اسلام علیکم
میں آپ سے بہت معزرت چاہتی ہوں کہ قوائد کا خیال نہ رکھ سکی !!
میں آپ سے یہ گزارش کرنا چاہتی ہوں کہ اولاد کی پرورش کا حقدارعلماء کے مطابق
اس پرورش كا مقصد چھوٹے بچے كى ديكھ بھال اور اس كے امور كو سرانجام دينا ہے، لہذا پرورش ميں پرورش كردہ بچے كى مصلحت كا خيال ركھنا ہے، اس ليے جب باپ اس واجب كو پورا نہ كرے اور اس سے رك جائے ـ اور اس ميں خرچ بھى شامل ہے ـ تو وہ گنہگار ہو گا، اور اس سے اس كا حق پرورش ساقط ہو جائيگا.
http://islamqa.com/ur/pda/ref/islamqa/20473
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا Visitation right بھی ختم ہوجائےگا؟
دوسری جگہ،
پرورش کرنے والے میں مندرجہ ذیل شروط کا ہونا ضروری ہے :
- تکلیف : یعنی مکلف ہو ۔
- حریۃ : یعنی وہ آزاد ہو غلام نہ ہو ۔
- عدالۃ : یعنی عادل ہو ۔
- اگربچہ مسلمان ہوتو پھر پرورش کرنے والا بھی مسلمان ہونا چاہیے ۔
- بچے کی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت وقدرت رکھے ۔
- عورت پرورش والے بچے سے کسی اجنبی مرد سے شادی شدہ نہ ہو ۔
اورجب یہ مانع زائل ہوجاۓ توپرورش کا حق اسے دوبارہ مل جاۓ گا ، لیکن اولی اوربہتر یہ ہےکہ پرورش کیے جانے والے بچے کی مصلحت کومدنظر رکھا جاۓ اس لیے کہ بچے کا حق مقدم ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ، والدہ ٧ سال تک بچوں کی پرورش کی حقدار ہوتی ہے اس کے بعد اولاد کو اختیار دیا جاتا ہے کہ جس کے ساتھ جانا چاہے مگر والد اولاد کی اسلام کے مطابق نہیں کر سکتا ۔ اور حدیث کو اہمیت نہیں دیتا ۔ ان کے گھر والے سب بریلوی ہیں ، یہ اپنی اولاد کو بدعت وغیرہ سے نہیں بچاسکتا بلکہ خود بھی شامل ہوجاتا ہے اور یہ کہتا ہے میں بریلوی نہیں ہوں ۔مگر بریلویوں کی بہت سی باتوں سے متفق ہیں۔کیا ایسے شخص کو اولاد کو انتخاب کا اختیار دینا چاہئے ؟
اور کیا والدہ کے لئے ضروری ہے کہ والد کے وزٹ کے لئے وہ اسی ملک جائے جہاں جہاں والد جائے؟
بہت شکریہ