ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 874
- ری ایکشن اسکور
- 229
- پوائنٹ
- 111
ٹک ٹاکر فساد فی الارض کے مرتکب ہیں یا نہیں
سائل : السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ ۔ کل ایک ٹک ٹاکر کو کسی نے اس کے گھر پر قتل کیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں غیرت کے نام پر مارا کچھ کہتے ہیں ڈکیتوں نے مارا۔ لیکن یہ سب قیاس آرائیاں ہیں ابھی پولیس ریپوٹ کا آنا باقی ہے۔
اس کی موت کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا میں کل سے ایک بحث چل رہی ہے کہ ٹک ٹاکر فساد فی الارض کے مرتکب ہیں یا نہیں۔ اور کیا انہیں قتل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔
جواب از مفتی اعظم حفظہ اللہ : وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ٹک ٹاک فیسبوک دیگر سوشل ایپس ٹی وی وغیرہ کے بارے میں ایک بات یاد رکھیں کہ ان پر مجموعی طور پر حکم نہیں لگایا جاسکتا کہ یہ جائز ہے یا ناجائز اس لئے کہ اس کا استعمال مثبت منفی دونوں طرح ممکن ہے اس لئے علیحدہ علیحدہ معاملے کو دیکھنا لازم ہے۔
جہاں تک ایسے ٹک ٹاکرز کا تعلق ہے جو سر عام فحش حرکتیں کرتے ہیں، عجیب طرح سے ناچتے ہیں، خواتین کو ساتھ نچاتے ہیں، خواتین جیسے لباس پہنتے ہیں، جسم مٹکاتے ہیں، فضول گوئی کرتے ہیں اور عمومی طور پر ان حرکتوں والوں کےلئے ہی "ٹک ٹاکر ' کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے تو بیشک یہ نہ صرف فساد فی الارض کے مرتکب ہیں بلکہ مسلمانوں میں فحاشی پھیلانے کے جرم میں بھی ملوث ہیں اور امام کو اختیار ہے کہ ان کو قتل کرے یا سولی چڑھائے یا ملک بدر کر دے البتہ امام کے بغیر انفرادی طور پر ان کے قتل سے احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ خود سے اس کی حرکات پر حکم لگانا جائز نہیں جب تک اس پر قضا کی طرف سے حکم نہ لگے ہاں اگر کسی کا کفر شرک و ارتداد واضح ہو وہ الگ معاملہ ہے۔