• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پرورش کا حقدار

ورده

مبتدی
شمولیت
نومبر 21، 2011
پیغامات
8
ری ایکشن اسکور
28
پوائنٹ
0
اسلام علیکم


میں آپ سے بہت معزرت چاہتی ہوں کہ قوائد کا خیال نہ رکھ سکی !!
میں آپ سے یہ گزارش کرنا چاہتی ہوں کہ اولاد کی پرورش کا حقدارعلماء کے مطابق

اس پرورش كا مقصد چھوٹے بچے كى ديكھ بھال اور اس كے امور كو سرانجام دينا ہے، لہذا پرورش ميں پرورش كردہ بچے كى مصلحت كا خيال ركھنا ہے، اس ليے جب باپ اس واجب كو پورا نہ كرے اور اس سے رك جائے ـ اور اس ميں خرچ بھى شامل ہے ـ تو وہ گنہگار ہو گا، اور اس سے اس كا حق پرورش ساقط ہو جائيگا.
http://islamqa.com/ur/pda/ref/islamqa/20473
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا Visitation right بھی ختم ہوجائےگا؟
دوسری جگہ،
پرورش کرنے والے میں مندرجہ ذیل شروط کا ہونا ضروری ہے :

- تکلیف : یعنی مکلف ہو ۔

- حریۃ : یعنی وہ آزاد ہو غلام نہ ہو ۔

- عدالۃ : یعنی عادل ہو ۔

- اگربچہ مسلمان ہوتو پھر پرورش کرنے والا بھی مسلمان ہونا چاہیے ۔

- بچے کی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت وقدرت رکھے ۔

- عورت پرورش والے بچے سے کسی اجنبی مرد سے شادی شدہ نہ ہو ۔
اورجب یہ مانع زائل ہوجاۓ توپرورش کا حق اسے دوبارہ مل جاۓ گا ، لیکن اولی اوربہتر یہ ہےکہ پرورش کیے جانے والے بچے کی مصلحت کومدنظر رکھا جاۓ اس لیے کہ بچے کا حق مقدم ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ، والدہ ٧ سال تک بچوں کی پرورش کی حقدار ہوتی ہے اس کے بعد اولاد کو اختیار دیا جاتا ہے کہ جس کے ساتھ جانا چاہے مگر والد اولاد کی اسلام کے مطابق نہیں کر سکتا ۔ اور حدیث کو اہمیت نہیں دیتا ۔ ان کے گھر والے سب بریلوی ہیں ، یہ اپنی اولاد کو بدعت وغیرہ سے نہیں بچاسکتا بلکہ خود بھی شامل ہوجاتا ہے اور یہ کہتا ہے میں بریلوی نہیں ہوں ۔مگر بریلویوں کی بہت سی باتوں سے متفق ہیں۔کیا ایسے شخص کو اولاد کو انتخاب کا اختیار دینا چاہئے ؟
اور کیا والدہ کے لئے ضروری ہے کہ والد کے وزٹ کے لئے وہ اسی ملک جائے جہاں جہاں والد جائے؟
بہت شکریہ
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا Visitation right بھی ختم ہوجائےگا؟
اس سے مراد کیا ہے؟ اگر تو اس سے مراد یہ ہے کہ بچہ اگر ماں کو دے دیا جائے تو باپ کو اس بچے سے ملنے پر بھی پابندی لگا دی جائے تو یہ شرعا ناجائز ہے۔ ہاں! البتہ ماں کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ بچے کو باپ کے پاس ملوانے کے لیے لے جائے بلکہ ماں پر صرف اسی قدر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جب باپ بچے سے ملنا چاہے تو اس میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
لَا تُضَارَّ‌ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ ۚ
نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے۔

سوال یہ ہے کہ ، والدہ ٧ سال تک بچوں کی پرورش کی حقدار ہوتی ہے اس کے بعد اولاد کو اختیار دیا جاتا ہے کہ جس کے ساتھ جانا چاہے مگر والد اولاد کی اسلام کے مطابق نہیں کر سکتا ۔ اور حدیث کو اہمیت نہیں دیتا ۔ ان کے گھر والے سب بریلوی ہیں ، یہ اپنی اولاد کو بدعت وغیرہ سے نہیں بچاسکتا بلکہ خود بھی شامل ہوجاتا ہے اور یہ کہتا ہے میں بریلوی نہیں ہوں ۔مگر بریلویوں کی بہت سی باتوں سے متفق ہیں۔کیا ایسے شخص کو اولاد کو انتخاب کا اختیار دینا چاہئے ؟
سات سال کے بعد جو اختیار کا مسئلہ ہے تو وہ لازم نہیں ہے یعنی بعض صورتوں میں بچے کو اختیار نہیں دیا جائے گا اور دینی مصلحت جس کا تقاضا کرے گی، قاضی یا جج اس کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے بچہ والدین میں سے کسی ایک کے حوالہ کر دے گا۔ شیخ صالح المنجد ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
جب بچہ سات برس كا ہو جائے تو اسے والدين ميں سے كسى كے ساتھ رہنے كا اختيار ديا جائيگا، اور وہ جسے زيادہ پسند كرتا ہے اسے اختيار كر كے اس كے ساتھ رہے گا، ليكن بچى سات برس كى ہو جائے تو اس ميں علماء كا اختلاف ہے:
امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
اسے بھى اختيار ديا جائيگا.
امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" ماں زيادہ حقدار ہے حتى كہ بچى كى شادى ہو جائے يا حيض آ جائے "
امام مالك رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" اس كى ماں زيادہ حقدار ہے، حتى كہ بچى كى شادى ہو جائے اور خاوند دخول كر لے "
اور امام احمد كہتے ہيں:
" اس بچى كا باپ زيادہ حقدار ہے؛ كيونكہ باپ اس كى حفاظت زيادہ كر سكتا ہے "
ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 17 / 314 - 317 ).
اس اختلاف كو مدنظر ركھتے ہوئے اس مسئلہ ميں سنت نبويہ ميں كوئى ايسى نص نہيں جو اس ميں فيصلہ كن ہو، اس ليے اس ميں مرجع شرعى قاضى ہو گا، اور وہى يہ تحديد كريگا كہ بچى سات برس كى ہو جائے تو وہ كس كے ساتھ رہے گى.
اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہمارے اور سب مسلمانوں كے حالات كو سدھارے.
واللہ اعلم .
الاسلام سوال و جواب
 
Top