عبدالعلیم سلفی
رکن
- شمولیت
- اگست 25، 2013
- پیغامات
- 51
- ری ایکشن اسکور
- 7
- پوائنٹ
- 77
پردہ مسلمان عورت کی زینت
عفراء بتول سنابلی بنت عبدالعلیم سلفی (نئی دہلی)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور جامع و اکمل نظام سے عبارت ہے۔ اس کا ہر گوشہ اس کی جامعیت اور اکملیت کا شاہکار اور آئینہ دار ہے، جو کہ بنی نوع انسان کو اس کی زندگی کے جملہ معاملات میں سنہرے اصول فراہم کرتا ہے تاکہ وہ حیاتِ مستعار میں ہی نہیں بلکہ اخروی اور دائمی کامیابی سے سرخرو ہوسکے۔ جب اسلام آیا تو اس نے عورت پر ہونے والے ظلم و زیادتی کا خاتمہ کرتے ہوئے انہیں ان کی انسانی حیثیت اور مرتبہ دلایا،اور یہ واضح کیاکہ مردو زن سب ایک ہی جنس کی پیداوارہیں ،لیکن زندگی کی راہ میں دونوں کےلئے کچھ أصول وضوابط ہیں ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلام نے عورت کو وہی مقام دیا ہے جس کی وہ اہل تھی۔ عورتوں کی طبع و ساخت کی مناسبت سے انہیں یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ تمام اجنبی (غیر محرم) مردوں سے اپنا چہرہ اور زیب و زینت کو چھپا کر رکھیں ۔عفراء بتول سنابلی بنت عبدالعلیم سلفی (نئی دہلی)
پردہ کرنا ایک عورت کے لیے اسلام میں شدت نہیں بلکہ یہ اللہ تعالی کے احکام کی پیروی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے، اور اس لئے بھی کہ مرد و زن کی روحانی پاکیزگی نظر کے جھکانے اور پردے میں مضمر ہے۔ پردہ کے اسی اہمیت کے پیش نظر اور ہر دور میں اس کی اہمیت وضرورت کی بنا پر ہم اپنی اس تحریرمیں اس سے متعلق چند باتیں رکھنا چاہتےہیں:
پردہ کی تعریف:
پردہ کی لغوی تعریف: پردہ اوٹ، نقاب، اور حائل ہونے والی شے کو کہتے ہیں ۔ اور اسے عربی میں حجاب ، ستر، خمار اورنقاب سے تعبیر کیاجاتاہے۔(اس کے مختلف معانی کے لئےلغت کی کتابیں ملاحظہ کریں)۔ قرآن مجید کے اندر حجاب کا ذکر آٹھ مرتبہ کیاگیا ہے جو سب اسی معنی کے گرد گھومتےہیں۔
پردہ کا شرعی مفہوم: اصطلاحِ شریعت میں حجاب اور پردہ کا مفہوم ہےعورت کا اپنے پورے بدن اور اپنی زینت کو اس طرح چھپانا ، جو غیر مردوں (نامحرموں) کو اس کے بدن یا اس کی اس زینت کا کوئی بھی حصہ دیکھنے سے روک دے جس سے وہ آراستہ ہوتی ہے،اوراس کایہ پردہ کرنا لباس کےذریعے بھی ہوتاہےاورگھروں کےذریعے بھی۔(حراسۃ الفضیلۃ/بکرابوزید:ص26)۔
قرآن مجید میں پردہ کا حکم :
اسلام نے پردہ کے نظام کو بتدریج اور حکمت کے ساتھ اس امت میں نافذکیا اور پردہ کی اصل حکمت یعنی بےحیائی اورفحاشی سے بچاؤ کے لئے واضح طور پر ذہن سازی کی ،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے معاشرے اور مجتمع کی ماؤں کو جو کہ ازواجِ مطہرات تھیں مخاطب فرمایا: ﴿ يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا ﴾ ۔(اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرے گی اسے دوگنا عذاب دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بہت آسان بات ہے)۔ لہذابے حیائی کا ارتکاب وہی عورت کر سکتی ہے جو حیا سے فارغ ہو اور حیا کی ضمانت پردے میں مضمر ہے۔ پھراللہ تعالی نے اس فحاشی اور بے حیائی کے اسباب کی طرف توجہ دلائی تاکہ معاملہ دل و دماغ میں راسخ ہو جائے۔ اور فرمایا: ﴿ يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ ۚ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا﴾ ۔(اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ اور بیماری ہو وه کوئی برا خیال کرے۔اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو)۔(الأحزاب:32)۔ یہاں بھی ازواجِ مطہرات کو مخاطب کر کے پوری امتِ مسلمہ کو سمجھانا اور تنبیہ کرنا مقصودہے کہ بات کرتے وقت آواز میں کسی قسم کی لطافت اوورلوچ نہ ہو،مبادا قلبی و روحانی مریض اس کو اپنے لیے نرم گوشہ اور گرین سگنل سمجھے۔ اس لیے بات میں قدرے سختی ہو جو کسی بھی طرح کی گندگی سے پاک ہو ۔ یہاں اس آیت میں قول کی نرمی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اگر بات نرم نہیں ہوگی تو پھر اس بات کے مفاسد کا تحقق نہیں ہو سکتا۔پھر اللہ تعالی نے ان کو اس کے بعد فوراً اس نسخۂ کیمیا کی طرف توجہ مبذول کروائی جس سے تمام فتنوں کی جڑ اکھڑ جاتی ہے فرمایا: ﴿ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ﴾۔( اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوۃ دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرتی رہو،اے نبی کے گھر والو! اللہ تعالی چاہتاہے کہ تم سے تمام آلائشوں (گندگیوں) کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و صاف کر دے)۔(الأحزاب:33)۔پھر اس آیتِ مبارکہ کے بعد باقاعدہ طور پر پردے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم ذوالقعدۃ پانچ ہجری میں نازل ہوا، جس کو آیتِ حجاب کے نام سے پہچانا جاتا ہے، اللہ تعالی فرماتاہے : (اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم کھانے کے لئے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو بلکہ جب بلایا جائے توجاؤ۔ اور جب کھا چکوتو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہوجایا کرو۔ نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے، تو وه لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حق (کے بیان )میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا ، جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کروتمہارے اور ان کے دلوں کے لئے کامل پاکیزگی یہی ہےنہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دواور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ (یاد رکھو) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا (گناه) ہے۔ تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا مخفی رکھو اللہ تو ہر چیز کا بخوبی علم رکھنے والا ہےان عورتوں پر کوئی گناه نہیں کہ وه اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی (میل جول کی) عورتوں اور ملکیت کے ماتحتوں (لونڈی، غلام) کے سامنے ہوں۔ (عورتو!) اللہ سے ڈرتی رہو۔ اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر شاہد ہے)۔(الأحزاب:53-55)۔
جب یہ آیتیں نازل ہوئیں تو ازواجِ مطہرات اور مسلمان عورتوں نے اپنے بدن سر سے پاؤں تک چھپا لیے اور اپنی زینت اور بناؤسنگھار کو بھی چھپالیا۔نیزجب پردے کا حکم نازل ہوا تو گھر میں موجود اقارب یا ہر وقت آنے والے جانےوالے رشتے داروں کی بابت سوال ہوا کہ ان سے پردہ کیا جائے یا نہیں؟ چنانچہ اس آیت میں ان اقارب کا ذکر کردیا گیا جن سے پردے کی ضرورت نہیں؟ اس کی مزید تفصیل سورہ نور میں موجودہے، جہاں اللہ تبارک وتعالی نے مسلمان عورتوں کو واضح طورپر پردہ کرنے کا حکم فرمایا ہے، فرماتاہے:(مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں۔ اور اپنی زینت کو ظاہرنہ کریں ، سوائے اس کے جو ظاہر ہے۔ اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں ، اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہرر نہ کریں ،سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کےیا اپنے میل جول کی عورتوں کےیا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں ۔یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں۔ اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیده زینت معلوم ہوجائے، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ)۔(النور:31)۔
پردہ کا حکم احادیث کی روشنی میں :
سنت میں پردہ کرنے اور نامحرم لوگوں کے سامنے چہرہ چھپانے کے وجوب پر متعدد دلائل موجود ہیں، جن میں سے ایک دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث بھی ہے،وہ فرماتی ہیں: "مؤمن عورتیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز میں حاضر ہوتیں تو اس طرح اپنی چادروں میں لپٹی ہوتیں کہ نماز کے بعد جب اپنے گھروں میں لوٹتیں تو اندھیرے کے سبب انہیں کوئی نہ پہچان سکتا"۔(صحیح بخاری /578 ، صحیح مسلم/645)۔ اور ایک روایت میں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "اللہ تعالیٰ رحم کرے پہلی ہجرت کرنے والی عورتوں پر کہ جب اللہ تعالیٰ کا فرمان (وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ ) نازل ہوا تو انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کر ان کے دوپٹے بنا لیے"۔( صحیح بخاری: ۴۷۵۸)۔
پردہ کے فضائل اور اس کی حکمتیں :
حجاب (پردے) کے بہت سارے فضائل و خصائص قرآن و سنت میں بیان ہوئے ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
(1) -پردہ کرنا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے،چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ﴿ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا ﴾ ۔ (اور کسی مؤمن مرد اور مؤمنہ عورت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں جا پڑے گا)۔(الأحزاب:36)۔چنانچہ جو عورت پردہ نہیں کرتی ہے وہ کھلی ہوئی گمراہی میں ہےکیونکہ اس نے خودکو اللہ اور اس کے رسول کے حکم آجانے کے باوجود ان کی اطاعت سے نکال لیاہے۔
(2) - پردہ عورت کی عفت و پاکدامنی کی علامت اوراس کا شعار ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ﴾ ۔(اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیں، اس سے (فائدہ کیا ہوگا؟) بہت جلد پہچان لی جائیں گی پھر ستائی نہ جائیں گی)۔(الأحزاب:59)۔اس آیت کے مطابق جب مؤمنہ عورت پردے کی وجہ سے پاک دامن لگےگی تو پھر فاسق لوگ اس کو کوئی تکلیف نہیں دیں گے ،اور وہ ان کےبہکاوے میں نہ آکر اپنی عفت وعصمت اورپاکدامنی کی حفاظت کرلےگی۔
(3) - پردہ سراسر پاکیزگی اور طہارت ہے، کیونکہ جس عورت نے اپنے دامن کو بدکاری اور اورزنا میں پڑنے کے أسباب سے خود کی حفاظت کرلی وہ پاکیزہ اور طاہرہ ہوگی۔
(4) - پردہ پرہیزگاری اور تقویٰ کا سبب ہے ، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:(اے آدم کی اولاد! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیا ہے جو تمہاری شرمگاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجبِ زینت بھی ہے اور تقویٰ کا لباس اس سے بڑھ کر ہے)۔(الأعراف:26) ۔
تقوی کہتےہیں برائیوں سے بچنے اور اچھائیوں کو اپنانے کو لہذا زندگی کے تمام امورمیں جس میں ظاہری لبا س بھی شامل ہے تقوی اختیار کرنا ایک انسان کے متقی اور پرہیزگارہونے کی علامت اور اس کے زہد وورع کا مظہرہے۔
(5) - پردہ ایمان کی مضبوطی کی دلیل ہے، اللہ تعالی نے جہاں مؤمنہ عورتوں کےلئے پردہ کا ذکر فرمایاہے تو انہیں مؤمنات او رنساء المؤمنین سے موصوف کیاہے ۔ جو ان کے ایمان کی مضبوطی کی دلیل ہے۔
(6 ) - پردہ شرم و حیا کی دلیل ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں آتاہے کہ ان کے حجرےمیں جب عمر رضی اللہ عنہ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور أبو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دفن کیا گیا تو وہ شرم و حیا کرتے ہوئے بدن پر اپنے کپڑوں کو خوب لپیٹ کر رکھتی تھیں۔(مسنداحمد/25660 ، مستدرک الحاکم :4402 ، امام حاکم نے اس روایت کو امام مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح قرار دیا ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے اور ہیثمی نے بھی اسے صحیح کہاہے )۔معلوم ہواکہ حیاء اور پردہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ اگر حیاء نہیں تو پردہ نہیں ، اور اگر پردہ ہوگاتو حیاء بھی ضرورہوگی۔
پردہ کرنے کی صورتیں؟:
پردہ کئی صورتوں سے ممکن ہو سکتا ہے،جیسے : ایسا شرعی ساتر حجاب جس سے ا سارا بدن، چہرہ ہاتھوں سمیت اور بناوٹی زینت غیر محرموں سے چھپ جائے وہ جلباب (چادر) اورخمار (دوپٹہ) سے بھی ہو سکتا ہے۔اور اسی طرح وہ تمام زینت کی چیزیں خواہ زیورات کی شکل میں ہوں یا لباس کی شکل میں ہوں اس کو بھی غیر محرموں سے چھپانا۔ اس کے علاوہ گھر کو لازم پکڑنا اور بلا ضرورت کہیں آنے جانے سے بچنا، خاص طور سے جہاں مردو عورت کا اختلاط ہو۔ نیز بول چال ، رہن سہن او رہاؤبھاؤ میں شریعت کے بنائےہوئے أصول کو اپنانا ۔
پردہ کن سے کرنا ہے؟:
جن رشتوں کا ذکر شریعت میں محرم کے طور پر ہوا ہے انہیں چھوڑ کرباقی تما م لوگوں سے پردہ فرض ہے خاص طور سے ان لوگوں سے جو آس پاس کے رہنے والے اورعام میل جول کے ہیں ، جیسے: خالہ زاد، ماموں زاد، چچا زاد، پھوپھی زاد ، دیور، جیٹھ، بہنوئی، نندوئی، خالو، پھوپھا، شوہر کا چچا، شوہر کا ماموں، شوہر کا پھوپھا، شوہر کا خالو، شوہر کا بھتیجا، شوہر کا بھانجا وغیرہ ۔اسی طرح ہر وہ شخص جس سے کسی بھی وقت نکاح کرنا جائز ہو ۔
عورت کے ستر کے حدود:
ستر کا تعلق عورت کے جسم کے اس حصہ اور ان اعضاء سے ہے جن کو شوہر کے سوا ہر شخص سے چھپانا واجب ہے خواہ وہ شخص اس عورت کا محرم ہو یا غیر محرم اور وہ عورت کا چہرہ، ہاتھوں اور پاؤں کے علاوہ اس کا پورا جسم ہے۔ عورت کا ستر گردن سے ٹخنہ اور گٹے تک ہے جس کا ڈھانپنا ہر حال میں ضروری ہے گردن سے اوپر یعنی چہرے اور ٹخنہ اور گٹے سے نیچے یعنی ہاتھ پاؤں اس سے مستثنیٰ ہیں جن کا ڈھانپنا ضروری نہیں ہے۔ جب تک کہ ان کے ڈھانپنے کا کوئی دوسرا محرک پیدا نہ ہو۔ان احکام میں اتنی گنجائش ہے کہ عورت اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے کسی ضرورت کے تحت جسم کا اتنا حصہ کھول سکتی ہے جیسے گھر کا کام کرتے ہوئے کھولنے کی ضرورت پیش آتی ہے یا فرش دھولتے وقت پائینچے اوپر چڑھا لینا یا آٹا گوندھتے وقت کف اوپر کر لینا وغیرہ۔
غیر محرم اور اجنبی مردوں کے لیے عورت کا ستر اس کا پورا جسم ہے اسی لیے اسے عورت یعنی چھپنے والی کہا جاتا ہے۔ غیر محرم اور اجنبی مردوں کے سامنے عورت کے لیے اپنا چہرہ چھپانا واجب ہے کیونکہ چہرے کے علاوہ باقی جسم کو چھپانا تو عورت پر پہلے بھی فرض تھا حجاب کی آیات میں ستر سے زائد حکم بیان کےکردیا گیا ہے ۔
پردہ کی شرائط اور کچھ ضروری باتیں:
آج کل برصغیر میں یا دیگر اسلامی ممالک میں برقع کی جو مختلف صورتیں ہیں، عہدِ رسالت میں موجود نہیں تھیں، کیونکہ اس دور میں معاشرت اور رہن سہن بالکل سادہ تھی۔ لیکن اب عورتیں چادر کی جگہ برقع کا استعمال کرتی ہیں۔ اور انہیں لگتا ہے کہ وہ مکمل پردہ کرتی ہیں، جبکہ ان کے برقع میں پردہ کے تمام شرائط نہیں پائے جاتے ،کیونکہ پردہ اس وقت تک شرعی پردہ نہیں کہلا سکتا جب تک اس میں شریعت کے مطابق وہ شروط و قیود نہ پائے جائیں جن کے بغیر پردے کا تحقق ہو سکے کیونکہ پردے کا مقصد تمام جسم اور اسے مزین کرنے والے تمام امورکو چھپانا ہے، اس لئے پردہ کے لئے شریعت کے حکم وحکمت اور اس کےضوابط و أصول کے مطابق پردہ کی شرائط کی رعایت ضروری ہے ،جنہیں ہم مندرجہ ذیل نکات میں تقسیم کرسکتےہیں:
(1) - ایسا برقع ہوجس سے اس کا پورا بدن ڈھنک جائے-
(2) - برقع ایسے زیب و زینت والا نہ ہو جو پرد ہ کے اصل مقصد کے حصول کے بجائے دوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے لگے۔
(3) - - برقع اتنا باریک یا تنگ نہ ہو جس سے جسم کے تمام اعضاء ظاہر ہوں، کیونکہ باریک لباس پہننے والی عورت کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے:'بعض عورتیں دنیا میں لباس پہنتی ہیں لیکن آخرت میں وہ ننگی ہوں گی"۔(صحیح بخاری/7059)۔
(4) - عورت کو چاہیے کہ اس کا برقع یا چادر معطر و مطیب (جس میں خوشبو، پرفیوم وغیرہ لگی ہو) نہ ہو، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:" ہر آنکھ زنا کار ہے اور عورت جب خوشبو لگا کر مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ بھی ایسی ایسی ہے یعنی وہ بھی زانیہ ہے"۔(سنن الترمذی /2786 ، سنن ابی داود/4173 ، سنن النسائی/5129، علامہ البانی نے اسے حسن کہاہے)۔
(5) - عورت کا برقع مردوں کے لباس کے مشابہ نہ ہو، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:"اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو عورت کا لباس پہنے اور اس عورت پر لعنت ہے جو مردوں کا لباس پہنے"۔(سنن ابی داود/4098، علامہ البانی نے اسے صحیح کہاہے)۔
(6) - برقع کافروں کے لباس سے مشابہ نہ ہو،جیساکہ اللہ تعالی نے پہلی جاہلیت کی طرح اپنی زینت کے اظہارسےمنع کیاہے ۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہے"۔(سنن ابی داود/4031، علامہ البانی نےاسے صحیح کہاہے)۔
(7) - برقع سے لوگوں کے درمیان شہرت مقصود نہ ہو۔ یعنی شہرت کا لباس نہ ہو، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو شہرت کا لباس پہنے گا اللہ قیامت کے دن اس کو اسی کے مثل لباس پہنائے گا پھر اس میں آگ بھڑکائی جائے گی"۔(سنن ابی داود/4029،سنن ابن ماجۃ/3606، علامہ البانی نے اسے صحیح کہاہے)۔
(8) - کچھ عورتوں میں یہ عجیب جہالت بھری بیماری عام ہے کہ وہ اپنے جان پہچان والے لوگوں سے تو پردہ کرتی ہیں لیکن اجنبیوں کے سامنے اپنا برقع اور نقاب ہٹادیتی ہیں ،جبکہ ان کےلئے پہچان اور غیرپہچان ہر طرح کے لوگوں سے پردہ ضروری اورواجب ہے۔ اسی طرح جب وہ کسی ایسی سوسائٹی میں ہوتی ہیں جہاں پردہ کا التزام ہےتو وہ پردہ کرتی ہیں اور جہاں پردہ کا التزام نہیں کیا جاتا تو پردہ سے باہر ہو جاتی ہیں۔ اور بہت سی خواتین ایسی ہیں جو عام جگہوں پر پردہ کرتی ہیں مگر گاڑیوں، دکانوں، ہسپتالوں یا کسی سے گفتگو کرتے وقت اپنے چہروں اور بازوؤں کو اس طرح کھول لیتی ہیں، گویا اپنے محرم کے پاس ہوں ۔
بے پردگی کی قباحتیں اور نقصانات:
پردہ کے جہاں بے شمار فضائل ہیں وہیں بے پردگی کے نقصانات اور اس کی قباحتیں بھی ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
(1) - چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان سے پردہ کا حکم دیا ہے تو جو عورت پردہ نہ کرے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمان ہے۔
(2) - بے پردگی سے ابلیس کا خوش ہونا بدیہی ہے کیونکہ بے پردگی معصیت اور گناہ ہے جس سے شیطان راضی ہوتاہے، کیونکہ اس نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندوں کو ضرور گمراہ کرےگا اس کے لئے وہ کوئی بھی طریقہ استعمال کرسکتاہے ، جن میں سے ایک اہم عورتوں کو معصیت اور گناہ کے کام میں مبتلا کرنا بھی ہے۔
(3) - بے پردگی ایک بڑا مہلک گناہ ہےجوزنا اورفحاشی جیسے بڑے بڑے گناہوں کا وسیلہ اور ذریعہ بنتاہے ،یہی وجہ ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مسلمان عورت سے بیعت لیتے تو اس سے شرک ، چوری ، زنا ، أولاد کے قتل ،بہتان تراشی اور نوحہ کے ساتھ ساتھ بےپردگی سے بچنے پر بھی بیعت لیتے، جیساکہ امیمہ بنت رقیقہ کی روایت میں ہے۔ (دیکھئے:مسنداحمد/6850 ، روایت صحیح لغیرہ ہے،ہیثمی لکھتےہیں: کہ اسے طبرانی نے روایت کیاہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔مجمع الزوائد:6/37)۔
(4) - بے پردگی جہاں کبیرہ گناہ ہے وہی جہنمیوں کی صفت بھی ہے چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:" جہنمیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا ایک قسم ان لوگوں کی ہے جن کے ساتھ گائے کی دم کی طرح کے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور دوسری قسم وہ عورتیں ہیں جو کپڑوں میں ملبوس ننگی خود بھی مائل ہوں گی اور ان کی طرف بھی مائل ہوا جائے گا ان کے سر بختی اونٹ (اونٹ کی قسم) کی ڈھکی ہوئی کوہان کی طرح ہیں وہ جنت میں نہیں جائیں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو لمبی مسافت سے ہی پائی جائے گی"۔(صحیح مسلم/2128)۔
(5) - بے پردگی خودکےلئےبدنامی اور بے عزتی اختیارکرناہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:"وہ عورت جو اپنے کپڑے اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ اتاری دیتی ہے تو گویا اس نے اس پردے کو تار تار کیا جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان تھا"۔(سنن الترمذی /2803،سنن ابن ماجۃ/3750،علامہ البانی نے اس صحیح کہاہے)۔
(6) - بے پردگی فحاشی اور عریانی کا اہم سبب ہے، کیونکہ عورت کہتے ہی پردے کو ہیں اور اگر وہ پردہ اتاردے گی تووہ بہرحال فحاشی و عریانی ہے اور یہ ایسا خبیث جرثومہ ہے جو پورے معاشرے اور مجتمع میں فحاشی پھیلاتی ہے۔
(7) - بے پردگی ایک نہایت ہی بربودار جاہلیت والاعمل ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے ﴿ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ﴾ ۔(اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو)۔(الأحزاب :33)۔
(8) - بے پردگی ہر فحاشی و عریانی اور مختلف قسم کے شر اوربرائی کا مخفی دروازہ ہے،کیونکہ اکثر فحاشی اور بڑے گناہوں کا راستہ اسی سے ہوکرجاتاہے۔
(9) - انسان خاص طور سے عورت کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے پردہ اور صیانت رکھی ہے،یہی وجہ ہے کہ عورت فطری طور پرشرمیلی اور حیاء والی ہوتی ہے، چںانچہ پردہ عورت کی فطرت کے بالکل موافق ہےاور بےپردگی اس کی فطرت کے خلاف۔
(10) – مرد اپنی فطرت میں جنس مخالف کی طرف کشش رکھتاہے اس لئے عورتوں کی بےپردگی اور بناؤسنگھار سےمردوں کا خاص طور پر نوجوانوں کا اخلاق خراب سے خراب تر ہو جاتا ہے اور ان کو اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ فحاشی کو پسند کریں۔چنانچہ بے پردگی نواجوانوں کے بگاڑکا ایک اہم سبب ہے۔
(11) - عورتوں کی بےپردگی اور اس سےہونے والی برائیوں کی وجہ سے خاندانی روابط پر ااثر پڑتاہے اورخود اہل وعیال سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور طلاق کثرت سے ہونے لگتی ہے ،چنانچہ دیکھاجائےتو خاندانی نزاع کے أسباب میں سے ایک سبب بے پردگی بھی ہے۔
(12) - عورت کو تجارت کا وسیلہ بنایا جاتاہے،اڈورٹائزنگ اور تجارت کے دیگروسائل میں شراکت کے نام پر عورتوں کے ساتھ کیا کیا نہیں ہوتا ہےیہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
(13) – بے پردگی کی وجہ سے معاشرے میں طاعون اور بھکمری پھیلتی ہے،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :" جب بھی کسی قوم میں فحاشی ظاہر اور اعلانیہ ہو اس میں طاعون اور بھوک و فقری عام ہو جاتی ہے"۔(سنن ابن ماجۃ/4019 ، علامہ البانی نے اسے صحیح کہاہے)۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:( جب ہم کسی بھی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو(کچھ ) حکم دیتے ہیں اور وہ اس بستی میں کھلی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر (عذاب کی )بات ثابت ہو جاتی ہے پھرہم اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں)۔(الاسراء:16)۔
الغرض! بے پردگی کی اتنی قبائح اور خباثتیں ہیں کہ جن کا احاطہ ممکن نہیں ہے، اس لئے اس تحریرمیں اس کا نہ تو احاطہ کیا گیا ہےاور نہ ہی یہ مقصود تھا، بلکہ اس کے خطرات اور نتائج کی طرف توجہ مبذول کرانے کی سعی کی گئی ہے۔
آج کے اس پرفتن دور میں جہاں پورا کا پورا معاشرہ فتنہ و فساد سے غیر محفوظ ہے۔ شرم و حیا کا فقدان ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا ایسے ماحول میں اسلامی بہنوں کو پردے کا التزام کرنا چاہیے جوإن شاء الله انہیں ہر طرح کے فتنے اور شر سے محفوظ و مامون رکھے گا ۔ اور ان باطل پروپیگنڈوں پر کوئی توجہ نہیں دینی چاہیے جو پردے کی مخالفت میں یا پردہ کی اہمیت کو ختم کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں، کیونکہ یہ عورتوں کے حق میں خیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ ہیں۔اللہ تعالی ہم سب کو صحیح سمجھ عطافرمائےاور مسلمان بچیوں کی عزت وناموس کی حفاظت فرمائے۔آمین وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم
********