• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پرویز کے بارے میں علماء کا متفقہ فتویٰ

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,397
پوائنٹ
891
دنیا بھر کے علما کا غلام احمد پرویز پر فتویٰ کفر

غلام احمد پرویز کے کفریہ نظریات کے پیش نظر عرب و عجم کے سینکڑوں علماء اُمت نے متفقہ طور پر یہ فتویٰ صادر کیا ہے کہ ”غلام احمدپرویز کو اپنے عقائد و نظریات کی وجہ سے کافر قرار دیا جاتا ہے۔“
یہ فتویٰ ۸x۵ سائز کے دو سو چھپن (256) صفحات پر محیط ہے جسے ”پرویز کے بارے میں علما کا متفقہ فتویٰ“ کے نام سے مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی نے کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے۔
اس کتاب کے آغاز میں مولانا محمد منظور نعمانی اور محمد عبدالرشید نعمانی کی دو اِدارتی تحریریں بھی شامل ہیں جو اس فتویٰ کے پس و پیش حقائق کی وضاحت کرتی ہیں۔

اس کتاب کے ابتدائی تیس (30) صفحات میں سائل کا استفتا شائع کیا گیا ہے جن میں سائل نے پرویز کے کفریہ و شرکیہ عقائد (مثلاً اللہ اور رسول کا غلط تصور، مرکز ِملت کی اختراع، انکارِ حدیث، ارکانِ اسلام کی ملحدانہ تعبیر، تقدیر و آخرت اور ملائکہ وغیرہ سے انکار وغیرہ) خود پرویز کی کتابوں اور تحریروں سے بحوالہ ذکر کرنے کے بعد یہ فتویٰ طلب کیا ہے کہ

”حضرات علمائے کرام از روئے شرع بیان فرمائیں کہ اس فرقہ کے بانی اور اس کے متبعین کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ لوگ مسلمان ہیں؟ اور ان کے ساتھ اسلامی تعلقات رکھنا مثلاً ان سے نکاح کرنا، مسلمانوں کے قبرستان میں ان کو دفن کرنا اور ان کی میت پر نماز جنازہ پڑھنا اور ان کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا جائز ہے؟ اور کیا وہ کسی مسلمان کے وارث ہوسکتے ہیں؟ بینوا تو جروا“

اس سوال کے تفصیلی جواب، پرویز پر فتویٰ کفر اور اس فتویٰ پر پاکستان بھر کے تمام مکتبہ فکر کے علما کی تصدیق و تائید اگلے دو سو بیس (220) صفحات پر محیط ہے جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ

سب سے پہلے ولی حسن ٹونکی  (مفتی و مدرّس مدرسہٴ عربیہ اسلامیہ کراچی)، محمد یوسف بنوری (شیخ الحدیث مدرسہ عربیہ کراچی) اور محمد عبدالرشید نعمانی (رفیق شعبہٴ تصنیف، مدرسہ عربیہ کراچی) کا سو صفحات پر مشتمل مشترکہ تفصیلی جواب ہے جس میں مذکورہ تینوں علما نے مضبوط دلائل کی روشنی میں پرویز کے چالیس چھوٹے بڑے نظریات کا بھرپور جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ان عقائد ونظریات کا صریح طور پر کفریہ ہونا ثابت کیا ہے۔ مثلاً پرویز کے اس نظریہ کہ ”رسول کو قطعاً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی سے اپنی اطاعت کرائے“ پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ

”ایسا کہنا قطعاً کفر ہے، اطاعت ِرسول دین کے مسلمات میں سے ہے۔ امت ِمحمدیہ علی صاحبہا التحیات والتسلیمات نے اطاعت ِرسول کو ہمیشہ دین کا جزوِلاینفک سمجھا ہے۔ رسول پرایمان لانے کامطلب ہی اس کی اطاعت و فرمانبرداری ہے اور نہ صرف یہ کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ضروری ہے بلکہ ہر رسول مطاع ہوتا تھا اور ہر اُمت پر اپنے رسول کی اطاعت فرض و لازم تھی۔ دیکھئے قرآن کریم کس طرح حصر کے ساتھ بیان کررہا ہے: ﴿وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ﴾ … اطاعت رسول کا انکار درحقیقت رسول سے برأت و بیزاری ہے جو سراسر کفر ہے۔“ (ص44 تا 52)

اس کے بعد کتاب ہذا کے صفحہ 136تا 139میں دارالعلوم، دیوبند کی طرف سے مذکورہ تفصیلی سوال کے جواب میں پرویز پرفتویٰ کفر صادر کیا گیا ہے۔ جس کی ابتدائی عبارت اس طرح ہے کہ

”غلام احمد پرویز کے جو خیالات و معتقدات سوال میں نقل کئے گئے ہیں وہ تقریباً سب کے سب الحاد و زندقہ اور کفریات پر مشتمل ہیں اور بلاشبہ ان کا معتقد دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ (ص: 136)

اس کے بعد کتاب ہذا کے صفحہ 140سے 200 تک پاکستان بھر کے تمام فقہی مکاتب فکر کے مشہور ومعروف علمائے کرام کے تصدیقی دستخط ثبت ہیں کہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی اور دارالعلوم دیوبند کی طرف سے پرویز اور اس کے نظریات کے معتقد پر کفر کا فتویٰ عین حق و صواب ہے۔ ان علما کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز (1028) ہے۔جس میں ہرشہر کے نمائندہ علماء، تمام دینی درسگاہوں اور مذہبی جماعتوں کے زعما اور تمام مکاتب ِفکر کی چیدہ چیدہ شخصیات شامل ہیں۔چند معروف علما کے نام یہ ہیں:

مولانا محمد داؤد غزنوی، حافظ عبداللہ محدث روپڑی، عبدالغفار سلفی، عبدالخالق رحمانی، حافظ عبدالقادر روپڑی، حافظ محمد اسماعیل ذبیح… مولانامفتی محمود،مفتی محمد شفیع، مولانا احمدعلی لاہوری، مولانا احتشام الحق تھانوی، مولانا ظفر احمد عثمانی، محمد ادریس کاندھلوی… مولانا غلام غوث ہزاروی، محمد عبد الحامد قادری، محمد عبد السلام قادری، محمد عبد الحلیم چشتی، محمد سلیم الدین چشتی، عبد الکریم قاسمی، محمد بہاء الحق قاسمی وغیرہ

آخر میں کتاب کے صفحہ 221تا 228 پر مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم کی طرف سے پرویز کے مذکورہ عقائد کو عربی زبان میں تحریر کرکے عرب بلادِ اسلامیہ سے بھی فتویٰ طلب کیا گیا ہے۔چنانچہ صفحہ 229سے 255(آخر کتاب) تک بلادِ عربیہ سے موصول ہونے والے مختلف فتاویٰ کے عربی متن درج ہیں جن میں متفقہ طور پر پرویز اور اس کے معتقدات کے حامل کو صریح طور پر کافر قرار دیا گیا ہے۔ یہ فتاویٰ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور شام ومصر وغیرہ کے بڑے جید علمائے کرام اور حکومتی مناصب پر فائز حضرات کی طرف سے صادر کئے گئے ہیں۔
(حافظ مبشر حسین لاہوری، ماہنامہ محدث ، فتنہ انکار حدیث نمبر)
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,397
پوائنٹ
891
کلیم حیدر بھائی،
یہ کتاب ازراہ کرم ذرا محدث لائبریری میں دیکھیں اگر موجود ہو تو اس کو اسکین کر کے کتب لائبریری میں اپ لوڈ کروا دیجئے۔ غلام احمد قادیانی کے بعد غلام احمد پرویز ہی غالباً وہ واحد شخصیت ہیں جن کے کفر پر علمائے امت کا اجماع ہے۔ اس اجماع کے ثبوت کے طور پر اس کتاب کی اہمیت مسلم ہے۔

جزاکم اللہ۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,382
پوائنٹ
995
جزاک اللہ شاکر بھائی آپ نے بہت اچھی شیئرنگ کی ہے ۔جی بھائی ضرور ہم اس کتاب کو سکین کرتے ہیں اور اپلوڈ کرکے لنک یہاں دے دیں گے
 
Top