• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وہ بھی رو رہے تھے....میں بھی ........(ہمارے اسلاف ، ان کا اخلاق)

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
وہ بھی رو رہے تھے....میں بھی ........(ہمارے اسلاف ، ان کا اخلاق)

میں رات ہی اسلام آباد پہنچا....بھاگم بھاگ آنا پڑا ..اسلام آباد کا موسم رات کی بارش سے کچھ سرد تھا....قاضی عبدالقدیر خاموش ایسے ہی ہیں جیسے اگر کوئی میرا بڑا بھائی ہوتا ....میں نے ان کو راستے میں ہی فون کر دیا کہ آرہا ہوں اور انہوں نے ایک گیسٹ ہاوس میں میرا کمرہ مختص کروا دیا.... خوش گوار موسم کبھی بلا وجہ اداس بھی کر دیتا ہے....میں صبح تڑکے اٹھ بیٹھا..... کچھ دیر بعد قاضی صاحب ملنے چلے آئے....میری کتاب جو حال میں چھپی ہے اس کے تناظر میں بات ہو رہی تھی ....

بتانے لگے کہ اک روز وہ اور علامہ احسان الہی ظہیر رح اکٹھے قصور کی سمت سفر میں تھے...

ایک قصبے کے نواح سے گزرتے ہووے قاضی صاحب نےعلامہ شہید کو کہا کہ یہاں فلاں بندہ آپ کا محبت کرنے والا ہے...اور بہت محنت سے جماعت کا کام کرتا ہے....اس کو ملنے چلتے ہیں....آپ کا جانا اس کے لیے گویا چاند کا صحن میں اتر آنا ہو گا ....علامہ شہید (ان شاءاللہ) نے گاڑی قصبے کے مرکزی بازار کی جانب موڑ لی...قاضی صاحب نے دور سے اس کی طرف اشارہ کیا کہ وہ رہا ....اور وہ سر جھکائے کام میں مگن تھا...گاڑی قریب آ کے رکی...نگاہ اٹھائی...تو حیرت کا سمندر آنکھوں میں اتر آیا...کام کیا ! اپنا وجود بھی کچھ دیر کو بھول گیا ...کام کیا تھا سر بازار ایک نشست جمائ ہوئی تھی...جی ہاں ! جوتے مرمت کرتا تھا...آپ کا جوتا جو ٹوٹ جائے تو بازار سے نیا لے آتے ہیں نا...لیکن کچھ لوگ مرمت کروا کے گزارا کرتے ہیں...وہ ایسے ہی لوگوں کے لیے کام کرتا تھا.....جلدی سے علامہ رحم اللہ کو ایک ٹوٹا پھوٹا موڑھا "پیش" کیا...آپ بیٹھ گئے...اس غریب کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آپ سے کس طرح پیش آئے....اہل حدیث افراد کی کثرت کا علاقہ تھا....بازار بھر کے لوگ اکٹھے ہو گئے...علامہ کو کہنے لگے کہ ہمارے ہاں چلیے ...ادھر بیٹھتے ہیں...لیکن آپ نے کہا " نہیں ! ادھر ہی بیٹھوں گا اور پھر آگے چلوں گا "...ایک بوتل "سیون اپ" کی آپ نے پی...کچھ بات کی .. اسے گلے سے لگایا ...اور چل دیئے....قاضی عبدالقدیر خاموش گزرے سمے کا قصہ سنا رہے تھے .. اور آنکھوں اتری نمی کی کاغذی رومال میں جذب کر رہے تھے.....اور میری آنکھوں کے سامنے امرتا پریتم کا مصرع وقت کا ماتم کر رہا تھا
کتھو لیائیے لبھ کے وارث شاہ اک ہور
ہاں میں سوچ رہا تھا...کہ اس بازار میں بیٹھنے والے موچی کو یوں گلے سے لگا کے رخصت ہونے والا یہ بندہ نہ جانے کتنے دلوں کا قرار چھین کر لے گیا تھا....چلیے آج خود سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم یوں ایسے کسی بندے کو یوں بازو پھیلا کر گلے سے لگا سکتے ہیں ...نہیں ہم اگر کبھی "پھنس" بھی جائیں تو گلے لگتے لگتے خود کو سمیٹ رہے ہوں گے


........ابو بکر قدوسی
 
Top