثاني - وهو الأصح : " أن رجلا من اليهـود خـاصـم رجـلا مـن المنـافقين ، فقـال اليهـودي : نتحاكم إلى أبي القاسم إذ عرف أنه لا يأخذ الرشوة على الحكم فيحكم بالحق ، وقال المنافق
نتحاكم إلى كعب بن الأشرف ، فتحاكما إلى النّبي فحكم لليهـودي ، وكـان الحـكـم لـه ، فقـال المنافق : لا أرضى بحكمه ، نتحاكم إلى أبي بكر ، فتحاكما إلى أبي بكر ، فحكم لليهودي بمثل ما حكم رسول الله۔
فقال المنافق : لا أرضى بحكمه ، نتحاكم إلى عمـر ، فتحـاكمـا إلى عمـر ، فقـال عمر : هل تحاكمتما إلى أحد ؟ فقال اليهودي : نعم إلى أبي القاسم ، وإلى أبي بكر ، وقد حكمـا لي ، وهو لا يرضى ، فقال عمر : مكانكما حتى أخرج إليكما ، فدخل البيت ، واشتمل على السيف ، ثم خرج ، وضرب عنق المنافق ، فبلغ ذلك رسول الله ، فقال : أنت الفاروق " (
{تفسير السمعاني جـ ا صـ1441 )


ترجمہ : اس آیت کے سبب نزول میں دو اقوال ہیں۔ اور قول ثانی "" أصح "" ہے کہ :

ایک یہودی شخص اور ایک منافق کا جگھڑا ( معاملہ ) ہوا تو یہودی نے کہا ہم ابو القاسم ( مُحَمَّد ﷺ) کے پاس فیصلہ لے جائیں گے
(کیونکہ یہودی کو معلوم تھا کہ وہ فیصلے پر رشوت نہیں لیتے اس لیے حق پر فیصلہ کریں گے) ۔ اور منافق نے کہا ہم کعب بن اشرف کے پاس فیصلہ لےجائیں گے۔ جب وہ نبی ﷺ کے پاس فیصلہ لے گئےتو نبی ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ سنایا اور حق بھی یہودی کا تھا تو منافق نے کہا کہ میں ( معاذ اللہ ) نبی ﷺ کے فیصلے سے راضی نہیں ہوں ہم ( دوبارہ یہ ) فیصلہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لیکر جائیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا اور فیصلہ یہودی کے حق میں سنایا جیسا کہ نبی ﷺ نے فیصلہ سنایا تھا۔ منافق نے کہا میں اس فیصلہ پر بھی راضی نہیں ہوں ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس معاملہ لے جائیں گے، تو دونوں عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں فیصلہ لے گۓ۔ عمر رضی اللہ نے پوچھا کیا آپ دونوں ( اس سے پہلے ) کسی اور کے پاس یہ معاملہ لے گۓ تھے؟ یہودی نے کہا جی ابو القاسم ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میرے آنے تک اپنی جگہ ٹہرے رہو۔ وہ گھر کے اندر گئے اور تلوار اٹھا کر باہر آۓ اور منافق کی گردن مار دی پس یہ واقعہ نبیﷺ تک پہنچ گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا (اے عمر ) آپ فاروق ہیں ۔
پس ہم پوچھتے ہیں کہ : یہ وہی امام سمعانی ہے جن سے معترضین نے قول نقل کیا کہ آیت کا ظاہر مراد لینا خوارج کا مذہب ہے۔ اب سمعانی رح کے اس قول کے بارے میں کیا کہو گے؟ ( وهو الأصح )۔

اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس آیت کا سبب نزول اجماع سے قطعی الدخول فی النص ہے۔ پس کس طرح یہ امام اور باقی آٸمہ اس کے خلاف کہیں گے؟ کیا یہ ان عظیم ہستیوں پر الزام اور ان کا سوء ادب نہ ہو گا ؟

امام جصاص رحمه الله اللہ عزوجل کے اس قول :
( فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيها شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجاً يما قضيت ويسلموا تسليا )

کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

: " وفي هـذه الآيـة دلالة على أن من رد شيئا من أوامر الله تعالى أو أوامر رسوله صلى الله عليه وسلم فهو خارج من الإسلام سواء رده من جهة الشك فيه أو من جهة تـرك القبـول والإمتـاع مـن التسليم وذلك يوجب صحة ما ذهب إليه الصحابة في حكمهم بارتـداد مـن امتـع مـن أداء الزكـاة وقتلهم وسبي ذراريهم لأن الله تعالى حكم بأن من لم يسلم للنبي صلى الله عليه وسلم قضاءه وحكمه فليس من أهل الإيمان "
( أحكام القرآن للجصاص جـ3 صـ ۱۸۱ )

.یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کسی نے اللہ کے یا نبی ﷺ کے اوامر میں سے کسی چیز کو رد کیا تو وہ اسلام سے خارج ہے۔
پس ہم پوچھتے ہیں کہ یہ تو وہی جصاص رحمہ اللہ ہیں جن سے آپ معترضین نے نقل کیا تھا کہ ومن لم یحکم بما أنزل اللہ کاظاہری معنی مراد لینا خوارج کا مذہب ہے تو کیا اب ان کا یہ قول مان جاٶ گے؟
▪ اسی طرح امام أبو حيان الأندلسی رحمہ اللہ اس آيت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

" وحتى هنا غاية ، أي : ينتفي عنهم الإيمـان إلى هذه الغاية ، فإذا وجد ما بعد الغاية كانوا مؤمنين
( البحر المحيط جـ3 صـ 695 .)
اب اس پر بھی سوچ لیں یہ وہی ابوحیان اندلسی غرناطی رحمہ اللہ ہیں جن سے معترضین نے نقل کیا تھا ، کیا اب ان کا یہ قول قبول کر لو گے؟
جن لوگوں نے کہا کہ قرآن کو سنت کے بغیر لیا جائے گا امام آجری رحمہ اللہ علیہ نے ان کے جواب میں دلائل دئیے ہیں، جن میں رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، اور نبی ﷺ کے پاس فیصلہ لے جانے اور ان کی سنت کو پکڑنے کا حکم دیا گیا ہے فرمایا:

" هـذا قول علماء المسلمين ، من قال غير هذا خرج عن ملة الإسلام ، ودخل في ملة الملحدين ، نعوذ بالله تعالى من الضلالة بعد الهدى .
"یہ علماء المسلمین کا قول ہے کہ جو کوئی اس کے برعکس کہے وہ دین اسلام سے نکل کر ملحدین کے مذہب میں داخل ہو گیا۔
[الشريعة ج 1 صـ48 ].


▪ اسی طرح فرماتے ہیں:
" ثم إن الله عز وجل أوجب على من حكم عليـه النبـي صـلى الله عليـه وسلم حكماً ، أن لا يكون في نفسه حرج أو ضيق مما حكـم بـه عليـه الرسـول صـلى الله عليـه وسلم ، بل يسلم لحكمه ويرضى ، وإلا لم يكن مؤمناً . فقال عز وجل : ( فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم خرجاً يما قضيت ويسلموا تسلياً )۔

یقینا اللہ عزوجل نے اس شخص پر جس کے لیے نبی ﷺ فیصلہ کریں واجب کیا ہے کہ وہ شخص اپنے دل میں نبی ﷺ کے فیصلے کی وجہ سے تنگی اور پریشانی محسوس نہیں کرے گا ۔بلکہ نبی ﷺ کے فیصلے کو تسلیم کرےگا اور اس پر راضی ہوگا۔ اگر تسلیم نہ کیا یا راضی نہ ہوا تو یہ مومن نہ ہوگا ۔[اشريعة ج ا صـ۳۸۸] . امام المروزی رحمه الله -
اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں :

( فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تسليما ) -
" فهذا الذي ظـنّ أنه صلى الله عليه وسلم مال إلى الزبير لقرابته منه فخرج بذلك مـن إيمـانـه ،
[ تعظيم قدر الصلاة جـ٢ صـ658 ].
پس یہ وہ ہے جس نےگمان کیا کہ نبی ﷺ زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف رشتہ داری کی وجہ سے ماٸل ہوا پس وہ شخص( یہ بات کہنے سے) ایمان سے خارج ہوا۔

شیخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله : " والإنسان متى حلـل الحـرام - المجمع عليـه - أو حـرم الحـلال المجمع عليه - أو بدل الشرع -المجمع عليه - كان كافرا مرتدا باتفاق الفقهاء . '
[مجموع الفتاوى جـ3 صـ٢٦٧ ][ الفتاوى الكبرى جـ3 ص 543،544 ].

ترجمہ: انسان جب اجتماعی طور پر حرام کردہ چیز کو حلال کر دے، یا اجتماعی طور پر حلال کردہ چیز کو حرام کر دے، یا اجتماعی شریعت کو بدل دے تو ایسا شخص علماء کے اتفاق سے مرتد اور کافر ہے ۔
▪ اور فرماتے ہیں :

" فإن هذا الشرع ليس لأحد من الخلق الخروج عنه ، ولا يخـرج عنـه إلا كافر
پس مخلوق میں کسی کےلیے مناسب نہیں کہ وہ اس شریعت سے نکل جاۓ کوئ اس شریعت سے نہیں نکلتا مگر کافر ۔

[الفرقان بين أولياء الرحمن وأولياء الشيطان جـ 1 صـ139 ]
▪اور فرماتے ہیں رحمه الله : " ومعلوم أن من أسقط الأمر والنهي الذي بعث الله به رسله فهو كافر باتفاق المسلمين واليهود والنصارى "

یہ معلوم ہے کہ جس کسی نے ایک أمر یا ایک نہی کو ساقط کیا جس پر اللہ عزوجل نے اپنے رسول بھیجے تھے تو مسلمانوں اور یہود ونصاری کے اتفاق پر کافر ہے ۔
[ مجموع الفتاوى جـ 8 صـ106 ].

اب دیکھ لیں اور سوچ لیں جو معترضین شیخ الاسلام رحمہ اللہ سے یہ قول نقل کرتے ہیں کہ ومن لم یحکم الخ کے ظاہری معنی مراد لینا خوارج کا مذہب ہے تو کیا وہ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کا یہ قول بھی تسلیم کریں گے ؟ اسی پر یہ شبہ مکمل ہوا کہ اس آیت کا ظاہر مراد لینا خوارج کا مذہب ہے ۔

والله أعلم بالصواب و علمه أتم، والسلام۔
 
Last edited:
Top