1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پردہ چادر اور چار دیواری

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از حسن شبیر, ‏جولائی 24، 2013۔

  1. ‏جولائی 24، 2013 #1
    حسن شبیر

    حسن شبیر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 18، 2013
    پیغامات:
    802
    موصول شکریہ جات:
    1,819
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    یہ وقت بہت عجیب جا رہا ہے۔ ان دنوں اسلام پر عمل کرنے والی خواتین میں سے ہر محترم خاتون خوب جانتی ہے کہ اسے بہت سخت جنگ کا سامنا ہے، جنگجو آزادی اور مساوات کے سہانے نام پر اسے غلام بنانا اور اس کی پردہ دری کرنا چاہتے ہیں۔
    یہ کیسی آزادی ہے جس کی یہ فتنہ پرداز دعوت دیتے ہیں؟ یہ ستم گر مظلوم مزدوروں، مصیبت زدہ لوگوں اور پریشان حال یتیموں کو طرح طرح کے مصائب اور مکروہا ت سے آزاد کرانے کی دعوت کیوں نہیں دیتے؟
    یہ ہمیشہ اُس عفت مآب خاتون ہی کی آزادی کی بات کیوں کرتے ہیں، جو اپنے سر پرست کے زیر سایہ باوقار زندگی بسر کررہی ہے جس کی وجہ سے بدکاروں کا ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ یہ ہمیشہ ایسی پاکباز خواتین ہی کی آزادی پر کیوں اصرار کرتے ہیں؟
    کیا عورت کا عبا پہننا اور حجاب کا اہتمام کرنا تاکہ وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے والوں کی میلی نظروں سے محفوظ رہے ایسی غلامی ہے جس سے اسے آزاد ہونے کی ضرورت ہے؟ کیا عورت کے کام کاج کے لیے ایسے مقامات مخصوص کر دینا جہاں مردوں کے ساتھ اختلاط نہ ہو، عورت کے لیے غلامی اور ذلت ہے؟
    کیا عورت کا اپنے بچوں کی تربیت کرنا، انھیں محبت و شفقت سے پالنا پوسنا ایسی غلامی ہے جس سے عورت کو آزاد ہونے کی ضرورت ہے؟
    عورت کو آزادی و بے پردگی کی دعوت دینے والوں اوراس کے حجاب ونقاب کو زنجیر قرار دینے والوں کی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو علماء ہیں، نہ مصلح بلکہ وہ انتہائی بدقماش زانی، شرابی کبابی اور شہوت پرست ہیں۔
    یہ نام نہاد آزادی کے متوالے لوگ عفت مآب پاکیزہ خواتین ہی کو ان کے گھروں سے باہر نکالنے کے لیے کیوں تڑپ رہے ہیں؟ آخر کیوں؟ جو اب بہت روشن ہے۔ ان کی خواہش یہ ہے کہ انھیں عریاں رقص کرتے ہوئے دیکھیں انھوں نے رقص و موسیقی کو بہت خوشنما ART بنا دیا ہے۔ ان لوگوں نے عورت کو گھر سے باہر نکالا، بے پردہ کیا، بے حیا بنایا۔تھیڑ بنائے، نائٹ کلب تعمیر کیے اور عورتوں کے عریاں ناچ شروع کرا دیے، اس طرح انھوں نے اپنی ہوس کے جام بھرے، شہوتوں کی آگ بجھائی اور عورت کو فریب دینے کے لیے نعرہ یہ لگایا کہ جا ہم نے تجھے آزادی عطا کر دی ہے۔
    ان ہوس پرستوں کی خواہش تھی کہ وہ عورت کو اپنے ارمانوں کا کھلونا بنا دیں، جب چاہیں عورت سے لطف اندوز ہوں، اس کے لیے انھوں نے مردوں سے اختلاط کا تصور بہت مزین کرکے پیش کیا، انھوں نے اسے ایک موبائل حمام کی صورت میں تبدیل کردیا کہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں اسے استعمال کریں، اپنے بستروں پر، باغات میں، جیم خانوں میں، تماشا گاہوں میں ... جب اس کی پردہ دری ہوگئی اور یہ بہت ناپاک ہوگئی تو انھوں نے نعرے لگانے شروع کر دیے
    کہ اے عورت! ہم نے تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کر دیا۔ ہم نے تجھے فرسودہ رسوم و قیود سے نجات دلا دی۔ پھر، انھوں نے عورتوں کے حُسن کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے۔ اِدھر رقاصہ اور گلوکارہ عورتوں کی عادت ہی یہ ہے کہ یہ اپنی تعریف سن کر خوشی سے پھول جاتی ہیں۔
    ان کی خواہش تھی کہ عورت کو ساحل سمندر پر عریاں دیکھیں، شراب کے جام پلاتے دیکھیں... ہوائی جہاز میں ائیر ہوسٹس کی شکل میں دیکھیں...بدکار فرینڈ کے روپ میں دیکھیں... انھوں نے عورتوں کو ان سب شکلوں میں بہت پُرکشش اور جاذبِ توجہ بنا کر پیش کیا اور انھیں مبتلائے فریب کردیا۔
    جب یہ فسق و فجور کے جوہڑ میں ڈوب گئیں تو یہ لوگ آپس میں ہنس ہنس کے کہنے لگے کہ یہ ہے آزاد عورت! شرم و حیا، عفت و پاکدامنی، مہر و وفا... آہ! انھوں نے کس کس چیز اور کیسی کیسی متاع سے عورت کو آزادی دلوائی ہے!
    کیا عورت جیل میں بند تھی کہ باہر آکر وہ آزاد فضا میں سانس لینے لگی ہے؟ کیا آزادی یہ ہے کہ اس کے کپڑوں کو چند دھجیوں کی شکل میں کردیا جائے اور حجاب و نقاب نوچ کر دور پھینک دیا جائے؟ کیا آزادی بازاروں میں فراٹے بھرنے اور دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کانام ہے؟ کیا آزادی ایک بدکار جوان کے ساتھ گپ شپ کرنے اور ایک دھوکے باز بھیڑیے کے ساتھ خلوت اختیار کرنے کا نام ہے؟
    کیا حقیقی آزادی اور پُروقار سیادت یہ نہیں ہے کہ تو عفت مآب اور باپردہ ہو؟ باپ محبت و شفقت سے پیش آئے شوہر حسن سلوک کا معاملہ کرے، بھائی حفاظت کرے اور تیرابیٹا فرماں بردار و اطاعت گزار ہو؟
    محترمہ مسلمان بہن! کیاکبھی غور کیا ہے کہ وہ کون خواتین تھیں جنھیں پردے کا حکم دیا گیاتھا، وہ تھیں صدیقہ کائنات ام المؤمنین حضرت عائشہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر حضرت فاطمۃ الزہرائ،حضرت صدیق اکبر کی نور نظر حضرت اسمائ... دیگر صالح اور متقی صحابیات رضی اللہ عنہہما
    اور کبھی اس بات پر بھی غور کیا کہ وہ عفت مآب خواتین کن سے پردہ کرتی تھیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور دیگر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جو امت کے سب سے اعلیٰ پاکباز لوگ تھے، سب سے زیادہ طاہر اور عفت مآب افراد تھے۔ معاشرے کی طہارت و پاکبازی کے باوجود خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا تھا۔
    اللہ رب ذوالجلال نے ابوبکر و عمر، طلحہ و زبیر اور دیگر تمام حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو عورتوں کے ساتھ اختلاط سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ''اورجب تم ان (ازواج نبی) سے کوئی چیز مانگوتو پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ بات تمھارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔''( الأحزاب33:53۔)
    بہت غور و فکر کا مقام ہے کہ آج کے اس بے حد خراب اور خطرناک دور میں مردوں اور عوتوں کو اس حکم باری تعالی کی پابندی کرنے کی کتنی شدید ضرورت ہے؟
    ہم ان بے باک عورتوں سے کیا کہیں جو بازار میں بلا جھجک بڑی طلاقت لسانی کے ساتھ دوکان دار سے باتیں کرتی ہیں جیسے وہ ان کا شوہر یا بھائی ہے۔ بلکہ وہ تو ان سے ہنسی مذاق کی باتیں بھی کرتی ہیں تاکہ وہ ان کے لیے نرخ کو کم کردے... اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ اکیلی، تن تنہا ٹیکسی میں بیٹھ کر ڈرائیور کے ساتھ چلی جاتی ہیں۔ ہمیشہ یاد رہنا چاہیے کہ جب بھی کوئی مرد خلوت میں عورت کے ساتھ ہوتا ہے تو ان دونوں کے مابین تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
    مسلمان خواتین کو خوب معلوم ہے کہ اس طرح کی ساری باتیں گناہ کے کام ہیں اس کے باوجود وہ ان گناہوں کا ارتکاب کررہی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہے مگر یہ نعمتوں کا جواب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے دے رہی ہیں، شاید یہ اتنی جری اس لیے ہیں کہ یہ سمجھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں عذاب دینے سے قاصر ہے! (نعوذبااللہ)
    اے مسلمان بہن! اے صراطِ مستقیم سے بھٹکی ہوئی میری بہنو! خدارا سنبھل جائو، سنبھل جائو! دورِ جدید میں اسلام اور انسانیت، حیا اور شرافت سے کوسوں دور لوگوں سے اپنے آپ کو بچا لیں... جو آزادی اور خود مختاری کے حسین نعرے میں فریب اور گناہ کی دلدل میں دھنسانے والے نعرے ہیں... ان سے اپنی عزت اپنی عصمت اپنی آبرو بچالیں اپنے آپ کو پردہ اور چادر چار دیواری میں پناہ دیں۔ اللہ سب بہنوں کو سمجھنے کی توفیق دے آمین یا رب العالمین (بشکریہ کائنات)
     
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 14، 2013 #2
    sadia

    sadia رکن
    جگہ:
    KHANEWAL
    شمولیت:
    ‏جون 18، 2013
    پیغامات:
    283
    موصول شکریہ جات:
    545
    تمغے کے پوائنٹ:
    98

    جزاکم اللہ خیرا
    اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے
    آمین ثم آمین۔
     
  3. ‏اگست 14، 2013 #3
    حسن شبیر

    حسن شبیر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 18، 2013
    پیغامات:
    802
    موصول شکریہ جات:
    1,819
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    آمین یا رب العالمین
     
  4. ‏اگست 15، 2013 #4
    اسحاق

    اسحاق مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 25، 2013
    پیغامات:
    894
    موصول شکریہ جات:
    2,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں